Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 68 of 265

1345Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: بِنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا.

اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں ويسلم تسليمة يسمعنا کے الفاظ ہیں۔

This tradition has also been transmitted by Saeed through a different chain of narrators to the same effect. Ibn Bashshar narrated the tradition like that of Yahya bin Saeed. His version has: He uttered the salutation in a way that we could hear it.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤) (صحیح )
1346Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ وَيَنَامُ وَطَهُورُهُ مُغَطًّى عِنْدَ رَأْسِهِ وَسِوَاكُهُ مَوْضُوعٌ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ سَاعَتَهُ الَّتِي يَبْعَثُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ وَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَقْعُدَ فِي الثَّامِنَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ وَيَقْرَأُ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَدْعُو بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ وَيَسْأَلَهُ وَيَرْغَبَ إِلَيْهِ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً يَكَادُ يُوقِظُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْ شِدَّةِ تَسْلِيمِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيَرْكَعُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الثَّانِيَةَ فَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَّنَ فَنَقَّصَ مِنَ التِّسْعِ ثِنْتَيْنِ فَجَعَلَهَا إِلَى السِّتِّ وَالسَّبْعِ وَرَكْعَتَيْهِ وَهُوَ قَاعِدٌ حَتَّى قُبِضَ عَلَى ذَلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے، آپ ﷺ کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ (اٹھ کر) مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے، پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ان میں سے ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورة اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہوجاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے، اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں، پھر بیٹھ کر سورة فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے، پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہوجاتے، رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ موٹے ہوگئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کردیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کرلیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Zurarah ibn Awfa said that Aisha (RA) was asked about the midnight prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to offer his night prayer in congregation and then return to his family (in his house) and pray four rakahs. Then he would go to his bed and sleep, but the water for his ablution was placed covered near his head and his tooth-stick was also kept there until Allah awakened him at night. He then used the tooth-stick, performed ablution perfectly then came to the place of prayer and would pray eight rakahs, in which he would recite Surah al-Fatihah, and a surah from the Quran as Allah willed. He would not sit during any of them but sit after the eighth rakah, and would not utter the salutation, but recite (the Quran) during the ninth rakah. Then he would sit and supplicate as long as Allah willed, and beg Him and devote his attention to Him; He would utter the salutation once in such a loud voice that the inmates of the house were almost awakened by his loud salutation. He would then recite Surah al-Fatihah while sitting, bow while sitting, and then recite the Quran during the second rakah, and would bow and prostrate while sitting. He would supplicate Allah as long as He willed, then utter the salutation and turn away. This amount of prayer of the Messenger of Allah ﷺ continued till he put a weight. During that period he retrenched two rakahs from nine and began to pray six and seven rakahs standing and two rakahs sitting. This continued till he died.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٦) (صحیح) (پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بظاہر زرارہ اور عائشہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، دراصل دونوں کے درمیان سعد بن ہشام کے ذریعہ یہ سند بھی متصل ہے )
1347Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَإِنَّهُ كَانَ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ فِيهِ فَيُصَلِّي رَكْعَةً يُوتِرُ بِهَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.

یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے : آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا ، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت، رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے، اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہوجاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کردیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کردیتے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔

The above-mentioned tradition has also been narrated by Banu al-Hakim through a different chain of narrators. This version adds: He (the Prophet) would offer the night prayer and go to his bed. In this version there is no mention of praying four rakahs. The narrator then transmitted the rest of the tradition. This version further says: He would pray eight rakahs during which his recitation of the Quran, bowing and prostration were all equal. He would sit only after the eight rakah, and then stand up without uttering the salutation, and pray one rakah observing witr prayer and then give the salutation raising his voice so much so that we were about to awake. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦) (صحیح )
1348Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ حَتَّى يُوقِظَنَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہوجاتے۔

Zurarah bin Awfa said that Aisha (RA) was asked about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to lead the people in the Isha prayer and return to his family and pray four rakahs and go to his bed. The narrator then transmitted the tradition in full. This version does not mention the words: During them (the rakahs) he equated all the recitation of the Quran, bowing and recitation. This also does not mention the words about the salutation: Till he almost awakened us.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣٤٦، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦) (صحیح )
1349Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمْ.

اس طریق سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے ١ ؎۔

This tradition has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. But the tradition narrated by Hammad bin Salamah is not equal to the tradition narrated by others.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ابن ابی عدی، یزید بن ہارون اور مروان بن معاویہ سبھی نے اسے بہز بن حکیم سے، انہوں نے زرارہ سے زرارۃ نے عائشہ ؓ سے بغیر سعد کے واسطہ کے روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ ہی نے زرارہ اور عائشہ ؓ کے درمیان سعد بن ہشام کا واسطہ بڑھایا ہے، اور یہ واسطہ ہی صحیح ہے کیوں کہ زرارہ کے عائشہ ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، صحیح بات یہی ہے کہ سماع ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦، ١٦١١٠) (صحیح )
1350Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِتِسْعٍ، أَوْ كَمَا قَالَتْ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night, observing the witr prayer with nine (or as she said). He used to pray two rakahs while sitting and pray two rakahs of the dawn prayer between the adhan and the iqamah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦١١٠، ١٦١١١، ١٧٧٥٥) (حسن صحیح )
1351Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہوجاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے: کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اماں جان! آپ ﷺ دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to observe the witr prayer with nine rakahs. Then he used to pray seven rakahs (of witr prayer). He would pray two rakahs sitting after the witr in which he would recite the Quran (sitting). When he wished to bow, he stood up and bowed and prostrated. Abu Dawud said: These two traditions have been transmitted by Khalid bin Abdullah al-Wasiti. In his version he said: Alqamah bin Waqqas said: O mother, how did he pray the two rakahs ? He narrated the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤١١)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٨) (حسن صحیح )
1352Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ،عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ، فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغْفِي، وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَا، حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ حَتَّى أَسَنَّ لَحُمَ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا اور کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں بتائیے، وہ بولیں: رسول اللہ ﷺ لوگوں کو عشاء پڑھاتے، پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہوجاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، میرے خیال میں آپ ﷺ ہر رکعت میں قرآت، رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے، پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو (زمین پر) رکھتے، کبھی ایسا ہوتا کہ بلال ؓ آ کر نماز کی خبر دیتے پھر آپ ﷺ ہلکی نیند سوتے، بسا اوقات میں شبہ میں پڑجاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، یہی آپ کی نماز (تہجد) ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہوگئے، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Saad ibn Hisham said: I came to Madina and called upon Aisha (RA) , and said to her: Tell me about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: The Messenger of Allah ﷺ used to lead the people in the night prayer, and then go to his bed and sleep. When midnight came he got up, went to answer the call of nature and to perform ablution with water. Having performed ablution, he entered the mosque and prayed eight rakahs. To my mind he performed the recitation of the Quran, bowing and prostrating equally. He then observed witr with one rakah and prayed two rakahs sitting. Then he lay down on the ground. Sometimes Bilal came to him and called him for prayer. He then dozed, and sometimes I doubted whether he dozed or not, till he (Bilal) called him for prayer. This is the prayer he offered till he grew old or put on weight. She then mentioned how he put on weight as Allah wished.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٩١، ٩٧، ١٦٨، ٢١٦، ٢٢٧، ٢٣٥) ( صحیح )
1353Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِسِتِّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ. قَالَ عُثْمَانُ: بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: ثُمَّ أَوْتَرَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے، تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض ١ ؎ اخیر سورة تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا، پھر آپ ﷺ فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ ﷺ نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر آپ ﷺ نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے: پھر آپ نے وتر پڑھی، پھر آپ کے پاس بلال ؓ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں۔ اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔ آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔ آپ (اس وقت) فرما رہے تھے: اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وأمامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم وأعظم لي نورا اے اللہ! تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کان میں، میری نگاہ میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے۔ اور اے اللہ! میرے لیے نور کو بڑا بنا دے ۔

Abdullah bin Abbas said that he slept with the Prophet ﷺ . He saw that he (the Prophet) awoke, used tooth-stick, performed ablution, and recited: In the creation of the heavens and earth [3: 190] to the end of the surah. Then he stood up and prayed two rakahs in which he prolonged the standing, bowing, and prostrations. He then uttered turned away and slept till he bagan to snore. This he did three times. This made six rakahs in all. He would use tooth-stick, then perform ablution, and recite those verses. He then observed the witr prayer. The version of Uthman has: with three rakahs. The muadhdhin then came to him and he went out for prayer. The version of Ibn Isa adds: He then observed witr prayer ; then Bilal came to him and called him for prayer when the dawn broke. He then prayed the two rakahs of the dawn prayer. He then went out for prayer. Then both the narrators were agreed: He beagan to supplicate saying: O Allah, place light in my heart, light in my tongue, light in my hearing, light in my eyesight, light on my right hand, light on my left hand, light in front of me, light behing me, light below me, O Allah, give me abundant light.

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة آل عمران: (١٩٠)۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٨، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٧) ( صحیح )
1354Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ،عَنْ حُصَيْنٍ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَأَعْظِمْ لِي نُورًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ: عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں وأعظم لي نورا کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں عن حبيبٍ کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے عن أبي رشدين عن ابن عباس کہا ہے۔

The above tradition has also been transmitted by Husain through a different chain of narrators in like manner. This version has the words: And give me abundant light. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abu Khalid al-Dalani from Habib and Salamah bin Kuhail from Abu Rishdin from Ibn Abbas in a similar manner.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٨، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٧) ( صحیح )
1355Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَرَأَ بِخَمْسِ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة آل عمران آية 190 فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى سَجْدَةً وَاحِدَةً فَأَوْتَرَ بِهَا وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ ابْنِ بَشَّارٍ بَعْضُهُ.

فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو آپ اٹھے اور وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ ﷺ کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا، پھر آپ ﷺ سوئے رہے، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا، پھر سورة آل عمران کی یہ پانچ آیتیں إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار (آل عمران: ١٩٠) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے دس رکعتیں ادا کیں، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر (طاق) کرلیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی، مؤذن خاموش ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔

Narrated Fadl bin Abbas (RA) : I spent a night with the Prophet ﷺ to see how he prayed. He got up, performed ablution and prayed two rakahs. His standing was like his bowing (i. e. equal in duration), and his bowing was like his prostration (equal in length). Then he slept. Afterwards he awoke, performed ablution, and used tooth-stick. He then recited five verses from Surah Al-Imran: In the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day. He went on doing so till he prayed ten rakahs. He then stood up and prayed one rakah observing witr with it. In the meantime the muadhdhin called to prayer. The Messenger of Allah ﷺ stood up after the muadhdhin had kept silent. He prayed two light rakahs and remained sitting till he offered the dawn prayer. Abu Dawud said: A part of the tradition transmitted by Ibn Bashshar remained hidden from me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی شریک اور زہیر میں کچھ کلام ہے )
1356Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَمْسَى، فَقَالَ: أَصَلَّى الْغُلَامُ ؟قَالُوا: نَعَمْ، فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہوجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I spent a night with my maternal aunt Maimunah. The Messenger of Allah ﷺ came after the evening has come. He asked: Did the boy pray ? She said: Yes. Then he lay down till a part of night had passed as much as Allah willed; he got up, performed ablution and prayed seven or five rakahs, observing witr with them. He uttered the salutation only in the last of them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٤١، ٣٥٤)، دی/الطہارة ٣ (٦٨٤) ( صحیح )
1357Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِفَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم ﷺ نے عشاء پڑھی پھر (گھر) تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ ﷺ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I spent a night in the house of my maternal aunt Maimunah, daughter of al-Harith. The Prophet ﷺ offered the night prayer. He then came and prayed four rakahs and slept. He then stood up and prayed. I stood at his left side. He made me go round and made me stand at his right side. He then prayed five rakahs and slept, and I heard his snoring. He then got up and prayed two rakahs. Afterwards he came out and offered the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٦) ( صحیح )
1358Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَلَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ.

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے: آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔

Saeed bin Jubair said that Ibn Abbas told him: He (the Prophet) got up and prayed eight rakahs in pairs, and then observed witr with five rakahs and he did not sit between them.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٤٤) ( صحیح )
1359Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ، قَبْلَ الصُّبْحِ يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے: دو دو کر کے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs, observing six rakahs in pairs including the two rakahs of dawn prayer. He would observe witr and five rakahs. He sat only in the last of them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٥) ( صحیح )
1360Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ.

عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night including the two rakahs of the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
م /المسافرین ١٧ (٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٧١)، مسند احمد (٦/٢٢٢) ( صحیح )
1361Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا. قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے: اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے جالسا (بیٹھ کر) کا اضافہ کیا ہے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered the night prayer and then prayed eight rakahs standing, and two rakahs between the two adhans (i. e. the adhan for the dawn prayer and the iqamah). He never left them. Jafar bin Musafir said in his version: (He prayed) the two rakahs sitting between the two adhans. He added the word sitting.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٢ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٥)، وانظر حدیث رقم: (١٣٤٢) (صحیح)ورکعتين جالساً بين الأذانين خطا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥ ؍ ١٠٣- ١٠٤ )
1362Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ.

عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا: انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟ تو وہ بولیں: انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Abdullah bin Abi Qais said that he asked Aisha (RA) : How many rakahs would the Messenger of Allah ﷺ pray observing the witr ? She said: He used to observe the witr with four and three, six and three, eight and three, and ten and three rakahs never observing less than seven or more than thirteen. The narrator Ahmad added in his version: He would not observe the witr with two rakahs before the dawn. I asked: With what would he observe the witr ? She said: He would never leave it. The version of Ahmad does not mention the words six and three (rakahs).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧)، مختصراً سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (١٦٢٨٢)، مسند احمد (٦/١٤٩) ( صحیح )
1363Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَتَرَكَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ آخِرُ صَلَاتِهِ مِنَ اللَّيْلِ الْوِتْرَ.

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں، پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Al-Aswad ibn Yazid said that he entered upon Aisha (RA) and asked her about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ during the night. She said: He used to pray thirteen rakahs during the night. Then he began to pray eleven rakahs and left two rakahs. When he died, he would pray nine rakahs during the night. His last prayer during the night was witr.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٤) ( ضعیف) (اس کے راوی منصور کے حافظہ میں کچھ کمزوری ہے، نیز ابو اسحاق مختلط ہیں اور منصور کی ان سے روایت کے بارے میں پتہ نہیں کہ اختلاط سے پہلے ہے یا بعد میں )
1364Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْمَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ قَالَ: بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ ﷺ ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ ﷺ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کرلیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ ﷺ نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورة فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال ؓ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! نماز، تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

The client of Ibn Abbas said that he asked him: How would the Messenger of Allah ﷺ pray during the night ? He replied: I spent a night with him when he was with Maimunah. He slept and awoke when half the night or one-third of it had passed. He stood up and went to a leather bad containing water. He performed ablution and I also performed ablution with him. He then stood up and I also stood at his left side. He made me stand at his right side. He then put his hand upon my head, as he was touching my ear and awakening me. He then prayed two light rakahs and recited Surah al-Fatihah in each of them, and uttered the salutation. He then prayed eleven rakahs observing the witr and slept. Then Bilal came to him and said: Prayer, Messenger of Allah. He got up and prayed two rakahs, and then led the people in the prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطہارة ٣٧ (١٨٣)، الأذان ٥٨ (٦٩٨)، الوتر ١ (٩٩٢)، التفسیر ١٨ (٤٥٧٠)، ١٩ (٤٥٧١)، ٢٠ (٤٥٧٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٦٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (١١)، مسند احمد ١ (٢٢٢، ٣٥٨) ( صحیح )