Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 73 of 265

1445Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَهُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کردیا۔

Anas bin Malik (RA) said: The Prophet ﷺ recited the supplication for a month (in prayer) and then gave it up.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٨)، (تحفة الأشراف: ٢٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٤، ٢٤٩) (صحیح )
1446Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيَّةً.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔

Narrated Someone who prayed with the Prophet: Muhammad ibn Sirin said: Someone who prayed the morning prayer along with the Prophet ﷺ narrated to me: When he raised his head after the second rakah, he remained standing for a short while.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٦٧) (صحیح )
1447Sunan Abu Dawood

گھر میں نفل پڑھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَصَلَّوْا مَعَهُ لِصَلَاتِهِ، يَعْنِي رِجَالًا، وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا بَابَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا، آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کردی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ ﷺ ان کی طرف نہیں نکلے، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا: لوگو! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کردی جائے، لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے ١ ؎ سوائے فرض نماز کے ۔

Zaid bin Thabit said: The Messenger of Allah ﷺ built a chamber in the mosque. He used to come out at night and pray there. They (the people) also prayed along with him. They would come (to prayer) every night. If on any night the Messenger of Allah ﷺ did not come out, they would cough, raise their voices and throw pebbles and sand on his door. The Messenger of Allah ﷺ came out to time in anger and said: O People, you kept on doing this till I thought that it will be prescribed for you. Offer your prayers in your houses, for a mans prayer is better in his house except obligatory prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم تمام نفلی نماز کو شامل ہے البتہ اس حکم سے وہ نماز مستثنیٰ ہے جس کا شمار شعائر اسلام میں سے ہے مثلاً عیدین، استسقا اور کسوف و خسوف (چاند اور سورج گرہن) کی نماز۔
Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم (١٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٨) (صحیح )
1448Sunan Abu Dawood

گھر میں نفل پڑھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی نماز میں سے کچھ گھروں میں پڑھا کرو، اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Some offer prayer in your houses; do not make them graves.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٠٤٣)، (تحفة الأشراف: ٨١٤٢) (صحیح )
1449Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: طُولُ الْقِيَامِقِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: جَهْدُ الْمُقِلِّقِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِقِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِقِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ ؟ قَالَ: مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ.

عبداللہ بن حبشی خثعمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز میں دیر تک کھڑے رہنا ، پھر پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے ، پھر پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے ، پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو ، پھر پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں ۔

Abdullah bin Habshi al-Khathami said: The Prophet ﷺ was asked: Which of the actions is better ? He replied: Standing for long time (in prayer). He was again asked: Which alms is better ? He replied: The alms given by a man possessing small property acquired by his labour.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: (١٣٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٢٤١) (صحیح) بلفظ: ” أي الصلاة “
1450Sunan Abu Dawood

شب بیداری اور تہجد کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے، پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: May Allah show mercy to a man who gets up during the night and prays, who wakens his wife and she prays; if she refuses, he sprinkles water on her face. May Allah show mercy to a woman who gets up during the night and prays, who wakens her husband and he prays; if he refuses she sprinkles water on his face.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦) (حسن صحیح )
1451Sunan Abu Dawood

شب بیداری اور تہجد کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْالْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ.

ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے ۔

Narrated Abu Saeed ; Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man himself wakes at night and wakens his wife and they pray two rakahs together, they are recorded among the men and women who make much mention of Allah.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ٣٩٦٥)، وقد أخرجہ: ن الکبری/ التفسیر (١١٤٠٦) (صحیح )
1452Sunan Abu Dawood

قرآن پڑھنے کا ثواب

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ.

عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے ۔

Uthman reported the Prophet ﷺ as saying: The best among you is he who learns and teaches the Quran.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢١ (٢٩٠٧)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٥ (٢٩٠٧، ٢٩٠٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٢)، (تحفة الأشراف: ٩٨١٣)، وقد أخرجہ: ن الکبری/فضائل القرآن (٨٠٣٧)، مسند احمد (١/٥٧، ٥٨، ٦٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢ (٣٣٤١) (صحیح )
1453Sunan Abu Dawood

قرآن پڑھنے کا ثواب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانِ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا.

معاذ جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہوگی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا، (پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا، کیا درجہ ہوگا ۔

Muadh al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone recites the Quran and acts according to its content, on the Day of Judgement his parents will be given to wear a crown whose light is better than the light of the sun in the dwellings of this world if it were among you. So what do you think of him who acts according to this ?

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٤)، وقد أخرجہ: (حم (٣/٤٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی زبُّان اور سہل ضعیف ہیں )
1454Sunan Abu Dawood

قرآن پڑھنے کا ثواب

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔

Aishah reported the Prophet ﷺ as saying: One who is skilled in the Quran is associated with the noble, upright recording angels, and he who falters when he recites the Quran and finds it difficult for him will have a double reward.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٧٩ (٤٩٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٨ (٧٩٨)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٣ (٢٩٠٤)، ن الکبری / فضائل القرآن (٨٠٤٥، ٨٠٤٦)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٨، ٩٤، ٩٨، ١١٠، ١٧٠، ١٩٢، ٢٣٩، ٢٦٦)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١١ (٣٤١١) (صحیح )
1455Sunan Abu Dawood

قرآن پڑھنے کا ثواب

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ تَعَالَى يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی قوم (جماعت) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے، اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: No people get together in a house of the houses of Allah (i. e. a mosque), reciting the Book of Allah, and learning it together among themselves, but calmness (sakinah) comes down to them, (Divine) mercy covers them (from above), and the angels surround them, and Allah makes a mention of them among those who are with Him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١١ (٢٦٩٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٧ (٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٣٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ٣ (١٤٢٥)، والبر والصلة ١٩ (١٩٣٠)، والعلم ٢ (٢٦٤٦)، والقرائات ١٢ (٢٩٤٦)، مسند احمد (٢/٢٥٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٣٢ (٣٦٨) (صحیح )
1456Sunan Abu Dawood

قرآن پڑھنے کا ثواب

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْخُذَ نَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ بِغَيْرِ إِثْمٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ ؟قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَإِنْ ثَلَاثٌ فَثَلَاثٌ مِثْلُ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔

Uqbah bin Amir al-Juhani said: When we were in the Suffah, the Messenger of Allah ﷺ asked: Which of you would like to go out every morning to Buthan or Al-Aqiq and bring two large humped and fat she-camels without being guilty of sin and severing ties of relationship ? They (the people) said: Messenger of Allah, we would all like that. He said: If any one of you goes out in the morning to the mosque and learns two verses of the Book of Allah, the Exalted, it is better for him than two she-camels, and three verses are better for him than three she-camels, and so on than their numbers in camels.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤١ (٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٤) (صحیح )
1457Sunan Abu Dawood

سورت فاتحہ کی فضلیت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أُمُّ الْقُرْآنِ، و أُمُّ الْكِتَابِ، و السَّبْعُ الْمَثَانِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الحمد لله رب العالمين ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ١ ؎ ہے۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: All praise be to Allah, the Lord of the Universe (1) is the epitome or basis of the Quran, the epitome or basis of the Book, and the seven oft-repeated verses.

Notes · وضاحت
١ ؎: سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٣ (٤٧٠٤)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١ (٢٨٢٥)، و تفسیر القرآن ١٦ (٣١٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٠١٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٢٦ (٩١٥)، مسند احمد (٢/٤٤٨)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١٢ (٣٤١٧) (صحیح )
1458Sunan Abu Dawood

سورت فاتحہ کی فضلیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي ؟، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، أَوْ فِي الْقُرْآنِ شَكَّ خَالِدٌ، قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِقَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ.

ابوسعید بن معلی ؓ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں (نماز پڑھ کر) آپ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ ، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورة سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں ، (جب آپ ﷺ مسجد سے نکلنے لگے) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سورة الحمد لله رب العالمين ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔

Abu Saeed bin al-Mualla said that when he was praying the Prophet ﷺ passed by him and he called him. He said: I prayed ant then I came to him. He asked: What prevented you from answering me ? He replied: I was praying. He said: Has not Allah said: O you who believe, respond to Allah and the Messenger when he calls you to that which gives you life ? (8: 24) Let me teach you the greatest surah from the Quran or in the Quran (the narrator Khalid doubted) before I leave the mosque. I said: (I shall memorize) your saying. He said: It is: Praise be to Allah, the Lord of the Universe which is the seven oft-repeated verses, and the mighty Quran.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة ١ (٤٤٧٤)، و تفسیر الأنفال ٣ (٤٦٤٨)، و تفسیر الحجر ٣ (٤٧٠٣)، و فضائل القرآن ٩ (٥٠٠٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٦ (٩١٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٧ (٣٧)، مسند احمد (٣/٤٥٠، ٤/٢١١)، سنن الدارمی/الصلاةٔ ١٧٢ (١٥٣٣)، و فضائل القرآن ١٢ (٣٤١٤) (صحیح )
1459Sunan Abu Dawood

سورت فاتحہ کا لمبی سورتوں میں سے ہو نا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي الطُّوَلِ، وَأُوتِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سِتًّا، فَلَمَّا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ رُفِعَتْ ثِنْتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ١ ؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was given seven repeated long surahs, while Moses was given six, When he threw the tablets, two of them were withdrawn and four remained.

Notes · وضاحت
١ ؎: معنی کے اعتبار سے لمبی ہیں ورنہ ان کے الفاظ مختصر ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٢٦ (٩١٦، ٩١٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٧) (صحیح )
1460Sunan Abu Dawood

آیت لکرسی کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ ؟قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ ؟قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: لِيَهْنَ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابومنذر! ١ ؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ٢ ؎ ہے؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ ، میں نے عرض کیا: الله لا إله إلا هو الحي القيوم ، تو آپ ﷺ نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو ۔

Ubayy bin Kab said: The Messenger of Allah ﷺ said: Abu al-Mundhir, which verse of Allahs Book that you have is creates ? I replied: Allah and His Messenger know best. He said: Abu al-Mundhir, which verse of Allahs that you have is greatest ? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on the beast and said: May knowledge be pleasant for you, Abu al-Mundhir.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابی بن کعب ؓ کی کنیت ہے۔ ٢ ؎: باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٤ (٨١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤١) (صحیح )
1461Sunan Abu Dawood

سورت اخلاص کی فضلیت کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو قل هو الله أحد باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (سورۃ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

Abu Saeed al-Khudri said: A man heard another man reciting Say, He is Allah, One He was repeating it. When the next morning came, he went to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned to him. The man tool it (this surah) as a small one. The Prophet ﷺ said: By Him in Whose Hand is my life, it is equivalent to a third of the Quran.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٣ (٥٠١٣)، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٤٣)، والتوحید ١ (٧٣٧٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٩ (٩٩٦)، وعمل الیوم واللیلة ٢٠٤ (٦٩٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٠٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٦ (١٧)، مسند احمد (٣/٣٥، ٤٣) (صحیح )
1462Sunan Abu Dawood

قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذبر الناس کی فضلیت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا ؟فَعَلَّمَنِي: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ ؟.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ ، پھر آپ ﷺ نے مجھے قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس سکھائیں، لیکن آپ ﷺ نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چناچہ جب آپ ﷺ فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ١ ؎۔

Narrated Uqbah ibn Amir: I was driving the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ during a journey. He said to me: Uqbah, should I not teach you two best surahs ever recited? He then taught me: Say, I seek refuge in the Lord of the dawn, and Say, I seek refuge in the Lord of men. He did not see me much pleased (by these two surahs). When he alighted for prayer, he led the people in the morning prayer and recited them in prayer. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he turned to me and said: O Uqbah, how did you see.

Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں معمولی اور حقیر سمجھ رہے ہو، حالانکہ یہ بڑے کام کی ہیں، نبی اکرم ﷺ بلاؤں اور جادو سے نجات پانے کے لئے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٤٦ (٨١٤)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٢ (٢٩٠٢)، قیام اللیل (١٣٣٧)، ن الکبری/الاستعاذة (٧٨٤٨)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٩، ١٥١، ١٥٣)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٤ (٣٤٨٢) (صحیح )
1463Sunan Abu Dawood

قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذبر الناس کی فضلیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ، وَالْأَبْوَاءِ، إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَيَقُولُ: يَا عُقْبَةُ، تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَاقَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ ﷺ قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس پڑھنے لگے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی ۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔

Narrated Uqbah ibn Amir: White I was travelling with the Messenger of Allah ﷺ between al-Juhfah and al-Abwa, a wind and intense darkness enveloped us, whereupon the Messenger of Allah ﷺ began to seek refuge in Allah, reciting: I seek refuge in the Lord of the dawn, and I seek refuge in the Lord of men. He then said: Uqbah, use them when seeking refuge in Allah, for no one can use anything to compare with them for the purpose. Uqbah added: I heard him reciting them when he led the people in prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٢) (صحیح )
1464Sunan Abu Dawood

قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: One who was devoted to the Quran will be told to recite, ascend and recite carefully as he recited carefully when he was in the world, for he will reach his abode when he comes to the last verse he recites.

Notes · وضاحت
وضاحت: قواعد تجوید کی رعایت کرتے ہوئے قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا نام ترتیل ہے۔ ٢ ؎: یعنی ایک آیت پڑھ کر ایک درجہ طے کرو گے پھر دوسری آیت سے دوسرا درجہ، اسی طرح جتنی آیتیں پڑھتے جاؤ گے اتنے درجے اور مراتب اوپر اٹھتے چلے جاؤ گے جہاں آخری آیت پڑھو گے وہیں تمہارا مقام ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٨ (٢٩١٤)، ن الکبری / فضائل القرآن (٨٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ٨٦٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩٢) (حسن صحیح )