Sunan Abu Dawood 922

نماز کا بیان

922Sunan Abu Dawood

نماز میں کوئی کام کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَحْمَدُ: يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ، قَالَ أَحْمَدُ: فَمَشَى، فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ. وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی (نماز کی جگہ) پر واپس لوٹ گئے ١ ؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We used to salute during prayer and talk about our needs. I came to the Messenger of Allah ﷺ and found him praying. I saluted him, but he did not respond to me. I recalled what happened to me in the past and in the present. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said to me: Allah, the Almighty, creates new command as He wishes, and Allah, the Exalted, has sent a fresh command that you must not talk during prayer. He then returned my salutation.

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، ان سب اعمال سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٤ (الجمعة ٦٨)، (٦٠١) سنن النسائی/السھو ١٤ (١٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٤١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ١٨٣، ٢٣٤) (حسن )