عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہوچکے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اس نے کہا : پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں ؟ آپ نے فرمایا : ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
Imran bin Husain said: The Messenger of Allah ﷺ was asked: Is it known who are those who will go to paradise and those who will go to hell? He said: Yes. He asked: Then what is the good of doing anything by those who act? He replied: Everyone is helped to do for which he has been created.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو کیا عمل کرتے ۔
Ibn Abbas reported that when the Prophet ﷺ was questioned about the offspring of polytheists, he said: Allah knows best about what they were doing.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مومنوں کے بچوں کا کیا حال ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بغیر کسی عمل کے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور مشرکین کے بچے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے میں نے عرض یا بغیر کسی عمل کے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ١ ؎۔
Aishah said: I said: Messenger of Allah ﷺ what happens to the offspring of believers ? He replied: They are joined to their parents. I asked: Messenger of Allah! Although they have done nothing ? He replied: Allah knows best what they were doing. I asked: what happens to the offspring of polytheists, Messenger of Allah ? he replied! They are joined to their parents. I asked: Although they have done nothing? He replied: Allah knows best what they were doing.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ام المومنین عائشہ (رض) کا سوال ان بچوں کے متعلق تھا جو قبل بلوغت انتقال کر گئے تھے، رسول اکرم ﷺ کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی رہیں گے، اگرچہ ان سے کوئی کفر یا نیک عمل صادر نہ ہوا، لیکن اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اگر زندہ رہتے تو کیا کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٨٤) (صحیح الإسناد )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس انصار کا ایک بچہ نماز پڑھنے کے لیے لایا گیا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! زندگی کے مزے تو اس بچے کے لیے ہیں، اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی وہ اسے (گناہ کو) سمجھتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لیے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لیے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے ١ ؎۔
Aishah, mother of the believers, said: The Prophet ﷺ was invited to the funeral of a boy who belonged to the ANSAR and I said; Messenger of Allah! This one is blessed, for he has done no evil, nor has he known it. He replied: It may be otherwise, Aisha (RA) , for Allah created Paradise and created those who will go to it, and He created it for them when they were still in their father’s loins; and he created hell and created those who will go to it, and created it for them when they were still in their father’s loins.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ام المومنین عائشہ (رض) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس بچے نے کوئی گناہ نہ کیا اس لئے یہ تو یقینا جنتی ہے، رسول اکرم ﷺ نے اس یقین کی تردید فرمائی کہ بلا دلیل کسی کو جنتی کہنا درست نہیں، جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ تو اللہ نے انسان کے دنیا میں آنے سے قبل ہی کردیا ہے، اور وہ ہمیں معلوم نہیں تو ہم کسی کو حتمی اور یقینی طور پر جنتی یا جہنمی کیسے کہہ سکتے ہیں، یہ حدیث مندرجہ بالا حدیث سے معارض معلوم ہوتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان بچے جو بچپن ہی میں مرجائیں گے اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، نیز علماء کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، اس حدیث کا یہ جواب دیا گیا کہ عائشہ (رض) کو جنتی یا جہنمی کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے روکنا مقصود تھا اور بس، بعض نے کہا : یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اکرم ﷺ کو بتایا نہیں گیا تھا کہ مسلم بچے جنتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القدر ٦ (٢٦٦٢) ، سنن النسائی/الجنائز ٥٨ (١٩٤٩) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤١، ٢٠٨) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مرجائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Every child is born on Islam, but his parents make him a Jew and a Christian, just as a beast is born whole. Do you find some among them (born) maimed? The people asked: Messenger of Allah! What do you think about the one who died while he was young? He replied: Allah knows best what he was going to do.
ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا : اہل بدعت (قدریہ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں ؟ مالک نے کہا : تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے : صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
Abu Dawud said: Malik was asked: The heretics argue from this tradition against us. Malik said: Argue against them from its last part which goes. The people asked: What do you think about the one who died while he was young? He replied: Allah knows best what he was going to do.
حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو كل مولود يولد على الفطرة ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ١ ؎ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا : ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا : ألست بربکم قالوا بلى کیا میں تمہارا رب (معبود) نہیں ہوں ؟ تو انہوں نے کہا تھا : کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
Explaining the tradition “Every child is a born on Islam”, Hammad bin Salamah said: In our opinion it means that covenant which Allah had taken in the loins of their fathers when He said: “Am I not your Lord? They said: Yes.
Notes · وضاحت
١ ؎ : فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی تاویل اس طرح بیان فرمائی کہ چونکہ میثاق الٰہی کے مطابق ہر ایک نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، لہٰذا اسی اقرار پر وہ پیدا ہوتا ہے، بعد میں لوگ اس کو یہودی، نصرانی ، مجوسی یا مشرک بنا لیتے ہیں۔
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وائدہ (زندہ درگور کرنے والی) اور مؤودہ (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں ١ ؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں : میرے والد نے کہا : مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود (رض) سے اور ابن مسعود نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Amir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The woman who buries alive her new-born girl and the girl who is buried alive both will go to Hell. This tradition has also been transmitted by Ibn Masud from the Prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators.
Notes · وضاحت
١ ؎ : وائدہ اور مؤودہ سے کیا مراد ہے ؟ بعض محدثین نے وائدہ سے زندہ درگور کرنے والی عورت، اور مؤودہ سے زندہ درگور کی گئی بچی مراد لی ہے، اس صورت میں ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ایک خاص بچی کے بارے میں فرمایا، یہ حکم عام نہیں ہے، بعض محدثین کے نزدیک وائدہ سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور مؤودہ سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد کہاں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے والد جہنم میں ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں ١ ؎۔
Anas said: A man asked: where is my father, Messenger of Allah? He replied! Your father is in Hell. When he turned his back, he said: My father and your father are in Hell.
Notes · وضاحت
١ ؎ : امام نووی فرماتے ہیں کہ اس سے صاف ظاہر ہے اہل فترہ (عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ) اگر مشرک ہیں تو جہنمی ہیں، کیونکہ ان کو دعوت ابراہیمی پہنچی تھی، نبی اکرم ﷺ کے والد کے بارے میں یہ حدیث نص صریح ہے، علامہ سیوطی وغیرہ نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندہ فرمایا، یا وہ ایمان لائے اور پھر مرگئے ، تو یہ محض موضوع من گھڑت روایات پر مبنی ہے، ائمہ حدیث مثلا دارقطنی، جورقانی، ابن شاہین، ابن عساکر، ابن ناصر، ابن الجوزی، سہیلی، قرطبی، محب الطبری، ابن سیدالناس، ابراہیم الحلبی وغیرہم نے ان احادیث کو مکذوب مفتری اور موضوع قرار دیا ہے، علامہ ابراہیم حلبی نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے، اسی طرح ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور ایک مستقل کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے والدین کے ایمان کی بات غلط محض ہے، علی کل حال اس مسئلہ میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیئے بلکہ اپنی نجات کی فکر کرنی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٨ (٢٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩، ٢٦٨) (صحیح )
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے بات چیت میں پہل کرو ١ ؎۔
Umar bin al-Khattab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not sit with those who believe in free will and do not address them before they address you.
Notes · وضاحت
١ ؎ : جہمیہ : اہل بدعت کا ایک مشہور فرقہ ہے جو اللہ کی صفات کا منکر ہے اور قرآن کو مخلوق کہتا ہے ، ائمہ دین کی بہت بڑی تعداد نے ان کی تکفیر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٧١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی حکیم بن شریک ہذلی مجہول ہیں )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لایا ١ ؎۔
Abu Hurairah reported to the Messenger of Allah ﷺ as sayings: People will continue to ask one another (questions) till this is pronounced: Allah created all things, but who created Allah ? Whoever comes across anything of that, he should say: I believe in Allah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے : میں اللہ و رسول پر ایمان لا چکا ہوں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا : جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو : الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له کفوا أحد اللہ ایک ہے وہ بےنیاز ہے ١ ؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him. Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan.
Notes · وضاحت
١ ؎ : احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو ، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بےنیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/ عمل الیوم واللیة (٦٦١) ، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٧٨) (حسن )
عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا : تم اسے کیا نام دیتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : سحاب (بادل) ، آپ ﷺ نے فرمایا : اور مزن بھی لوگوں نے کہا : ہاں مزن بھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اور عنان بھی لوگوں نے عرض کیا : اور عنان بھی، (ابوداؤد کہتے ہیں : عنان کو میں اچھی طرح ضبط نہ کرسکا) آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہمیں نہیں معلوم، آپ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات آسمان گنائے پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے ۔
Narrated Al-Abbas ibn Abdul Muttalib: I was sitting in al-Batha with a company among whom the Messenger of Allah ﷺ was sitting, when a cloud passed above them. The Messenger of Allah ﷺ looked at it and said: What do you call this? They said: Sahab. He said: And muzn? They said: And muzn. He said: And anan? They said: And anan. Abu Dawud said: I am not quite confident about the word anan. He asked: Do you know the distance between Heaven and Earth? They replied: We do not know. He then said: The distance between them is seventy-one, seventy-two, or seventy-three years. The heaven which is above it is at a similar distance (going on till he counted seven heavens). Above the seventh heaven there is a sea, the distance between whose surface and bottom is like that between one heaven and the next. Above that there are eight mountain goats the distance between whose hoofs and haunches is like the distance between one heaven and the next. Then Allah, the Blessed and the Exalted, is above that.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی فرشتے ان کی شکل میں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر الحاقة ٦٧ (٣٣٢٠) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٦، ٢٠٧) (ضعیف) ( اس کے راوی عبداللہ بن عمیرہ لین الحدیث ہیں )
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ، ومعنى هذا الحديث الطويل.
اس سند سے بھی سماک سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے۔
The tradition mentioned above has again been transmitted by Simak through a different chain of narrators and to the same effect as this lengthy tradition.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٤) (ضعیف )
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! لوگ مصیبت میں پڑگئے، گھربار تباہ ہوگئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہوگئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ پھر رسول اللہ ﷺ سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ ﷺ کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا : تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جاسکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو ! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، (ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔
Muhammad bin Jubair bin Mutim said from his father on the authority of his grandfather: An A’rab (a nomadic Arab) came to the Messenger of Allah ﷺ and said: People suffering distress, the children are hungry, the crops are withered, and the animals are perished, so ask Allah to grant us rain, for we seek you as our intercessor with Allah, and Allah as intercessor with you. The Messenger of Allah ﷺ said: Woe to you: Do you know what you are saying? Then the Messenger of Allah ﷺ declared Allah’s glory and he continued declaring His glory till the effect of that was apparent in the faces of his Companions. He then said: Woe to you: Allah is not to be sought as intercessor with anyone. Allah’s state is greater than that. Woe to you! Do you know how great Allah is? His throne is above the heavens thus (indicating with his fingers like a dome over him), and it groans on account of Him as a saddle does because of the rider. Ibn Bashshar said in his version: Allah is above the throne, and the throne is above the heavens. He then mentioned the rest of the tradition. Abd al-A’la, Ibn al- Muthana and Ibn Bashshar transmitted it from Ya’qub bin ‘Utbah and Jubair bin Muhammad bin Jubair from his father on the authority of his grandfather. Abu Dawud said: This tradition with the chain of Ahmad bin Saad is sound. It has been approved by the body (of traditionists), which includes Yahya bin Ma’in and Ali bin al-Madani, and a group has transmitted it from Ibn Ishaq, as Ahmad also said. And so far as I have been informed Abd al-A’la, Ibn al-Muthanna, and Ibn Bashshar had heard from the same copy (of the collection of tradition).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣١٩٦) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں، نیز سند میں اختلاف ہے )
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah reported the Prophet ﷺ as saying: I have been permitted to tell about one of Allah’s angels who bears the throne that the distance between the lobe of his ear and his shoulder is a journey of seven hundred years.
Notes · وضاحت
١ ؎ : عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے، اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول و عرض اور عظمت و جثہ بتانا ہے، اور ستر کا عدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
ابوہریرہ (رض) کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو آیت کریمہ إن الله يأمرکم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔۔۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے (سورۃ النساء : ٥٨) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو) ، ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں : عبداللہ بن یزید مقری نے کہا : یعنی إن الله سميع بصير پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ جہمیہ کا رد ہے ١ ؎۔
Abu Yunus Sulaim bin Jubair, client of Abu Hurairah, said: I heard Abu Hurairah recite this verse: “Allah doth command you to render back your trusts to those to whom they are due” up to “For Allah is he who heareth and seeth all things”. He said: I saw the Messenger of Allah ﷺ putting his thumb on his ear and finger on his eye. Abu Hurairah said: I saw the Messenger of Allah ﷺ reciting this verse and putting his fingers. Ibn Yunus said that al-Muqri said. “Allah hears and sees” means that Allah has the power of hearing and seeing. Abu Dawud said: This is a refutation of the Jahmiyyah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں جہمیہ کا رد بلیغ ہے، جہمیہ اللہ کے لئے صفت سمع و بصر کی نفی کرتے ہیں، رسول اکرم ﷺ نے انگوٹھا اور انگلی رکھ کر ان کی تردید فرما دی، جہمیہ تشبیہ سے بچنے کے لئے ایسا کہتے ہیں، جب کہ اس میں تشبیہ ہے ہی نہیں، مقصود صفت سمع (سننا) صفت بصر (دیکھنا) کا اثبات ہے، یہ مقصود نہیں کہ اس کی آنکھ وکان ہماری آنکھ اور کان جیسے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کان اس کی عظمت و جلال کے لائق ہیں، بلا کسی کیفیت تشبیہ، و تمثیل اور تعطیل کے سبحانہ تعالیٰ ۔