Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 71 of 265

1405Sunan Abu Dawood

مفصل میں سجدہ نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ زَيْدٌ الْإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.

اس سند سے بھی زید بن ثابت ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

This tradition has also been transmitted by Zaid bin Thabit through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: Zaid was imam (in a prayer) and he did not make prostration.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٧) (صحیح )
1406Sunan Abu Dawood

سورہء نجم میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ (یعنی پیشانی) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔

Narrated Abdullah (bin Masud): The Messenger of Allah ﷺ recited Surah al-Najm and prostrated himself. No one remained there who did not prostrate (along with him). A man from the people took a handful of pebbles or dust and raised it to his face saying: This is enough for me. Abdullah (bin Masud) said: I later saw him killed as an infidel.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ١ (١٠٧٢)، ٤ (١٠٧٣)، ومناقب الأنصار ٢٩ (٣٨٥٣)، والمغازي ٨ (٣٩٧٢)، و تفسیر النجم ٤ (٤٨٦٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٩ (٩٦٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٠١، ٤٤٣، ٤٦٢) دي /الصلاة ١٦٠ (١٥٠٦) (صحیح )
1407Sunan Abu Dawood

اذا السماء النشقت اور اقرا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سورة إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربک الذي خلق میں سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوہریرہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ ﷺ کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : We prostrated ourselves along with the Messenger of Allah ﷺ on account of: When the sky is rent asunder and Recite in the name of Your Lord Who created

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٥ (الجمعة ٥٠) (٥٧٣ و ٥٧٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٢ (٩٦٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧١ (١٠٥٨ و ١٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٠(٧٦٦)، موطا امام مالک/القرآن ٥ (١٢)، مسند احمد (٢/٢٤٩، ٤٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٣ (١٥١٢) (صحیح )
1408Sunan Abu Dawood

اذا السماء النشقت اور اقرا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ ؟ قَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ.

ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے إذا السماء انشقت کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔

Narrated Abu Rafi (RA) : I offered the night prayer behind Abu Hurairah. He recited Surah Inshiqaq (When the sky is rent asunder) and prostrated himself. I asked him: What is this prostration ? He replied: I prostrated myself on account of this (surah) behind Abu al-Qasim (i. e. the Prophet). I shall continue prostrating on account of this till I meet him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٠(٧٦٦)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٣ (٩٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٥٦، ٢٦٦) (صحیح )
1409Sunan Abu Dawood

سورہء صآ میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَسْجُدُ فِيهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سورة ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A prostration when reciting Sad is not one of those which are divinely commanded, but I have seen Messenger of Allah ﷺ prostrate himself.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ٣ (١٠٦٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٨ (الجمعة ٥٣) (٥٧٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٨ (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٨) (صحیح )
1410Sunan Abu Dawood

سورہء صآ میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ، فَنَزَلَ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورة کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوگئے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ١ ؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چناچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔

Narrated Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him.

Notes · وضاحت
وضاحت: اس سے مراد داود (علیہ السلام) ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٧) (صحیح )
1411Sunan Abu Dawood

سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : In the year of Conquest the Messenger of Allah ﷺ recited a verse at which a prostration should be made and all the people prostrated themselves. Some were mounted, and some were prostrating themselves on the ground, and those who were mounted prostrated themselves on their hands.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی مصعب لین الحدیث ہیں مگر صحیحین میں یہی روایت قدرے مختصر سیاق میں موجود ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے )
1412Sunan Abu Dawood

سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں سورة پڑھ کر سناتے (ابن نمیر کی روایت میں ہے) نماز کے علاوہ میں (آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں) ، پھر آپ ﷺ (سجدہ کی آیت آنے پر) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would recite to us a surah (according to the version of Ibn Numair) outside the prayer (the agreed version goes), then he would prostrate along with him, and none of us could find a place for his forehead.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایسی صورت میں وہ اپنے ہاتھ، یا ران، یا دوسرے کی پشت پر سجدہ کرلیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ٨ (١٠٧٥)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٥)، (تحفة الأشراف: ٨٠٠٨، ٨٠١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٧) (صحیح )
1413Sunan Abu Dawood

سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو الله أكبر کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں الله أكبر کا ذکر ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite the Quran to us. When he came upon the verse containing prostration, he would utter the takbir (Allah is most great) and we would prostrate ourselves along with him. The narrator Abd al-Razzaq said: Al-Thawri liked this tradition very much. Abu Dawud said: This was liked by him for this contains the uttering of takbir.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٦) (منکر) (سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے، نافع سے روایت کرنے والے عبداللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے )
1414Sunan Abu Dawood

سجدہ تلاوت کی دعا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته یعنی میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے کہتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prostrated himself at night when reciting the Quran. He said repeatedly: My face prostrates itself to Him Who created it and brought forth its hearing and seeing by His might and power.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٠ (الجمعة ٥٥) (٥٨٠)، والدعوات ٣٣ (٣٤٢٥)، سنن النسائی/التطبیق ٧٠ (١١٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠، ٢١٧) (صحیح) ( ترمذی اور نسائی کے یہاں سند میں عن رجل (مجہول راوی) نہیں ہے، اور خالد الخداء کی روایت ابوالعالیہ سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں )
1415Sunan Abu Dawood

جو شخص صبح کی نماز کے بعد آیت سجدہ تلاوت کرے تو وہ سجدہ کب کرے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثْنَا الرَّكْبَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَسْجُدُ، فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.

ابوتمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور (سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر ؓ نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔

Narrated Abu Tamimah al-Hujaymi (RA) : When we came to Madina accompanying the caravan, I used to preach after the dawn prayer, and prostrate on account of the recitation of the Quran. Ibn Umar prohibited me three times, but I did not cease doing that. He then repeated (his prohibition) saying: I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr, Umar and Uthman, they would not prostrate (on account of the recitation of the Quran) till the sun had risen.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧١١٠)، وقد أخرجہ: (حم (٢/٢٤، ١٠٦) (ضعیف) ( اس کے راوی ابوبحر عبدالرحمن بن عثمان ضعیف ہیں )
1416Sunan Abu Dawood

وتر (طاق) پڑھنا سنت ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قرآن والو! ١ ؎ وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: Allah is single (witr) and loves what is single, so observe the witr, you who follow the Quran.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں اہل قرآن سے مراد قرّاء و حفاظ کی جماعت ہے نہ کہ عام مسلمان، اس سے علماء نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں، اگر وتر واجب ہوتی تو یہ حکم عام ہوتا، اہل قرآن (یعنی قراء و حفاظ و علماء) کے ساتھ خاص نہ ہوتا، نیز آپ ﷺ نے اعرابی سے ليس لک ولا لأصحابک جو فرمایا وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، امام طیبی کے نزدیک وتر سے مراد تہجد ہے اسی لئے قراء سے خطاب فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦، (٤٥٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٥ (١٦٧٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٦٩)،(تحفة الأشراف: ١٠١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٠، ١١٥، ١٢٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٩ (١٦٢١) (صحیح) (ابو اسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
1417Sunan Abu Dawood

وتر (طاق) پڑھنا سنت ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Abdullah (bin Masud) through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: A bedouin said: What are you saying ? He replied: This is neither for you, nor for your companions.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٧) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
1418Sunan Abu Dawood

وتر (طاق) پڑھنا سنت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ الْوِتْرُ، فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ.

خارجہ بن حذافہ عدوی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے ۔

Narrated Kharijah ibn Hudhafah al-Adawi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: Allah the Exalted has given you an extra prayer which is better for you then the red camels (i. e. high breed camels). This is the witr which Allah has appointed for you between the night prayer and the daybreak.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١٥، الوتر ١ (٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٦٨)، (تحفة الأشراف: ٣٤٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) (لیکن هي خير لکم من حمر النعم کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس ٹکڑے کے متابعات اور شواہد موجود نہیں ہیں، یعنی یہ حدیث خود ضعیف ہے، اس کے راوی عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں لیکن متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
1419Sunan Abu Dawood

تارک وتر کے بارے میں وعید

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: وتر حق ہے ١ ؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں ۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The witr is a duty, so he who does not observe it does not belong to us; the witr is a duty, so he who does not observe it does not belong to us; the witr is a duty, so he who does not observe it does not belong to us.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے الوتر حق وليس بواجب یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ العتکی ضعیف ہیں )
1420Sunan Abu Dawood

تارک وتر کے بارے میں وعید

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ.

ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہوگا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہوگی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہوگا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ١ ؎۔

Narrated Ubadah ibn as-Samit: Ibn Muhayriz said: A man from Banu Kinanah, named al-Makhdaji, heard a person called Abu Muhammad in Syria, saying: The witr is a duty (wajib). Al-Makhdaji said: So I went to Ubadah ibn as-Samit and informed him. Ubadah said: Abu Muhammad told a lie. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There are five prayers which Allah has prescribed on His servants. If anyone offers them, not losing any of them, and not treating them lightly, Allah guarantees that He will admit him to Paradise. If anyone does not offer them, Allah does not take any responsibility for such a person. He may either punish him or admit him to Paradise.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وتر کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر یہ واجب ہوتی تو آپ ﷺ اسے بھی ضرور بیان فرماتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصلاة ٦ (٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٤)، مسند احمد (٥/٣١٥، ٣١٩، ٣٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٨) (صحیح )
1421Sunan Abu Dawood

وتر میں رکعات کی تعداد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا: مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ١ ؎۔

Ibn Umar said: A man who lived in the desert asked the Messenger of Allah ﷺ about the prayer at night. He made a sing with his two fingers-in this way in pairs. The witr consists of one rakah towards the end in night.

Notes · وضاحت
١ ؎: وتر کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک کا ذکر ہے ان روایات کو صحیح مان کر انہیں اختلاف احوال پر محمول کرنا مناسب ہوگا، اور یہ واضح رہے کہ وتر کا مطلب دن بھر کی سنن و نوافل اور تہجد ( اگر پڑھتا ہے تو) کو طاق بنادینا ہے، اب چاہے اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دے یا تین یا پانچ، اور اسی طرح طاق رکعتیں ایک ساتھ پڑھ کر، اور یہ سب صورتیں اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ وتر کا لفظ تہجد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، پانچ، سات، نو، یا تیرہ رکعت وتر کا یہی مطلب ہے، نہ کہ تہجد کے علاوہ مزید پانچ تا تیرہ وتر الگ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن النسائی/ قیام اللیل ٣٢ (١٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠، ٥٨، ٧١، ٧٦، ٧٩، ٨١، ١٠٠) (صحیح )
1422Sunan Abu Dawood

وتر میں رکعات کی تعداد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے ۔

Narrated Abu Ayyub al-Ansari (RA) : The Prophet ﷺ said: The witr is a duty for every Muslim so if anyone wishes to observe it with five rakahs, he may do so; if anyone wishes to observe it with three, he may do so, and if anyone wishes to observe it with one, he may do so.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٣ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٥/٤١٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٠(١٦٢٦) (صحیح )
1423Sunan Abu Dawood

وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا و اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل للذين کفروا (یعنی قل ياأيها الکافرون ) اور الله الواحد الصمد (یعنی قل هو الله أحد ) پڑھا کرتے تھے ١ ؎۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to observe witr with (reciting) Glorify the name of thy Lord, the most High (Surah 87), Say O disbelievers (Surah 109), and Say, He is Allah, the One, Allah, the eternally besought of all (112).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مستحب ہے اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں مذکورہ سورتوں کے علاوہ دوسری سورتیں پڑھے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٠، ١٧٠١، ١٧٠٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٥ (١١٧٢)، (تحفة الأشراف: ٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٣) (صحیح )
1424Sunan Abu Dawood

وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و الْمُعَوِّذَتَيْنِ.

عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ قل هو الله أحد اور معوذتین (یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ) پڑھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Abdul Aziz ibn Jurayj said: I asked Aisha (RA) , mother of the believers: With which (surah) the Messenger of Allah ﷺ used to observe witr? (She reported same as in the Hadith of Ubayy ibn Kab, No. 1418) This version adds: In the third rakah he would recite: Say, He is Allah, the One (Surah 112), and Say, I seek refuge in the Lord of daybreak (Surah 113), and Say, I seek refuge in the Lord of mankind (Surah 114).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (الوتر ٩) (٤٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٥ (١١٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٧) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ عبدالعزیز ابن جریج کی ملاقات عائشہ ؓ سے ثابت نہیں )