عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب سورة مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورة کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : When the opening verses of Surah Al-muzammil was revealed, the Companions would pray as long as they would pray during Ramadan until its last verses were revealed. The period between the revelation of its opening and the last verses was one year.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بددلی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one you sleeps, the devil ties three knots at the back of his neck, sealing every knot with, You have a long night, so sleep. So if one awakes and mentions Allah, a knot will be loosened; if he performs ablution another knot will be loosened; and if he prays, the third knot will be loosened; and in the morning he will be active and in good spirits; otherwise he will be in bad spirits and sluggish.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٢ (١١٤٢)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٨ (٧٧٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦٠٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٤ (١٣٢٩)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٥ (٩٥)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٢٥٣، ٢٥٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Do not give up prayer at night, for the Messenger of Allah ﷺ would not leave it. Whenever he fell ill or lethargic, he would offer it sitting.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٦، ٢٤٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور نماز ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٤٥٠ )
ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں ۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ ؓ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید ؓ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ ؓ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔
Narrated Abu Saeed and Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If a man awakens his wife at night, and then both pray or both offer two rakahs together, the (name of the )man will be recorded among those who mention the name of Allah, and the (name of the) woman will be recorded among those who mention the name of Allah. Ibn Kathir did not narrate this tradition as a statement of the Prophet ﷺ , but he reported it as a statement of Abu Saeed. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ibn Mahdi from Sufyan and I think he mentioned the name of Sufyan. He also said: The tradition transmitted by Sufyan is a statement of the Companion (and not that of the Prophet).
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٥) ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٥٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٩٦٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری / التفسیر (١١٤٠٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : When one of you dozes in prayer he should sleep till his sleep is gone, for when one of you prays while he is dozing, perhaps he might curse himself if he begs pardon of Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلا اللهم اغفر کے بجائے اس کی زبان سے اللهم اعفر نکلے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٧١٤٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٤٦ (٣٥٥)، سنن النسائی/الطھارة ١١٧ (١٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧٠)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١ (٣)، مسند احمد (٦/٥٦، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٧(١٤٢٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you gets up by night (to pray), and falters in reciting the Quran (due to sleep), and he does not understand what he utters, he should sleep.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٧٢١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧٢)، مسند احمد (٢/٢١٨) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: یہ رسی کیسی بندھی ہے؟ ، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش ؓ کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں ۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے: آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب ؓ کی ہے، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہوجاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک نشاط رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔
Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque (and saw that) a rope tied between two pillars. He asked: What is this rope (for) ? The people told him: This is (for) Hamnah bin Jahsh who prays (here). When she is tired, she reclines on it. The Messenger of Allah ﷺ said: She should pray as much as she has strength. When she is tired, she should sit down. This version of Ziyad has: He said: What is this ? The people told him: This is for Zainab who prays. When she becomes lazy, or is tired, she holds it. He said: Undo it. One of you should pray in good spirits. When he is lazy or tired, he should sit down.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٣٢ (٧٨٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد ١٨ (١١٥٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧١)، مسند احمد (٣/١٠١، ١٨٤، ٢٠٤، ٢٠٥) (صحیح) دون ذکر حمنة
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے ۔
Narrated Umar bin Al-Khattab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: He who misses him daily round of recital or part of it due to sleep and he recites it between the dawn and the noon prayers, will be reckoned as if he recited it at night.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩١ (الجمعة ٥٦) (٥٨١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٦ (١٧٩١، ١٧٩٢، ١٧٩٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٧ (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٣ (٣)، مسند احمد (١/٣٢، ٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٧ (١٥١٨) (صحیح )
سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے (اور وہ نہ اٹھ سکے) تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا، اس کی نیند اس پر صدقہ ہوگی ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: Any person who offers prayer at night regularly but (on a certain night) he is dominated by sleep will be given the reward of praying. His sleep will be almsgiving.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥٢ (١٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة اللیل ١ (١)، مسند احمد (٦/٦٣، ٧٢، ١٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ١ ؎، پھر فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Our Lord who is blessed and exalted descends every night to the lowest heaven when the last one-third of the night remains, and says: Who supplicated Me so that I may answer him ? Who asks of Me so that I may give to him ? Who asks My forgiveness so that I may forgive him ?
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ رب العزت کے لئے نزول کی صفت ثابت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے بارے میں صحیح عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول سے اس سلسلے میں ثابت ہے اس پر ہم صدق دل سے ایمان لے آئیں اور ان صفات کا نہ تو انکار کریں، اور نہ ان کے حقیقی معانی کو معطل کریں، اور نہ ہی کسی صفت کو کسی مخلوق کی صفت کے مشابہ قرار دیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ليس کمثله شيئ وهو السميع البصير۔ بعض لوگوں نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ اللہ کی رحمت اترتی ہے یا اس کا حکم اترتا ہے، لیکن یہ سراسر غلط ہے، یہ تاویل کسی طور سے بھی حدیث کے الفاظ کے ساتھ میل نہیں کھاتی، کیوں کہ اگر رحمت اترتی یا حکم اترتا تو وہ یہ کیسے کہتا کہ ” جو مجھ سے دعا کرے گا میں اسے قبول کروں گا، جو مانگے گا میں دوں گا، جو استغفار کرے گا میں اس کی مغفرت کروں گا “، یہ تو خاص شان کبریائی ہے، دوسرے یہ کہ اللہ کی رحمت ہر جگہ موجود ہے ورحمتي وسعت کل شيئ تو خاص تہائی رات میں نزول (اترنے) کے کیا معنیٰ؟! تیسرے یہ کہ رحمت اتر کر آسمان دنیا ہی پر رہ گئی تو ہمیں اس سے کیا فائدہ ہوا! اگر ہم تک آتی تو ہمیں فائدہ پہنچتا، اس لئے بہتر طریقہ وہی ہے جو محققین اہل سنت و اہل حدیث کا ہے کہ اس قسم کی حدیثیں یا آیتیں جن میں اللہ جل جلالہ کی صفات مذکور ہیں جیسے: اترنا، چڑھنا، ہنسنا، تعجب کرنا، دیکھنا، سننا، عرش کے اوپر ہونا، وغیرہ وغیرہ، ان سب صفات و افعال باری تعالیٰ کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے، لیکن یہ مخلوقات کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات مخلوقات کی ذات کے مشابہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٤ (١١٤٥)، والدعوات ١٤ (٦٣٢١)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٤ (٧٥٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٢ (٤٤٦)، والدعوات ٧٩ (٣٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٢ (١٣٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٣، (صحیح) ١٥٢٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣٠)، مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٦٧، ٢٨٣، ٤١٩، ٤٨٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٨ (١٥١٩)، ویأتي برقم (٤٧٣٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے معمول سے فارغ ہوجاتے۔
Narrated Aisha (RA) : Allah, the Exalted, would awaken the Messenger of Allah ﷺ at night. When the dawn came, he would his finish daily round of recital.
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا: میں نے ان سے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اور نماز شروع کردیتے۔
Masruq said: I asked Aisha (RA) about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ , and I said to her: At what time he prayed at night ? She said: When he heard the cock crow, he got up and prayed.
ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کردیتا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مانگو مجھ سے ، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ ، میں نے کہا: بس یہی، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے (یعنی نماز پڑھ کر) میری مدد کرو ۔
Narrated Rabiah bin Kab al-Aslami (RA) : I used to live with the Messenger of Allah ﷺ at night. I would bring water for his ablution and his need. He asked: Ask me. I said: Your company in Paradise. He said: Is there anything other than that ? I said: It is only that. He said: Help me for yourself by making prostrations abundantly.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٦ (٣٤١٦)، سنن النسائی/التطبیق ٧٩ (١١٣٩)، و قیام اللیل ٩ (١٦١٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ٣٤١٦، ٣٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٥٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں (سورۃ السجدۃ: ١٦) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں: اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔
Anas bin Malik (RA) said (explaining the meaning of the Quranic verse Who forsake their beds to cry unto their Lord in fear and hope, and spend of what We have bestowed on them (32: 16). The people used to remain awake between the sunset and the night prayers and would pray. Al-Hasan used to say: (This verse means) the prayer and vigil at night.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٢١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣٣ (٣١٩٦) (صحیح )
انس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کانوا قليلا من الليل ما يهجعون وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے (سورۃ الذاریات: ١٧) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ تتجافى جنوبهم سے بھی یہی مراد ہے۔
Anas said (explaining the meaning) of the following Quranic verse They used to sleep but little of the night (51: 17): They (the people) used to pray between the Maghrib and Isha. The version of Yahya adds: The verse tatajafa junubuhum also means so.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you gets up at night, he should begin the prayer with two short rakahs.
Notes · وضاحت
١ ؎: غالبا ً اس سے تحیۃ الوضو مراد ہے، یعنی پہلے یہ دونوں رکعتیں پڑھ لے، پھر تہجد شروع کرے، یا یہ تہجد ہی کی نماز ہے، مگر ابتداء ہلکی سے شروع کرے، دوسری روایت میں ہے ثم ليطول بعد ما شاء یعنی پھر اس کے بعد جتنی چاہے لمبی کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٨)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٧٩، ٣٩٩) (صحیح) (آگے کے ابوداود کے تبصرہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرفوع قولی کی جگہ ابوہریرہ ؓ پر وقف زیادہ صحیح ہے، نیز صحیح مسلم وغیرہ میں رسول ﷺ کے فعل سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٢ ؍ ٥٩- ٦٠ )
اس طریق سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ، زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے ابوہریرہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے، اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے، نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: He should then prolong it afterwards as much as he likes. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Hammad bin Salamah, Zuhair bin Muawiyah and a group of narrators from Hisham. They transmitted it as a statement of Abu Hurairah himself (mauquf). This tradition has also been transmitted by Ibn Awn from Muhammad (b. Sirin). This version has the wordings: These two rakahs were short.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٥٧٦) (صحیح) (ابوہریرہ ؓ کا موقوف قول صحیح ہے )