Sunan Abu Dawood 4681

سنت کا بیان

4681Sunan Abu Dawood

مرحبہ کی تردید

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کردیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا ١ ؎۔

Ibn Abbas said: when the Prophet ﷺ turned towards the Kaabah (in prayer), the people asked: Messenger of Allah ﷺ ! what will happen with those who died while they prayed with their faces towards Jerusalem ? Allah the Exalted, then revealed: “And never would Allah make your faith of no effect. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اعمال کو ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا گویا ان اعمال کی کمی ایمان کی کمی ٹھہری، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٩٠٣) (صحیح)