Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 76 of 265

1505Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَمْلَاهَا الْمُغِيرَةُ عَلَيْهِ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ معاویہ ؓ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ ﷺ: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی پڑھتے تھے۔

Al-Mughirah bin Shubah reported: Muawiyah wrote to al-Mughirah bin Shubah: What would the the Messenger of Allah ﷺ recite when he gave Taslim (salutation) in the prayer ? Al-Mughirah dictated and wrote to Muawiyah: The Messenger of Allah ﷺ used to say (at the end of the prayer after taslim): There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the dominion, to Him praise is due, and He is Omnipotent. O Allah no one cane withhold what You give and give what You withhold, and none benefits the fortunate person, for from You is the fortune.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٥ (٨٤٤)، والزکاة ٥٣ (١٤٧٧)، والدعوات ١٨ (٦٣٣٠)، والرقاق ٢٢ (٦٤٧٣)، و القدر ١٢ (٦٦١٥)، والاعتصام ٣ (٧٢٩٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٣)، سنن النسائی/السہو ٨٥ (١٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٤٧، ٢٥٠، ٢٥١، ٢٥٤، ٢٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٨ (١٣٨٩) (صحیح )
1506Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ.

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں ۔

Abu Zubair said: I heard Abdullah bin al-Zubair saying on the pulpit: When the Prophet ﷺ finished the prayer, he used to say (at the end of the prayer): There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due, and He is Omnipotent. There is no God but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though the infidels should disapprove. To Him belongs wealth, to Him belongs grace and to Him is worthy accorded. There is no got but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though infidels should disapprove.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٤)، سنن النسائی/السہو ٨٣ (١٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤)، (صحیح )
1507Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الدُّعَاءِ، زَادَ فِيهِ: وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ، وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر ؓ ہر نماز کے بعد لا إله إلا الله *** کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا: ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة *** اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔

Abu al-Zubair said: Abdullah bin al-Zubair used to recite this supplication after each (prescribed) prayer. He then narrated a similar supplication and added to it: There is no might and no power except in Allah; there is no god but Allah Whom alone we worship. To Him belongs wealth. The narrator then transmitted the rest of tradition.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٤)، سنن النسائی/السہو ٨٤ (١٣٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٨٥) (صحیح )
1508Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ، أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ، وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا۔ (سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے) : اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدک لا شريك لك، اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدک ورسولک، اللهم ربنا ورب کل شىء، أن العباد کلهم إخوة، اللهم ربنا ورب کل شىء، اجعلني مخلصا لک وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإکرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوکيل الله أكبر الأكبر اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( ﷺ ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے (سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ۔

Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ saying (the version of Sulayman has: The Messenger of Allah ﷺ used to say) after his prayer: - O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that Thou art the Lord alone Who hast no partner; O Allah, Our Lord and Lord of everything, I bear witness that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger ; O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that all the servants are brethren; O Allah, our Lord and Lord of everything make me sincere to Thee, and my family too at every moment, in this world and in the world hereafter, O Possessor of glory and honour, listen to me and answer. Allah is incomparably great. O Allah, Light of the heavens and of the earth. The narrator Sulaiman bin Dawud said: Lord of the heavens and of the earth, Allah is incomparably great. Allah is sufficient for me; and the excellent guardian is He; Allah is incomparably great.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (١٠١) (ضعیف) (اس کے راوی ” داود طفاوی “ لین الحدیث ہیں )
1509Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔

Ali bin Abi Talib said: When the Prophet ﷺ uttered salutation at the end of the prayer, he used to say: O Allah, forgive me my former and latter sins, what I have kept secret and what I have done openly, and what I have done extravagance; and what You know better than I do. You are the Advancer, the Delayer, there is no god but You.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ٧٦٠، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨) (صحیح )
1510Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو: رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ، ذَاكِرًا لَكَ، رَاهِبًا لَكَ، مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامکر لي ولا تمکر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لک شاکرا لك، ذاکرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to supplicate Allah: My Lord, help me and do not give help against me; grant me victory, and do not grant victory over me; plan on my behalf and do not plan against me; guide me, and made my right guidance easy for me; grant me victory over those who act wrongfully towards me; O Allah, make me grateful to Thee, mindful of Thee, full of fear towards Thee, devoted to Thy obedience, humble before Thee, or penitent. My Lord, accept my repentance, wash away my sin, answer my supplication, clearly establish my evidence, guide my heart, make true my tongue and draw out malice in my breast.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٣ (٣٥٥١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٠)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٠٧، ٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧) (صحیح )
1511Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّوَلَمْ يَقُلْ: هُدَايَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالُوا: ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا.

سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں يسر هداي إلي کے بجائے يسر الهدى إلي ہے۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Amr bin Murrah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: And make right guidance easy for me. The narrator did not say: my right guidance. Abu Dawud said: Sufyan heard eighteen traditions from Amr bin Murrah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٥) (صحیح )
1512Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سلام پھیرتے تو فرماتے: اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإکرام ١ ؎ اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے ۔ امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ٢ ؎۔

Aishah said: When the Prophet ﷺ uttered taslim, he used to say: O Allah, You are As-Salam, and from you is As-Salam. You are blessed, O One of Magnificence and Generosity.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایات سے یہ دعا صرف اتنی ہی ثابت ہے جن روایتوں میں وإليك يرجع السلام وأدخلنا دار السلام، تبارک ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإکرام کی زیادتی آئی ہے وہ کمزور اور ضعیف ہیں۔ ٢ ؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (١٥١١) سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (٢٩٨)، سنن النسائی/السہو ٨٢ (١٣٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٢ (٩٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٢، ١٨٤، ٢٣٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٨ (١٣٨٧) (صحیح )
1513Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد کی دعائیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِاسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ. فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد اللهم کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

Thawban, the client of Messenger of Allah ﷺ said: When the Prophet ﷺ finished the prayer, he asked forgiveness three times and said: O Allah. . . . . The narrator then narrated the tradition like that of Aisha (RA) .

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (٣٠٠)، سنن النسائی/السہو ٨١ (١٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٢ (٩٢٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٨ (١٣٨٨) (صحیح )
1514Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ.

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ١ ؎۔

Narrated Abu Bakr as-Siddiq: The Prophet ﷺ said: He who asks pardon is not a confirmed sinner, even if he returns to his sin seventy times a day.

Notes · وضاحت
١ ؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہوجاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کرلے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بدقسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہوجائے تو یہ اصرار نہ ہوگا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٧ (٣٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ٦٦٢٨) (ضعیف) (اس کے ایک راوی مولی لا ٔبی بکر مبہم مجہول آدمی ہیں )
1515Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ.

اغر مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے دل پر غفلت کا پردہ آجاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں ۔

Al-Agharr al-Muzani said (Musaddad in his version of this tradition said that he was a Companion of the Prophet): The Messenger of Allah ﷺ said: My heart is invaded by unmindfulness, and I ask Allahs pardon a hundred times in the day.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٢ (٢٧٠٢)، سنن النسائی/ فی الیوم واللیلة (٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١١، ٢٦٠، ٥/٤١١) (صحیح )
1516Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے سو بار: رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : We counted that the Messenger of Allah ﷺ would say a hundred times during a meeting: My Lord, forgive me and pardon me; Thou art the Pardoning and forgiving One.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٩ (٣٤٣٤)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٧ (٣٨١٤)، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٢) وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١) (صحیح )
1517Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُرَّةَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنِيهِ، عَنْ جَدِّي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ.

نبی اکرم ﷺ کے غلام زید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ١ ؎۔

Narrated Zayd, the client of the Prophet: The Prophet ﷺ said: If anyone says: I ask pardon of Allah than Whom there is no deity, the Living, the eternal, and I turn to Him in repentance, he will be pardoned, even if he has fled in time of battle.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب کفار کی تعداد دوگنی سے زیادہ نہ ہو تو ان کے مقابلے سے میدان جہاد سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے، لیکن استغفار سے یہ گناہ بھی معاف ہوجاتا ہے، تو اور گناہوں کی معافی تو اور ہی سہل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٨ (٣٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٥) (صحیح )
1518Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کرلے ١ ؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone continually asks pardon, Allah will appoint for him a way out of every distress, and a relief from every anxiety, and will provide for him from where he did not reckon.

Notes · وضاحت
١ ؎: استغفار یعنی اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کی پابندی وہی کرے گا جو اس سے ڈرے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا، ارشاد باری ہے وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبْ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الیوم واللیلة (٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٧ (٣٨١٩)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨) (ضعیف) (اس کے راوی حکم بن مصعب مجہول ہیں )
1519Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ. ح حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا: أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ ؟ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. وَزَادَ زِيَادٌ: وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهَا.

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ ﷺ سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے (البقرہ: ٢٠١) ۔ زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کرلیتے۔

Qatadah asked Anas (RA) : Which Supplication would the Prophet ﷺ often make ? He replied: The supplication he would usually recite was: O Allah, give us in this world what is good and in the next what is good, and protect us from the punishment of Hell-fire. The version of Ziyad adds: When Anas wished to supplicate, he uttered this supplication. When he uttered some other supplication, he combined it with this supplication.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٧ (٢٦٩٠)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٣٠٧ (١٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٦، ١٠٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر البقرة ٣٦ (٤٥٢٢)، والدعوات ٥٥ (٦٣٨٩)، مسند احمد (٣/١٠١) (صحیح )
1520Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔

Suhail bin Hunaif reported on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone asks Allah for martyrdom sincerely, Allah make him reach the ranks of martyrs though he may die on his bed.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٦ (١٩٠٩)، سنن الترمذی/الجہاد (١٦٥٣)، سنن النسائی/الجہاد ٣٦ (٣١٦٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد ١٦(٢٤٥١) (صحیح )
1521Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا، مجھ سے ابوبکر ؓ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر ؓ نے سچ کہا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله *** إلى آخر الآية ١ ؎ جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔۔ آیت کے اخیر تک ۔

Narrated Abu Bakr as-Siddiq: Asma bint al-Hakam said: I heard Ali say: I was a man; when I heard a tradition from the Messenger of Allah ﷺ , Allah benefited me with it as much as He willed. But when some one of his companions narrated a tradition to me I adjured him. When he took an oath, I testified him. Abu Bakr narrated to me a tradition, and Abu Bakr narrated truthfully. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: When a servant (of Allah) commits a sin, and he performs ablution well, and then stands and prays two rakahs, and asks pardon of Allah, Allah pardons him. He then recited this verse: And those who, when they commit indecency or wrong their souls, remember Allah (iii. 134).

Notes · وضاحت
١ ؎: سورة آل عمران: (١٣٥) پوری آیت اس طرح ہے: فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٢ (٤٠٦)، و تفسیر آل عمران ٤ (٣٠٠٦)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤١٤، ٤١٥، ٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢، ٨، ٩، ١٠) (صحیح )
1522Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُعُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: اللهم أعني على ذکرک وشکرک وحسن عبادتک اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما ۔ معاذ ؓ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔

Muadh bin Jabal reported that the Messenger of Allah ﷺ caught his hand and said: By Allah, I love you, Muadh. I give some instruction to you. Never leave to recite this supplication after every (prescribed) prayer: O Allah, help me in remembering You, in giving You thanks, and worshipping You well. Muadh willed this supplication to the narrator al-Sunabihi and al-Sunabihi to Abu Abdur-Rahman.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٦٠ (١٣٠٤)، وعمل الیوم واللیلة ٤٦ (١٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٤٤، ٢٤٥، ٢٤٧) (صحیح )
1523Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُنَيْنَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ١ ؎۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to recite Muawwidhatan (the last two surahs of the Quran) after every prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: معوذات سے مراد دو سورتیں قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس ہیں، کیونکہ جمع کا اطلاق دو پر بھی ہوتا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں سورة اخلاص اور قل يا أيها الکافرون بھی شامل ہیں، یا تو تغلیباً انہیں معوذات کہا گیا ہے، یا ان دونوں میں بھی تعوذ کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں سورتیں اخلاص وللہیت، شرک سے براءت، اور التجاء الی اللہ کے مفہوم پر مشتمل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٢ (٢٩٠٣)، سنن النسائی/السہو ٨٠ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٥، ٢٠١) (صحیح )
1524Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ liked to supplicate three times and to ask pardon (of Allah) three times.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٤٨٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤٥٧)، مسند احمد (١/٣٩٤، ٣٩٧)، (ضعیف) (ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے، ان کے پوتے اسرائیل نے آپ سے اختلاط طاری ہونے کے بعد روایت کی ہے )