عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہوجائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے، یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق (وتر) کر دے گی ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the prayer at night. The Messenger of Allah ﷺ said: Prayer during the night should consist of pairs of rakahs, but if one of you fears the morning is near he should pray one rakah which will make his prayer an odd number for him.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ نفل نماز کیسے پڑھی جائے، امام شافعی کی رائے صحیح ہے کہ نفل نماز دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے، خواہ دن کی نماز ہو یا رات کی، ان کی دلیل صلا ۃ اللیل والنہار مثنی مثنی والی حدیث ہے جو صحیح ہے، دو دو رکعت کرکے پڑھنے میں بہت سے فوائد ہیں، اس میں دعا، درود وسلام کی زیادتی ہے، نیز جماعت میں شامل ہونے کے لئے نماز درمیان سے چھوڑنی نہیں پڑتی وغیرہ وغیرہ، ایسے چار چار کرکے پڑھنا بھی جائز ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں (نماز پڑھ رہے) ہوتے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophets ﷺ recitation was loud enough for one who was in the inner chamber to hear it when he was in the house.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم ﷺ کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophets ﷺ recitation at night was partly in a loud voice and partly in a low voice. Abu Dawud said: The name of Abu Khalid al-Walibi is Hurmuz.
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر ؓ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ ﷺ عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں (ابوبکر و عمر) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو ، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ ﷺ نے عمر ؓ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کرلو ، اور عمر ؓ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلو ١ ؎۔
Narrated Abu Qatadah (RA) : The Prophet ﷺ went out at night and found Abu Bakr praying in a low voice, and he passed Umar ibn al-Khattab who was raising his voice while praying. When they both met the Prophet ﷺ together, the Prophet ﷺ said: I passed by you, Abu Bakr, when you were praying in a low voice. He replied: I made Him hear with Whom I was holding intimate converse, Messenger of Allah. He (the Prophet) said to Umar (RA) : I passed by you when you were praying in a loud voice. He replied: Messenger of Allah, I was awakening the drowsy and driving away the Devil. Al-Hasan added in his version: The Prophet ﷺ said: Raise your voice a little, Abu Bakr, and he said to Umar (RA) : Lower your voice a little.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها وابتغ بين ذلک سبيلا (سورۃ الاسراء: ١١٠) ” نہ بلند آواز سے اور نہ ہی چپکے چپکے پڑھ بلکہ بیچ کی راہ تلاش کر “۔
ابوہریرہ ؓ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں فقال لأبي بكر: ارفع من صوتک شيئًا ولعمر اخفض شيئًا کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورة سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورة سے ، بلال ؓ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version dies not mention that the Prophet ﷺ said to Abu Bakr (RA) : Raise your voice a litte ; or he said to Umar (RA) : Lower your voice a little. But this version adds: (The Prophet said:) I heard you, Bilal, (reciting) ; you were reciting partly from this surah and partly from that surah. He said: This is all good speech ; Allah has combined one part with the other; The Prophet ﷺ said: All of you were correct.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رات کی نماز (تہجد) کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی، قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے، کتنی ایسی آیتیں تھیں جنہیں میں بھول چلا تھا، اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورة آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورة کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جنہیں میں بھول چکا تھا اور وہ وكأين من نبي (آل عمران: ١٤٦) والی آیت ہے۔
Narrated Aisha (RA) : A man got up at night and recited the Quran in a loud voice. When the dawn came, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah have mercy on so-and-so who reminded me many verses that I had nearly forgotten. Abu Dawud said: Harun al-Nahwi transmitted from Hammad bin Salamah the Quranic verse of Surah Al-Imran: How many of the prophet fought (in Allahs way) (3: 146)
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں (یا کہا نماز) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ retired to the mosque. He heard them (the people) reciting the Quran in a loud voice. He removed the curtain and said: Lo! every one of you is calling his Lord quietly. One should not trouble the other and one should not raise the voice in recitation or in prayer over the voice of the other.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩٤) (صحیح )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا ۔
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani (RA) : The Prophet ﷺ said: One who recites the Quran in a loud voice is like one who gives alms openly; and one who recites the Quran quietly is one who gives alms secretly.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٠ (٢٩١٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٢ (١٦٦٢)، والزکاة ٦٨ (٢٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٨، ٢٠١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray ten rakahs during the night, and would observe the witr with one rakah, he then prayed two rakahs of the dawn prayer. Thus he prayed thirteen rakahs in all.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہوجاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ used to pray eleven rakahs (at night, observing the witr with one rakahs). When he finished it (the prayer), he would lie down on his right side.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧(٧٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٣ (٤٤٠، ٤٤١)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر والتھجد ٣ (١١٢٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٥ (١٦٩٧)، ٤٤ (١٧٢٧)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٥٨)، حم (٦/ ٣٤، ٣٥، ٨٣، ١٤٣، ١٦٧، ١٦٨، ١٨٢، ٢١٥، ٢٢٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٥(١٥١٤) (صحیح) ( اضطجاع یعنی دائیں کروٹ پر صلاة وتر سے فارغ ہو کر لیٹنے کا ٹکڑا شاذ ہے )۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن (بلانے کے لے) آتا۔
Narrated Aisha (RA) : Between the time when the Messenger of Allah ﷺ finished the night prayer till the dawn broke, he used to pray eleven rakahs, uttering the salutation at the end of every two and observing the witr with a single one, and during that he would make a prostration about as long a one of you would take to recite fifty verses before raising his head. When the muadhdhin finished making the call for the dawn prayer, he stood up and prayed two short rakahs, then he lay down on his right side till the muadhdhin came to him
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الأذان ٤١ (٦٨٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١٥، ١٦٦١٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٢٦)، والوتر ٩٩٤)، والتہجد ٣ (١١٢٣)، و ٢٣ (١١٦٠)، والدعوات ٥ (٦٣١٠)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ١٢٦ (١١٩٨)، مسند احمد (٦/٣٤، ٧٤، ٨٣، ١٤٣، ١٦٧، ٢١٥، ٢٤٨، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٧ (١٤٨٦)، ١٦٥ (١٥١٤، ١٥١٥) (صحیح )
اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں (رکوع سے) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہوجاتی، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔
This tradition has been transmitted by Ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: He would observe witr with a single rakah and make a prostration as long as you would take to recite fifty verses before raising his head. When the muadhdhin finished his call for the dawn prayer and the dawn became clear to him. . . . Then the narrator transmitted the rest of the tradition to the same effect. Some narrators added something more in their version.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night, observing a witr out of that with five, he did not sit during the five except the last and then gave the salutation. Abu Dawud said: Ibn Numair reported it from Hisham recently.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night ; he then offered two light rakahs of prayer when he heard the call to the dawn prayer.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٧ (١١٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل ٤ (١٦٠٥)، مسند احمد (٦/ ١٧٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے (پہلے) آٹھ رکعتیں پڑھتے (پھر) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں بعد الوتر وتر کے بعد کے الفاظ بھی ہیں (پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔
Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night. He would offer eight rakahs observing the witr with one rakah. Then he prayed (the narrator Muslim said) two rakahs after witr prayer in sitting position. When he wished to bow, he stood up and bowed. He used to pray two rakahs between the call to the dawn prayer and the iqamah.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ١ ؎، آپ چار رکعتیں پڑھتے، ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ٢ ؎۔
Abu Salamah bin Abdur-Rahman asked Aisha (RA) , the wife of the Prophet ﷺ : How did the Messenger of Allah ﷺ pray during Ramadhan ? She said: The Messenger of Allah ﷺ did not pray more than eleven rakahs during Ramadhan and other than Ramadhan. He would pray four rakahs. Do not ask about their elegance and length. He then would pray for rakahs. Do not ask about their alegance and length. Then he would pray three rakahs. Aisha (RA) said: I asked: Messenger of Allah, do you sleep before observing witr ? He replied: Aisha (RA) , my eyes sleep, but my heart does not sleep.
Notes · وضاحت
١ ؎: آٹھ رکعتیں تہجد یا تراویح کی اور تین وتر کی۔ ٢ ؎: یعنی میرا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، اس وجہ سے سونے سے مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچتا، میرا وضو اس سے نہیں ٹوٹتا، یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی۔
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، تو میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس جاؤ۔ چناچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چناچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے (پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے گھر پہنچے) ، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورة يا أيها المزمل نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آگیا اور سورة کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہوگئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم ﷺ کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ ﷺ سن رسیدہ ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی رات کو (لگاتار) صبح تک قیام ١ ؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ ﷺ کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آجاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔
Narrated Saad bin Hisham (RA) : I divorced my wife. I then came to Madina to sell my land that was there so that I could buy arms and fight in battle. I met a group of the Companions of the Prophet ﷺ . They said: Six persons of us intended to do so (i. e. divorce their wives and purchase weapons), but the Prophet ﷺ prohibited them. He said: For you in the Messenger of Allah there is an excellent model. I then came to Ibn Abbas and asked him about the witr observed by the Prophet ﷺ . He said: I point to you a person who is most familiar with the witr observed by the Messenger of Allah ﷺ . Go to Aisha (RA) . While going to her I asked Hakim bin Aflah to accompany me. He refused, but I adjured him. He, therefore, went along with me. We sought permission to enter upon Aisha (RA) . She said: Who is this ? He said: Hakim bin Aflah. She asked: Who is with you ? He replied: Saad bin Hisham. She said: Hisham son of Amir who was killed in the Battle of Uhud. I said: Yes. She said: What a good man Amir was! I said: Mother of faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah ﷺ . She asked: Do you not recite the Quran ? The character of Messenger of Allah ﷺ was the Quran. I asked: Tell me about his vigil and prayer at night. She replied: Do you not recite: O thou folded in garments (73: 1). I said: Why not ? When the opening of this Surah was revealed, the Companions stood praying (most of the night) until their fett swelled, and the concluding verses were not revealed for twelve months from heaven. At last the concluding verses were revealed and the prayer at night became voluntary after it was obligatory. I said: Tell me about the witr of the Prophet ﷺ . She replied: He used to pray eight rakahs, sitting only during the eighth of them. Then he would stand up and pray another rakahs. He would sit only after the eighth and the ninth rakahs. He would utter salutation only after the ninth rakah. He would then pray two rakahs sitting and that made eleven rakahs, O my son. But when he grew old and became fleshy he observed a witr of seven, sitting only in sixth and seventh rakahs, and would utter salutation only after the seventh rakah. He would then pray two rakahs sitting, and that made nine rakahs, O my son. The Messenger of Allah ﷺ would not pray through a whole night, or recite the whole Quran in a night or fast a complete month except in Ramadan. When he offered prayer, he would do that regularly. When he was overtaken by sleep at night, he would pray twelve rakahs. The narrator said: I came to Ibn Abbas and narrated all this to him. By Allah, this is really a tradition. Has I been on speaking terms with her, I would have come to her and heard it from her mouth. I said: If I knew that you were not on speaking terms with her, I would have never narrated it to you.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رات بھر عبادت نہیں کی بلکہ درمیان میں آرام بھی فرماتے تھے۔
اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ بوڑھے ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ مشافهة تک ذکر کی۔
The above mentioned tradition has also been narrated by Qatadah through a different chain of narrators. This version adds: He (the Prophet ( used to pray eight rakahs during which he did not sit except the eight rakahs. He would sit, make mention of Allah, supplicate Him and then utter the salutation so loudly that we could hear it. He would then pray two rakahs sitting after he had uttered the salutation. Then he would pray one rakah, and that made eleven rakahs, O my son. When the Messenger of Allah ﷺ grew old and became fleshy, he offered seven rakahs of witr, and then he would pray two rakahs sitting after he had uttered the salutation. The narrator narrated the tradition to the same effect till the end.
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔
The above tradition has also been transmitted by Yahya bin Saeed to the same effect. The version adds the words: He uttered the salutation so loudly that we could hear it.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤) (صحیح )