نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 25 of 55

872Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں سبوح قدوس رب الملائكة والروح کہتے تھے۔

Narrated Awf ibn Malik al-Ashjai (RA) : I stood up to pray along with the Messenger of Allah ﷺ ; he got up and recited Surat al-Baqarah (Surah 2). When he came to a verse which spoke of mercy, he stopped and made supplication, and when he came to verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah, then he bowed and paused as long as he stood (reciting Surah al-Baqarah), and said while bowing, Glory be to the Possessor of greatness, the Kingdom, grandeur and majesty. : Then he prostrated himself and paused as long as he stood up and recited Surat Aal Imran (Surah 3) and then recited many surahs one after another.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٧)، سنن النسائی/التطبیق ١١ (١٠٤٩)، ٧٥ (١١٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦ /٣٥، ٩٤، ١١٥، ١٤٨، ١٤٩، ١٧٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٤٤، ٢٦٦) (صحیح )
873Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةًفَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً.

عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے سورة البقرہ پڑھی، آپ ﷺ کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ ﷺ نے رکوع میں: سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة پڑھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورة آل عمران پڑھی، پھر (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورة پڑھی۔

Narrated Hudhayfah (RA) : Hudhayfah saw the Messenger of Allah ﷺ praying at night. He said: Allah is most great three times, Possessor of kingdom, grandeur, greatness and majesty. He then began (his prayer) and recited Surah al-Baqarah; then he bowed and he paused in bowing as long as he stood up; he said while bowing, Glory be to my mighty Lord, Glory be to my mighty Lord ; then he raised his head, after bowing: then he stood up and he paused as long as he paused in bowing and said, Praise be to my Lord ; then he prostrated and paused in prostration as long as he paused in the standing position; he said while prostrating: Glory be to my most high Lord; then he raised his head after prostration, and sat as long as he prostrated, and said while sitting: O my Lord forgive me. He offered four rakahs of prayer and recited in them Surah al-Baqarah, Aal Imran, an-Nisa, al-Maidah, or al-Anam. The narrator Shubah doubted.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٧٣ (١١٣٨)، سنن الترمذی/الشمائل (٣١٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤) (صحیح )
874Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَكَانَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، يَقُولُ: لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِيهِنَّ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ، وَالْمَائِدَةَ، أَوْ الْأَنْعَامَ، شَكَّ شُعْبَةُ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار الله اکبر ، اور (ایک بار) ذو الملکوت والجبروت والکبرياء والعظمة کہہ رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے قرآت شروع کی تو سورة البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ ﷺ کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا (اور کھڑے رہے) آپ ﷺ کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان لربي الحمد کہہ رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں سبحان ربي الأعلى کہہ رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے اپنا سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہے جتنی دیر تک سجدے میں رہے تھے، اور اس درمیان رب اغفر لي رب اغفر لي کہہ رہے تھے، اس طرح آپ ﷺ نے چار رکعتیں ادا کیں اور ان میں بقرہ، آل عمران، نساء اور مائدہ یا انعام پڑھی۔ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The nearest a servant come to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication often.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی /الشمائل ٣٩ (٢٧٥)، سنن النسائی/التطبیق ٢٥ (١٠٧٠)، ٨٦ (١١٤٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٥) (صحیح) (حدیث نمبر ( ٨٧١) سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک مبہم راوی رجل بن بنی عبس ہیں )
875Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ،عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو (سجدے میں) تم بکثرت دعائیں کیا کرو ۔

Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ lifted the curtain (and saw that) the people were standing in rows (of prayers) behind Abu Bakr. He said: O people, there remained nothing that gives good tidings from prophethood except a true dream which a Muslim has himself or which another Muslim has for him. I have been prohibited to recite the Quran while bowing or prostration. As regards owing, exalt the Lord in it, and as to prostration, make supplication with exertion in it, that is worthy of being accepted.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٢)، سنن النسائی/التطبیق ٧٨ (١١٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤١) (صحیح )
876Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (مرض الموت میں اپنے کمرہ کا) پردہ اٹھایا، (دیکھا کہ) لوگ ابوبکر ؓ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! نبوت کی بشارتوں (خوشخبری دینے والی چیزوں) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کردیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے ۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ often said while bowing and prostrating himself; “Glory be to Thee, O Allah, out Lord. ” And “Praise be to Thee, O Allah, forgive me, ” Thus interpreting the (command in the Quran).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٧٩)، سنن النسائی/التطبیق ٨ (١٠٤٦)، ٦٢ (١١٢١)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ١ (٣٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٨١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٩)، (١٩٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٧ (١٣٦٤) (صحیح )
877Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے سبحانک اللهم ربنا وبحمدک اللهم اغفر لي کہتے تھے اور قرآن کی آیت فسبح بحمد ربک واستغفره (سورة النصر: ٣) کی عملی تفسیر کرتے تھے۔

Abu Hurairah said: The prophet ﷺ used to say when prostrating himself: “O Allah. Forgive me all my sins, small and great, first and last. “ the narrator Ibn al-sarh added: “open and secret. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢٣ (٧٩٤)، ١٣٩ (٨١٧) والمغازي ٥١ (٤٢٩٣)، و تفسیر سورة النصر ١ (٤٩٦٧)، ٢ (٤٩٦٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٤)، سنن النسائی/التطبیق ١٠ (١٠٤٨)، ٦٤ (١١٢٣)، ٦٥ (١١٢٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠ (٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٤٩، ١٩٠) (صحیح )
878Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ. زَادَ ابْنُ السَّرْحِ: عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره یعنی اے اللہ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے ۔ ابن السرح نے اپنی روایت میں علانيته وسره کی زیادتی کی ہے۔

Aishah said; one night I missed the Messenger of Allah ﷺ and when I sought him on the spot of prayer I found him in prostration with his feet raised, and he was saying: ” (O Allah), I seek refuge in Your good pleasure from Your anger, and in Your Mercy from Your Punishment, and I seek refuge from You in You; I am not able to praise You (the way that You deserve to be praised), for You are as You have praised Yourself”.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٦) (صحیح )
879Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَسَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات (اپنے پاس بستر پر) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ ﷺ سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں: أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک یعنی اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to make supplication during the prayer saying: O Allah, I seek refuge in Thee from the punishment of the grave; I seek refuge in Thee from the trial of the Antichrist; I seek refuge in Thee from the trial of life and the trial of death; O Allah, I seek refuge in Thee from sin and debt. Someone said to him: How often you seek refuge from debt! He replied: When a man is in debt, he talks and tells lies, makes promises and breaks them.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٦)، سنن النسائی/الطھارة ١١٩، باب ١٢٠(١٦٩)، والتطبیق ٤٧ (١١٠١)، ٧١ (١١٣١)، والاستعاذة ٦٢ (٥٥٣٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣١)، مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠١) (صحیح )
880Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِفَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ، فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بک من المأثم والمغرم یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح (کانے) دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے ۔

Narrated Abu Layla al-Ansari (RA) : I prayed by the side of the Messenger of Allah ﷺ in the supererogatory prayer and I heard him say: I refuge in Allah from the Hell-Fire; woe to the inmates of the Hell-fire!

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٩ (٨٣٢)، الاستقراض ١٠ (٢٣٩٧)، صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٩)، سنن النسائی/السہو ٦٤ (١٣١٠)، الاستعاذة ٩ (٥٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٦٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٥)، مسند احمد (٦/٨٨، ٨٩، ٢٤٤) (صحیح )
881Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ تَطَوُّعٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ.

ابولیلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بغل میں ایک نفل نماز پڑھی تو میں نے آپ کو أعوذ بالله من النار ويل لأهل النار میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور جہنم والوں کے لیے خرابی ہے کہتے سنا۔

Abu Hurairah said; The Messenger of Allah ﷺ got up for the prayer and we also stood up along with him. A Bedouin said said during prayer; O Allah, show mercy to me and to Muhammed and do not show mercy to anyone along with us. When the Messenger of Allah ﷺ uttered the salutation, he said to the Bedouin; you narrowed down a vast (thing). By this he meant the mercy of Allah.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ١٧٩(١٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٧) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن أبی لیلی ضعیف راوی ہیں )
882Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایک دیہاتی نے نماز میں کہا: اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا اے اللہ! تو مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس دیہاتی سے فرمایا: تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کردیا ، اس سے آپ ﷺ اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔

Ibn Abbas reported; when the prophet ﷺ recited: “Glorify the name of thy Lord, the Most High. ” He would say: ”Glory be to Allah, the most High”. Abu Dawud said; In this tradition the other narrators have differed from the narrator Wakl. This has been narrated by Wakl, and Shubah from Abu Ishaq, from Sa’ld bin Jubair, from Ibn Abbas as his own statement (and not from the Prophet)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (٣٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٤٣) (صحیح )
883Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: خُولِفَ وَكِيعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَرَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا. عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى»کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں:

اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔

Aishah said: A man used to pray on the roof of his house. When he recited the verse “Is not He able to bring the dead to life?” [Surah al-Qiyamah: 42] he would say: ”Glory be to You, then, why not?” the prophet asked him about it. He replied: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said: Ahmad (b. Hanbal) said: It is pleasing to me that one should recite in the obligatory prayer those supplications which have occurred in the Quran.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٧١) (صحیح )
884Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: كَانَ رَجُل يُصَلِّي فَوْقَ بَيْتِهِ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 قَالَ: سُبْحَانَكَ فَبَلَى. فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ: يُعْجِبُنِي فِي الْفَرِيضَةِ أَنْ يَدْعُوَ بِمَا فِي الْقُرْآنِ.

موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتى (سورة القيامة: ٤٠) پر پہنچتے تو سبحانک کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے کہا: مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔

Saad reported that he heard his father or his uncle say ; I witnessed the Prophet ﷺ while offering prayer. He used to stay in his bowing and his prostration as long as one uttera the words “Glory be to Allah and praise be to Him” three times.

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة القيامة: (٤٠ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٠) (صحیح )
885Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِفَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا.

سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار: سبحان الله وبحمده کہہ سکیں۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you bows, he should say three time,: Glory be to my mighty Lord, and when he prostrates, he should say: Glory be to my most high Lord three times. This is the minimum number. Abu Dawud said: The chain of this tradition is broken. The narrator Awn did not see Abdullah (bin Masud).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٨، ١٦١، ١٧٦، ٢٥٣، ٢٧١، ٥/٦) (صحیح )
886Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ، عَوْنٌ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار: سبحان ربي العظيم کہے، اور یہ کم سے کم مقدار ہے، اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار: سبحان ربي الأعلى کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عون نے عبداللہ ؓ کو نہیں پایا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you recites By the fig and the olive (Surah 95) and comes to its end Is not Allah the best judge? (verse 8), he should say: Certainly, and I am one of those who testify to that. When one recites I swear by the Day of Resurrection (Surah 75) and comes to Is not that one able to raise the dead to life? (verse 40), he should say: Certainly. And when one recites By those that are sent (Surah 77), and comes to Then in what message after that will they believe? (Surah 50), he should say: We believe in Allah. The narrator Ismail (ibn Umayyah) said: I beg to repeat (this tradition) before the Bedouin (who reported this tradition) so that I might see whether he (was mistaken). He said: My nephew, do you think that I did not remember it? I performed sixty hajj (pilgrimages); there is no hajj but I recognize the came on which I performed it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٢ (٢٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠ (٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٠) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے، یعنی عون کی ملاقات عبداللہ بن مسعود ؓ سے نہیں ہوئی )
887Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8 فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَانْتَهَى إِلَى أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلاتِ فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50 فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ. قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ، لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص سورة والتين والزيتون پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت والتين والزيتون پر پہنچے تو: بلى وأنا على ذلک من الشاهدين کہے، اور جو سورة لا أقسم بيوم القيامة پڑھے اور أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتى پر پہنچے تو بلى کہے، اور جو سورة والمرسلات پڑھے اور آیت فبأى حديث بعده يؤمنون پر پہنچے تو آمنا بالله کہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: (میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی) ، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ (وہ نہ سنا سکے) تو اس اعرابی نے کہا: میرے بھتیجے! تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔

Narrated Anas ibn Malik: I did not offer behind anyone after the Messenger of Allah ﷺ a prayer like the prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ than this youth, i. e. Umar ibn Abdul Aziz. We estimated reciting glorification ten times in his bowing, and in his prostration ten times. Abu Dawud said: Ahmad bin Salih said: I asked him (Abdullah) whether the name Manus is correct of Mabus. He replied: Abd al-Razzaq used to say Mabus, but I remember Manus (i. e. the narrator Wahb bin Manus). These are the words of Ibn Rafi. It has also been narrated by Ahmad from Saeed bin Jubair on the authority of Anas bin Malik (RA) .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/التفسیر ٨٣ (٣٣٤٧)، مسند احمد ٢/٢٤٩، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠) (ضعیف) (اس کا راوی اعرابی مبہم شخص ہے )
888Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قُلْتُ لَهُ: مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ، قَالَ: أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ: مَابُوسٌ، وَأَمَّا حِفْظِي: فَمَانُوسٌ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ. قَالَ أَحْمَدُ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک ؓ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: (وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے (اسے سمعت کے بجائے عن سے یعنی: عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالک روایت کی ہے) ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ibn Abbas reported the Prophet ﷺ as saying: I have been commanded - according to the version of Hammad: Your Prophet ﷺ was commanded - to prostrate on seven (bones), and not to fold back the hair or the clothing.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٧٦ (١١٣٦)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٢-١٦٣) (ضعیف) (اس کی سند میں وہب بن مانوس مجہول الحال راوی ہیں )
889Sunan Abu Dawood(893)

جب امام کو سجدہ کی حالت میں پائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ، وَابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔

Ibn Abbas reported the prophet ﷺ as saying: I have been commanded, and sometimes the narrator said: Your prophet ﷺ was commanded to prostrate on seven limbs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو اود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٢٩ (٥٥٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩١ (١١٢٣)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣(١٥)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (حسن) ( اس حدیث کو ابن خزیمہ (١٦٢٢) نے اپنی صحیح میں تخریج کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، ان کی موافقت ذھبی نے کی ہے (١ ؍ ٢١٦) لیکن اس کے راوی یحییٰ بن ابی سلیمان لیَّن الحدیث ہیں، ابن حبان اور حاکم کی توثیق کافی نہیں ہے، لیکن حدیث مرفوع اور موقوف شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: (صحیح ابی داود ٤ ؍ ٤٧۔ ٤٨)، نیز حدیث کا دوسرا ٹکڑا ومن ادرک الخ صحیح ومتفق علیہ ہے )
890Sunan Abu Dawood(889)

سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ. قَالَ حَمَّادٌ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا ١ ؎۔

Abbas bin Abd al-Muttalib said that he heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: when a servant (of Allah) prostrates himself, the seven limbs, i. e, his face, his palms, his knees and his feet prostrate along with him.

Notes · وضاحت
١ ؎: نماز میں بالوں کو پگڑی وغیرہ میں سمیٹنا یا جوڑا باندھنا مکروہ ہے اسی طرح مٹی وغیرہ سے بچانے کے لئے کپڑوں کا سمیٹنا بھی درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩)، ١٣٤ (٨١٠)، ١٣٧ (٨١٦)، ١٣٨ (٨١٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٣)، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤)، ٤٣ (١٠٩٧)، ٤٥ (١٠٩٩)، ٥٦ (١١١٦)، ٥٨ (١١١٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح )
891Sunan Abu Dawood(890)

سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُوَرُبَّمَا قَالَ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ آرَابٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور کبھی راوی نے کہا: تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Both hands prostrate as the face prostrates. When one of you puts his face (on the ground) he should put his hands too (on the ground). And when he raises it, he should raise them too.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤) (صحیح )