عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ ﷺ کا قیام ہر رکعت میں سورة مزمل کے بقدر ہوتا تھا ، نوح کی روایت میں یہ نہیں ہے: اس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I spent a night with my maternal aunt Maymunah. The Prophet ﷺ got up to pray at night. He prayed thirteen rakahs including two rakahs of the dawn prayer. I guessed that he stood in every rakah as long as one could recite Surah al-Muzzammil (73).
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) ضرور دیکھ کر رہوں گا، چناچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا، رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں، پھر وتر پڑھی، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
Khalid al-Juhani said: I shall watch the prayer of the Messenger of Allah ﷺ at night. I slept at the threshold of his door or of his tent. The Messenger of Allah ﷺ prayed two light rakahs, and then prayed two long, long, long rakahs. He then prayed two rakahs that were not so long as the two rakahs before them ; he then prayed two rakahs that were less in duration, than the rakahs before them; again he prayed two rakahs that were less in length then the preceding rakahs; he then prayed two rakahs that were less in length than the previous rakahs. This made altogether thirteen rakahs.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٥)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٩)، سنن النسائی/الکبری/قیام اللیل ٢٦ (١٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٦٢)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٢ (١٢)، مسند احمد (٥/١٩٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ ؓ کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹیں، پھر نبی اکرم ﷺ سو گئے، جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی، پھر سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ ﷺ ہی کی طرح سارا کام کیا، پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں، قعنبی کی روایت میں یوں ہے: دو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں، پھر وتر پڑھی، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ ﷺ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : That he spent a night with Maimunah, wife of the Prophet ﷺ , who was also his (Ibn Abbass) maternal aunt. I lay towards the width of the pillow and the Messenger of Allah ﷺ and his wife slept towards its length. The Messenger of Allah ﷺ slept. When half the night passed, or a little before it or a little after it, the Messenger of Allah ﷺ awoke and began to rub his face (eyes) to remove the sleep. He then recited ten verses from the last part of Surah Al-Imran. Hen then came to a bag of water that was hanging. He performed ablution from it and performed his ablution well. He then stood up and prayed. I also got up and did as he did. I then went and stood at his side. The Messenger of Allah ﷺ placed his right hand upon my head and took me by my ear twisting it. He then prayed two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs. The narrator al-Qanabi said: Six times. He observed the witr prayer, and then slept until the muadhdhin came. He got up and prayed two light rakahs and then came out and offered the dawn prayer.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) تھک جاؤ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو ، چناچہ آپ ﷺ جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Choose such actions as you are capable of performing, for Allah does not grow weary till you do. The acts most pleasing to Allah are those which are done most continuously, even if they amount to little. Whenever he began an action, he would do it continuously.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی ہے؟ ، انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ called Uthman bin Mazun. When he came to him, he said: Uthman, did you dislike my practice ? He said: No, by Allah, but I seek your practice. He said: I sleep, I pray, I keep fast, I (sometimes) leave fast, and I marry women. Fear Allah, Uthman, your wife has a right on you, your guest has a right on you, your self has a right on you ; you should keep fast and (sometimes) leave fast, and pray and sleep.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں میانہ روی بہتر ہے اور بال بچوں سے کنارہ کشی اور رہبانیت اسلام کے خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٦، ٢٨٦) (صحیح )
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے عمل کا حال کیسا تھا؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کرلیتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ ﷺ رکھتے تھے؟۔
Alqamah said: Aisha (RA) was asked about the actions of the Messenger of Allah ﷺ . Did he perform some actions exclusively on some particular days ? She said: No, he performed his actions regularly. Which of you has the strength as much as the Messenger of Allah ﷺ had ?
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے: جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، رسول اللہ ﷺ کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر ؓ کی خلافت اور عمر ؓ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے من قام رمضان کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں من صام رمضان وقامه ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to commend prayer at night during Ramadan, but did not command it as duty. He would say: If anyone prays during the night in Ramadan because of faith and seeking his reward from Allah, his previous sins will be forgiven for him. When the Messenger of Allah ﷺ died, this was the practice, and it continued thus during Abu Bakrs caliphate and early part of Umars. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Uqail, Yunus, and Abu Uwais in like manner. The version of Uqail goes: He who fasts during Ramadan and prays during the night.
Notes · وضاحت
١ ؎: پھر عمر ؓ نے لوگوں کو مسجد میں ایک امام کے پیچھے جمع کردیا، اسی وجہ سے اکثر علماء نے باجماعت تراویح کو افضل کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گھر میں اکیلے پڑھنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٣)، ٨٣ (٨٠٨)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٤)، والصوم ٣٩ (٢٠٠٢)، والإیمان ٢٢ (٢١٩٦)، ٢٢ (٥٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٧، ١٥٢٧٠، ١٥٢٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧)، والصوم ٦ (١٩٠١)، والتراویح ١ (٢٠٠٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٣ (١٣٢٦)، موطا امام مالک/ الصلاة فی رمضان ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٤١، ٣٨٥، ٤٧٣، ٥٠٣)، سنن الدارمی/الصوم ٥٤ (١٨١٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone fasts during Ramadan because of faith and in order to seek his reward from Allah, his previous sins will be forgiven to him. If anyone prays in the night of the power (lailat al-qadr) because of faith and in order to seek his reward from Allah his previous sins will be forgiven for him. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted in a similar manner by Yahya bin Abi Kathir and Muhammad bin Amr from Abu Salamah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ١ (٢٠١٤)، سنن النسائی/الصیام ٢٢ (٢٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ ﷺ نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائے ١ ؎ اور یہ بات رمضان کی ہے۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : That the Prophet ﷺ once offered (tarawih) prayer in the mosque and the people also prayed along with him. He then prayed on the following night, and the people gathered in large numbers. They gathered on the third night too, but the Messenger of Allah ﷺ did not come out to them. When the morning came, he said: I witnessed what you did, and nothing prevented me from coming out to you except that I feared that this (prayer) might be prescribed to you. That was in Ramadan.
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد اب یہ اندیشہ باقی نہیں رہا اس لئے تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مشروع ہے، رہا یہ مسئلہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان تینوں راتوں میں تراویح کی کتنی رکعتیں پڑھیں تو دیگر (صحیح) روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ان راتوں اور بقیہ قیام اللیل میں آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور رکعات وتر کو ملا کر اکثر گیارہ اور کبھی تیرہ رکعات تک پڑھنا ثابت ہے، اور یہی صحابہ سے اور خلفاء راشدین سے منقول ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیس رکعتیں پڑھیں لیکن یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، لائق استناد نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨٠ (٧٢٩)، والجمعة ٢٩(٩٢٤)، والتہجد ٥ (١١٢٩)، والتراویح ١ (٢٠١١)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦١)، سنن النسائی/ قیام اللیل ٤ (١٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة في رمضان ١(١)، مسند احمد (٦/١٦٩، ١٧٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی، پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا ۔
Narrated Aisha (RA) : The people used to pray (tarawih prayer) in the mosque during Ramadan severally. The Messenger of Allah ﷺ commanded me (to spread a mat). I spread a mat for him and he prayed upon it. The narrator then transmitted the same story. The Prophet ﷺ said: O People, praise be to Allah, I did not pass my night carelessly, nor did your position remain hidden from me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٦٧) (حسن صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ (مہینے کی) سات راتیں رہ گئیں، پھر آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں (٢٣) یا چوبیسویں (٢٤) رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی (٢٤) ویں یا (٢٥) ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، اس کے بعد (٢٥) ویں یا (٢٦) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ، پھر چھبیسویں (٢٦) یا ستائیسویں (٢٧) رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے پھر قیام نہیں کیا، پھر ستائیسویں (٢٧) یا اٹھائیسویں (٢٨) رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ ابوذر نے کہا: سحر کا کھانا، پھر آپ ﷺ نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا ١ ؎۔۔
Narrated Abu Dharr (RA) : We fasted with the Messenger of Allah ﷺ during Ramadan, but he did not make us get up at night for prayer at any time during the month till seven nights remained; then he made us get up for prayer till a third of the night had passed. When the sixth remaining night came, he did not make us get up for prayer. When the fifth remaining night came, he made us stand in prayer till a half of the night had gone. So I said: Messenger of Allah, I wish you had led us in supererogatory prayers during the whole of tonight. He said: When a man prays with an imam till he goes he is reckoned as having spent a whole night in prayer. On the fourth remaining night he did not make us get up. When the third remaining night came, he gathered his family, his wives, and the people and prayed with us till we were afraid we should miss the falah (success). I said: What is falah? He said: The meal before daybreak. Then he did not make us get up for prayer during the remainder of the month.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں، اس حساب سے نبی اکرم ﷺ نے تیئسویں، پچسویں اور ستائسویں رات میں قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ شب قدر بھی انہیں راتوں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٨١ (٨٠٦)، سنن النسائی/السہو ١٠٣ (١٣٦٥)، قیام اللیل ٤ (١٦٠٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٣ (١٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٩، ١٦٣)، سنن الدارمی/ الصوم ٥٤ (١٨١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم ﷺ راتوں کو جاگتے اور (عبادت کے لیے) کمربستہ ہوجاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔
Narrated Aisha (RA) : When the last ten days of Ramadan came, the Prophet ﷺ kept vigil and prayed during the whole night, and tied the wrapper tightly, and awakened his family (to pray during the night). Abu Dawud said: The name of Abu Yafur is Abdur-Rahman bin Ubaid bin Nistas.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، لہٰذا ابی بن کعب ؓ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out and saw that the people were praying during (the night of) Ramadan in the corner of the mosque. He asked: Who are these people ? It was said to him that those were people who had not learnt Quran. But Ubayy bin Kab is praying and they would pray behind him. The Prophet ﷺ said: They did right and it is good what they did. Abu Dawud said: This tradition is not strong, the narrator Muslim bin Khalid is weak.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٩٤) (ضعیف) ( اس کے راوی مسلم متکلم فیہ ہیں، مولف نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے )
زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے کہا: ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پالے گا، ابی ابن کعب ؓ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے (مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں، (آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔
Zirr (b. Hubaish) said: I said to Ubayy bin Kab (RA) : Tell me about lailat al-qard, O Abu al-Mundhir, for our companion (Ibn Masud) was questioned about it, and he said: Anyone who gets up for prayer every night all the year round will hit upon it (i. e. lailat al-qadr). He replied: May Allah have mercy on Abu Abdur-Rahman. By Allah, he knew that it was in Ramadan, (Musaddads version goes) bu he disliked that the people should content themselves (with that night alone) ; or he liked that the people should not content themselves (with the night alone). According to the agreed version: By Allah, it is the twenty-seventh night of Ramadan, without any reservation. I said: How did you know that, Abu al-Mundhir ? He replied: By the indication (or sign) of which the Messenger of Allah ﷺ informed us. I asked Zirr: What is the sign ? He replied: The sun rises like a vessel of water in the morning following that night ; it has no ray until it rises high up.
عبداللہ بن انیس ؓ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اندر آجاؤ ، میں اندر داخل ہوگیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے میرا جوتا دو ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: آج کون سی رات ہے؟ ، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی شب قدر ہے ، پھر لوٹے اور فرمایا: یا کل کی رات ہوگی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔
Narrated Abdullah ibn Unays: I was present at the gathering of Banu Salamah, and I was the youngest of them. They (the people) said: Who will ask the Messenger of Allah ﷺ for us about Laylat al-Qadr? That was the twenty-first of Ramadan. I went out and said the sunset prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . I then stood at the door of his house. He passed by me and said: Come in. I entered (the house) and dinner was brought for him. I was prevented from taking food as it was scanty. When he finished his dinner, he said to me: Give me my shoes. He then stood up and I also stood up with him. He said: Perhaps you have some business with me. I said: Yes. Some people of Banu Salamah have sent me to you to ask you about Laylat al-Qadr. He asked: Which night: Is it tonight? I said: Twenty-second. He said: This is the very night. He then withdrew and said: Or the following night, referring to the twenty-third night.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٤٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٤٠١، ٣٤٠٢)، مسند احمد (٣/٤٩٥) (حسن صحیح )
عبداللہ بن انیس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: تیئسویں شب کو آیا کرو ۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس ؓ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آجاتے۔
Narrated Abdullah ibn Unays al-Juhani (RA) : I said to the Messenger of Allah: I have a place in the desert where I live and in which I pray, with the praise of Allah; but give me command about a night when I come to this mosque. He replied: Come on the twenty third night. I (a sub-narrator, Muhammad ibn Ibrahim) said to his (Abdullah ibn Unayss) son: How would your father act? He replied: He used to enter the mosque when he had offered the afternoon prayer, and did not leave it for any purpose till he prayed the morning prayer. Then when he had prayed the morning prayer, he found his riding beast at the door of the mosque, mounted it and got back to his desert.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (١٢)، (کلاھما نحوہ) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے (یعنی شب قدر کو) رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں (یعنی اکیسویں شب کو) اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں (یعنی تئیسویں شب کو) اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں (یعنی پچیسویں شب کو) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Seek laitat al-Qadr in the last ten night of Ramadan. When nine (nights) remain (i. e. on the twenty first), when seven (night) remain (i. e. on the twenty third), and when five (nights) remain (i. e. on the twenty fifth).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ٣ (٢٠٢١) ٣ (٢٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٢٧٩، ٣٦٠، ٣٦٥) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے درمیانی عشرے (دہے) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ (قدر کی) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں ۔ ابوسعید ؓ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید ؓ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to spend the middle ten days of Ramadan in retirement and devotion (Itikaf) in the mosque. One year he had retirement and devotion in the mosque (as usual); when the twenty-first night came, and this night when he used to come out his devotion in the mosque, he said: He who has engaged himself in devotion along with me should do so during the last ten days; I saw that night, that was caused to forget it, but I have seen myself prostrating in water and mud on the morning following (that night), so seek it in the last ten days and seek it every night with an odd number. Abu Saeed said: Rain fell that night, the mosque that was thatched building dripped, and my eyes saw the Messenger of Allah ﷺ with the traces of water and mud, on his forehead on the morning following the twenty-first night.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب (٢١) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب (٢٣) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب (٢٥) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: Seek it (laylat al-Qadr) in the last ten days of Ramadan. Seek it on the ninth, seventh and fifth night. I (Abu Nadrah) said: You know counting better than us, Abu Saeed. He said: Yes. I asked: What do you mean by the ninth, seventh and fifth night? He said: When the twenty-first night passes, the night which follows it is the night; when the twenty-third night passes, the night which follows it is the seventh; when the twenty-fifth passes, the night which follows it is the fifth. Abu Dawud said: I do not know whether anything remained hidden from me or not.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: شب قدر کو رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو ، پھر چپ ہوگئے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to us: Seek it (laylat al-Qadr) on the seventeenth night of Ramadan, and on the twenty first night, and on the twenty-third night. He then kept silence.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩١٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی حکیم میں کلام ہے، نیز ابواسحاق مختلط ہوگئے تھے، اور یہ معلوم نہیں کہ زید نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں )