عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا تھی: اللهم إني أعوذ بک من زوال نعمتک، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتک، وجميع سخطک اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
Abdullah bin Umar (RA) said that one of the supplications of the Messenger of Allah ﷺ was: O Allah, I seek refuge in You that Your blessings are lifted, and Your protection (of me) is changed, and in the suddenness of Your punishment, and from all Your anger.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تو فرماتے: اللهم إني أعوذ بک من الشقاق، والنفاق، وسوء الأخلاق اے اللہ! میں پھوٹ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to supplicate by saying: O Allah, I seek refuge in Thee from divisiveness, hypocrisy, and evil character.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ضبارة مجہول اور دوید لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الجوع فإنه بئس الضجيع، وأعوذ بک من الخيانة فإنها بئست البطانة اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from hunger, for it is an evil bed-fellow; and I seek refuge in Thee from treachery, for it is an evil hidden trait.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٩ (٥٤٧١)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٣ (٣٣٥٤) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الأربع: من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from four things: Knowledge which does not profit, a heart which is not submissive, a soul which has an insatiable appetite, and a supplication which is not heard.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من صلاة لا تنفع اے اللہ! میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔
Anas bin Malik (RA) narrated that the Prophet ﷺ would say: O Allah, I seek refuge in You from a prayer that is of no benefit.
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے ۔
Farwah bin Nawfal Al-Ashjai asked Aisha (RA) the Mother of the Believers, about the supplication of the Messenger of Allah ﷺ . She replied: He would say: O Allah, I seek refuge in You from the evil of what I have done, and from the evil of what I have not done.
شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: االلهم إني أعوذ بک من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي ١ ؎ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے ۔
Narrated Shakl ibn Humayd: I said: Messenger of Allah, teach me a supplication. He said: Say: O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I hear, from the evil of what I see, from the evil of what I speak, from the evil of what I think, and from the evil of my semen (i. e. sexual passion).
Notes · وضاحت
١ ؎: کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ، دل کی برائی حسد، کفر، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بےمحل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
ابوالیسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الهدم، وأعوذ بک من التردي، وأعوذ بک من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلک مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا اے اللہ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہوجانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے ۔
Narrated AbulYusr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to supplicate: O Allah, I seek refuge in Thee from my house falling on me, I seek refuge in Thee from falling into an abyss, I seek refuge in Thee from drowning burning and decrepitude. I seek refuge in Thee from the devil harming me at the time of my death, I seek refuge in Thee from dying in Thy path while retreating, and I seek refuge in Thee from dying of the sting of a poisonous creature.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٦٠ (٥٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ١١١٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٧) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from leprosy, madness, elephantiasis, and evil diseases.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٩، ١٤٢٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الاستعاذة ٣٦ (٥٥٠٨)، مسند احمد (٣/١٠٩٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ ؓ کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے ان سے کہا: ابوامامہ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم غلط اور قرض ادا کر دے ، میں نے کہا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: صبح و شام یہ کہا کرو: اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن، وأعوذ بک من العجز والکسل، وأعوذ بک من الجبن والبخل، وأعوذ بک من غلبة الدين وقهر الرجال اے اللہ! میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوامامہ ؓ کہتے ہیں: میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کردیا اور میرا قرض ادا کروا دیا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : One day the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque. He saw there a man from the Ansar called Abu Umamah. He said: What is the matter that I am seeing you sitting in the mosque when there is no time of prayer? He said: I am entangled in cares and debts, Messenger of Allah. He replied: Shall I not teach you words by which, when you say them, Allah will remove your care, and settle your debt? He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Say in the morning and evening: O Allah, I seek refuge in Thee from care and grief, I seek refuge in Thee from incapacity and slackness, I seek refuge in Thee from cowardice and niggardliness, and I seek in Thee from being overcome by debt and being put in subjection by men. He said: When I did that Allah removed my care and settled my debt.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٣٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی غسَّان لین الحدیث ہیں، مگر دعاء کے اکثر الفاظ (اس قصہ اور اوقات کے سوا) صحیح احادیث میں آ چکے ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی، آپ کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے جن کو کافر ١ ؎ ہونا تھا کافر ہوگئے تو عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا إله إلا الله کہیں، لہٰذا جس نے لا إله إلا الله کہا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی سوائے حق اسلام کے ٢ ؎ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ ، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق ٣ ؎ کرے گا، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، یہ لوگ جس قدر رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی نہیں دی تو میں ان سے جنگ کروں گا، عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت میں نے جانا کہ یہی حق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث رباح بن زید نے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے زہری سے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں بعض نے عناقا کی جگہ عقالا کہا ہے اور ابن وہب نے اسے یونس سے روایت کیا ہے اس میں عناقا کا لفظ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے اس حدیث میں زہری سے لو منعوني عناقا نقل کیا ہے اور عنبسہ نے یونس سے انہوں نے زہری سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ اس میں بھی عناقا کا لفظ ہے۔
Abu Hurairah said When the Messenger of Allah ﷺ died and Abu Bakr was made his successor after him and certain Arab clans apostatized. Umar bin Al Khattab said to Abu Bakr How can you fight with the people until they say “There is no God but Allah” so whoever says “There is no God but Allah”, he has protected his property and his person from me except for what is due from him, and his reckoning is left to allah. Abu Bak replied I swear by Allah that I will certainly fight with those who make a distinction between prayer and zakat, for zakat is what is due from property. I swear by Allah that if they were to refuse me a rope of camel (or a female kid, according to another version)which they used to pay the Messenger of Allah, I will fight with them over the refusal of it. Umar bin Al Khattab said I swear by Allah, I clearly saw Allah had made Abu Bakr feel justified in tighting and I recognized that it was right. Abu Dawud said This tradition has been transmitted by Rabah bin Zaid from Mamar and Al Zaubaidi from Al Zuhri has “If they were to refuse me a female kid. ” The version transmitted by ‘Anbasah from Yunus on the authority of Al Zuhri has “a female kid”.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا تعلق قبیلہ غطفان اور بنی سلیم کے لوگوں سے تھا جنہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ ٢ ؎: مثلا اگر وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ ٣ ؎: یعنی وہ نماز تو پڑھے لیکن زکاۃ کا انکار کرے ایسی صورت میں وہ (ارتداد کی بنا پر) واجب القتل ہوجاتا ہے کیونکہ اصول اسلام میں سے کسی ایک اصل کا انکار کل کا انکار ہے۔
اس سند سے بھی زہری سے یہی روایت مروی ہے اس میں ہے ابوبکر ؓ نے کہا: اس (اسلام) کا حق یہ ہے کہ زکاۃ ادا کریں اور اس میں عقالا کا لفظ آیا ہے۔
This tradition has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version has “Abu Bakr said its due is the payment of zakat. ” He used the word “a rope of a Camel”
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٦) (صحیح) (اوپر والی حدیث میں تفصیل سے پتا چلتا ہے کہ عناق کا لفظ محفوظ، اور عقال کا لفظ شاذ ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ١ ؎، پانچ اوقیہ ٢ ؎ سے کم (چاندی) میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق ٣ ؎ سے کم (غلے اور پھلوں) میں زکاۃ ہے ۔
Abu Saeed Al Khudri reported: That the Messenger of Allah ﷺ as saying No sadaqah (zakat) is payable on less than five camels, on less than five ounces of silver and on less than five camel loads (wasq).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ کا نصاب پانچ اونٹ ہے، اور چاندی کا پانچ اوقیہ، اور غلے اور پھلوں (جیسے کھجور اور کشمش وغیرہ) کا نصاب پانچ وسق ہے، اور سونے کا نصاب دوسری حدیث میں مذکور ہے جو بیس (٢٠) دینار ہے، جس کے ساڑھے سات تولے ہوتے ہیں، یہ چیزیں اگر نصاب کو پہنچ جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو سونے اور چاندی میں ہر سال چالیسواں حصہ زکاۃ کا نکالنا ہوگا، اور اگر بغیر کسی محنت و مشقت کے یا پانی کی اجرت صرف کئے بغیر پیداوار ہو تو غلے اور پھلوں میں دسواں حصہ زکاۃ کا نکالنا ہوگا، اور اگر محنت و مشقت اور پانی کی اجرت لگتی ہو تو بیسواں حصہ نکالنا ہوگا۔ ٢ ؎: اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے پانچ اوقیہ دو سو درہم کا ہوا، موجودہ وزن کے حساب سے دو سو درہم کا وزن پانچ سو پچانوے (٥٩٥) گرام ہے۔ ٣ ؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، پانچ وسق کے تین سو صاع ہوئے، موجودہ وزن کے حساب سے تین سو صاع کا وزن تقریباً (٧٥٠) کیلو گرام یعنی ساڑھے سات کو ینٹل ہے۔ اور شیخ عبداللہ البسام نے ایک صاع کو تین کلو گرام بتایا ہے، اس لیے ان کے حساب سے (٩) کو نئٹل غلے میں زکاۃ ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔ ایک وسق ساٹھ مہر بند صاع کا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالبختری کا سماع ابو سعید خدری ؓ سے نہیں ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no zakat payable (on grain or dates) on less than five camel-loads. The wasq (one camel-load) measures sixty sa in weight.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢٤ (٢٤٨٨)، سنن ابن ماجہ/الزکاة (١٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٩، ٨٣، ٩٧) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین ؓ سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران ؓ غضب ناک ہوگئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکاۃ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم ﷺ سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ١ ؎۔
Habib al-Maliki said: A man said to Imran ibn Husayn: Abu Nujayd, you narrate to us traditions whose basis we do not find in the Quran. Thereupon, Imran got angry and said to the man: Do you find in the Quran that one dirham is due on forty dirhams (as Zakat), and one goat is due on such-and-such number of goats, and one camel will be due on such-and-such number of camels? He replied: No. He said: From whom did you take it? You took it from us, from the Messenger of Allah ﷺ . He mentioned many similar things.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہت سے دینی مسائل و احکام قرآن مجید میں نہیں ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں میں بیان کئے گئے ہیں، تو جس طرح قرآن کی پیروی ضروری ہے اسی طرح حدیث کی پیروی بھی ضروری ہے، نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه مجھے قرآن ملا ہے، اور اسی کے ساتھ اسی جیسا اور بھی دیا گیا ہوں یعنی حدیث شریف، پس حدیث قرآن ہی کی طرح لائق حجت و استناد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٩١) (ضعیف) (اس کے دو راوی صرد اور حبیب لین الحدیث ہیں )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے انہوں نے امابعد کہا پھر کہا: رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے ١ ؎۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to order us to pay the sadaqah (zakat) on what we prepared for trade.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تجارت کا مال اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں بھی زکاۃ ہے، اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦١٨) (ضعیف) (اس کے راوی خبیب مجہول ہیں، لیکن مال تجارت پر زکاة اجماعی مسئلہ ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈال دئیے اور بولی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather reported: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and she was accompanied by her daughter who wore two heavy gold bangles in her hands. He said to her: Do you pay zakat on them? She said: No. He then said: Are you pleased that Allah may put two bangles of fire on your hands? Thereupon she took them off and placed them before the Prophet ﷺ saying: They are for Allah and His Messenger.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ١٩ (٢٤٨١، ٢٤٨٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٤، ٢٠٨) (حسن )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں میں سونے کے اوضاح ١ ؎ پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ کنز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو مال اتنا ہوجائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کردی جائے وہ کنز نہیں ہے ۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : I used to wear gold ornaments. I asked: Is that a treasure (kanz), Messenger of Allah? He replied: whatever reaches a quantity on which zakat is payable is not a treasure (kanz) when the zakat is paid.