ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: (کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ٢ ؎؟ ۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ as saying: In the morning alms are due for every bone in mans body. His salutation to everyone he meets is alms, his enjoining good is alms, his forbidding what is evil is alms, the removal of harmful thing from the way is alms, to have sexual intercourse with ones wife if alms, and two rakahs which one prays in the Duha serve instead of that. Abu Dawud said: The tradition narrated by Abbad is more perfect (than the version narrated by Musaddad). Musaddad did not mention in his version the command (of good) and the prohibition (of evil). Instead, he added in his version saying: Such and such. Ibn Mana added in his version: They (the people) said: Messenger of Allah, how is that one of us fulfills his desire and still there are alms for him (i. e. is rewarded)? He replied: What do you think if you had unlawful sexual intercourse, would he not have been a sinner ?
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ تک کا ذکر ہے اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے، اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے، لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ ٢/٤٠٥) اکثر علما کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہگار ہوگا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٦٧، ١٦٨) (صحیح )
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر ؓ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں ۔
Abu al-Aswad al-Dailani said: While we were present with Abu Dharr, he said: In the morning, alms are due for him, ever fast is alms, every pilgrimage is alms, every utterance of Glory to be Allah is alms, every utterance of Allah is most great is alms, every utterance of Praise be to Allah is alms. The Messenger of Allah ﷺ recounted all such good works. He then said: Two rakahs which one prays in the Duha serve instead of that.
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔
Narrated Muadh ibn Anas al-Juhani (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone sits in his place of prayer when he finishes the dawn prayer till he prays the two rakahs of the forenoon, saying nothing but what is good, his sins will be forgiven even if they are more than the foam of the sea.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی زبَّان ضعیف ہیں )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے ۔
Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: Prayer followed by a prayer with no idle talk between the two is recorded in Illiyyun.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٩٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٣) (حسن )
نعیم بن ہمار ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ١ ؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا ۔
Narrated Nuaym ibn Hammar (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, the Exalted, says: Son of Adam, do not be helpless in performing four rakahs for Me at the beginning of the day: I will supply what you need till the end of it.
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے ان رکعتوں کو نماز الضحیٰ پر محمول کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، سنن النسائی/ الکبری الصلاة ٦٠ (٤٦٦، ٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٦، ٢٨٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٠ (١٤٩٢) (صحیح )
ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔
Narrated Umm Hani ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ prayed on the day of the Conquest (of Makkah) eight rakahs saluting after every two rakahs. Abu Dawud said: Ahmad bin Salih said that the Messenger of Allah offered prayer in the forenoon on the day of the Conquest of Makkah, and he narrated something similar. Ibn al-Sarh reported that Umm Hani said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon me. This version does not mention the prayer in the forenoon.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث )
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی ؓ کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Narrated Ibn Abi Laila (RA) : No one told us that the Prophet ﷺ had offered Duha prayer except Umm Hani. She said that the Prophet ﷺ had taken bath in her house on the day of the Conquest of Makkah and prayed eight rakahs. But no one saw him afterwards praying these rakahs.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٢ (١١٠٣)، والتھجد ٣١ (١١٧٦)، والجزیة ٩ (٣١٧١)، والغازي ٥٠ (٤٢٩٢)، والآدب ٩٤ (٦١٥١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٣٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (٤٧٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٧)، وقد أخرجہ: الحیض ١٦ (٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٧ (١٣٢٣)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٨)، مسند احمد (٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Shaqiq: I asked Aisha (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ pray in the Duha? She replied: No, except when he returned from his journey. I then asked: Did the Messenger of Allah ﷺ recite the surahs combining each other? She said: He would do so in the mufassal surahs.
Notes · وضاحت
١ ؎: ” سورة الحجرات “ سے ” سورة الناس “ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٧)، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١، ٢٠٤، ٢١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ never offered prayer in the forenoon, but I offer it. The Messenger of Allah ﷺ would give up an action, though he liked it to do, lest the people should continue it and it is prescribed for them.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٥ (١١٢٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٩)، مسند احمد (٦/٨٥، ٨٦، ١٦٧، ١٦٩، ٢٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٢ (١٤٩) (صحیح )
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا) ، آپ ﷺ جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔
Narrated Simak (RA) : I asked Jabir bin Samurah (RA) : Did you sit in the company of the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: Yes, very often. He would not stand from the place he prayed the dawn prayer till the sunrise. When the sun rose, he would stand (to pray Duha).
مطلب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔
Narrated Muttalib: The Prophet ﷺ said: Prayer is to be offered in two rakahs; and you should recite the tashahhud at the end of two rakahs, and express your distress and humility and raise your hands and say praying: O Allah, O Allah. He who does not do so does not offer a perfect prayer. Abu Dawud was asked about offering prayer at night in two rakahs. He said: They may be two if you like and four if you like.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورة پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کرلیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کرسکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to al-Abbas ibn Abdul Muttalib: Abbas, my uncle, shall I not give you, shall I not present to you, shall I not donate to you, shall I not produce for you ten things? If you act upon them, Allah will forgive you your sins, first and last, old and new, involuntary and voluntary, small and great, secret and open. These are the ten things: you should pray four rakahs, reciting in each one Fatihat al-Kitab and a surah. When you finish the recitation of the first rakah you should say fifteen times while standing: Glory be to Allah, Praise be to Allah, There is no god but Allah, Allah is most great. Then you should bow and say it ten times while bowing. Then you should raise your head after bowing and say it ten times. Then you should kneel down in prostration and say it ten times while prostrating yourself. Then you should raise your head after prostration and say it ten times. Then you should prostrate yourself and say it ten times. Then you should raise your head after prostrating and say it ten times in every rakah. You should do that in four rakahs. If you can observe it once daily, do so; if not, then once weekly; if not, then once a month; if not, then once a year; if not, then once in your lifetime.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٠ (١٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٨) (صحیح )
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو ؓ تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ ﷺ نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہوجاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کرلو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہوجائے گی ، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کرلو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس ؓ سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں فقال حديث عن النبي ﷺ (تو ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : AbulJawza said: A man who attended the company of the Prophet ﷺ narrated to me (it is thought that he was Abdullah ibn Amr): The Prophet ﷺ said to me: Come to me tomorrow; I shall give you something, I shall give you something, I shall reward you something, I shall donate something to you. I thought that he would give me some present. He said (to me when I came to him): When the day declines, stand up and pray four rakahs. He then narrated something similar. This version adds: Do not stand until you glorify Allah ten times, and praise Him ten times, and exalt Him ten times, and say, There is no god but Allah ten times. Then you should do that in four rakahs. If you are the greatest sinner on earth, you will be forgiven (by Allah) on account of this (prayer). I asked: If I cannot pray this the appointed hour, (what should I do)? He replied: Pray that by night or by day (at any time). Abu Dawud said: Habban bin Hilal is the maternal uncle of Hilal al-Rai. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-MustAmir bin al-Riyyan from Ibn al-Jawza from Abdullah bin Amr without referring to the Prophet ﷺ , - narrated as a statement of Abdullah bin Amr himself (mauquf). This has also been narrated by Rawh bin al-Musayyab, and Jafar bin Sulaiman from Amr bin Malik al-Nakri from Abu al-Jauza from Ibn Abbas as his own statement (and not the statement of the Prophet). But the version of Rawh has the words: The tradition of the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٦) (حسن صحیح )
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
Narrated Urwah bin Ruwaim: That an al-Ansari narrated to him: The Messenger of Allah ﷺ said to Jafar. He then narrated the tradition in like manner. This version has the words: In the second prostration of the first rakah in addition to the words transmitted by Mahdi bin Maimun (in the previous tradition).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٤، ١٥٦٣٦) (صحیح )
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔
Narrated Kab ibn Ujrah (RA) : The Prophet ﷺ came to the mosque of Banu AbdulAshhal. He prayed the sunset prayer there. When they finished the prayer, he saw them praying the supererogatory prayer after it. He said: This is the prayer to be offered in the houses.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہوجاتے (یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to prolong the recitation of the Quran in the two rakahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Yaqub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad bin Isa bin al-tabba transmitted from Nasr al-Mujaddir from Yaqub in like manner.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٤٦٨، ١٨٦٧٧) (ضعیف) (اس کے راوی یعقوب بن عبد اللہ قمی اور جعفر دونوں میں کلام ہے، نیز ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے )
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي ﷺ کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس ؓ سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہیں۔
Narrated Saeed bin Jubair: This tradition from the Prophet ﷺ without mentioning the name of the Companion in the chain (in the mursal form). Abu dawud said: I heard Muhammad bin Humaid say: I heard Yaqub say: Anything I narrated to you from Jafar on the authority of Saeed bin Jubair from the Prophet ﷺ is directly coming from Ibn Abbas from the Prophet ﷺ .
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں (اب بھی) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Shurayh ibn Hani said: I asked Aisha (RA) about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: The Messenger of Allah ﷺ never offered the night prayer and thereafter came to me but he offered four or six rakahs of prayer. One night the rain fell, so we spread a piece of leather (for his prayer), and now I see as if there is a hole in it from which the water is flowing. I never saw him protecting his clothes from the earth (as he did on that occasion).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی مقاتل لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں سورة مزمل کی آیت قم الليل إلا قليلا، نصفه ١ ؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرء وا ما تيسر من القرآن ٢ ؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کرسکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (نماز میں) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کردیا ہے،ناشئة الليل کے معنی شروع رات کے ہیں، چناچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور أقوم قيلا سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول إن لک في النهار سبحا طويلا ٣ ؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : In Surat al-Muzzammil (73), the verse: Keep vigil at night but a little, a half thereof (2-3) has been abrogated by the following verse: He knoweth that ye count it not, and turneth unto you in mercy. Recite then of the Quran that which is easy for you (v. 20). The phrase the vigil of the night (nashiat al-layl) means the early hours of the night. They (the companions) would pray (the tahajjud prayer) in the early hours of the night. He (Ibn Abbas) says: It is advisable to offer the prayer at night (tahajjud), prescribed by Allah for you (in the early hours of the night). This is because when a person sleeps, he does not know when he will awake. The words speech more certain (aqwamu qilan) means that this time is more suitable for the understanding of the Quran. He says: The verse: Lo, thou hast by day a chain of business (v. 7) means engagement for long periods (in the days work).
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة المزمل: (٢، ٣) ٢ ؎: سورة المزمل: (٢٠) ٣ ؎: سورة المزمل: ( ٧ )