سجدہ سہو کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَقَالَ لَه رَجُلٌ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَمْ أَفْعَلْ، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے ، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے، ابوسفیان نے ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس میں ہے: پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Prophet ﷺ finished two rakahs of an obligatory prayer, a man asked him: Messenger of Allah, has the prayer been shortened, or have you forgotten? he replied: I did not do all that. The people said: Messenger of Allah, you did that. Therefore, he offered another two rakahs or prayer and did not make two prostrations due to forgetfulness. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Dawud al-Hussain from Abu Sufyan, freed slave of Ibn Abi Ahmad on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . This version goes: He then made two prostrations while he was sitting after the salutation.