اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو الله الله ربي لا أشرک به شيئًا یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہلال، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔
Narrated Asma daughter of Umays: The Messenger of Allah ﷺ said to me: May I not teach you phrases which you utter in distress? (These are:) Allah, Allah is my Lord, I do not associate anything as partner with Him. Abu Dawud said: The narrator Hilal is a client of Umar bin Abd al-Aziz. The name of Jafar, a narrator, is Abdullah bin Jafar.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٤٧، ٦٤٩، ٦٥٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٧ (٣٨٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٣٦٩) (صحیح) (الصحيحة 2755 وتراجع الألباني 119 )
ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ١ ؎، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ ، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے ۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : Once we accompanied the Messenger of Allah ﷺ on a journey. When we reached near Madina, the people began to say aloud: Allah is most great, and they raised their voice. The Messenger of Allah ﷺ said: O people, you are not supplicating one who is deaf and absent, but you are supplicating One Who is nearer to you than the neck of your riding beast. The Messenger of Allah ﷺ then said: Abu Musa, should I not point out to you one of the treasures of Paradise? I asked: What is that? He replied: There is no might and there is no power except in Allah
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اللہ رب العزت کے علم و قدرت اور سمع کی رو سے ہے، رہی اس کی ذات تو وہ عرش کے اوپر مستوی اور بلند و بالا ہے، نیز اس حدیث سے ذکر سری کی ذکر جہری پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے، ایک شخص تھا، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو لا إله إلا الله والله أكبر پکارتا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Abu Musa Al-Ashari said: They (the Companions) accompanied the Prophet ﷺ while they were climbing the turning of a hill. A man uttered loudly: There is no god but Allah, and Allah is most great when he ascended the hill. The Prophet of Allah ﷺ said: You are not supplicating one who is deaf or absent. He then said: Abdullah bin Qais. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.
اس سند سے بھی ابوموسیٰ ؓ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Musa al-Ashari through a different chain of narrators. This version adds: Be lenient to yourselves, O people.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کہے: رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوا تو جنت اس کے لیے واجب گئی ۔
Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone says I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion and with Muhammad ﷺ as Messenger Paradise will be his due.
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قبر میں بوسیدہ ہوچکے ہوں گے تو ہمارے درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں ۔
Aws bin Was reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Among the most excellent of your days in Friday ; so invoke many blessings on me on that day, for your blessing will be submitted to me. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, how can our blessing be submitted to you, when your body is decayed ? He said: Allah has prohibited the earth from consuming the bodies of Prophets.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔
Jabir bin Abdullah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not invoke curse on yourselves, and do not invoke curse on your children, and do not invoke curse on your servants, and do not invoke curse on your property, lest you happen to do it at a time when Allah is asked for something and grants your request. Abu Dawud said: This Hadith has a continuous chain of narrators, Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah (did) met Jabir.
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: صلى الله عليك وعلى زوجک اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A woman said to the Prophet ﷺ : Invoke blessing on me as well as on my husband. The Prophet ﷺ said: May Allah send blessing on you and your husband.
ام الدرادء ؓ کہتی ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے (غائبانہ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔
Abu Al-Darda said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When a Muslim supplicates for his absent brother the angels say: Amin, and may you receive the like.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٣ (٢٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٥ (٢٨٩٥)، مسند احمد (٥/١٩٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: The supplication which gets the quickest answer is that made by one distant Muslim for another.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٥٠ (١٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Three supplications are answered, there being no doubt about them; that of a father, that of a traveller and that of one who has been wronged.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٧ (١٩٠٥)، والدعوات ٤٨ (٣٤٤٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٨٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٨، ٣٤٨، ٤٣٤، ٤٧٨، ٥١٧، ٥٢٣) (حسن )
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: اللهم إنا نجعلک في نحورهم ونعوذ بک من شرورهم اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں ۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : When the Prophet ﷺ feared a (group of) people, he would say: O Allah, we make Thee our shield against them, and take refuge in Thee from their evils.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٢٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٠١)، مسند احمد (٤/٤١٤، ٤١٥) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة سکھاتے تھے، آپ ﷺ ہم سے فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے:اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولاأقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر ١ ؎ خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي و بارک لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث کان ثم رضني به اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔ تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام ١ ؎ میرے واسطے دین و دنیا، آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر، اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین، دنیا، آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو، اسے میرے لیے مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی فرما ۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں عن محمد بن المنکدر عن جابر ہے۔
Jabir bin Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the supplication for isthikharah (seeking what us beneficial from Allah) as he would teach us a surah (chapter) from the Quran. He would tell us: When one of you intends to do a work, he should offer two supererogatory rakahs of prayer, and then say (at the end of the prayer): O Allah, I seek Your choice on the better (of the two matters) based upon Your knowledge, and I seek Your decree based upon Your power, and I ask You for Your great bounties. For Indeed, You are the One Who Decrees, and I do not decree, and You know, and I do not know, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if you know this, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if you know this - here he should name exactly what he wishes - is better for me with regard to my religion, and my life, and my afterlife, and the end result of my affairs, then decree it to me, and make it easy for me, and bless me on it. O Allah, and if You know this to be evil for me - and he says just as he said the first time - then avert it for me, and avert me from it. And decree for me good wherever it might be, the make me content with it. A version goes: If the work is good immediately or subsequently. Ibn Maslamah and Ibn Isa reported from Muhammad bin al-Munkadir on the authority of Jabir.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں پر اس کام کا نام لے یا صرف دل میں اس کا خیال کرلے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٢٥ (١١٦٢)، والدعوات ٤٨ (٦٣٨٢)، والتوحید ١٠ (٧٣٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٧ (٤٨٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٨ (١٣٨٣)، سنن النسائی/النکاح ٢٧ (٣٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ٣٠٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر (پیرانہ سالی) ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Prophet ﷺ used to seek refuge in Allah from five things; cowardliness, niggardliness, the evils of old age, evil thoughts, and punishment in the grave.
Notes · وضاحت
١ ؎: بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٤٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٤)، (ضعیف )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من العجز، والکسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بک من عذاب القبر، وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in You from weakness, and laziness, and cowardice, and old age, and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trails of the life and death.
Notes · وضاحت
١ ؎: زندگی کا فتنہ: بیماری، مال و اولاد کا نقصان، یا کثرت مال ہے جو اللہ سے غافل کر دے، یا کفر والحاد، شرک و بدعت اور گمراہی ہے، اور موت کا فتنہ مرنے کے وقت کی شدت اور خوف و دہشت ہے، یا خاتمہ کا برا ہونا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا:اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ١ ؎ نے ذکر کیا ہے۔
Anas bin Malik (RA) said: I used to serve the Prophet ﷺ and often hear him say: O Allah, I seek refuge in You from grief and anxiety, from the hardships of debt, and from being overpowered by men.
Notes · وضاحت
١ ؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورة سکھاتے تھے، فرماتے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے ۔
Abdullah bin Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us this supplication as he taught us the surah from the Quran. He would say: O Allah! I seek refuge in You from the punishment of Hell and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge from You from the trails of Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge in You from the trials of life and death.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٩٠)، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٠ (٣٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣٣)، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار، و عذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر اے اللہ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
Aishah narrated that the Prophet ﷺ would supplicate with the following words: O Allah! I seek refuge in You from the trials of the Fire, and the punishment of the Fire, and from the evils of richness and poverty.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بک من أن أظلم أو أظلم اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from poverty, lack and abasement, and I seek refuge in Thee lest I cause or suffer wrong.
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض حدیثوں میں آپ ﷺ نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ ﷺ نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذہ ١٣ (٥٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٨)، مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٢٥، ٣٥٤) (صحیح )