عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں (اس گفتگو کو) سن رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہوسکتی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر ؓ پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about lailat al-qadr and I was hearing: He said: It is during the whole of Ramadan. Abu Dawud said: Sufyan and Shubah narrated this tradition from Abu Ishaq as a statement of Ibn Umar himself, they did not transmit it as a saying of the Prophet ﷺ
Notes · وضاحت
١ ؎: کثرت احادیث کی بناء پر شب قدر کے سلسلہ میں علماء میں زبردست اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ رمضان میں ہے، پھر راجح یہ ہے کہ وہ رمضان کے اخیر عشرہ میں ہے، پھر ظن غالب یہ ہے کہ وہ طاق راتوں میں ہے، پھر لائق اعتماد قول یہ ہے کہ یہ ستائیسویں رات میں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٠٦٥) (ضعیف) والصحیح موقوف (اس کے راوی أبواسحاق مختلط ہوگئے تھے اور یہ معلوم نہیں کہ موسیٰ نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Prophet ﷺ as saying to him: Complete the recitation of the Quran in one month. He said: I have more strength. He (the Prophet) said: Complete the recitation in twenty days. He again said: I have more energy. He said: Recite in fifteen days. He again said: I have more energy. He said: Recite in ten days. He again said: I have more energy. He said: Recite in seven days, do not add to it. Abu Dawud said: The tradition narrated by Muslim is more perfect.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ فضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٣، ٥٠٥٤)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٦٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القراء ات ١٣ (٢٩٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٨(١٣٤٦)، مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٢ (٣٥١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو ، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ١ ؎ آخر کار آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو ۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Keep fast for three days of month, and finish the recitation of the Quran in one month. I and he differed among ourselves on period of time. He said: Fast one day and give it up other day. The narrator Ata said: The people differed from my father (in narrating the period of time). Some narrated seven days and others five.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ ختم قرآن کی مدت بڑھانا اور روزے رکھنے کی مدت کم کرنا چاہتے تھے، جب کہ عبداللہ بن عمرو ؓ ختم قرآن کی مدت کم اور روزے رکھنے کی مدت بڑھانا چاہتے تھے، اور ایک نسخے میں فناقضني وناقضته ضاد معجمہ کے ساتھ ہے، یعنی آپ ﷺ میری بات کاٹتے تھے، اور میں اپنے بات پر اصرار کرتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٢، ٢١٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں ، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو ، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Yazid ibn Abdullah said that Abdullah ibn Amr asked the Prophet ﷺ : In how many days should I complete the recitation of the whole Quran, Messenger of Allah? He replied: In one month. He said: I am more energetic to complete it in a period less than this. He kept on repeating these words and lessening the period until he said: Complete its recitation in seven days. He again said: I am more energetic to complete it in a period less than this. The Prophet ﷺ said: He who finishes the recitation of the Quran in less than three days does not understand it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ سات دن میں ختم کیا جائے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں شبینہ وغیرہ کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تین دن میں پڑھا کرو ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔
Khaithamah reported that Abdullah bin Amr said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Recite the Quran in one month. I said: I have (more) energy. He said: Recite it in three days Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: I heard Ahmad bin Hanbal say: The narrator Isa bin Shadhan is a sane person.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٢٣) (حسن صحیح )
ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ١ ؎۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔
Ibn al-Had said: Nafi bin Jubair asked me: In how many days do you recite the Quran ? I said: I have not fixed any part from it for daily round. Nafi said to me: Do not say: I do not fix any part of it for daily round, for the Messenger of Allah ﷺ said: I recited a part of the Quran. The narrator Ibn al-Had said: I think I have transmitted this tradition from al-Mughirah bin Shubah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے قرآن مجید کو تیس حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے تیس پارے بنا لینے کا جواز ثابت ہوا، اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن کے اس طرح سے تیس پارے نہیں تھے، جس طرح اس وقت رائج ہیں۔
اوس بن حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ ؓ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ ﷺ نے اپنے خیمے میں کرایا، (مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ ﷺ عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری ؓ کی روایت میں اضافہ ہے کہ (آپ گفتگو) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ ﷺ کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آگئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر ۔ ایک رات آپ ﷺ کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہوگئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کردی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا ۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ) کی روایت کامل ہے۔
Narrated Aws ibn Hudhayfah (RA) : We came upon the Messenger of Allah ﷺ in a deputation of Thaqif. The signatories of the pact came to al-Mughirah ibn Shubah as his guests. The Messenger of Allah ﷺ made Banu-Malik stay in a tent of his. Musaddads version says: He was in the deputation of Thaqif which came to the Messenger of Allah ﷺ . He used to visit and have a talk with us every day after the night prayer. The version of Abu Saeed says: He remained standing for such a long time (talking to us) that he put his weight sometimes on one leg and sometimes on the other due to his long stay. He mostly told us how his people, the Quraysh, behaved with him. He would say: We were not equal; we were weak and degraded at Makkah (according to Musaddads version). When we came over to Madina the fighting began between us; sometimes we overcome them and at other times they overcome us. One night he came late and did not come at the time he used to come. We asked him: You came late tonight? He said: I could not recite the fixed part of the Quran that I used to recite every day. I disliked to come till I had completed it. Aws said: I asked the companions of the Messenger of Allah ﷺ : How do you divide the Quran for daily recitation? They said: Three surahs, five surahs, eleven surahs, thirteen surahs mufassal surahs. Abu Dawud said: The version of Abu Saeed is complete.
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلا حزب: بقرہ، آل عمران اور نساء نامی سورتیں، دوسرا حزب: مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور توبہ نامی سورتیں، تیسرا حزب: یونس، ھود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نحل نامی سورتیں، چوتھا حزب: اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان نامی سورتیں، پانچواں حزب: شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، الم تنزیل السجدۃ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین نامی سورتیں، چھٹواں حزب: صافات، ص، زمر، مومن، حم سجدہ، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف، محمد، فتح اور حجرات نامی سورتیں، ساتواں حزب: سورة (ق) سے لے کر اخیر قرآن تک کی سورتیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٨ (١٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی عثمان لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس دن میں ، پھر فرمایا: ایک ماہ میں ، پھر فرمایا: بیس دن میں ، پھر فرمایا: پندرہ دن میں ، پھر فرمایا: دس دن میں ، پھر فرمایا: سات دن میں ، آپ ﷺ سات سے نیچے نہیں اترے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Wahb ibn Munabbih said: Abdullah ibn Amr asked the Prophet ﷺ ; In how many days should one complete the recitation of the Quran? He said: In forty days. He then said: In one month. He again said: In twenty days. He then said: In fifteen days. He then said: In ten days. Finally he said: In seven days.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ القراء ات ١٣ (٢٩٤٧)، ن الکبری/ فضائل القرآن (٨٠٦٨، ٨٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٤) (صحیح) (اِس روایت میں وارد لفظ لم ینزل من سبع شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر ١٣٩١) کے برخلاف ہے جس میں تین دن بھی وارد ہوا ہے )
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم ﷺ دو ہم مثل سورتوں کو جیسے نجم اور رحمن ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقة ایک رکعت میں، والطور اور الذاريات ایک رکعت میں، إذا وقعت اور نون ایک رکعت میں، سأل سائل اور النازعات ایک رکعت میں، ويل للمطففين اور عبس ایک رکعت میں، المدثر اور المزمل ایک رکعت میں، هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة ایک رکعت میں، عم يتسائلون اور المرسلات ایک رکعت میں، اور اسی طرح الدخان اور إذا الشمس کورت ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
Narrated Ibn Masud (RA) : Alqamah and al-Aswad said: A man came to Ibn Masud. He said: I recite the mufassal surahs in one rakah. You might recite it quickly as one recites verse (poetry) quickly, or as the dried dates fall down (from the tree). But the Prophet ﷺ used to recite two equal surahs in one rakah; he would recite (for instance) surahs an-Najm (53) and ar-Rahman (55) in one rakah, surahs Iqtarabat (54) and al-Haqqah (69) in one rakah, surahs at-Tur (52) and adh-Dhariyat (51) in one rakah, surahs al-Waqiah (56) and Nun (68) in one rakah, surahs al-Maarij (70) and an-Naziat (79) in one rakah, surahs al-Mutaffifin (83) and Abasa (80) in one rakah, surahs al-Muddaththir (74) and al-Muzzammil (73) in one rakah, surahs al-Insan (76) and al-Qiyamah (75) in one rakah, surahs an-Naba (78) and al-Mursalat (77) in one rakah, and surahs ad-Dukhan (44) and at-Takwir (81) in one rakah. Abu Dawud said: This is the arrangement of Ibn Masud himself
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٥)، و فضائل القرآن ٦ (٤٩٩٦)، ٢٨ (٥٠٤٣)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٩ (٧٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٥ (الجمعة ٦٩) (٦٠٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٥ (١٠٠٧)، مسند احمد (١/٣٨٠، ٤١٧، ٤٢٧، ٤٣٦، ٤٥٥) (صحیح) (مگر سورتوں کی یہ فہرست ثابت نہیں ہے، اور مؤلف کے سوا کسی کے یہاں یہ فہرست ہے بھی نہیں )
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود ؓ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورة البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی ۔
Abdur-Rahman bin Yazid said: I asked Abu Masud while he was making circumambulation of the Kabah (about the recitation of some verses from the Quran). He said: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone recited two verses from the last of Surah al-Baqarah at night, they will be sufficient for him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٠ (٥٠٠٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٣ (٨٠٧)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٤ (٢٨٨١)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٧٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٣ (١٣٦٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٨، ١٢١، ١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٠ (١٥٢٨)، و فضائل القرآن ١٤ (٣٤٣١) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دس آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں ( کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بےانتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: If anyone prays at night reciting regularly ten verses, he will not be recorded among the negligent; if anyone prays at night and recites a hundred verses, he will be recorded among those who are obedient to Allah; and if anyone prays at night reciting one thousand verses, he will be recorded among those who receive huge rewards. Abu Dawud said: The name of Ibn Hujairah al-Asghar is Abdullah bin Abdur-Rahman bin Hujairah.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید پڑھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں الر ہے ١ ؎، اس نے کہا: میں عمر رسیدہ ہوچکا ہوں، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہوگئی ہے (اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر حم والی تینوں سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی، آپ ﷺ نے فرمایا: تو مسبحات میں سے تین سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک جامع سورة سکھا دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے اس کو إذا زلزلت الأرض سکھائی، جب آپ ﷺ اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: أفلح الرويجل (بوڑھا کامیاب ہوگیا) ۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Teach me to read the Quran, Messenger of Allah. He said: Read three surahs which begin with A. L. R. He said: My age is advanced, my mind has become dull (i. e. memory has grown weak), and my tongue has grown heavy). So he said: Then read three surahs which begin with H. M. He repeated the same words. So he said: Read three surahs which begin with the Glorification of Allah. But he repeated the same excuse. The man then said: Teach me a comprehensive surah, Messenger of Allah. The Prophet ﷺ taught him Surah (99). When the Earth is shaken with her earthquake. When he finished it, the man said: By Him Who sent you with truth, I shall never add anything to it. Then man then went away. The Prophet ﷺ said twice: The man received salvation.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورة یونس، سورة ہود اور سورة یوسف۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٤ (٩٥٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩) (ضعیف) (اس میں عیسیٰ بن ہلال صدفی ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن کی ایک سورة جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہوجائے اور وہ تبارک الذي بيده الملک ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A surah of the Quran containing thirty verses will intercede its reader till he will be forgiven. That is: Blessed is He in Whose Hand is the sovereignty (Surah 67).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٩ (٢٨٩١)، ن الکبری /التفسیر (١١٦١٢)، الیوم واللیلة (٧١٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٣ (٣٤٥٢) (حسن )
عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قرآن مجید میں (١٥) سجدے ١ ؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ٢ ؎ اور دو سورة الحج میں ٣ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔
Narrated Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ taught me fifteen prostrations while reciting the Quran, including three in al-Mufassal and two in Surah al-Hajj. Abu Dawud said: Abu al-Darda has reported eleven prostrations from the Prophet ﷺ , but chain of this tradition is weak.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام احمد اور جمہور اہل حدیث کے یہاں قرآن مجید میں پندرہ سجدے تلاوت کے ہیں، امام مالک کے نزدیک صرف گیارہ سجدے ہیں، مفصل اور سورة ص میں ان کے نزدیک سجدہ نہیں ہے، امام شافعی کے نزدیک کل چودہ سجدے ہیں، سورة ص میں ان کے نزدیک بھی سجدہ نہیں، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی کل چودہ سجدے ہیں، وہ سورة حج میں ایک ہی سجدہ مانتے ہیں، سجدہ تلاوت جمہور کے نزدیک سنت ہے لیکن امام ابوحنیفہ اسے واجب کہتے ہیں، ائمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک اس میں وضو شرط ہے، امام ابن تیمیہ کے نزدیک شرط نہیں ہے۔ ٢ ؎: سورة نجم، سورة انشقت اور اقرأ میں۔ ٣ ؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧١ (١٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٥) (ضعیف) (اس کے راوی حارث لین الحدیث، اور عبد اللہ مجہول ہیں )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورة الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: I said to the Messenger of Allah ﷺ : Are there two prostrations in Surah al-Hajj? He replied: Yes; if anyone does not make two prostrations, he should not recite them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٩ (الجمعة ٥٤) (٥٧٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٥) (حسن) ( مشرح کے بارے میں کلام ہے، لیکن دوسری خالد بن حمدان کی مرسل حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن کے درجہ کو پہنچی) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥ ؍ ١٤٦ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورة میں سجدہ نہیں کیا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ did not make a prostration at any verse in al-Mufassal from the time he moved to Madina.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث (١٤٠٧) جو آگے آرہی ہے کے معارض ہے، اور ابوہریرہ ؓ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢١٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوقدامہ حارث بن عبید اور مطر وراق حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں )