Sunan Abu Dawood 4686

سنت کا بیان

4686Sunan Abu Dawood

ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ١ ؎۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: Do not turn unbelievers after me ; one of you may strike the neck of the other.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ایک دوسرے کی گردن مارنے کو ایمان کے منافی قرار دیا، حدیث کا معنی یہ ہے کہ: میرے بعد فرقہ بندی میں پڑ کر ایک دوسرے کی گردن مت مارنے لگ جانا کہ یہ کام کافروں کے مشابہ ہے کیونکہ کافر آپس میں دشمن اور مومن آپس میں بھائی ہیں۔
Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح البخاری/المغازي ٧٧ (٤٤٠٢)، الأدب ٩٥ (٦١٦٦)، الحدود ٩ (٦٧٨٥)، الدیات ٢ (٦٨٦٨)، الفتن ٨ (٧٠٧٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٩ (٦٦)، سنن النسائی/المحاربة ٢٥ (٤١٣٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٥ (٢٩٤٣)، (تحفة الأشراف: ٧٤١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٥، ٨٧، ١٠٤، ١٣٥) (صحیح )