عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم ﷺ فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ١ ؎؟ ۔
Narrated Abdullah bin Sarjas (RA) : A man came while the Prophet ﷺ was leading the people in the dawn prayer. He prayed the two rakahs and then joined the congregational prayer led by the Prophet ﷺ . When he finished the prayer, the Prophet ﷺ said: So-and-so, which was your real prayer, the one you prayed alone or the one offered with us ?
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ امام کو جس حالت میں بھی پائے اس کے ساتھ جماعت میں شریک ہوجائے اور اس وقت سنت نہ پڑھے خواہ وہ فجر ہی کی سنت کیوں نہ ہو، اور سنت کی دو رکعت فرض کی نماز کے بعد پڑھ لے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٢)، سنن النسائی/الإمامة ٦١ (٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٣ (١١٥٢)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہوجائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When the iqamah is pronounced for prayer, no prayer is valid except the obligatory prayer.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٦ (٤٢١)، سنن النسائی/الإمامة ٦٠ (٨٦٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٣ (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣١، ٣٥٢، ٤٥٥، ٥١٧، ٥٣١)، دي /الصلاة ١٤٩ (١٤٨٨، ١٤٩١) (صحیح )
قیس بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہوجانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: فجر دو ہی رکعت ہے ، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔
Narrated Qays ibn Amr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a person praying after the congregational prayer at dawn was over. The Messenger of Allah ﷺ said: There are two rakahs of the dawn prayer (i. e. the prescribed rakahs). The man replied: I did not pray the two rakahs before the dawn prayer. Hence I offered them now. The Messenger of Allah kept silent.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٤(١١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٧) (صحیح )
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔
This tradition has also been transmitted by Ata bin Abi Rabah on the authority of Saad bin Saeed through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Abd Rabbihi and Yahya bin Saeed also narrated this tradition from the Prophet ﷺ omitting the name of the Companion (mursal). Their grandfather Zaid prayed along with the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١١٠٢) (صحیح) (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے )
ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Umm Habibah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone keeps on praying regularly four rakahs before and four after the noon prayer, he will not enter the Hell-fire. Abu Dawud said: Al-Ala bin Al-Harith and Sulaiman bin Musa reported it from Makhul with his chain, similarly.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥٧ (١٨١٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١ ٢٠ (٤٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٨ (١١٦٠)، مسند احمد (٦/٣٢٦) (صحیح )
ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔
Narrated Abu Ayyub (RA) : The Prophet ﷺ said: The gates of heaven are opened for four rakahs containing no taslim (salutation) before the noon prayer. Abu Dawud said: Yahya bin Saeed al-Qattan said: If I were to narrate any tradition from Ubaidah, I would narrate this tradition. Abu Dawud said: Ubaidah is weak. Abu Dawud said: The name of the narrator Ibn Minjab is Sahm.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٥ (١١٥٧)، سنن الترمذی/ الشمائل (٢٩٣، ٢٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢٠) (ضعیف) (اس کے راوی عبیدہ بن متعب ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألباني 125 ).
عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر ؓ اور مسور بن مخرمہ ؓ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے منع فرمایا ہے، چناچہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتادی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہوجا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کرلیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں ۔
Narrated Kuraib, the client of Ibn Abbas (RA) : That Abdullah bin Abbas, Abdur-Rahman bin Azhar and al-Miswar bin Makhramah sent him to Aisha (RA) , wife of the Prophet ﷺ . They said: Convey our regards to her from all of us and ask her about the two rakahs after the Asr prayer, and tell her that we have been informed that she prays them, and we are told that the Messenger of Allah ﷺ prohibited them. I entered upon her and told her that for which they had sent me to her. She said: Ask Umm Salamah. I returned to them (Ibn Abbas and others) and informed them about her opinion. They sent me back to Umm Salamah with the same mission for which they had sent me to Aisha (RA) . Umm Salamah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting them, but later on I saw him praying them. When he prayed them, he had offered the Asr prayer. He then came to me while a number of women from Banu Haram from the Ansar were sitting with me. He prayed these two rakahs. I sent a slave girl to him and I told her: Stand beside him and tell him that Umm Salamah has asked: Messenger of Allah ﷺ , I heard you prohibiting these two rakahs (after the afternoon prayer) but I see you praying them yourself. If he makes a sign with his hand, step backward from him. The slave girl did so. When he finished prayer, he said: O daughter of Abu Umayyah, you asked about the praying of two rakahs after the Asr prayer, in fact, some people of Abd al-Qais has come to me with the news that their people had embraced Islam. They hindered me from praying the two rakahs after Zuhr prayer. It is those two rakahs (which I offered after the Asr prayer)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ would offer two rakahs after every obligatory prayer except the dawn and the Asr prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎ : رسول اللہ ﷺ نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی نماز سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی ؓ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد نماز سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٤) (ضعیف) (ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب ؓ بھی تھے اور میرے نزدیک عمران میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Some reliable people testified before me, and among them was Umar ibn al-Khattab, and most reliable in my eyes was Umar (RA) : The Prophet of Allah ﷺ said: There is no prayer after the dawn prayer until the sun rises; and there is no prayer after the Asr prayer until the sun sets.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠ (١٨٣)، سنن النسائی/المواقیت ٣٢ (٥٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٧ (١٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ١٨، ٢٠، ٢١، ٣٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٢ (١٤٧٣) (صحیح )
عمرو بن عبسہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک (ثواب) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر (سورج کے پجاری) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور (ثواب) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہوجائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہوگئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔
Narrated Amr ibn Anbasah as-Sulami (RA) : I asked: Messenger of Allah, in which part of night the supplication is more likely to be accepted? He replied: In the last part: Pray as much as you like, for the prayer is attended by the angels and it is recorded till you offer the dawn prayer; then stop praying when the sun is rising till it has reached the height of one or two lances, for it rises between the two horns of the Devil, and the infidels offer prayer for it (at that time). Then pray as much as you like, because the prayer is witnessed and recorded till the shadow of a lance be- comes equal to it. Then cease prayer, for at that time the Hell-fire is heated up and doors of Hell are opened. When the sun declines, pray as much as you like, for the prayer is witnessed till you pray the afternoon prayer; then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of the Devil, and (at that time) the infidels offer prayer for it. He narrated a lengthy tradition. Abbas said: Abu Salam narrated this tradition in a similar manner from Abu Umamah. If I have made a mistake unintentionally, I beg pardon of Allah and repent to Him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٩ (٣٥٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥٢ (٨٣٢)، سنن النسائی/المواقیت ٣٩ (٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٢ (١٣٦٤)، مسند احمد (٤/١١١، ١١٤) (صحیح) دون قوله: ” جوف الليل “ ( جوف اللیل کا لفظ ثابت نہیں ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر ؓ نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ ﷺ باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتادیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Yasar, the client of Ibn Umar, said: Ibn Umar saw me praying after the break of dawn. He said: O Yasar, the Messenger of Allah ﷺ came to us while we were offering this prayer. He (the Prophet) said: Those who are present should inform those who are absent: Do not offer any prayer after (the break of) dawn except two rakahs.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٤ (٤١٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٨(٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ٨٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣، ٥٧، ١٠٤) (صحیح )
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ١ ؎۔
Al-Aswad and Masruq said: We bear witness that Aisha (RA) said: Not a day passed but the Prophet ﷺ prayed two rakahs after the Asr prayer
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہی دو رکعتیں ہیں جن کا بیان حدیث نمبر (١٢٧٣) میں گزرا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان کا پڑھنا اپنا معمول بنا لیا تھا، یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (خود تو) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور (دوسروں کو) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور (دوسروں کو) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Dhakwan, the client of Aisha (RA) , reported on the authority of Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray after the afternoon prayer but prohibited others from it; and he would fast continuously but forbid others to do so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٧٩) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت ہے )
عبداللہ مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے ، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو (راتب) سنت نہ بنالیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah al-Muzani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Pray two rakahs before the Maghrib prayer. He then said (again): Pray two rakahs before the Maghrib prayer, it applies to those who wish to do so. That was because he feared that the people might treat it as sunnah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنا مسنون ہے، یہی راجح اور قوی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٣٥ (١١٨٣)، والاعتصام ٢٧ (٧٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٥) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
Narrated Anas bin Malik (RA) : I offered two rakahs of prayer before the Maghrib prayer (i. e. obligatory) during the time of the Messenger of Allah ﷺ . I (narrator al-Mukhtar bin Fulful) asked Anas (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ se you ? He replied: Yes, but he neither commanded us nor forbade us (to do so).
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ١ ؎ کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے ۔
Narrated Abdullah bin Mughaffal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Between the two adhans there is a prayer, between the two adhans there is prayer for one who desires (to offer).
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤)، ١٦ (٦٢٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢ (١٨٥)، سنن النسائی/الأذان ٣٩ (٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٠ (١١٦٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٤، ٥٦، ٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥(١٤٨٠) (صحیح )
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابوشعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہوگیا ہے۔
Narrated Tawus (RA) : Ibn Umar was asked about praying two rakahs before the Maghrib prayer. He replied: I did not see anyone praying them during the time of the Messenger of Allah ﷺ . He (Ibn Umar) permitted to pray two rakahs after the Asr prayer. Abu Dawud said: I heard Yahya bin Main say: The correct name of the narrator Abu Shuaib is the Shuaib. Shubah made a mistake in narrating his name.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧١٠٤) (ضعیف) (صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جاسکتا )