جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا : تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی زحمت نہ ہوگی، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو پھر آپ نے یہ آیت فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبها اور اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے (سورۃ طہٰ : ١٣٠) پڑھی ١ ؎۔
Jarir bin Abdullah said: When we are were sitting with the Messenger of Allah ﷺ he looked at the moon on the night when it was full, that is, fourteenth, and said: You will see your Lord as you see this (moon) and have no doubts about seeing him. If, therefore, you can keep from being prevented from prayer before the sun rises and before it sets, do so. He then recited: ”Celebrate the praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting”.
Notes · وضاحت
١ ؎ : قیامت میں موحدین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا، اہل سنت والجماعت اور صحابہ و تابعین کا یہی مسلک ہے، جہمیہ و معتزلہ اور بعض مرجئہ اس کے خلاف ہیں، ان کے پاس کوئی دلیل قرآن و سنت سے موجود نہیں ہے، محض تاویل اور بعض بےبنیاد شبہات کے بل بوتے پر انکار کرتے ہیں، اس باب میں ان کی تردید مقصود ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟ لوگوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہوگی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah said: The people asked: Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied: Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked: Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور چونکہ ان کے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ کے دیدار میں بھی دقت نہ ہوگی۔
ابورزین عقیلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو (قیامت کے دن) بلا رکاوٹ دیکھے گا ؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابورزین ! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Razin al-Uqayli (RA) : I asked: Messenger of Allah! will each one of us see his Lord? Ibn Muadhs version has: being alone with Him, on the Day of Resurrection? And what sign is there is His creation? He replied: Abu Razin! does each one of you not see the moon? Ibn Muadhs version has: on the night when it is full, being alone with it? Then the agreed version goes: I said: Yes. He said: Allah is more great. Ibn Muadhs version has: It is only part of Allahs creation, but Allah is more glorious and greater.
Notes · وضاحت
١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جب اس کی مخلوق کو ہر ایک بلا روک ٹوک دیکھ لیتا ہے تو اللہ کو جو اس سے بہت ہی بڑا ہے کیوں نہیں دیکھ سکتا ؟۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١١١٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١، ١٢) (حسن )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا : میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے ؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے ؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا : میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے ؟ کہاں ہیں اترانے والے ؟ ۔
Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah will fold the heavens an the day of Resurrection, then seizing them in His right hand he will say: I am the king. Where are the mighty men? Where are the proud men? He will then fold the earths and take them in his other hand (According to the version of Ibn al-Ala), and then say ; I am the King. Where are the mighty men? Where are the proud men?
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ١٩ (٧٤١٤ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/صفة القیامة (٢٧٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٧٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٤ (١٩٨) (صحیح) ( شمال (بایاں ہاتھ) کے ذکر میں عمر بن حمزة متفرد ہیں، جبکہ صحیح احادیث میں رب کے دونوں ہاتھ کو دایاں ہاتھ کہا گیا ہے، ملاحظہ ہو : الصحيحة 3136 تراجع الألباني 124 )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے : کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying; Our lord gets down every night to the heaven of this world when a third night remains and says: (Is there anyone) who prays to Me so that I may accept his prayer? (Is there anyone) who asks of Me so that I may give him? (Is there anyone) who asks for my forgiveness so that I may forgive him?
Notes · وضاحت
١ ؎ : دونوں احادیث میں اللہ کی صفات کا ذکر ہے جن کا جہمیہ انکار کرتے ہیں، علماء سلف کا مسلک اس بارے میں یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ جس طرح قرآن وسنت میں وارد ہیں ان کو جوں کا توں باقی رکھا جائے نہ ان کا انکار کیا جائے، اور نہ ان کی تاویل کی جائے، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی کتاب شرح حدیث النزول دیکھیے جو اس بارے میں دلائل سے پُر اور اپنے باب میں عدیم النظیر ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (١٣١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٦٣، ١٥٢٤١) (صحیح )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خود کو موقف (عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے : کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ presented himself to the people at Arafat, saying: Is there any man who takes me to his people? The Quraysh have prevented me from preaching the word of my Lord.
Notes · وضاحت
١ ؎ : رسول اکرم ﷺ موسم حج میں مختلف قبائل کے پاس جاتے اور ان میں دین اسلام کی تبلیغ کرتے تھے، اسی کی طرف اشارہ ہے، اس حدیث میں قرآن کو کلام اللہ فرمایا گیا ہے جس سے معتزلہ وغیرہ کی تردید ہوتی ہے جو کلام اللہ کو اللہ کی صفت نہ مان کر اس کو مخلوق کہتے تھے، سلف صالحین نے قرآن کو مخلوق کہنے والے گروہ کی تکفیر کی ہے، جب کہ قرآنی نصوص ، احادیث شریفہ اور آثار سلف سے قرآن کا کلام اللہ ہونا ، اور کلام اللہ کا صفت باری تعالیٰ ہونا ثابت ہے، اور اس پر سلف کا اجماع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٤ (٢٩٢٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (٢٠١) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٩٠) ، دی/فضائل ٥ (٣٣٩٧) (صحیح )
عامر بن شہر (رض) کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑکے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا : کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو ؟
Amir bin Shahr said: I was with the Negus when his son recited a verse of the Gospel. So I laughed. Thereupon he said: Do you laugh at the word of Allah, the Exalted?
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٠٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٨، ٤٢٩، ٤/٢٦٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ١ ؎۔
Aishah said: I thought in my mind that my affair was far inferior to the speaking of Allah about me with a command that will be recited.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرما دے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حسن اور حسین (رض) کے لیے (ان الفاظ میں) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے أعيذكما بکلمات الله التامة من کل شيطان وهامة ومن کل عين لامة میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ بچھو وغیرہ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے : تمہارے باپ (ابراہیم) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq. Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں : اے جبرائیل ! تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں : حق (فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا) ۔
Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying ; when Allah, the exalted, speaks to send revelation the inhabitant of the heaven hear the clinging of a bell from the other heaven like pulling a chain on the mountain of al-safa, and then swoon. They continue to remain in this recover and say ; what did your lord say, Gabriel? He would say ; Truth, so they would say ; Truth, truth.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٥٨٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التوحید ٣١ (عقیب ٧٤٨٠ تعلیقًا) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین ابن آدم (انسان) کے تمام اعضاء (جسم) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ١ ؎، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of AllSah ﷺ as saying: Every son of Adam will be devoured by the earth with the exception of the tail-bone from which he was created and from which he will be reconstituted.
Notes · وضاحت
١ ؎ : تخلیق انسان کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے، اور شاید وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے جو لوگوں کو محسوس نہیں ہوتی، اس حدیث کے حکم سے انبیاء کرام مستثنیٰ ہیں کیونکہ إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ان کے بارے میں وارد ہے، اللہ نے زمین پر حرام قرار دے دیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کو کھائے۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری شفاعت ١ ؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ٢ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: My intercession will be for those of my people who have committed major sins.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ باب خوارج اور بعض معتزلہ کے رد میں ہے جو شفاعت رسول ﷺ کے منکر ہیں، اہل حدیث و اہل سنت شفاعت کے قائل ہیں۔ ٢ ؎ : یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہوگی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور اس کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے يومئذ لا تنفع الشفاعة إلا من أذن له الرحمن ورضي له قولا (سورۃ طہ : ١٠٩) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہوگی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تاکہ رسول اکرم ﷺ کی شفاعت کا مستحق ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٣) (صحیح )
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کچھ لوگ جہنم سے محمد ( ﷺ ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ جهنميين جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے ۔
Imran bin Husain reported the Prophet ﷺ as saying: People will come forth from Hell by Muhammad’s intercession, will enter paradise and be named Jahannamis.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٥١ (٦٥٦٦) ، سنن الترمذی/صفة جہنم ١٠ (٢٦٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٧ (٤٣١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٤) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا : جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات (ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہوگا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا، پھر فرمایا : جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When Allah created Paradise, He said to Gabriel: Go and look at it. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will fail to enter it. He then surrounded it with disagreeable things, and said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, I am afraid that no one will enter it. When Allah created Hell, He said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will enter it. He then surrounded it with desirable things and said: Go and look at it, Gabriel. He went, looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might and power, I am afraid that no one will remain who does not enter it.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ باب معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کے رد و ابطال میں ہے، جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں جب کہ اہل حدیث و سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ دونوں پیدا کی جا چکی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠١٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الأیمان والنذور ٢ (٣٧٩٤) ، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٣٣٢، ٣٧٣) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے سامنے (قیامت کے دن) ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح ١ ؎ کے درمیان ہے ٢ ؎۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Before you there will be a pond the distance between whose sides is like that between Jarbah and Adhruh.
Notes · وضاحت
١ ؎ : جرباء اور اذرح نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ ٢ ؎ : حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا : تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے ۔ راوی (ابوحمزہ) کہتے ہیں : میں نے زید بن ارقم (رض) سے کہا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ کہا : سات سویا آٹھ سو۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : We were with the Messenger of Allah ﷺ . He said when we arrived at a halting place: You are not a hundred thousandth part of those who will come down to me at the pond. I (the narrator Abu Hamzah) asked: What was your number that day? He replied: Seven or eight hundred.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٦٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٦٧، ٣٦٩، ٣٧١) (صحیح )
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو کہتے سنا : (ایک بار) رسول اللہ ﷺ پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کو ہنسی کیوں آئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی پھر آپ ﷺ نے پڑھا : بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناک الکوثر یہاں تک کہ سورت ختم کرلی، جب آپ ﷺ اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت (پینے) آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ۔
Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ dozed for a short while and raised his smiling. He either said to them (people) or they said to him: Messenger of Allah! Why did you laugh? He said: A surah has been revealed to me just now, and then he recited: “In the name of Allah, Most Gracious. Most Merciful. To thee We have granted the fount (of abundance)” up to the end. When he recited, he asked: Do you know what al-kauthar is? They replied: Allah and his Messenger know best. He said: It is a river which my Lord, the Exalted, has promised me ( to grant) in Paradise: there is abundance of good and upon it there is a pond which my people will approach on the Day of Resurrection. There are vessels as numerous as stars (in the sky).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٥) (صحیح )