Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 233 of 265

4669Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ١ ؎۔

Ibn Abbas reported the Prophet ﷺ as saying: It is not fitting for a servent to say that I (The Prophet) is better than Jonah son of Matta.

Notes · وضاحت
١ ؎ : اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس (علیہ السلام) سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا، یا یہ کہ یونس (علیہ السلام) پر نبی اکرم ﷺ کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٥) ، و تفسیر القرآن ٤ (٤٦٣٠) ، صحیح مسلم/الفضائل ٤٣ (٢٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٤، ٣٤٢، ٣٤٨) (صحیح )
4670Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.

عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔

Abdullah bin Jafar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is not fitting for a prophet to say: I am better than Jonah son of matta.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٢٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٥) (صحیح لغیرہ) (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں ، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
4671Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کردیا، یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو ، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہوگئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔

Abu Hurairah said: A man from among the Jews said: By him who chose Moses above the universe. So a Muslim raised his hand and slapped the Jew on his face. The Jew went to the Messenger of Allah ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ said: Do not make me superior to Moses, for mankind (on the Day of Resurrection) will swoon and I will be the know whether he was among those who swooned and had recovered before me, or he was among those of whom Allah had made an exception. Abu Dawud said: The tradition of Ibn yahya is more perfect.

Notes · وضاحت
١ ؎ : چونکہ اس یہودی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اسے طمانچہ رسید کردیا، رسول اکرم ﷺ نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بےہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء (علیہ السلام) قابل احترام ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخصومات ١ (٢٤١٢) ، الأنبیاء ٣٢ (٢٣٩٨) ، التفسیر ٤ (٤٦٣٨) ، والرقاق ٤٣ (٦٥١٧) ، التوحید ٣١ (٧٤٧٢) ، صحیح مسلم/الفضائل ٤٢ (٢٣٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٠ (٣٢٤٥) ، مسند احمد (٢/٢٦٤) (صحیح )
4672Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ 0 رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو کہا : اے مخلوق میں سے سب سے بہتر ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ شان تو ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے ١ ؎۔

Anas said: A man said to the Messenger of Allah ﷺ : O best of all creatures! The Messenger of Allah ﷺ said: That was Abraham ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎ : ممکن ہے خیرالبریۃ ابراہیم (علیہ السلام) کا لقب ہو، وہ اپنے زمانہ کے سب سے بہتر تھے، آپ نے ازراہ انکسار ایسا فرمایا ورنہ آپ یقینا خیرالبریۃ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٤١ (٢٣٦٩) ، سنن الترمذی/تفسیر البینة ٨٦ (٣٣٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٧٨، ١٨٤) (صحیح )
4673Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہوگی ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I shall be pre-eminent among the descendants of Adam, the first from whom the earth will be cleft open the first intercessor, and the first whose intercession will be accepted.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الفضائل ٢ (٢٢٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٩٥، ٢٨١) (صحیح )
4674Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَدْرِي أَتُبَّعٌ لَعِينٌ هُوَ أَمْ لَا ؟ وَمَا أَدْرِي أَعُزَيْرٌ نَبِيٌّ هُوَ أَمْ لَا ؟.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ تبع قابل ملامت ہے یا نہیں، اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ عزیر نبی ہیں یا نہیں ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I do not know whether Tubba was accursed or not, and ‘Uzair (Azra was a prophet or not).

Notes · وضاحت
١ ؎ : تبع کے بارے میں یہ فرمان آپ ﷺ کا اس وقت کا ہے جب آپ کو اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، بعد میں آپ کو بتادیا گیا کہ وہ ایک مرد صالح تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٣٣) (صحیح )
4675Sunan Abu Dawoodصحیح

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ١ ؎۔

Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I am the nearest of kin among the people to (Jesus) son of Mary. The Prophet are brothers, sons of one father by co-wives. There is no Prophet between me and him.

Notes · وضاحت
١ ؎ : انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا ، یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٤٠ (٢٣٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٨ (٣٤٤٢) ، مسند احمد (٢/٤٨٢، ٥٤١) (صحیح )
4676Sunan Abu Dawoodصحیح

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ، أَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا، اور سب سے کم تر راستے سے ہڈی ہٹانا ہے ٢ ؎، اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ٣ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Faith has over seventy branches, the most excellent of which is the declaration that there is no god but Allah, and the humblest of which is the removal of a bone from the road. And modesty is a branch of faith.

Notes · وضاحت
١ ؎ : ارجاء کے معنی تاخیر کے ہیں اسی سے فرقہ مرجئہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی معصیت نقصان دہ نہیں، اور کفر کے ساتھ کوئی نیکی نفع بخش نہیں، یہ قدیم گمراہ فرقوں میں سے ایک ہے، اس کی تردید میں محدثین کرام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں، اس کتاب میں بھی ان کا رد و ابطال مقصود ہے، ان کے نزدیک اعمال ایمان کا جزء نہیں، بلکہ ایمان محض تصدیق اور اقرار کا نام ہے، جب کہ اہل سنت و اہل حدیث کے یہاں ایمان کے ارکان تین ہیں ، دل سے تصدیق، زبان سے اقرار، اور اعضاء وجوارح سے عملی ثبوت فراہم کرنا۔ ٢ ؎ : بعض نسخوں میں عظم کے بجائے اذی کا لفظ ہے گویا کوئی بھی تکلیف دہ چیز۔ ٣ ؎ : حدیث سے ظاہر ہے کہ اعمال صالحہ سے مومن کو فائدہ اور اعمال بد سے نقصان اور ضرر ہوتا ہے، جب کہ مرجئہ کہتے ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣ (٩) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٥) ، سنن الترمذی/الإیمان ٦ (٢٦١٤) ، سنن النسائی/الإیمان ١٦ (٥٠٠٧، ٥٠٠٨، ٥٠٠٩) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤١٤، ٤٤٢، ٤٤٥) (صحیح )
4677Sunan Abu Dawoodصحیح

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا : کیا تم جانتے ہو : ایمان باللہ کیا ہے ؟ وہ بولے : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔

Ibn Abbas said: When the deputation of Abd al-Qais came to the Messenger of Allah ﷺ , he commanded them to believe in Allah. He asked: Do you know what faith in Allah is? They replied: Allah and his Messenger know best. He said: It includes the testimony that there is no god but Allah, and that Muhammad is Allah’s Messenger, the observance of the prayer, the payment of zakat, the fasts of Ramadan, and your giving a fifth of the booty.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٠ (٥٣) ، العلم ٢٥ (٨٧) ، المواقیت ٢ (٥٢٣) ، الزکاة ١ (١٣٩٨) ، فرض الخمس ٢ (٣٠٩٥) ، المناقب ٥ (٣٥١٠) ، المغازي ٦٩ (٤٣٦٨) ، الأدب ٩٨ (٦١٧٦) ، خبر الواحد ٥ (٧٢٦٦) ، التوحید ٥٦ (٧٥٥٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٦ (١٧) ، الأشربة ٦ (١٩٩٥) ، سنن الترمذی/السیر ٣٩ (١٥٩٩) ، الإیمان ٥ (٢٦١١) ، سنن النسائی/الإیمان ٢٥ (٥٠٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١ /١٢٨، ٢٧٤، ٢٩١، ٣٠٤، ٣٣٤، ٣٤٠، ٣٥٢، ٣٦١) ، وقد مضی ہذا الحدیث برقم : (٣٦٩٢) (صحیح )
4678Sunan Abu Dawoodصحیح

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا ترک کرنا ہے ١ ؎۔

Jabir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Between a servant and unbelief there is the abandonment of prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی کفر اور بندے میں نماز حد فاصل ہے، اگر نماز ادا کرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، نہیں ادا کرتا ہے تو کافر ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں خیال کرتے تھے سوائے نماز کے، عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : ” نماز کا ترک کرنا کفر ہے “ ، عمر (رض) کہتے ہیں : اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جو نماز چھوڑ دے، امام شافعی (رح) کہتے ہیں : تارک نماز مرتد ہے اگرچہ دین سے خارج نہیں ہوتا، اصحاب الرای کا مذہب ہے کہ اس کو قید کیا جائے تاوقتیکہ نماز پڑھنے لگے، امام احمد بن حنبل، اور امام اسحاق بن راہویہ، اور ائمہ کی ایک بڑی جماعت تارک نماز کو کافر کہتی ہے، اس لئے ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے نماز کا سخت اہتمام کرنا چاہیے، اور عام لوگوں میں اس عظیم عبادت، اور اسلامی رکن کی اہمیت کی تبلیغ کرنی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٧ (١٠٧٨) ، مسند احمد (٣/٣٧٠، ٣٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٤٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨٢) (صحیح )
4680Sunan Abu Dawoodصحیح

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب (نماز میں) نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کی طرف رخ کرنا شروع کیا تو لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ان لوگوں کا کیا ہوگا جو مرگئے، اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وما کان الله ليضيع إيمانکم ایسا نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ایمان یعنی نماز ضائع فرما دے (البقرہ : ١٤٣) ١ ؎۔

Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I did not see more defective in respect of reason and religion than the wise of you (women). A woman asked: What is the defect of reason and religion ? He replied: The defect of reason is the testimony of two women for one man, and the defect of faith is that one of you does not fast during Ramadan (when one is menstruating), and keep away from prayer for some days.

Notes · وضاحت
١ ؎ : اس آیت میں نماز کو اللہ تعالیٰ نے ایمان قرار دیا ہے، کیونکہ سوال ان صلاتوں کے بارے میں تھا جو بیت اللہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ادا کی گئی تھیں، اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انتقال بھی کرچکے تھے تو اللہ نے فرمایا : بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی نمازیں ضائع نہیں کرے گا، پس ایمان سے مراد نماز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٣ (٢٩٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٩٥، ٣٠٤، ٣٤٧) (صحیح) (صحیح بخاری کی براء (رض) کی حدیث سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے)
4681Sunan Abu Dawoodصحیح

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ.

ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کردیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا ١ ؎۔

Ibn Abbas said: when the Prophet ﷺ turned towards the Kaabah (in prayer), the people asked: Messenger of Allah ﷺ ! what will happen with those who died while they prayed with their faces towards Jerusalem ? Allah the Exalted, then revealed: “And never would Allah make your faith of no effect. ”

Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں اعمال کو ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا گویا ان اعمال کی کمی ایمان کی کمی ٹھہری، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٩٠٣) (صحیح)
4679Sunan Abu Dawoodصحیح

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلَا دِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ، قَالَتْ: وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ ؟ قَالَ: أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ: فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ شَهَادَةُ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ: فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لَا تُصَلِّي.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا (ایک عورت) نے کہا : عقل اور دین میں کیا نقص ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور دین کا نقص یہ ہے کہ (حیض و نفاس میں) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone loves for Allahs sake, hates for Allahs sake, gives for Allahs sake and withholds for Allahs sake, he will have perfect faith.

Notes · وضاحت
١ ؎ : چونکہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اس مدت میں نماز و روزے کے ترک سے ایمان میں نقص ثابت ہوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٤ (٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٩ (٤٠٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦٦) (صحیح)
4682Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The most perfect believer in respect of faith is he who is best of them in manners.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥١٠٩) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الرضاع ١١ (١١٦٢) ، مسند احمد (٢/٤٧٢، ٥٢٧) (حسن صحیح )
4685Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسْمًا فَقُلْتُ أَعْطِ فُلَانًا، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، قَالَ: أَوْ مُسْلِمٌ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكَبَّ عَلَى وَجْهِهِ.

سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں میں کچھ تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا : فلاں کو بھی دیجئیے، وہ بھی مومن ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : یا مسلم ہے، میں ایک شخص کو کچھ عطا کرتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے (جس کو نہیں دیتا) اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو نہ دوں تو وہ اوندھے منہ (جہنم میں) ڈال دیا جائے ۔

Saad bin Abi Waqqas said: The Prophet ﷺ gave some people and did not give anything to a man of them. Saad said: Messenger of Allah! You gave so and so, so and so, but did not give anything to so and so while he is a believer. The Prophet ﷺ said: Or he is a Muslim. Saad repeated it thrice and the Prophet ﷺ then said: I give some people and leave him who is dearer to me than them. I do not give him anything fearing lest he should fall into Hell on his face.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٦٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩١) (صحیح)
4683Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاص، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمٌ حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَوْ مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ.

سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یا مسلم ہے سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم ﷺ کہتے رہے : یا مسلم ہے پھر آپ نے فرمایا : میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں تجھے جو زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں ١ ؎۔

Explaining the verse, “say ; You have no faith, but you only say: We have submitted our wills to Allah”, Al-Zuhri said: We think that ISLAM is a word, and faith is an action.

Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ یہ شخص پکا سچا مومن ہے اگر میں اس کو نہ دوں گا تو بھی اس کے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن یہ لوگ جن کو دیتا ہوں ناقص ایمان والے ہیں نہ دوں گا تو ان کے ایمان میں فرق پڑے گا کہ ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں، لہٰذا مصلحتا میں ایسا کرتا ہوں، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٩(٢٧) ، الزکاة ٥٣ (١٤٧٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٦٧ (١٥٠) ، الزکاة ٤٥ (١٥٠) ، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ ٧ (٤٩٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩١) (صحیح)
4684Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَقَالَ الزُّهْرِيُّقُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا سورة الحجرات آية 14، قَالَ: نَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ وَالْإِيمَانَ الْعَمَلُ.

ابن شہاب زہری آیت کریمہ قل لم تؤمنوا ولکن قولوا أسلمنا آپ کہہ دیجئیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ مسلمان ہوئے (سورۃ الحجرات : ١٤) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ہم سمجھتے ہیں کہ (اس آیت میں) اسلام سے مراد زبان سے کلمے کی ادائیگی اور ایمان سے مراد عمل ہے۔

Saad said: The Prophet ﷺ distributed (spoils) among the people I said to him: Give so and so for he is a believer. He said: Or he is a Muslim. I give a man something while another man is dearer to me than him, fearing that he may fall into Hell on his face.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٣٧٧) (صحیح الإسناد)
4686Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ١ ؎۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: Do not turn unbelievers after me ; one of you may strike the neck of the other.

Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں ایک دوسرے کی گردن مارنے کو ایمان کے منافی قرار دیا، حدیث کا معنی یہ ہے کہ : میرے بعد فرقہ بندی میں پڑ کر ایک دوسرے کی گردن مت مارنے لگ جانا کہ یہ کام کافروں کے مشابہ ہے کیونکہ کافر آپس میں دشمن اور مومن آپس میں بھائی ہیں۔
Takhrij · تخریج
* تخريج : صحیح البخاری/المغازي ٧٧ (٤٤٠٢) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٦) ، الحدود ٩ (٦٧٨٥) ، الدیات ٢ (٦٨٦٨) ، الفتن ٨ (٧٠٧٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٩ (٦٦) ، سنن النسائی/المحاربة ٢٥ (٤١٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٥ (٢٩٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٤١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٥، ٨٧، ١٠٤، ١٣٥) (صحیح )
4687Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْفَرَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنْ كَانَ كَافِرًا وَإِلَّا كَانَ هُوَ الْكَافِرُ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرار دے تو اگر وہ کافر ہے (تو کوئی بات نہیں) ورنہ وہ (قائل) خود کافر ہوجائے گا ۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If any believing man calls another believing man an unbeliever, if he is actually an infidel, it is all right ; if not, he will become an infidel.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٢٥٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأدب ٧٣ (٦١٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٦ (١١١) ، سنن الترمذی/الإیمان ١٦ (١٢٣٧) ، مسند احمد (٢/٢٣، ٦٠) (صحیح )
4688Sunan Abu Dawoodصحیح

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے ۔

Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Four characteristics constitute anyone who possesses them a sheer hypocrite, and anyone who possesses one of them possesses a characteristics of hypocrisy till he abandons it: when he talks he lies, when he makes a promise he violates it, when he makes a covenant he acts treacherously, and when he quarrels, he deviates from the Truth.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٤ (٣٤) ، المظالم ١٧ (٢٤٥٩) ، الجزیة ١٧ (٣١٧٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٥ (٥٨) ، سنن الترمذی/الإیمان ١٤ (٢٦٣٢) ، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ ٢٠ (٥٠٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٨، ٢٠٠) (صحیح )