عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا : سنو ! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے پھر فرمایا : سنو ! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Musaddads version has: He addressed on the day of Conquest. The agreed version then goes: Beware! Every object of pride of pre-Islamic times, whether it is blood-vengeance or property, mentioned or claimed, has been put under my feet except supply of water to the pilgrims and custody of the House (the Kabah). He then said: Beware! The blood-wit for unintentional murder, such as is done with a whip and stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant. The tradition mentioned above has also been transmitted by Khalid with a different chain of narrators to the same effect.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اس سے پہلے حدیث نمبر (٤٥٤٧) کے تحت بھی گزر چکا ہے۔
اس سند سے بھی خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٩) (حسن )
انظر حدیث رقم : (٤٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٩ )
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ انس بن نضر (رض) کی بہن ربیع نے ایک عورت کا سامنے کا دانت توڑ دیا، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ کیا، تو انس بن نضر نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! اس کا دانت تو آج نہیں توڑا جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا : اے انس ! کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے پھر وہ لوگ دیت پر راضی ہوگئے جسے انہوں نے لے لیا، اس پر اللہ کے نبی اکرم ﷺ کو تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا : اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو وہ ان کی قسم پوری کردیتا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ان سے پوچھا گیا تھا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے ؟ تو انہوں نے کہا : وہ ریتی سے رگڑا جائے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): Al-Rubayyi, sister of Anas bin al-Nadr, broke (one of) the front teeth of a woman. They came to the Prophet ﷺ . He made a decision in accordance with the Book of Allah that retaliation should be taken. Anas bin al-Nadr said: I swear by Him who has sent you the truth, her front tooth will not be broken today. He replied: Anas! Allahs decree is retaliation. But the people were agreeable to accepting a fine, so the Prophet ﷺ said: Among Allahs servants there are those who, if they adjured Allah, He (Allah) would consent to it. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: He was asked: How retaliation of a tooth is taken ? He said: It is broken with a file.
Notes · وضاحت
١ ؎ : انس بن نضر (رض) نے غصے میں اللہ کے بھروسے پر قسم کھالی تھی کہ میری بہن کا دانت نہیں توڑا جائے گا، چناچہ اللہ نے ان کے لئے ایسا ہی سامان قانونی طور پر کردیا۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (جانور کا) پاؤں باطل و رائیگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: No recompense is to be demanded if one is kicked by an animal. Abu Dawud said: An animal kicks someone with its leg while one is riding on it.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جانور کسی کو زخمی کر دے تو اس میں ہر جانہ نہیں ہے، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہر جانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہوجانے والے کا ہر جانہ نہیں ہے ١ ؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جانور سے مراد وہ جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No retaliation is payable for a wound caused by a dumb animal, for a mine, and for a well. On the treasure found buried in the land there is a fifth. Abu Dawud said: A dumb animal means an animal which is free and has not tether, and there is no one (as a watchman) with it. It causes harm by day and not by night.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جانور کسی کو زخمی کر دے یا کان اور کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہوجائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٣٠٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٨، ١٥١٤٧) (صحیح )
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے کچھ مالدار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، تو جس غلام نے کان کاٹا تھا اس کے مالکان نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم فقیر لوگ ہیں، تو آپ نے ان پر کوئی دیت نہیں ٹھہرائی۔
Narrated Imran ibn Husayn: A servant of some poor people cut off the ear of the servant of some rich people. His people came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! we are poor people. So he imposed no compensation on them.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اندھا دھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر (قاتل کو بچانا چاہے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is killed blindly or, when people are throwing stones, by a stone or a whip, his blood-wit is the blood-wit for an accidental murder. But if anyone is killed intentionally, retaliation is due. If anyone tries to prevent it, the curse of Allah, of angels, and of all the people will rest on him.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٥٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨٨٢٨، ٥٧٣٩) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The Jews were split up into seventy-one or seventy-two sects; and the Christians were split up into seventy one or seventy-two sects; and my community will be split up into seventy-three sects.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں مذموم فرقوں سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جن کا اختلاف اہل حق سے اصول دین و عقائد اسلام میں ہے، مثلا مسائل توحید، تقدیر، نبوت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و موالات وغیرہ میں، کیونکہ انہی مسائل میں اختلاف رکھنے والوں نے باہم اکفار و تکفیر کی ہے، فروعی مسائل میں اختلاف رکھنے والے باہم اکفار و تکفیر نہیں کرتے، (٧٣) واں فرقہ جو ناجی ہے یہ وہ فرقہ ہے جو سنت پر گامزن ہے، بدعت سے مجتنب اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم ﷺ نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پاجائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠٢٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الإیمان ١٨ (٢٦٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٧ (٣٩٩١) ، مسند احمد (٢/٣٣٢) (حسن صحیح )
ابوعامر عبداللہ بن لحی حمصی ہوزنی کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہا : سنو ! رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : سنو ! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے، بہتر (٧٢) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر (٧٣) فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی الجماعة ہے ۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایت میں اتنا مزید بیان کیا : اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ١ ؎۔ اور عمرو کی روایت میں لصاحبه کے بجائے بصاحبه ہے اس میں یہ بھی ہے : کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔
Abu Amir al-Hawdhani said: Muawiyah bin Abi Sufiyan stood among us and said: Beware! The Messenger of ALLA H ﷺ stood among us and said: Beware! The people of the Book before were split up into seventy-two sects, and this community will be split into seventy three: seventy-two of them will go to Hell and one of them will go to Paradise, and it is the majority group. Ibn Yahya and Amr added in their version: “ There will appear among my community people who will be dominated by desires like rabies which penetrates its patient”, Amr’s version has: “penetrates its patient. There remains no vein and no joint but it penetrates it. ”
Notes · وضاحت
١ ؎ : جس طرح کتے کا زہر رگ و ریشہ میں سرایت کرجاتا ہے، اسی طرح بدعتیں ان کے رگ و ریشہ میں سما جاتی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ هو الذي أنزل عليك الکتاب منه آيات محکمات سے لے کر أولو الألباب ١ ؎ تک تلاوت کی اور فرمایا : جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہوں تو جان لو کہ یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے تو ان سے بچو ٢ ؎۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ recited this verse: “He it is who has sent down to thee the Book: in it are verses basic or fundamental. . . . ” Up to “men of understanding”. She said: The Messenger of Allah ﷺ then said: When you see those people who follow that which is allegorical in the Quran, those are the people whom Allah has named (in the Quran). So avoid them.
Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎ : پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے : اللہ ہی ہے جس نے تجھ پر وہ کتاب اتاری جس میں واضح و مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض متشابہ آیتیں ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ محکم کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگ جاتے ہیں فتنہ پروری کی طلب میں اور اس کی حقیقی مراد معلوم کرنے کے لئے، حالانکہ اس کی حقیقی مراد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، پختہ علم والے تو یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لاچکے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں (سورۃ آل عمران : ٧) ٢ ؎ : محکم آیات کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگنا تمام بدعتیوں کی عادت ہے، وہ قدیم ہوں یا جدید ان سے دور رہنے کا حکم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر آل عمران ١ (٤٥٤٧) ، صحیح مسلم/العلم ١ (٢٦٦٥) ، سنن الترمذی/تفسیر آل عمران ٤ (٢٩٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٦٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٧) ، مسند احمد (٦/٤٨) ، سنن الدارمی/المقدمة ١٩ (١٤٧) (صحیح )
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے (جب کعب (رض) نابینا ہوگئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے) وہ کہتے ہیں : میں نے کعب بن مالک سے سنا (ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم ﷺ سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہوگیا تو میں ابوقتادہ (رض) کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی ! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا ١ ؎۔
Abdullah bin Ka;b bin Malik who used to lead his father from among his sons when he became blind, said: I heard Kaab bin Malik say: The transmitter Ibn al-sarh then narrated the story of his remaining behind from the prophet ﷺ forbade the Muslims to speak to any of us three. When ( in this state) abundant time passed on me, I ascended the wall of the garden of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allah, he did not return salute to me. He then narrated the story of the revelation of the Quranic verses relating to his repentance.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے پتا چلا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اللہ ﷺ جس سے بات چیت کرنے سے منع فرما دیتے اس سے وہ ہرگز بات چیت نہیں کرتے تھے چاہے وہ عزیز و قریب دوست و رفیق ہی کیوں نہ ہو، اہل بدعت و اہل ہوس سے دور رہنے اور ان سے بغض رکھنے کا حکم ہے، تمام مسلمانوں کو اس کا خیال کرنا چاہیے تاکہ ان کے فتنوں سے خود محفوظ رہیں، اور اپنے معاشرے کو محفوظ رک ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٢٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١١١٣١) (صحیح )
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے (ہاتھوں پر) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو ۔
Ammar bin Yasir said: I came to my family when my hands had cracks. They dyed me with saffron. I then went to Prophet ﷺ and saluted him, but he did not return me salutation. He said: Go and wash it away from you.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤١٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٧٢) (حسن) (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عطاء خراسانی حافظہ کے کمزور راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی (رض) کا ایک اونٹ بیمار ہوگیا اور ام المؤمنین زینب (رض) کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا : تم اسے ایک اونٹ دے دو وہ بولیں : میں اس یہودن کو دے دوں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔
Aishah said: The camel of Safiyyah daughter of Huyayy was fatigued, and Zainab had a surplus mount. The Messenger of Allah ﷺ said to Zainab (RA) : Give her the camel. She said: Should I give to that Jewess? Thereupon the Messenger of Allah ﷺ became angry and kept away from her during Dhu al-Hijjah, Muharram, and a part of Safar.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٢، ٢٦١، ٣٣٨) (ضعیف) (اس کی راویہ سمیہ لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن کے بارے میں جھگڑنا کفر ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Controverting about the Quran is disbelief.
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے مراد کیا ہے ؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں : ( ١) قرآن کے قدیم یا محدث ہونے میں بحث کرنا مراد ہے، (٢) متشابہ آیات کے بارے میں حقیقت تک پہنچنے میں بحث و مناظرہ کرنا مراد ہے، (٣) قرآن کی مختلف قراءتوں کے بارے میں اختلاف کرنا، کسی حرف کو ثابت کرنا اور کسی کا انکار کرنا وغیرہ مراد ہے، (٤) تقدیر وغیرہ کے سلسلہ میں جو آیات وارد ہیں اس میں بحث کرنا مراد ہے، ان تمام صورتوں میں بحث اکثر اس حد تک پہنچتی ہے کہ اس سے قرآن کے الفاظ و معانی کا انکار لازم آتا ہے جو کفر ہے، أعاذنا اللہ منہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥١١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٢٤، ٥٠٣) (حسن صحیح )
مقدام بن معد یکرب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت) ، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے ١ ؎: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو ! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہوجائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے ٢ ؎۔
Narrated Al-Miqdam ibn Madikarib: The Prophet ﷺ said: Beware! I have been given the Quran and something like it, yet the time is coming when a man replete on his couch will say: Keep to the Quran; what you find in it to be permissible treat as permissible, and what you find in it to be prohibited treat as prohibited. Beware! The domestic ass, beasts of prey with fangs, a find belonging to confederate, unless its owner does not want it, are not permissible to you If anyone comes to some people, they must entertain him, but if they do not, he has a right to mulct them to an amount equivalent to his entertainment.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ پیش گوئی منکرین حدیث کے سرغنہ عبداللہ چکڑالوی پر صادق آتی ہے، مولانا نورالدین کشمیری (صدر جمعیت اہل حدیث کشمیر) جب اس سے مناظرہ کرنے لاہور میں اس کے گھر پہنچے تو وہ مولانا سے انکار حدیث پر اس حال میں بحث کر رہا تھا کہ وہ اپنی چارپائی پر ٹیک لگائے ہوئے لیٹا تھا (مولانا مرحوم کا خود نوشت بیان، شائع شدہ اخبار تنظیم اہل حدیث کراچی) ۔ ٢ ؎ : ضیافت اسلامی معاشرہ میں ایک نہایت ہی نیک عمل ہے اگر میزبان مہمان کی مہمانی نہ کرے تو اس کو مہمانی کے بقدر وصول کرنا ابتداء اسلام میں تھا بعد میں اس پر عمل نہ رہا، گری پڑی چیز ذمی کی ہو یا مسلمان کی اگر اس کا مالک اس کو چھوڑ دے اور اس سے مستغنی ہوجائے تو دوسرے کو لے لینا جائز ہے، ورنہ نہیں، اس حدیث میں صاف طور پر موجود ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کرنا ضروری نہیں بلکہ قرآن کی طرح حدیث بھی مستقل حجت ہے، حدیث کو قرآن پر پیش کرنے سے متعلق جو حدیث بیان کی جاتی ہے کذب محض ہے، زنادقہ نے اس کو گھڑا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٥٧٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/العلم ١٠ (٢٦٦٤) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٢) ، مسند احمد (٤/١٣٠) (صحیح )
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ یزید بن عمیرہ (جو معاذ بن جبل (رض) کے شاگردوں میں سے تھے) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ جب بھی کسی مجلس میں وعظ کہنے کو بیٹھتے تو کہتے : اللہ بڑا حاکم اور عادل ہے، شک کرنے والے تباہ ہوگئے تو ایک روز معاذ بن جبل (رض) کہنے لگے : تمہارے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے، ان (دنوں) میں مال کثرت سے ہوگا، قرآن آسان ہوجائے گا، یہاں تک کہ اسے مومن و منافق، مرد و عورت، چھوٹے بڑے، غلام اور آزاد سبھی حاصل کرلیں گے، تو قریب ہے کہ کہنے والا کہے : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے، وہ میری پیروی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ میں ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی نئی چیز نہ نکالوں، لہٰذا جو نئی چیز نکالی جائے تم اس سے بچو ١ ؎ اس لیے کہ ہر وہ نئی چیز جو نکالی جائے گمراہی ہے، اور میں تمہیں حکیم و دانا کی گمراہی سے ڈراتا ہوں، اس لیے کہ بسا اوقات شیطان، حکیم و دانا شخص کی زبانی گمراہی کی بات کہتا ہے اور کبھی کبھی منافق بھی حق بات کہتا ہے۔ میں نے معاذ سے کہا : (اللہ آپ پر رحم کرے) مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ حکیم و دانا گمراہی کی بات کہتا ہے، اور منافق حق بات ؟ وہ بولے : کیوں نہیں، حکیم و عالم کی ان مشہور باتوں سے بچو، جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہو کہ وہ یوں نہیں ہے، لیکن یہ چیز تمہیں خود اس حکیم سے نہ پھیر دے، اس لیے کہ امکان ہے کہ وہ (اپنی پہلی بات سے) پھر جائے اور حق پر آجائے، اور جب تم حق بات سنو تو اسے لے لو، اس لیے کہ حق میں ایک نور ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قصے میں معمر نے زہری سے ولا يثنينک ذلک عنه کے بجائے ولا ينئينک ذلک عنه روایت کی ہے اور صالح بن کیسان نے زہری سے اس میں المشتهرات کے بجائے المشبهات روایت کی ہے اور ولا يثنينك ہی روایت کی ہے جیسا کہ عقیل کی روایت میں ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے : کیوں نہیں، جب کسی حکیم و عالم کا قول تم پر مشتبہ ہوجائے یہاں تک کہ تم کہنے لگو کہ اس بات سے اس کا کیا مقصد ہے ؟ (تو سمجھ لو کہ یہ حکیم و عالم کی زبانی گمراہی کی بات ہے) ٢ ؎۔
Yazid bin Umairah, who was one of the companions of Muadh bin Jabal said: Whenever he (Muadh bin Jabal) sat in a meeting for preaching, he would say: Allah is a just arbiter; those who doubt would perish. One day Muadh bin Jabal said: In the times after you there would be trails in which riches would be abundant. During these trails the Quran would be easy so much so that every believer, hypocrite, man, woman, young, grown up, slave and free man will learn it. Then a man might say: What happened with the people that they do not follow me while I read the Quran? They are not going to follow me until I introduce a novelty for them other than it. So avoid that which is innovated (in religion), for whichever is innovated is an error. I warn you of the deviation of a scholar from right guidance, for sometimes Satan utters a word of error through the tongue of a scholar; and sometimes a hypocrites may speak a word of truth. I said to Muadh bin Jabal: I am at a loss to understand may Allah have mercy on you that a learned man sometimes may speak a word of error and a hypocrite may speak a word of truth. He replied: Yes, avoid the speech of a learned man on distract you from him (the learned), for it is possible that he may withdraw (from these well-known things), and you get the truth when you hear it, for truth has light. Abu Dawud said: In this tradition Mamar on the authority of al-Zuhrl said: The words “wa la yun iyannaka” instead of “wa la yuthniyannaka, ” with the same meaning: “it may not distract you” salih bin Kaisan on the authority of al-Zurhrl said in this tradition the words “al-mushtaharat” (well-know things). He also said the word “La yuthniyannaka” as ‘Uqail mentioned. Ibn ishaq, on the authority of al-Zuhri, said: Yes, if you are doubtful about the speech of a scholar until you say: WHAT did he mean by this word?
Notes · وضاحت
١ ؎ : جب وہ دیکھے گا کہ لوگ قرآن و سنت کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور شیطان اور بدعت کے پیرو ہو رہے ہیں تو میں کیوں نہ کوئی بدعت ایجاد کروں، تو خبردار اس کی نکالی ہوئی بدعت سے بچتے رہو کیونکہ وہ گمراہی ہے۔ ٢ ؎ : آدمی اگر منصف اور حق پرست ہو تو اس پر باطل کی تاریکی و ظلمت کبھی نہیں چھپتی، معاذ (رض) نے باطل کی نشانی یہ بیان کی کہ وہ قرآن وسنت میں نہ ہو، اور عقل سلیم بھی اس کو قبول نہ کرے، آپ نے عالم کے فتنے سے بھی ڈرایا کیونکہ عالم کا فتنہ بڑا سخت ہوتا ہے وہ جھوٹی باتوں، غلط استدلال اور چرب زبانی سے عوام کو فریفتہ کرلیتا ہے، آج یہی حال ہے، باطل پرست قرآن وسنت سے الگ ہٹ کر نئی نئی بدعتوں میں عوام کو پھنسائے ہوئے ہیں، اتفاق و اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے، اور لوگوں نے اپنے اپنے مولویوں کے ایجاد کئے ہوئے امور کو اسلام کا نام دے رکھا ہے، فتنے کے وقت میں طالب حق کو چاہیے کہ قرآن کو دیکھے اور صحیح احادیث میں تلاش کرے اور فرقہ بندی سے دور رہے۔
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا : امابعد ! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں سنت کے جاری اور ضروریات کے لیے کافی ہوجانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہوگی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے، (اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم ﷺ ) وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، لغزشیں، حماقتیں اور انتہا پسندیاں ہیں (ابن کثیر کی روایت میں من قد علم کا لفظ نہیں ہے) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے قوم (سلف) نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کردیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہوگئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہوجانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ ﷺ نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ ﷺ سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آچکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہوچکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو : اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی ؟ اور ایسا کیوں کہا (جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں) ؟ تو (جان لو) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے : ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہوگا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع کے پھر اس اعتقاد کے بعد بھی اگلے لوگ اچھے کام کرتے رہے اور برے کاموں سے ڈرتے رہے ١ ؎۔
Sufyan said (according to one chain), and Abu al-Salit said (according to another chain): A man wrote to Umar bin Abd al-Aziz asking him about Divine decree. He wrote to him: To begin with, I enjoin upon you to fear Allah, to be moderate in (obeying) His Command, to follow the sunnah (practice) of His Prophet ﷺ and to abandon the novelties which the innovators introduced after his Sunnah has been established and they were saved from its trouble (i. e. novelty or innovation) ; so stick to Sunnah, for it is for you, if Allah chooses, a protection ; then you should know that any innovation which the people introduced was refuted long before it on the basis of some authority or there was some lesson in it, for the Sunnah was introduced by the people who were conscious of the error, slip, foolishness, and extremism in case of (the sunnah) was opposed. So accept for yourself what the people (in the past) had accepted for themselves, for they had complete knowledge of whatever they were informed, and by penetrating insight they forbade (to do prohibited acts); they had more strength (than us) to disclose the matters (of religion), and they were far better (than us) by virtue of their merits. If right guidance is what you are following, then you outstriped them to it. And if you say whatever the novelty occurred after them was introduced by those who followed the way other then theirs and disliked them. It is they who actually outstripped, and talked about it sufficiently, and gave a satisfactory explanation for it. Below them there is no place for exhaustiveness, and above them there is no place for elaborating things. Some people shortened the matter more than they had done, and thus they turned away (from them), and some people raised the matter more than they had done, and thus they exaggerated. They were on right guidance between that. You have written (to me) asking about confession of Divine decree, you have indeed approached a person who is well informed of it, with the will of Allah. I know what whatever novelty people have brought in, and whatever innovation people have introduced are not more manifest and more established than confession of Divine decree. The ignorant people (i. e. the Arabs before Islam) in pre-Islamic times have mentioned it ; they talked about it in their speeches and in their poetry. They would console themselves for what they lost, and Islam then strengthened it (i. e. belief in Divine decree). The Messenger of Allah ﷺ did not mention it in one or two traditions, but the Muslims heard it from him, and they talked of it from him, and they talked of it during his lifetime and after his death. They did so out of belief and submission to their Lord and thinking themselves weak. There is nothing which is not surrounded by His knowledge, and not counted by His register and not destined by His decree. Despite that, it has been strongly mentioned in His Book: from it they have derived it, and from it they have and so ? they also read in it what you read, and they knew its interpretation of which you are ignorant. After that they said: All this is by writing and decreeing. Distress has been written down, and what has been destined will occur ; what Allah wills will surely happen, and what He does not will will not happen. We have no power to harm or benefit ourselves. Then after that they showed interest (in good works) and were afraid (of bad deeds).
Notes · وضاحت
١ ؎ : عمر بن عبدالعزیز (رح) کے اس جواب سے بدعت اور سنت کی راہ بالکل واضح ہوگئی اور یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ کسی بھی عمل سے پہلے قرآن و سنت کو دیکھنا چاہیے، اگر ان میں نہ ملے تو صحابہ کرام اور تابعین عظام کو دیکھنا چاہیے کہ ان کا عمل اس پر تھا یا نہیں، اگر ہم اس معیار کو اختیار کرلیں تو اللہ کے فضل سے سارے اختلافات دور ہوجائیں اور بیشمار بدعات ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں، لیکن ہم نے بعد کے لوگوں کی روش کو اپنا رکھا ہے اور بدعات کی گرم بازاری میں مگن ہیں۔
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں (سلف کے قول کے خلاف) کوئی بات کہی ہے، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے ۔
Nafi said: Ibn Umar had a friend from the people of Syria who used to correspond with him. Abdullah bin Umar (RA) wrote to him: I have been informed that you have talked something about Divine decree. You should write it to me, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Among my community there will be people who will falsify Divine decree.
Takhrij · تخریج
تفرد بہذا المتن أبوداود، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/القدر ١٦ ( ٢١٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٩ (٤٠٦١) ، بسیاق نحوہ ولفظہ : في ہذہ الأمة خسف ومسخ أو قذف في أہل القدر (تحفة الأشراف : ٧٦٥١) ، و مسند احمد (٢/١٠٨، ١٣٦) (حسن )
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے کہا : اے ابوسعید ! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے ؟ آپ نے کہا : نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا : آپ کا کیا خیال ہے ؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا : یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا : مجھے اللہ کے فرمان ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کرسکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو (الصافات : ١٦٣) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا : شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کردی ہے ۔
Khalid al-Hadhdha said: I said to al-Hasan: Abu Saeed, tell me about Adam. Was he created for the heaven or the earth? He said: No, for the earth. I said: It was unavoidable for him. I said: Tell me about the following verse of the Quran: ”can lead (any) into temptation concerning Allah, except such as are (themselves) going to blazing fire. ” He said: The devils do not lead anyone astray by their temptation except the one whom Allah destined to go to Hell.