Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 75 of 265

1485Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّن حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ، مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ، سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ، وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیواروں پر پردہ نہ ڈالو، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق (سند) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not cover the walls. He who sees the letter of his brother without his permission, sees Hell-fire. Supplicate Allah with the palms of your hands; do not supplicate Him with their backs upwards. When you finish supplication, wipe your faces with them. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted through a different chains by Muhammad bin Kab; all of them are weak. The chain I have narrated is best of them; but it is also weak.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٩ (٣٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٨) (ضعیف) (عبداللہ بن یعقوب کے شیخ مبہم ہیں )
1486Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْشُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُم الْعَوْفِيّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ: لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ، يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ.

مالک بن یسار سکونی عوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن عبدالحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

Narrated Malik ibn Yasar as-Sakuni, al-Awfi (RA) : The Prophet ﷺ said: When you make requests to Allah, do so with the palms of your hands, and not backs, upwards. Abu Dawud said: The narrator Sulaiman bin Abd al-Hamid said: according to us Malik bin Yasar was a Companion of the Prophet ﷺ

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٩) (حسن صحیح )
1487Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَدْعُو هَكَذَا بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ وَظَاهِرِهِمَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی ١ ؎۔

Narrated Anas ibn Malik: I saw the Messenger of Allah ﷺ supplicating Allah in this manner with the palms of his hands and also with their backs upwards.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عام حالات میں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرہ کی طرف اور استسقاء میں اندرونی حصہ زمین کی طرف اور پشت چہرہ کی طرف کر کے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣١٧) (صحیح )
1488Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ،عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے ۔

Narrated Salman al-Farsi (RA) : The Prophet ﷺ said: Your Lord is munificent and generous, and is ashamed to turn away empty the hands of His servant when he raises them to Him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٥ (٣٥٥٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٣ (٣٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٨) (صحیح )
1489Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الْمَسْأَلَةُ: أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ: أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالِابْتِهَالُ: أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال (عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ikrimah quoted Ibn Abbas as saying: When asking for something you should raise your hands opposite to your shoulders; when asking for forgiveness you should point with one finger; and when making an earnest supplication you should spread out both your hands.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٦) (صحیح )
1490Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: وَالِابْتِهَالُ هَكَذَا: وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ابتہال اس طرح ہے اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کردی۔

In another version Ibn Abbas said: Earnest supplication should be made like this: he raised his hand and made his palms in the direction of his face.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٦) (صحیح )
1491Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

The above mentioned tradition has also been transmitted in a similar manner by Ibn Abbas from the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٦، ١٨٨٨٠) (صحیح )
1492Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ.

یزید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔

Narrated Yazid ibn Saeed al-Kindi: When the Prophet ﷺ made supplication (to Allah) he would raise his hands and wipe his face with his hands.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢١) (ضعیف) (اس کے راوی ابن لھیعہ ضعیف ہیں اور حفص بن ہاشم مجہول ہیں )
1493Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالِاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا: اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بےنیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے ۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Messenger of Allah ﷺ heard a man saying: O Allah, I ask Thee, I bear witness that there is no god but Thou, the One, He to Whom men repair, Who has not begotten, and has not been begotten, and to Whom no one is equal, and he said: You have supplicated Allah using His Greatest Name, when asked with this name He gives, and when supplicated by this name he answers.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٤ (٣٤٧٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٩٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٩، ٣٥٠، ٣٦٠) (صحیح )
1494Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ.

اس سند سے بھی بریدہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا ۔

The aforesaid tradition has been transmitted through a different chain of narrators by Malik bin Mighwal. This verso adds: He has asked Allah using His Greatest Name.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٩٩٨) (صحیح )
1495Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي، ثُمَّ دَعَا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى.

انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) اس نے دعا مانگی: اللهم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإکرام يا حى يا قيوم اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے! یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: I was sitting with the Messenger of Allah ﷺ and a man was offering prayer. He then made supplication: O Allah, I ask Thee by virtue of the fact that praise is due to Thee, there is no deity but Thou, Who showest favour and beneficence, the Originator of the Heavens and the earth, O Lord of Majesty and Splendour, O Living One, O Eternal One. The Prophet ﷺ then said: He has supplicated Allah using His Greatest Name, when supplicated by this name, He answers, and when asked by this name He gives.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٥٨ (١٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ١٠٠ (٣٥٤٤)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٨)، مسند احمد (٣/١٢٠، ١٥٨، ٢٤٥) (صحیح )
1496Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163، وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ الم 1 اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ 2 سورة آل عمران آية 1-2.

اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا اسم اعظم (عظیم نام) ان دونوں آیتوں وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم ١ ؎ اور سورة آل عمران کی ابتدائی آیت الله لا إله إلا هو الحي القيوم ٢ ؎ میں ہے ۔

Asma daughter of Yazid reported the Prophet ﷺ as saying: Allahs Greatest Names is in these two verses: And your Ilaah (God) is One Ilaah (God), none has the right to be worshipped but He, the Ever-Merciful, the Mercy-Giving and the beginning of Surah Al Imran, A. L. M Allah, there is no deity but He, the Living, the Eternal.

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة البقرة: (١٦٣) وضاحت: سورة آل عمران: (١، ٢ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی عبیداللہ القدَّاح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامة کی حدیث ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی) (ملاحظہ ہو: سلسلة ا لاحادیث الصحیحة: ٧٤٦ و صحیح ابی داود: ٥ ؍ ٢٣٤ )
1497Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا تُسَبِّخِي: أَيْ لَا تُخَفِّفِي عَنْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے: تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لا تسبخي کا مطلب ہے لا تخففي عنه یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Ata said: The quilt of Aisha (RA) was stolen. She began to curse the person who had stolen it. The Prophet ﷺ began to tell her: Do not lighten him. Abu Dawud said: The meaning of the Arabic words la tasbikhi anhu means do not lessen him or lighten him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥، ١٣٦)، ویأتي برقم (٤٩٠٩) (حسن) (ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ٢/٩٠، والصحیحة: ٣٤١٣ )
1498Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لِي، وَقَالَ: لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ، فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ، وَقَالَ: أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت لا تنسنا يا أخى من دعائك کے بجائے أشرکنا يا أخى في دعائك کے الفاظ کہے اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : I sought permission of the Prophet ﷺ to perform Umrah. He gave me permission and said: My younger brother, do not forget me in your supplication. He (Umar) said: He told me a word that pleased me so much so that I would not have been pleased if I were given the whole world. The narrator Shubah said: I then met Asim at Madina. He narrated to me this tradition and reported the wordings: My younger brother, share me in your supplication.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٠ (٣٥٦٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥ (٢٨٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩) (ضعیف) (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں )
1499Sunan Abu Dawood

دعا کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَيَّ، فَقَالَ: أَحِّدْ أَحِّدْوَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔

Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : The Prophet ﷺ passed by me while I was supplicating by pointing with two fingers of mine. He said: Point with one finger; point with one finger. He then himself pointed with the forefinger.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٣٧ (١٢٧٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات (٣٥٥٢) (صحیح )
1500Sunan Abu Dawood

کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْعَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ: أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا، أَوْ أَفْضَلُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت ١ ؎ کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ٢ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: سبحان الله عدد ما خلق في السماء و سبحان الله عدد ما خلق في الأرض و سبحان الله عدد ما خلق بين ذلک و سبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلک والحمد لله مثل ذلک . ولا إله إلا الله مثل ذلک . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك۔

Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : Once Saad, with the Messenger of Allah ﷺ , visited a woman in front of whom were some date-stones or pebbles which she was using as a rosary to glorify Allah. He (the Prophet) said: I tell you something which would be easier (or more excellent) for you than that. He said (it consisted of saying): Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created in Heaven; Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created on Earth; Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created between them; Glory be to Allah as many times as the number of that which He is creating; Allah is most great a similar number of times; Praise (be to Allah) a similar number of times; and There is no god but Allah a similar number of times; There is no might and no power except in Allah a similar number of times.

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ ام المومنین صفیہ ؓ، یا ام المومنین جویریہ ؓ تھیں۔ ٢ ؎: مروجہ تسبیح جس میں سو دانے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک امام ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، انگلیوں پر تسبیح مسنون ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث نمبر (١٥٠١)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٤ (٣٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ٣٩٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی خزیمہ مجہول ہیں )
1501Sunan Abu Dawood

کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ.

یسیرہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ١ ؎۔

Narrated Yusayrah, mother of Yasir: The Prophet ﷺ commanded them (the women emigrants) to be regular (in remembering Allah by saying): Allah is most great; Glory be to the King, the Holy; there is no god but Allah; and that they should count them on fingers, for they (the fingers) will be questioned and asked to speak.

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما کانوا يعملون ( سورة النور 24) ” جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے “، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢١ (٣٥٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٠، ٣٧١) (حسن )
1502Sunan Abu Dawood

کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَعْقِدُ التَّسْبِيحَ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: بِيَمِينِهِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے) : اپنے دائیں ہاتھ پر ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: I saw the Messenger of Allah ﷺ counting the glorification of Allah on fingers. Ibn Qudamah said (in his version: With his right hands.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٥ (٣٤١١)، ٧٢ (٣٤٨٦)، سنن النسائی/السہو ٩٧ (١٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣٧) (صحیح )
1503Sunan Abu Dawood

کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، فَقَالَ: لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ هَذَا ؟قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جویریہ ؓ کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ١ ؎ آپ نے اسے بدل دیا) ، جب آپ ﷺ نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد کلماته میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ۔

Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went out from Juwayriyyah (wife of the Prophet). Earlier her name was Barrah, and he changed it. When he went out she was in her place of worship, and when he returned she was in her place of worship. He asked: Have you been in your place of worship continuously? She said: Yes. He then said: Since leaving you I have said three times four phrases which, if weighed against all that you have said (during this period), would prove to be heavier: glory be to Allah, and I begin with praise of Him to the number of His creatures, in accordance with His good pleasure, to the weight of His throne and to the ink (extent) of His words.

Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرح زینب بنت ابی سلمہ ؓ کا نام بھی برہ تھا، اس کو بدل کر آپ ﷺ نے زینب رکھ دیا، اس لئے کہ معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کون برہ (نیکوکار) ہے اور کون فاجرہ (بدکار) ہے، انسان کو آپ اپنی تعریف و تقدیس مناسب نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٩ (٢١٤٠ و ٢٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/افتتاح ٩٤ (١٣٥٣)، سنن الترمذی/الدعاء ١٠٤(٣٥٥٥)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٦ (٢٨٠٨)، مسند احمد (١/٢٥٨، ٣١٦، ٣٢٦، ٣٥٣) (صحیح )
1504Sunan Abu Dawood

کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ نَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ، وَلَا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ ؟قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُكَبِّرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوذر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر (ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اور جو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہوسکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ہر نماز کے بعد (٣٣) بار الله اکبر (٣٣) بار الحمد الله (٣٣) بار سبحان الله کہا کرو، اور آخر میں لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير پڑھا کرو جو ایسا کرے گا) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Dharr said: Prophet of Allah. The wealthy people have all the rewards; they pray as we pray; they fast as we fast; and they have surplus wealth which they give in charity; but we have no wealth which we may give in charity. The Messenger of Allah ﷺ said: Abu Dharr, should I not teach you phrases by which you acquire the rank of those who excel you? No one can acquire your rank except one who acts like you. He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Exalt Allah (say: Allah is Most Great) after each prayer thirty-three times; and praise Him (say: Praise be to Allah) thirty-three times; and glorify Him (say: Glory be to Allah) thirty-three times, and end it by saying, There is no god but Allah alone, there is no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due and He has power over everything. His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٢ (٩٢٦)، موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٠ (١٣٩٣) (صحیح )