Sunan Abu Dawood 923

نماز کا بیان

923Sunan Abu Dawood

نماز میں سلام کا جواب دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِفَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ ﷺ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز (خود) ایک شغل ہے ۔

Narrated Suhayb: I passed by the Messenger of Allah ﷺ who was praying. I saluted him and he returned it by making a sign. The narrator said: I do not know but that he said: He made a sign with his finger. This is the version reported by Qutaybah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٣ (١٢٠١)، ١٥ (١٢١٦)، مناقب الأنصار ٣٧ (٣٨٧٥)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٨)، ن الکبری / السھو ٩٩ (٥٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٤١٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٩)، مسند احمد (١/ ١٧٦، ١٧٧، ٤٠٩، ٤١٥، ٤٣٥، ٤٦٢) (صحیح )