سجدہ سہو کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حَتَّى يَقَّنَهُ اللَّهُ ذَلِكَ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے: اور آپ ﷺ نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا کامل یقین دلا دیا ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version goes: he did not make two prostrations (at the end of prayer) due to forgetfulness until Allah gave him satisfaction about it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣١٩٢، ١٥٢٠٥، ١٤١١٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن کثیر مصیصی کثیر الغلط ہیں )