Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 72 of 265

1425Sunan Abu Dawood

وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ: فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ.

حسن بن علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں (ابن جو اس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں ) وہ کلمات یہ ہیں: اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، و بارک لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنک تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تبارکت ربنا وتعاليت ١ ؎۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے ۔

Narrated Al-Hasan ibn Ali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught me some words that I say during the witr. (The version of Ibn Jawwas has: I say them in the supplication of the witr.) They were: O Allah, guide me among those Thou hast guided, grant me security among those Thou hast granted security, take me into Thy charge among those Thou hast taken into Thy charge, bless me in what Thou hast given, guard me from the evil of what Thou hast decreed, for Thou dost decree, and nothing is decreed for Thee. He whom Thou befriendest is not humbled. Blessed and Exalted art Thou, our Lord.

Notes · وضاحت
١ ؎: حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں نسائی کے حوالہ سے وصلى الله على النبي محمد کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے، علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے فتاویٰ (١/٦٦) میں لکھا ہے کہ قنوت وتر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ ﷺ کی نماز میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا مناسب نہیں، علامہ البانی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ (١٠٩٧) میں ابی بن کعب ؓ کی ماہ رمضان میں امامت والی حدیث میں ہے کہ وہ عمر ؓ کے عہد خلافت میں قنوت وتر کے آخر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجتے تھے نیز اسی طرح اسماعیل قاضی کی فضل صلاۃ النبی ﷺ (١٠٧) وغیرہ میں ابو سلمہ معاذ بن حارث انصاری سے عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں تراویح کی امامت میں قنوت وتر میں رسول اللہ ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٤ (الوتر ٩) (٤٦٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٧ (١١٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٩، ٢٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٤ (١٦٣٢) (صحیح )
1426Sunan Abu Dawood

وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: هَذَا يَقُولُ فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ.

اس طریق سے بھی ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور أقولهن في الوتر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔

The aforesaid tradition has been transmitted by Abu Ishaq with the same chain and to the same effect. In the last of this tradition he said: The version has the words: He would recite the supplication of the with. He did not mention the words: I say them in the with. Abu Dawud said: The name of Abu al-Hawra is Rabiah bin Shaiban.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٤) (صحیح )
1427Sunan Abu Dawood

وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ، يَعْنِي فِي الْوِتْرِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ. رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلَا ذَكَرَ أُبَيًّا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ، وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ. رَوَاهُ وَشُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ زُبَيْدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِإِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ نَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ، عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک، وبمعافاتک من عقوبتک، وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب ؓ سے اور ابی نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب ؓ کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ used to say at the end of his witr: O Allah, I seek refuge in Thy good pleasure from Thy anger, and in Thy forgiveness from Thy punishment, and I seek refuge in Thy mercy from Thy wrath. I cannot reckon the praise due to Thee. Thou art as Thou hast praised Thyself. Abu Dawud said: Hisham is the earliest teacher of Hammad. Yahya bin Main said: No one is reported to have narrated traditions form him except Hammad bin Salamah. Abu Dawud said: Ubayy bin Kab said: The Messenger of Allah ﷺ recited supplication in the witr before bowing. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Isa bin Yunus through a different chain of narrators from Ubayy bin Kab. He also narrated it through a different chain of narrators on the authority of Ubayy bin Kab that the Messenger of Allah (saw) recited the supplication in the witr before bowing. Abu Dawud said: The chain of narrators of the tradition of Saeed from Qatadah goes: Yazid bin Zurai narrated from Saeed, from Qatadah, from Azrah, from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza, on the authority of his father, from the Prophet ﷺ . This version does not mention the supplication and the name of Ubayy. This tradition has also been narrated by Abd al-Ala and Muhammad bin Bishr al-Abdi. He heard the traditions from Isa bin Yunus at Kufah. They did not mention the supplication in their version. This tradition has also been narrated by Hisham al-Dastuwai and Shubah from Qatadah. They did not mention the supplication in their version. The tradition of Zubaid has been narrated by Sulaiman al-Amash, Shubah, Abd al-Malik bin Abi Sulaiman, and Jarir bin Hazim; all of them narrated on the authority of Zubaid. None of them mention the supplication in his version, except in the tradition transmitted by Hafs bin Ghiyath from Misar from Zubaid; he narrated in his version that he (the Prophet) recited supplication before bowing. Abu Dawud said: This version of tradition is not well know. There is doubt that Hafs might have narrated this tradition from some other narrator than Misar. Abu Dawud said: It is reported that Ubayy (b. Kab) used to recited the supplication )in the witr) in the second half of Ramadan.

Takhrij · تخریج
تخريج: سنن الترمذی/الدعوات ١١٣ (٣٥٦٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٨)، سنن النسائی/قیام اللیل ٤١ (١٧٣٩) سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٧ (١١٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٧)، وقد أخرجہ: حم (١/٩٦، ١١٨، ١٥٠) (صحیح )
1428Sunan Abu Dawood

وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَمَّهُمْ، يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.

محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب ؓ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔

Muhammad reported on the authority of some of his teachers that Ubayy bin Kab led them in prayer during Ramadan. He used to recite the supplication (in the with) during the second half of Ramadan.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٩) (ضعیف) (ابی بن کعب ؓ سے روایت کرنے والے بعض اصحاب مجہول ہیں )
1429Sunan Abu Dawood

وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي، فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: أَبَقَ أُبَيٌّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلَّانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ فِي الْوِتْرِ.

حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو ابی بن کعب ؓ کی امامت پر جمع کردیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب ؓ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت پڑھی ١ ؎۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : Al-Hasan reported: Umar ibn al-Khattab gathered the people (in tarawih prayer) behind Ubayy ibn Kab (who led them). He used to lead them for twenty days (during Ramadan, and would not recite the supplication except in the second half of it (i. e. Ramadan). When the last ten days remained, he kept away from them, and prayed in his house. They used to say: Ubayy ran away. Abu Dawud said: This tradition shows that whatever has been reported about the recitation of the supplication is not tenable. Moreover, these two traditions from Ubayy bin Kab indicate that another tradition which tells that the Prophet ﷺ recited the supplication in the witr is weak.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں تو ان سے استدلال درست نہیں ہے، جب کہ وتر میں قنوت والی حدیث سندا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠) (ضعیف) (حسن بصری اور عمر بن خطاب ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
1430Sunan Abu Dawood

وتر کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَامِيِّ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ، قَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وتر میں سلام پھیرتے تو سبحان الملک القدوس کہتے۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ offered salutation in the witr prayer, he said: Glorify be to the king most holy.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٤٨ (١٧٣٣)، (تحفة الأشراف: ٥٥) (صحیح )
1431Sunan Abu Dawood

وتر کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اسے پڑھ لے ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone oversleeps and misses the witr, or forgets it, he should pray when he remembers.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، جیسا کہ بعض روایتوں میں رات کے وظیفہ کے بارے میں آیا ہے کہ اگر رات کو نہ پڑھ سکے تو دن میں قضا کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٥ (الوتر ٩) (٤٦٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٢ (١١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١، ٤٤) (صحیح )
1432Sunan Abu Dawood

سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ١ ؎۔

Abu Hurairah said: My friend (i. e. the Prophet) instructed me to observe three practices that I do not leave while traveling nor while resident, to pray two rakahs in the forenoon, to fast three days every month and not to sleep but after observing the with.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہوجایا کرے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد ٣٣ (١١٧٨)، والصیام ٦٠ (١٩٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٧٨)، والصیام ٧٠ (٢٣٧١)، ٨١ (٢٤٠٧)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٣، ٢٥٤، ٢٥٨، ٢٦٠، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٧٧، ٣٢٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٥)، والصوم ٣٨ (١٧٨٦) (صحیح) دون قولہ: ” في سفر ولاحضر “
1433Sunan Abu Dawood

سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔

Abu Al-Darda said: My friend (i. e. the Prophet) instructed me to observe three practices which I never leave: he instructed me to fast three days every month, and not to sleep but after observing the with, and to observe supererogatory prayer in the forenoon while traveling and while resident.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٣(٧٢٢)، مسند احمد (٦/٤٤٠، ٤٥١) (صحیح) (مگر حضر و سفر کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے )
1434Sunan Abu Dawood

سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَتَى تُوتِرُ، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: مَتَى تُوتِرُ، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ ، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ ﷺ نے عمر ؓ سے پوچھا: تم کب پڑھتے ہو؟ ، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Qatadah (RA) : The Prophet ﷺ asked Abu Bakr (RA) : When do you observe the witr? He replied: I observe the witr prayer in the early hours of the night. The Prophet ﷺ asked Umar (RA) : When do you observe the witr? He replied: At the end of the night. He then said to Abu Bakr (RA) : This has followed it with care; and he said to Umar (RA) : He has followed it with strength.

Notes · وضاحت
١ ؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٩٢) (صحیح )
1435Sunan Abu Dawood

وتر کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَوَسَطَهُ، وَآخِرَهُ، وَلَكِنْ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ.

مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔

Masruq said: I asked Aisha (RA) : When would the Messenger of Allah ﷺ observe the witr prayer ? She replied: Any time he observed the witr, sometimes in the early hours of the night, sometimes at midnight and sometimes towards the end of it. But he used to observe the witr just before the dawn when he died.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٢(٩٩٦)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢١٨ (الوتر ٤) (٤٥٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٠ (١٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢١(١١٨٦)، مسند احمد (٦/ ٤٦، ١٠٠، ١٠٧، ١٢٩، ٢٠٥، ٢٠٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٨) (صحیح )
1436Sunan Abu Dawood

وتر کا وقت

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو ۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: Make haste to observe the witr prayer before morning.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٦ (٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨١٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥٠)، مسند احمد ١(٢/٣٧، ٣٨) (صحیح )
1437Sunan Abu Dawood

وتر کا وقت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ، وَرُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ.

عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ ؓ کی مراد غسل جنابت ہے۔

Abdullah bin Abu Qais said: I asked Aisha (RA) about the witr observes by the Messenger of Allah ﷺ . She replied: Sometime he observed the witr prayer in the early hours of the night, sometimes he observed it at the end of it. I asked: How did he recite the Quran ? Did he recite the Quran quietly or loudly ? She replied: He did it in any way. Sometimes he recited quietly and sometimes loudly, sometimes he took bath and then slept and sometimes he performed ablution and then slept. Abu Dawud said: The narrators other than Qutaibah said: This refer to his bath due to sexual defilement.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٢ (٤٤٩)، فضائل القران ٢٣ (٢٩٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٧٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل ٢١ (١٦٦٣)، مسند احمد (٦/٧٣، ١٤٩، ١٦٧) (صحیح )
1438Sunan Abu Dawood

وتر کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو ۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as suing: Make the last of your prayer at night a witr.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٨)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥١)، (تحفة الأشراف: ٨١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠، ١٠٢، ١٤٣) (صحیح )
1439Sunan Abu Dawood

وتر دو مرتبہ نہیں پڑھے جا سکتے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ.

قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی ؓ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، شام تک رہے روزہ افطار کیا، پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ۔

Narrated Talq ibn Ali (RA) : Qays ibn Talq said: Talq ibn Ali visited us on a certain day during Ramadan. He remained with us till evening and broke fast with us. He then stood up and led us in the witr prayer. He then went to his mosque and led them in prayer. When the witr remained, he put forward another man and said: Lead your companions in the witr prayer, for I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: There are no two witrs during one night.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٧ (الوتر ١٣) (٤٧٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٧ (١٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣) (صحیح )
1440Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَيَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے قریب ترین نماز پڑھوں گا، چناچہ ابوہریرہ ؓ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔

Abu Hurairah said: By Allah, I shall offer prayer like that of the Messenger of Allah ﷺ . The narrator said: Abu Hurairah used to recite the supplication in the last rakah of the noon, night and dawn prayers. He would supplicate for the believers and curse the disbelievers.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٧)، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٢٧٦)، سنن النسائی/التطبیق ٢٨ (١٠٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٤(١٩)، مسند احمد (٢/٢٥٥، ٣٣٧، ٤٧٠) (صحیح )
1441Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ. ح حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالُوا: كُلُّهُمْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ. زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ: وَصَلَاةِ الْمَغْرِبِ.

براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔ ابن معاذ نے صلاة المغرب (نماز مغرب میں بھی) کا بھی اضافہ کیا ہے۔

Al-Bara said: The Prophet ﷺ used to recite the supplication in the dawn prayer. The version of Ibn Muadh has the words: sunset prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٤٠١)، سنن النسائی/التطبیق ٢٩ (١٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٠، ٢٨٥، ٢٩٩، ٣٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٣٨) (صحیح )
1442Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتک على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں پڑا تھا)۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ (اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ) آ چکے ہیں؟ ۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ recited the supplication in the night prayer for a month. He said (in his supplication): O Allah, rescue al-Walid bin al-Walid, rescue Salamah bin Hisham, rescue the weak believers; O Allah, trample severely on Mudar; O Allah, cause them a famine like that of Joseph. Abu Hurairah said: One morning the Messenger of Allah ﷺ id not make supplication for them. So I told him about it. He said: You dod not see that they have come (back).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین (٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢٨ (٨٠٤)، والاستسقاء ٢ (١٠٠٦)، والجہاد ٩٨ (٢٩٣٢)، والأنبیاء ١٩ (٣٣٨٦)، و تفسیر آل عمران ٩ (٤٥٦٠)، و تفسیر النساء ٢١ (٤٥٩٨)، والدعوات ٥٨ (٦٣٩٣)، والإکراہ ١ (٦٩٤٠)، والأدب ١١٠ (٦٢٠٠)، سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٤)، سنن ابن ماجہ/الاقامة ١٤٥ (١٢٤٤)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٥، ٢٧١، ٤١٨، ٤٧٠، ٥٠٧، ٥٢١) (صحیح) دون قولہ: ” فذکرت “
1443Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں سمع الله لمن حمده کہتے تو آپ ﷺ بنی سلیم کے قبائل: رعل، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ recited the supplication (Qunut) daily for a month at the noon, afternoon, sunset, night and morning prayers. When he said: Allah listens to him who praises Him in the last rakah, invoking a curse on some clans of Banu Sulaym, Ril, Dhakwan and Usayyah, and those who were standing behind him said: Amen.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠١) (حسن )
1444Sunan Abu Dawood

نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِيَسِيرٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان سے پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: رکوع کے بعد میں ١ ؎۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ تھوڑی مدت تک ٢ ؎۔

Muhammad reported: Anas bin Malik (RA) was asked whether the Messenger of Allah ﷺ had recited supplication in the dawn prayer. He replied: Yes. He was again asked whether before bowing or after bowing. He said after bowing. This version of Musaddad adds the words: For a short period.

Notes · وضاحت
١ ؎: قنوت کی دو قسمیں ہیں: قنوت نازلہ اور قنوت وتر یہاں حدیث میں قنوت نازلہ مراد ہے اور یہ رکوع کے بعد فرض نماز میں دشمنان اسلام کے لئے بددعا کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔ ٢ ؎: یہ مدت ایک مہینہ پر مشتمل تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٧ (١٠٠١)، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧)، سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٠ (١١٨٢ و ١١٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٣٧)، مسند احمد (٣/١١٣) (صحیح )