حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول ولذلک خلقهم اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا (سورۃ ھود : ١١٩) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا : انہیں پیدا کیا اس (جنت) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس (جہنم) کے لیے ١ ؎۔
Khalid al-Hadhdha, asked al-Hasan about the Quranic verse: “And for this did He create them. ” He said: He created these for this and those for that.
Notes · وضاحت
١ ؎ : انہیں جنت کے لئے اور انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ : اگر اللہ نہ لکھتا تو جن کو جہنم کے لئے لکھا وہ اچھے اعمال کر کے جنت میں چلے جاتے وبالعکس، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس نے جہنم کے لئے پیدا کیا اگر ان کی تقدیر میں کچھ نہ لکھتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ جنت میں چلے جاتے، یہ لوگ چونکہ برے اعمال ہی کرنے والے تھے جو اللہ کو معلوم تھا (کیونکہ اس کا علم ماضی مستقبل حال کے لئے یکساں ہے) اس لئے اس نے اپنے علم کی بنیاد پر لکھا ایسا نہیں کہ لکھنے سے یہ لوگ مجبور ہوگئے۔
خالد الخداء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے کہا ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم تو انہوں نے کہا : إلا من هو صال الجحيم کا مطلب ہے : سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کردیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔
Khalid al-Hadhdha asked al-Hasan about the Quranic verse: “Can lead (any) into temptation concerning Allah, except such as are (themselves) going to the blazing fire. ” He said: Except the one whom Allah destined that he should go to Hell.
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہوگئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا : اے ابوسعید ! شیطان کو کس نے پیدا کیا ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا : اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ١ ؎۔
Humaid said: Al-Hasan came to us. The jurists of Makkah told me that I should speak to him that some day he should hold a meeting for them and preach to them. He said: Yes. So they gathered and he addressed them. I did not see anyone on orator greater than him. A man said: Abu Saeed, who created Satan? He replied: Glory be to Allah! Is there any creator other than Allah? Allah created Satan, and he created good and created evil. The man said: May Allah ruin them! How do they lie to this old man.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ہمیشہ اہل بدعت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ موحدین اور صحیح عقیدہ والوں پر افتراءات باندھتے رہتے ہیں، کچھ لوگوں نے حسن بصری کے متعلق بھی اسی طرح کے بہتان لگائے تھے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
حسن بصری آیت کریمہ : كذلک نسلکه في قلوب المجرمين اسی طرح سے ہم اسے مجرموں کے دل میں ڈالتے ہیں (سورۃ الحجر : ١١٢) کے سلسلہ میں کہتے ہیں : اس سے مراد شرک ہے۔
Humaid al-Tawil asked al-Hasan about the verse: “Even so do We let it creep into the hearts of the sinners. ” He said: Polytheism
حسن بصری آیت کریمہ : وحيل بينهم وبين ما يشتهون ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہوگئی (سورۃ سبا : ٥٤) کی تفسیر میں کہتے ہیں : اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگئی۔
Explaining the Quranic verse; “And between them and their desire is placed a barrier. ” Al-Hasan said: Between them and their faith.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٥٢٤) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
ابن عون کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا : اے ابوعون ! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں ؟ میں نے کہا : لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں ١ ؎۔
Ibn Awn said: I was a prisoner in Syria. A man called me from behind. I turned towards him and suddenly found that it was Raja bin Haiwah. He said: Abu Awn, what is this that the people are telling about al-Hasan? I said: They are much lying to al-Hasan.
Notes · وضاحت
١ ؎ : حسن بصری (رح) سے متعلق خصوصا جھوٹے صوفیوں نے بہت سا کفر و شرک گھڑ رکھا ہے، اعاذنا اللہ۔
ایوب کہتے ہیں حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں : ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں : کیا یہ ان کا قول نہیں ؟ کیا یہ ان کا قول نہیں ؟۔
Hammad said: I heard Ayyub say: Two kinds of people have lied to al-Hasan: people who believed in free will and they intended that they publicise their belief by it; and people who had enmity with and hostility (for al-Hasan), saying: Did he not say so and so? Did he not say so and so?
یحییٰ بن کثیر بن عنبری کہتے ہیں کہ قرہ بن خالد ہم سے کہا کرتے تھے : اے نوجوانو ! حسن کو قدریہ مت سمجھو، ان کی رائے سنت اور صواب تھی۔
Yahya bin Kathir al-Anbari said: Qurrah bin Khalid used to tell us: O young people! Do not think that al-Hasan denied predestination, for his opinion (i. e., belief) was sunnah and sight.
ابن عون کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ حسن کی بات (غلط معنی کے ساتھ شہرت کے) اس مقام کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی تو ہم لوگ ان کے اس قول کے بارے میں ان کے رجوع کی بابت ایک کتاب لکھتے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے، لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بات ہے جو نکل گئی ہے اور اس کے خلاف معنی پر محمول نہیں کی جائے گی ١ ؎۔
Ibn Awn said: If we learnt that the remark of al-Hasan would reach the extent that it has reached, we would write a book for his withdrawal and call witnesses to him; but we said: This is a remark that surprisingly came out (from him) and it will not be transmitted to others.
Notes · وضاحت
١ ؎ : حسن بصری (رح) کے بہت سے اقوال کو لوگوں نے اپنی گمراہ کن بدعتوں کی موافقت میں ڈھال لیا جب کہ خود ان کا مقصد اس قول سے وہ نہیں تھا جو اہل بدعت نے گھڑ لیا، اسی کو ابن عون فرماتے ہیں کہ اگر یہ احساس ہوتا کہ آپ کی بات کو یہ لوگ غلط معنی پہنا کر لوگوں کو گمراہ کریں گے تو ہم حسن بصری سے اس کا غلط ہونا ثابت کرتے، ان سے پوچھتے، وہ جواب دیتے، اور ہم اس پر لوگوں کی گواہیاں بھی کراتے، مگر اس وقت اس کا احساس نہ تھا، اب ان کے بعد اہل بدعت نے سیکڑوں غلط باتیں ان سے منسوب کر رکھی ہیں جن سے وہ بری ہیں۔
ابورافع (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم میں سے کسی کو اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرے احکام اور فیصلوں میں سے کوئی حکم آئے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا جن سے روکا ہے اور وہ یہ کہے : یہ ہم نہیں جانتے، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو کچھ پایا بس اسی کی پیروی کی ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Rafi (RA) : The Prophet ﷺ said: Let me not find one of you reclining on his couch when he hears something regarding me which I have commanded or forbidden and saying: We do not know. What we found in Allahs Book we have followed.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے معجزات میں سے ایک زندہ معجزہ ہے، اور حدیث کی صداقت کا زندہ ثبوت ہے آج بعض منکرین حدیث اہل قرآن کے نام سے وہی کچھ کر رہے ہیں جن کی خبر رسول اکرم ﷺ نے دی تھی (دیکھئے حاشیہ حدیث نمبر : ٤٦٠٤ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ١٠ (٢٦٦١) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی ایسا کام کرے جو ہمارے طریقے کے خلاف ہو تو وہ مردود ہے ۔
Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: if any one introduces into this affair of ours anything which does not belong to it, it is rejected. Ibn Isa said: the prophet ﷺ said: if anyone practices any action in away other than our practice, it is rejected.
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ (رض) کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ ولا على الذين إذا ما أتوک لتحملهم قلت لا أجد ما أحملکم عليه ١ ؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا : ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض (رض) نے کہا : ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہوگئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے ٢ ؎۔
Narrated Irbad ibn Sariyah (RA) : Abdur Rahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: I can find no mounts for you. We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah ﷺ led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then said: I enjoin you to fear Allah, and to hear and obey even if it be an Abyssinian slave, for those of you who live after me will see great disagreement. You must then follow my sunnah and that of the rightly-guided caliphs. Hold to it and stick fast to it. Avoid novelties, for every novelty is an innovation, and every innovation is an error.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سوار کرائیں یعنی جہاد کے لئے سواری فراہم کریں تو آپ ان سے کہتے ہیں : میرے پاس تمہارے لئے سواری نہیں (سورۃ التوبۃ : ٩٢) ۔ ٢ ؎ : اس حدیث میں ہر اس نئی بات سے جس کی شرع سے کوئی اصل نہ ملے منع کیا گیا ہے، اصول شریعت چار ہیں : قرآن، حدیث، اجماع صحیح اور قیاس شرعی ، جو بات ان چار اصول میں نہ ہو وہ بدعت ہے، بدعت دو قسم کی ہوتی ہے : ایک بدعت شرعی دوسری بدعت لغوی، اس حدیث میں بدعت شرعی کا ہی بیان ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر بدعت گمراہی ہے، بعض سلف سے جو بعض بدعات کے سلسہ میں تحسین منقول ہے وہ بدعت لغوی کے سلسلہ میں ہے ناکہ بدعت شرعی کے بارے میں؛ چناچہ عمر (رض) نے تراویح با جماعت کے لئے فرمایا : إن کانت هذه بدعة فنعمت البدعة یعنی اگر یہ نئی چیز ہے تو کتنی اچھی ہے، بدعت شرعیہ کی کوئی قسم بدعت حسنہ نہیں، البتہ سنت حسنہ ہی ہوتی ہے، سنة الخلفاء الراشدين سے درحقیقت رسول اللہ ﷺ ہی کی سنت مراد ہے جسے رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں کسی وجہ سے شہرت حاصل نہ ہوسکی ، اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں رواج پذیر اور مشہور ہوئی اس بنا پر ان کی طرف منسوب ہوئی (أشعة اللمعات، للدهلوي) نیز اگر خلفاء راشدین کسی بات پر متفق ہوں تو اس حدیث کے بموجب ان کی سنت ہمارے لئے سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ١٦ (٢٦٧٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٦ (٤٣، ٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٦) ، سنن الدارمی/المقدمة ١٦ (٩٦) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تین بار فرمایا : سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہوگئے ١ ؎۔
Abdullah bin Masud reported the Prophet ﷺ as saying: Beware! The extremists perished, saying it three times.
Notes · وضاحت
١ ؎ : متنطعون سے مراد ایسے اشخاص ہیں جو حد سے تجاوز کر کے اہل کلام و فلسفہ کے طریقہ پر بےکار کی بحثوں میں پڑے رہتے ہیں اور ان مسائل میں بھی جو ماوراء عقل ہیں اپنی عقلیں دوڑاتے ہیں جس کی وجہ سے سلف کے طریقہ سے دور جا پڑتے ہیں، ان کے لئے اس میں سخت وعید ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ نصوص پر حکم ان کے ظاہر کے اعتبار ہی سے لگایا جائے گا اور جب تک ظاہری معنی مراد لینا ممکن ہو اس سے عدول نہیں کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العلم ٤ (٢٦٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٣١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٦) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں (بھی) کوئی کمی نہیں ہوتی ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone summons other to follow right guidance, his reward will be equivalent to that of the people who follow him, without their rewards being diminished in any respect on that account; and if anyone summons others to follow error the sin of which sins being diminished in any respect on that account.
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر حرام کردی گئی ١ ؎۔
Amir bin Saeed on his father’s authority reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The Muslim who offends most against the Muslims is he who enquires about something which has not been forbidden to men, and it is declared forbidden because of his enquiry.
Notes · وضاحت
١ ؎ : سوال دو طرح کا ہوتا ہے : ایک تو وہ جس کی ضرورت ہے اور معلوم نہیں تو آدمی کے جاننے کے لئے پوچھنا درست ہے، دوسرا وہ جس کی نہ حاجت ہے نہ ضرورت، آدمی بلا ضرورت یونہی خیالی و فرضی سوال کرے اور ناحق پریشان کرے، اور اس کے سوال کے سبب وہ حرام کردی جائے، اس حدیث میں اسی قسم کے سوال کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے، آج کل بعض لوگ علماء سے یونہی بلا ضرورت یا بطور امتحان سوال کیا کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حي أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
Ibn Umar said: When the Messenger of Allah ﷺ was alive, we used to say: The most excellent member of the community of the Prophet ﷺ after himself is Abu Bakr, then Umar, then Uthman.