یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ ﷺ کی نماز کہاں؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی، پھر ام سلمہ نے آپ ﷺ کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Yala ibn Mumallak said that he asked Umm Salamah about the recitation and prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: What have you to do with his prayer? He would pray, then sleep as long as he had prayed, till morning. She then described his recitation and did so with an exposition word by word.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (٢٩٢٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٣(١٠٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٤، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠٨) (ضعیف) (اس کے راوی یعلی لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورة الفتح پڑھ رہے تھے اور (ایک ایک آیت) کئی بار دہرا رہے تھے۔
Abdullah bin Mughaffal said: On the day of the Conquest of Makkah I saw the Messenger of Allah ﷺ riding his she-camel reciting Surah al-Fath repeating each verse several times.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٤٨ (٤٢٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٥ (٧٩٤)، ت الشمائل (٣٩١)، ن الکبری/فضائل القرآن (٨٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٥) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ١ ؎۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Prophet ﷺ said: Beautify the Quran with your voices.
Notes · وضاحت
١ ؎: خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں زينوا أصواتکم بالقرآن کے الفاظ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٨٣ (١٠١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٦ (١٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ٥٢، تعلیقاً، مسند احمد (٤/٢٨٣، ٢٨٥، ٢٩٦، ٣٠٤)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٤ (٣٥٤٤) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : (The narrator Qutaibah said: This tradition has been narrated by Saeed bin Abu Saeed in my collection): The Messenger of Allah ﷺ said: He who does not chant the Quran is not one of us.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام خطابی نے اس کے تین معانی بیان کئے ہیں: ایک یہی ترتیل اور حسن آواز، دوسرے: قرآن کے ذریعہ دیگر کتب سے استغناء (دیکھئے نمبر: ١٤٧٢)، تیسرے: عربوں میں رائج سواری پر حدی خوانی کے بدلے قرآن کی تلاوت۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٩٠٥، ١٨٦٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٢، ١٧٥، ١٧٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٤ (٣٥٣١) (صحیح )
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ ؓ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے تو ہم بھی داخل ہوگئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
Narrated AbuLubabah (RA) : Ubaydullah ibn Yazid said: AbuLubabah passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it. There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He is not one of us who does not chant the Quran. I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn Abu Mulaykah (RA) : Abu Muhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible.
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ (دیگر کتب یا ادیان سے) بےنیاز ہوجائے۔
Waki and Ibn Uyainah said (explaining the meaning of taghanni): This means that the Quran makes a man neglect all other things, and be content with it.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah has not listened to anything as He does to a Prophet chanting the Quran with a loud voice.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٩ (٥٠٢٤)، والتوحید ٣٢ (٧٤٨٢)، ٥٢ (٧٥٤٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٤ (٧٩٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٣ (١٠١٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧١، ٢٨٥، ٤٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧١ (١٥٢٩)، و فضائل القرآن ٣٣ (٣٥٤٠) (صحیح )
سعد بن عبادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ١ ؎ ہو کر ملے گا ۔
Narrated Saad ibn Ubadah (RA) : The Prophet ﷺ said: No man recites the Quran, then forgets it, but will meet Allah on the Day of Judgment in a maimed condition (or empty-handed, or with no excuse).
Notes · وضاحت
١ ؎: کوڑھ کے سبب جس کے ہاتھ کٹ کر گرگئے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٤، ٢٨٥، ٣٢٣)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣ (٣٣٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز: عیسیٰ نے اسے براہ راست سعد بن عبادہ ؓ سے نہیں سنا ہے )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام ؓ کو سورة الفرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں ١ ؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوگئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورة الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہشام سے فرمایا: تم پڑھو ، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو ، میں نے بھی پڑھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر فرمایا: قرآن مجید سات حرفوں ٢ ؎ پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ ۔
Umar bin al-Khattab said: I heard Hisham bin Hakim (b. Hizam) reciting Surah al-Furqan in a different manner from my way of reciting, and the Messenger of Allah ﷺ had taught me to recite it. I nearly spoke sharply to him, but I delayed till he had finished. Then I caught his cloak at the neck, and I brought him to the Messenger of Allah ﷺ . I said: Messenger of Allah, I heard this man reciting Surah al-Furqan in a manner different from that in which you taught me to recite it. The Messenger of Allah ﷺ the told him to recite it. He then recited in the manner I heard him recite. The Messenger of Allah ﷺ said: Thus was it sent down. He then said to me: Recite, I recited (it). He then said: Thus was it sent down. He said: The Quran was sent down in seven modes of reading, so recite according to what comes most easily.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں قرات سے روک دوں۔ ٢ ؎: علامہ سیوطی نے ” الاتقان “ میں اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں مثلاً سات حرفوں سے مراد سات لغات ہیں یا سات لہجے ہیں جو عرب کے مختلف قبائل میں مروج تھے یا سات قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخصومات ٤ (٢٤١٩)، و فضائل القرآن ٥ (٤٩٩٢)، ٢٧ (٥٠٤١)، والمرتدین ٩ (٦٩٣٦)، والتوحید ٥٣ (٧٥٥٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٨ (٨١٨)، سنن الترمذی/القراء ات ١١ (٢٩٤٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٨، ٩٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٤ (٥)، مسند احمد (١/ ٤٠، ٤٢، ٤٣، ٢٦٣) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چناچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا ، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم سميعا عليما کہو یا عزيزا حكيما جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو ۔
Ubayy bin Kab reported: The Prophet ﷺ said: Ubayy, I was asked to recite the Quran and I was asked: In one mode or two modes? The angel that accompanied me said: Say, in two modes, I said: In two modes, I was asked again: In two or three modes. The matter reached up to seven modes. He then said: Each mode is sufficiently health-giving, whether you utter all-hearing and all-knowing or instead all-powerful and all-wise. This is valid until you finish the verse indicating punishment on mercy and finish the verse indicating mercy on punishment.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥ /١٢٤، ١٢٧، ١٢٨) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا: اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا ۔
Ubayy bin Kab said: The Prophet ﷺ was present at the pool of Banu Ghifar, Gabriel came to him and said: Allah has commanded you to make your community read (the Quran) in one harf. He (the Prophet) said: I beg Allah His pardon and forgiveness; my community has not strength to do so. He then came for the second time and told him the same thing till he reached up to seven harfs. Finally, he said: Allah has commanded you to make your community read (the Quran) in seven harfs; in whichever mode they read, that will be correct.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٨ (٨٢١)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٧) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعا عبادت ہے ١ ؎، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا (سورۃ غافر: ٦٠) ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: The Prophet ﷺ said: Supplication (dua) is itself the worship. (He then recited:) And your Lord said: Call on Me, I will answer you (xI. 60).
Notes · وضاحت
١ ؎: دعا جب عبادت ہے تو غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہوگا، کیونکہ عبادت و بندگی کی جملہ قسمیں اللہ ہی کو زیب دیتی ہیں۔
سعد ؓ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہوجاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : Ibn Saad said: My father (Saad ibn Abu Waqqas) heard me say: O Allah, I ask Thee for Paradise, its blessings, its pleasure and such-and-such, and such-and-such; I seek refuge in Thee from Hell, from its chains, from its collars, and from such-and-such, and from such-and-such. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There will be people who will exaggerate in supplication. You should not be one of them. If you are granted Paradise, you will be granted all what is good therein; if you are protected from Hell, you will be protected from what is evil therein.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٢، ١٨٣) (حسن صحیح )
صحابی رسول فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر درود (نماز) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود (نماز) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے ۔
Narrated Fudalah ibn Ubayd,: The Messenger of Allah ﷺ heard a person supplicating during prayer. He did not mention the greatness of Allah, nor did he invoke blessings on the Prophet ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: He made haste. He then called him and said either to him or to any other person: If any of you prays, he should mention the exaltation of his Lord in the beginning and praise Him; he should then invoke blessings on the Prophet ﷺ ; thereafter he should supplicate Allah for anything he wishes.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٧)، سنن النسائی/السہو ٤٨ (١٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١١٠٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جامع دعائیں ١ ؎ پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ liked comprehensive supplication and abandoned other kinds.
Notes · وضاحت
١ ؎: جامع دعائیں یعنی جن کے الفاظ مختصر اور معانی زیادہ ہوں، یا جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی جامع ہو، جیسے: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار وغیرہ دعائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٨، ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of you should not say (in his supplication): O Allah, forgive me if You please, show mercy to me if You please. Rather, be firm in your asking, for no one can force Him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢١ (٦٣٣٩)، والتوحید ٣١ (٧٤٧٧)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٨ (٣٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٧٢، ١٣٨١٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعا ٣ (٢٦٧٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٤)، موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٢٨)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٤٥٧، ٢٨٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of you is granted an answer (to his supplication) provided he does not say: I prayed but I was not granted an answer.
Notes · وضاحت
١ ؎: دعا میں جلد بازی بےادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٢ (٦٣٤٠)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٥ (٢٧٣٥)، سنن الترمذی/الدعوات ١٢ (٣٣٨٧)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٢٩)، مسند احمد (٢/٤٨٧، ٣٩٦) (صحیح )