Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 63 of 265

1245Sunan Abu Dawood

چھٹی صورت بعضوں نے کہا ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے پھر سلام پھیر دے اسکے بعد جو ان کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں اور ایک رکعت پڑھ لیں پھر پچھلے ان کی جگہ پر آجائیں اور ایک رکعت نماز پڑھ لیں،،

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ بِهَذَا الْمَعْنَى، عنْ خُصَيْفٍ، وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَهَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ.

اس طریق سے بھی خصیف سے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسی طرح یہ نماز ادا کی، البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا، اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آ کر خود سے ایک رکعت پوری کی۔ پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔ ١٢٤٥/م۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، مسلم کہتے ہیں: ہم سے عبدالصمد بن حبیب نے بیان کی، عبدالصمد کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔

This tradition has been transmitted by Kushaif with a different chain of narrators and to the same effect. This version adds: The Prophet of Allah ﷺ uttered takbir and both rows uttered takbir together. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Thawri to the same effect on the authority of Khusaif. Abdur-Rahman bin Samurah also prayed in like manner. But the section which he (the Prophet) led in one rakah and then uttered the salutation and went and took the place of their companions. They came and prayed one rakah by themselves. Then they returned to their place and they prayed (one rakah) by themselves. Abu Dawud said: Muslim bin Ibrahim reported from Abd al-Samad bin Habib on the authority of his father that they had fought a battle at Kabul along with Abdur-Rahman bin Samurah. He led us in prayer in time of danger.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٧) (ضعیف) (عبد الصمد اور ان کے والد حبیب دونوں مجہول راوی ہیں )
1246Sunan Abu Dawood

ساتویں صورت بعضوں نے کہا کہ ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے تو پھر دوسری رکعت پڑھنے کی ضرورت نہیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَامَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، فَصَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَزِيدُ الْفَقِيرُ، وَأَبُو مُوسَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَجُلٌ مِنَ التَّابِعِينَ لَيْسَ بِالْأَشْعَرِيِّ جَمِيعًا، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ: إِنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَتْ لِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ.

ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے، وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: تم میں کس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے؟ تو حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے (پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت) اور ان لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضاء نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس ؓ سے ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ ؓ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے، اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر ؓ سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسیٰ تابعی ہیں، ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔ اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر ؓ سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم ﷺ کی دو رکعتیں ہوئیں۔

Narrated Hudhayfah (RA) : Thalabah ibn Zahdam said: We accompanied Saad ibn al-As at Tabaristan. He stood and said: Which of you prayed along with the Messenger of Allah ﷺ in time of danger? Hudhayfah said: I then he led one section in one rakah and the other section in one rakah. They did not pray the second rakah by themselves. Abu Dawud: This tradition has been transmitted by Ubaid Allah bin Abdullah and Mujahid on the authority of Ibn Abbas from the Prophet ﷺ in like manner. This has also been narrated by Abdullah bin Shaqiq from Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . Yazid al-Faqir and Abu Musa also narrated this tradition from Jabir from the Prophet ﷺ . Some of the narrators said in the version narrated by Yazid al-Faqir that they completed their second rakah. This has also been narrated by Simak al-Hanafi on the authority of Ibn Umar from the Prophet ﷺ something similar. Zaid bin Thabit also narrated from the Prophet ﷺ in like manner. This version adds: The people prayed on rakah and the Prophet ﷺ prayed two rakahs.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/صلاة الخوف (١٥٣٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩٩) (ضعیف )
1247Sunan Abu Dawood

ساتویں صورت بعضوں نے کہا کہ ہر ایک گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے تو پھر دوسری رکعت پڑھنے کی ضرورت نہیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ تَعَالَى الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Allah, the Exalted, prescribed prayer for you, through the tongue of your Prophet ﷺ , four rakahs while resident, two rakahs while travelling and one rakah in time of danger.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٧)، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٧)، وتقصیر الصلاة ١ (٢٥٤، ٣٥٥)، والخوف ١ (١٥٣٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٣ (١٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٧، ٢٤٣) (صحیح )
1248Sunan Abu Dawood

آٹھویں صورت بعضوں نے کہا ہر گروہ کے ساتھ امام دو رکعتیں پڑھے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَوْفٍ الظُّهْرَ، فَصَفَّ بَعْضُهُمْ خَلْفَهُ، وَبَعْضُهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فَوَقَفُوا مَوْقِفَ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ جَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ. وَبِذَلِكَ كَانَ يُفْتِي الْحَسَنُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ يَكُونُ لِلْإِمَامِ سِتُّ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ قَالَ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ: عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے، آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے، وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ یہاں آگئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں، اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ، اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جابر ؓ سے اور جابر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے عن جابر عن النبي ﷺ کہا ہے۔

Narrated Abu Bakrah (RA) : The Prophet ﷺ offered the noon prayer in time of danger. Some of the people formed a row behind him and others arrayed themselves against the enemy. He led them in two rakahs and then he uttered the salutation. Then those who were with him went away and took the position of their companions before the enemy. Then they came and prayed behind him. He led them in two rakahs and uttered the salutation. Thus the Messenger of Allah ﷺ offered four rakahs and his companions offered two rakahs. Al-Hasan used to give legal verdict on the authority of this tradition. Abu Dawud said: This will be so in the sunset prayer. The imam will offer six rakahs and the people three rakahs. Abu Dawud said: Yahya bin Abi Kathir narrated from Abu Salamah from Jabir from the Prophet ﷺ something similar. Sulaiman al-Yashkuri reported it from the Prophet ﷺ in like manner.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الخوف ١٨ (١٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩، ٤٩) (صحیح )
1249Sunan Abu Dawood

دشمن کو تلاش کرنے والے کی نماز

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ، وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي لأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا إِنْ أُؤَخِّرِ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَاءً نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ، قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ، قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ.

عبداللہ بن انیس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا: جاؤ اور اسے قتل کر دو ، عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہوگیا تھا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہوجائے گا، چناچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص (یعنی محمد ﷺ سے مقابلے) کے لیے تم (لوگوں کو) جمع کر رہے ہو ١ ؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چناچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کردیا اور وہ ٹھنڈا ہوگیا۔

Narrated Abdullah bin Unais: The Messenger of Allah ﷺ sent me to Khalid bin Sufyan al-Hudhail. This was towards Uranah and Arafat. He (the Prophet) said: Go and kill him. I saw him when the time of the afternoon prayer had come. I said: I am afraid if a fight takes place between me and him (Khalid bin Sufyan), that might delay the prayer. I proceeded walking towards him while I was praying by making a sign. When I reached near him, he said to me: Who are you ? I replied: A man from the Arabs; it came to me that you were gathering (any army) for this man (i. e. Prophet). Hence I came to you in connection with this matter. He said: I am (engaged) in this (work). I then walked along with him for a while ; when it became convenient for me, I dominated him with my sword until he became cold (dead).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ذومعنی کلام ہے لیکن اللہ کا دشمن خالد بن سفیان ہذلی، عبداللہ بن انیس ؓ کے اس توریہ کو سمجھ نہیں سکا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٦) (حسن) (اس کے راوی ابن عبد اللہ بن انیس لین الحدیث ہیں، لیکن اس حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ (٩٨٢) اور ابن حبان (٥٩١) نے کی ہے، اور ابن حجر نے حسن کہا ہے (فتح الباری ٢/٤٣٧)، البانی نے بھی اسے صحیح ابی داود میں رکھا ہے (١١٣٥/م) نیز ملاحظہ ہو: (الصحیحة ٣٢٩٣ )
1250Sunan Abu Dawood

سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔

Narrated Umm Habibah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone prays in a day and a night twelve rakahs voluntarily (supererogatory prayer), a house will be built from him in Paradise on account of these (rakahs).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٢٨)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٧ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٩٣ (٤١٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٠ (١١٤١)، مسند احمد (٦/٤٢٦، ٣٢٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٤ (١٤٧٨) (صحیح )
1251Sunan Abu Dawood

سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، الْمَعْنَي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔

Narrated Abdullah bin Shaqiq: I asked Aisha (RA) about the voluntary prayers offered by the Messenger of Allah ﷺ . She replied: Before the noon prayer he would pray four rakahs in my house, then go out and lead the people in prayer, then return to my house and pray two rakahs. He would lead the people in the sunset prayer, then return to my house and pray two rakahs. Then he would lead the people in the night prayer, and enter my house and pray two rakahs. He would pray nine rakahs during the night, including witr (prayer). At night he would pray for a long time standing and for a long time sitting. When he recited the Quran while standing, he would bow and prostrate himself from the standing position, and when he recited while sitting, he would bow and prostrate himself from the sitting position, and when dawn came he prayed two rakahs, then he would come out and lead the people in the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٥)، ٤١٠ (٤٣٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٤٧، ١٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٠ (١٢٢٨)، مسند احمد (٦/٣٠، ٢١٦) (صحیح )
1252Sunan Abu Dawood

سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ .

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آجاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would pray two rakahs before and two after the noon prayer, two after the sunset prayer in his house, and two after the night prayer. He would not pray afte the Friday prayer till he departed. He would then pray two rakahs.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧)، صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨٢)، سنن النسائی/الجمعة ٤٢ (١٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٣ (٦٩)، مسند احمد (٢/٣٤) (صحیح )
1253Sunan Abu Dawood

سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرَ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ never omitted four rakahs before the noon prayer, and two rakahs before the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٣٤ (١١٨٢)، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٧ (١٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٦٣، ١٤٨) (صحیح )
1254Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was more particular about observing the supererogatory rakahs before the dawn prayer than about observing any of the other supererogatory prayers.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/صلاة اللیل ٢٧ (١١٦٩)، صحیح مسلم/السافرین ١٤(٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٤، ١٧٠) (صحیح )
1255Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؟.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورة فاتحہ پڑھی ہے؟

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ would pray two rakahs before the dawn prayer lightly so much so that I would say: Did he recite Surah al-Fatihah in them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٨ (١١٧١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٠ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠، ٤٩، ١٠٠، ١٦٥، ١٨٣، ١٨٦، ٢٣٥) (صحیح )
1256Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ would recite in both rakahs of the dawn prayer: Say, O unbelievers and Say: He is Allah, the one

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٩ (٩٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٢ (١١٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٨) (صحیح )
1257Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا.

عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال ؓ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں کسی بات میں مشغول کرلیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہوگئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہوگئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا ، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کردی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہوجاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا ۔

Narrated Bilal (RA) : Ziyadah al-Kindi reported on the authority of Bilal that he (Bilal) came to the Messenger of Allah ﷺ to inform him about the dawn prayer. Aisha (RA) kept Bilal engaged in a matter which she asked him till the day was bright and it became fairly light. Bilal then stood up and called him to prayer and called him repeatedly. The Messenger of Allah ﷺ did not yet come out. When he came out, he led the people in prayer and he (Bilal) informed him that Aisha (RA) had kept him engaged in a matter which she asked him till it became fairly light; hence he became late in reaching him (in time). He (Bilal) said: Messenger of Allah, the dawn became fairly bright. He said: If the dawn became brighter than it is now, I would pray them (the two rakahs of the sunnah prayer), offer them well and in a more beautiful manner.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤) (صحیح )
1258Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not omit them (the two rakahs before the dawn prayer) even if you are driven away by the horses.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں )
1259Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ ﷺ اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ آمنا بالله وما أنزل إلينا ١ ؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون ٢ ؎ پڑھتے۔

Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite in both rakahs of the dawn prayer: Say: We believe in Allah and in the revelation given to us (3: 84). This is in the first rakah and in the second rakah (he recited): We believe in Allah and bear witness that we submit ourself (to Him). (3: 52).

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة البقرة: (١٣٦) وضاحت: سورة آل عمران: (٥٢ )
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤(٧٢٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٨ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٣١) (صحیح )
1260Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا سورة آل عمران آية 84 فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ سورة آل عمران آية 53 أَوْ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ سورة البقرة آية 119. شَكَّ الدَّارَوَرْدِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ قل آمنا بالله وما أنزل علينا ١ ؎ اور دوسری رکعت میں ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاهدين ٢ ؎ یا إنا أرسلناک بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم ٣ ؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : That he heard the Prophet ﷺ recite in both rakahs of the dawn: Say: We believe in Allah, and in the revelation given to us (3: 84). This is in the first rakah. In the second rakah he recited this verse: Our Lord, we have believed in what You have sent down, and we follow the Messenger, so write us down among those who bear witness. or he recited: Surely, we have sent you with the truth as a bringer of glad tidings, and a warner. And you will not be asked about the inhabitants of the Blazing Fire (2: 119). Al-Darawardi doubted (which of the verse he recited).

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة آل عمران: (٨٤) وضاحت: سورة آل عمران: (٥٣) وضاحت: سورة البقرة: (١١٩ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٦) (حسن )
1261Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا ؟.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے جواب دیا: نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر ؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے (کثرت سے روایت کر کے) خود پر زیادتی کی ہے (اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہوگا) ، وہ کہتے ہیں: ابن عمر سے پوچھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ ؓ (روایت کثرت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any of you prays two rakahs before the dawn prayer, he should lie at his right side. Marwan ibn al-Hakam said to him: Is it not enough that one of us walks to the mosque until he lies at his right side? According to the version of Ubaydullah, he (Abu Hurairah) replied: No. This statement (of Abu Hurairah) reached Ibn Umar. He said: Abu Hurairah exceed limits on himself. He was asked: Do you look askance at what he says? He replied: No, but he dared and we showed cowardice. This (criticism of Ibn Umar) reached Abu Hurairah. He said: What is my sin if I remembered and they forgot?

Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی، ابن حبان (٢٤٥٩) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم ﷺ کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابوہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ ؓ سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہوجائے گی، ابوہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، و صحیح ابی داود للألبانی ٤ ؍ ٤٢٩ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٥ (٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤١٥) (صحیح )
1262Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔

Narrated Aisha (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer late in the night, he would see. If I was awake, he would talk to me. If I was sleeping, he would awaken me, and pray two rakahs, then he would lie down as long as the muadhdhin came to him and call him for the dawn prayer. Then he would pray two rakahs lightly and come out for prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٤ (١١٦١)، ٢٥ (١١٦٢)، ٢٦ (١١٦٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤١٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥)، وانظر ما یأتي برقم (١٣٣٥) (صحیح) (فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیسا کہ صحیحین کی روایتوں میں ہے )
1263Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَه ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَو، غَيْرُهُ، عَن أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْعَائِشَةُكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي.

ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Prophet ﷺ prayed the two rakahs of the dawn prayer, he would lie down if I was asleep; in case I was awake, he would talk to me.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٣)، وفیہ ” زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب “ بلا شک (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٧، ١٧٧٣٢) (صحیح لغیرہ) ( حدیث نمبر ١٣٣٦ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے )
1264Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِفَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ. قَالَ زِيَادٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر کے لیے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔ زیاد کی روایت میں حدثنا أبو الفضل کے بجائے حدثنا أبو الفضيل ہے۔

Narrated Abu Bakrah (RA) : I came out with the Prophet ﷺ to offer the dawn prayer. When he passed by a sleeping man he called him for prayer or moved him with his foot. The narrator Ziyad said: This tradition has been reported to us by AbulFadl.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابو الفضل انصاری مجہول ہیں )