Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 228 of 265

4568Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ.

مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کردیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، (اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی) آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو ؟ تو آپ ﷺ نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔

Narrated Al-Mughirah bin Shubah (RA) : A man of Hudhail has two wives. One of them struck her fellow-wife with a tent-pole and killed her and her unborn child. They brought the dispute to the Prophet ﷺ . One of two men said: How can we pay bloodwit for the one who did not make a noise, or ate, nor drank, nor raised his voice ? He (the Prophet) asked: Is it rhymed prose like that of bedouin? He gave judgement that a male or female slave of the best quality should be paid in compensation, and he fixed it to be paid by womans relatives on her fathers side.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة ١ (١٦٨٢) ، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١١) ، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩٠٥-٦٩٠٨) ، الاعتصام ١٣ (٧٣١٧) ، مسند احمد ( ٤ /٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) (صحیح )
4569Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ.

اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Mansur through a different chain of narrators and to the same effect. This version adds: The Prophet ﷺ fixed the bloodwit for the slain woman to be paid by the relatives of the woman who had slain her, on the fathers side. Abu Dawud said: In a similar way it has been transmitted by al-Hakam from Mujahid from al-Mughirah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠) (صحیح )
4570Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.

مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا : میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ (رض) کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گرجائے تو اس کی تعبیر مَلِصَ سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔

Narrated Al-Miswar bin Makhramah (RA) : Umar consulted the people about the compensation of abortion of woman. Al-Mughirah bin Shubah said: I was present with the Messenger of Allah ﷺ when he gave judgement that a male or female slave should testify you. So he brought Muhammad bin Maslamah to him. Harun added: He then testified him. Imlas means a man striking the belly of his wife. Abu Dawud said: I have been informed that Abu Ubaid said: It (abortion) is called imlas because the woman causes it to slip before the time of delivery. Similarly, anything which slips from the hand or from some other thing is called malasa (slipped).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ القسامة ٢ (١٦٨٩) ، سنن ابن ماجہ/ الدیات ١١ (٢٦٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٣٣، ١١٥٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٣) (صحیح) (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے )
4571Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ.

عمر (رض) سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Umar through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid and Hammad bin Salamah transmitted it from Hisham bin Arubah on his fathers authority who said that Umar said. . .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الدیات ٢٥ (٦٩٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١١) (صحیح )
4572Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَطَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيِه حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ.

عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے : میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مرگئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کردیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل نے کہا : مسطح چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو عبید نے کہا :مسطح خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Umar asked about the decision of the Prophet ﷺ about that (i. e. abortion). Haml bin Malik bin al-Nabhigah got up and said: I was between two women. One of them struck another with a rolling-pin killing both her and what was in her womb. So the Messenger of Allah ﷺ gave judgement that the bloodwit for the unborn child should be a male or a female slave of the best quality and the she should be killed. Abu Dawud said: Al-Nadr bin Shumail said: Mistah means a rolling-pin. Abu Dawud said: Abu Ubaid said: Mistah means a pole from the tent-poles.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٧٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٦٤، ٤/ ٧٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٢١ (٢٤٢٧) (صحیح )
4573Sunan Abu Dawoodضعیف

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو،عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ وَأَنْ تُقْتَلَ، زَادَ: بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا.

طاؤس کہتے ہیں کہ عمر (رض) منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے بغرة عبد أو أمة کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں : اس پر عمر (رض) نے کہا : اللہ اکبر ! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔

Narrated Tawus (RA) : Umar stood on the pulpit. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned before. He did not mention that she should be killed. This version adds: a male or a female slave. Umar then said: Allah is Most Great. Had I not heard it, we would have decided about it something else.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) (ضعیف الإسناد )
4574Sunan Abu Dawoodضعیف

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا ! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالْأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کردیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مرگئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا : اللہ کے نبی ! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا : یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم ! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف (رائیگاں) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہوگی ۔ ابن عباس کہتے ہیں : ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : About the story of Haml ibn Malik, Ibn Abbas said: She aborted a child who had grown hair and was dead, and the woman also died. He (the Prophet) gave judgment that the blood-wit was to be paid by the womans relatives on the fathers side. Her uncle said: Messenger of Allah! She has aborted a child who had grown hair. The father of the woman who had slain said: He is a liar: I swear by Allah, he did not raise his voice, or drink or eat. No compensation is to be paid for an offence like this. The Prophet ﷺ said: is it a rhymed prose of pre-Islamic Arabia and its soothsaying? Pay a male or female slave of the best quality in compensation for the child. Ibn Abbas said: The name of one of them was Mulaikah, and the name of the other was Umm Ghutaif.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٥٦٨، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) (ضعیف )
4575Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَاالشَّعْبِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا، قَالَ: فَقَالَ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا.

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کردیا، ان میں سے ہر ایک کے شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا : کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہوگی ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : One of the two women of Hudhayl killed the other, Each of them had husband and sons. The Messenger of Allah ﷺ fixed the blood-wit for the slain woman to be paid by the womans relatives on the fathers side. He declared her husband and the child innocent. The relatives of the woman who killed said: We shall inherit from her. The Messenger of Allah ﷺ said: No, her sons and her husband should inherit from her.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٥ (٢٦٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٧) (صحیح )
4576Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ لَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو اسے قتل ہی کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا : جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہوگی اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے آپ نے یہ بات اس کی اس سجع تعبیر کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Two women of Hudhail fought together and one of them threw a stone at the other and killed her. They brought their dispute to the Messenger of Allah ﷺ who gave judgement that a male or female slave of the best quality should be given as compensation for her unborn child, and he fixed it to be paid by the womans relatives on the fathers side. He made her sons and those who were with them her heirs. Hamal bin Malik bin al-Nabighah al-Hudhali said: Messenger of Allah! how should I be fined for one who has not drunk, or eaten or spoken, or raised his voice? - adding that compensation is not to be paid for such (an offense). The Messenger of Allah ﷺ said: This man simply belong to the soothsayers on account of his rhymed prose which he has used.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٨) ، الفرائض ١١ (٥٧٥٩) ، الدیات ٢٥ (٦٩٠٩) ، ٢٦ (٦٩١٠) ، صحیح مسلم/القسامة ١١(١٦٨١) ، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٠، ١٥٣٠٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١٠) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٣٩) ، موطا امام مالک/العقول ٧ (٥) ، مسند احمد ( ٢/٢٣٦، ٢٧٤، ٤٣٨، ٤٩٨، ٥٣٥، ٥٣٩) ، دی/الدیات ٢١ (٢٤٢٧) (صحیح )
4577Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.

ابوہریرہ (رض) سے اس قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مرگئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہوگی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : About this story: Then the woman, against whom he decided that a male or female should be paid for her, died. The Messenger of Allah ﷺ then gave judgement that her sons will inherit from her, and the bloodwit should be paid by her relatives on the fathers side.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الفرائض (٦٧٤٠) ، الدیات ٢٥ (٦٩٠٩) ، صحیح مسلم/ الحدود ١١ (١٦٨١) ، سنن الترمذی/ الدیات ١٥ (١٤١٠) ، الفرائض ١٩ (٢١١١) ، سنن النسائی/ القسامة ٣٣ (٤٨٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٢٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العقول ٧ (٥) (صحیح )
4578Sunan Abu Dawoodضعیف

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ فِي وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا الْحَدِيثُ خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَالصَّوَابُ مِائَةُ شَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا قَالَ عَبَّاسٌ، وَهُوَ وَهْمٌ.

بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا تو اس کا حمل گرگیا ، یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے اس بچہ کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، اور لوگوں کو پتھر مارنے سے اسی دن سے منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : روایت اسی طرح ہے پانچ سو بکریوں کی لیکن صحیح سو بکریاں ہے، اسی طرح عباس نے کہا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A woman threw a stone at another woman and she aborted. The dispute was brought to the Messenger of Allah ﷺ . He gave judgment that five hundred sheep should be paid for her (unborn) child, and forbade throwing stones. Abu Dawud said: The version of this tradition goes in this way, i. e. five hundred sheep. What is correct is one hundred sheep. Abu Dawud said: Abbas transmitted this tradition this way, but it is misunderstanding.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٠٦) (ضعیف) وضاحت : الحکم علی حدیث النسائی : صحیح الإسناد (٤٨١٧ )
4579Sunan Abu Dawoodصحیح

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، لَمْ يَذْكُرَا أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے میں ایک غلام یا ایک لونڈی یا ایک گھوڑے یا ایک خچر کی دیت کا فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے البتہ ان دونوں نے أو فرس أو بغل کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave judgment that a male or a female slave, or a horse or a mule should be paid for a miscarriage. Abu Dawud said: Hammad bin Salamah and Khalid bin Abdullah transmitted this tradition from Muhammad bin Amr, but they did not mention or a horse or a mule

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٥٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٠٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٣٨، ٤٩٨) (شاذ )
4580Sunan Abu Dawoodضعیف

پیٹ کے بچہ کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجَابِرٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: الْغُرَّةُ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ رَبِيعَةُ: الْغُرَّةُ خَمْسُونَ دِينَارًا.

شعبی کہتے ہیں کہ غرہ (غلام یا لونڈی) کی قیمت پانچ سو درہم ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ربیعہ نے کہا : غرہ (غلام یا لونڈی) پچاس دینار کا ہوتا ہے۔

Narrated Al-Shabi (RA) : The price of a male or a female slave is five hundred dirhams. Abu Dawud said: Rabiah said: The price of a male or a female slave is fifty dinars.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٤٠٣) (ضعیف الإسناد )
4581Sunan Abu Dawoodصحیح

مکاتب کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ يُودَى مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْمَمْلُوكِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام جسے قتل کردیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کرچکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave judgment about the slave who had made an agreement to purchase his freedom (mukatab) and he had been killed that blood-wit is paid for him at the rate paid for a free man so far as he has paid the purchase money, and at the rate paid for a slave as the remainder is concerned.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٢ (٤٨١٢، ٤٨١٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ١/٢٢٢، ٢٢٦، ٢٦٠، ٢٩٢، ٣٦٣) (صحیح )
4582Sunan Abu Dawoodصحیح

مکاتب کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُوُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيل، عَنْأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَهُ إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ قَوْلَ عِكْرِمَةَ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی (رض) سے اور علی نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: When a mukatab (a slave who has made an agreement to purchase his freedom) gifts blood-money or an inheritance, he can inherit in accordance with the extent to which he has been emancipated. Abu Dawud said: Wuhaib transmitted it from Ayyub, from Ikrimah, on the authority of Ali, from the Prophet ﷺ : and Hammad bin Zaid and Ismail have transmitted it in a mursal form (i. e the link of the Companion being missing) from Ayyub, from Ikrimah, from the Prophet ﷺ . Ismail bin Ulayyah has treated it as a statement of Ikrimah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ البیوع ٣٥ (١٢٥٩) ، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٩٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٦٩) (صحیح )
4583Sunan Abu Dawoodصحیح

ذمی کی دیت کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِثْلَهُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمٰن بن حارث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said: The blood-wit for a man who makes a covenant is half of the blood-wit for a free man. Abu Dawud said: It has been transmitted by Usamah bin Zaid al-Laithi and Abdur-Rahman bin al-Harith on the authority of Amr bin Suhaib in similar manner.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جو کافر دارالاسلام میں معاہدہ کی رو سے رہتا ہے اس کی دیت مسلمان کی دیت کی آدھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧٨٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدیات ١٧ (١٤١٣) ، سنن النسائی/القسامة ٣١ (٤٨١٠) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٣ (٢٦٤٤) ، مسند احمد ( ٢/١٨٣، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن )
4584Sunan Abu Dawoodصحیح

ایک شخص اگر دوسرے سے لڑائی میں اپنے دفاع میں کسی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، وَقَالَ: أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَالْفَحْلِ ؟ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَرَهَا، وَقَالَ: بَعِدَتْ سِنُّهُ.

یعلیٰ (رض) کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کردیا، اور فرمایا : کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر (رض) نے اسے لغو قرار دیا اور کہا : (اللہ کرے) اس کا دانت نہ رہے۔

Narrated Safwan bin Yala (RA) : On this fathers authority, said: A servant of mine fought with a man and bit his hand and he drew away his hand. (One of) his front teeth fell out. So he came to the Prophet ﷺ who imposed no retaliation for his tooth, saying: Do you intend that he leaves his hand in your mouth so that you crunch it like a male camel ? He said: Ibn Abi Mulaikah told me on the authority of his grandfather that Abu Bakr (ra) imposed no retaliation on him for it, saying: May his tooth go away!

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٩ (١٨٤٧) ، الإجارة ٥ (٢٢٦٥) ، الجھاد ١٢٠ (٢٩٧٣) ، المغازي ٧٨ (٤٤١٧) ، الدیات ١٨ (٦٨٩٣) ، صحیح مسلم/الحدود ٤ (١٦٧٣) ، سنن النسائی/القسامة ١٥ (٤٧٧٤، ٤٧٧٥، ٤٧٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٣٧، ٦٦٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) (صحیح )
4585Sunan Abu Dawoodصحیح

ایک شخص اگر دوسرے سے لڑائی میں اپنے دفاع میں کسی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا، زَادَ: ثُمّ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَاضِّ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ يَدِكَ فَيَعَضُّهَا ثُمَّ تَنْزِعُهَا مِنْ فِيهِ وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ.

اس سند سے بھی یعلیٰ بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ نے (یعنی نبی اکرم ﷺ نے) دانت کاٹنے والے سے فرمایا : اگر تم چاہو تو یہ ہوسکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Yala bin Umayyah through a different chain of narrators. This version has: The Prophet ﷺ said to the man bit him: If you wish that you give him control over your hand and he bites it, and then you drive it away from his mouth (you may do it). He imposed no retaliation for his teeth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ١١٨٤٦) (صحیح الإسناد )
4586Sunan Abu Dawoodصحیح

علم طب نہ جانے والا اپنے آپ کو طبیب ظاہر کر کے کسی کو نقصان پہنچائے تو کیا سزا ہے؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ، قَالَ نَصْرٌ: قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا الْوَلِيدُ، لَا نَدْرِي هُوَ صَحِيحٌ أَمْ لَا ؟.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ (مریض کا) ضامن ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who practises medicine when he is not known as a practitioner will be held responsible. Abu Dawud said: This has been transmitted by al-Walid alone. We do not know whether it is sound or not.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١٦ (٣٤٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٦) (حسن )
4587Sunan Abu Dawoodصحیح

علم طب نہ جانے والا اپنے آپ کو طبیب ظاہر کر کے کسی کو نقصان پہنچائے تو کیا سزا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْد الَّذِينَ قُدِمُوا عَلَى أَبِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنَّعْتِ، إِنَّمَا هُوَ قَطْعُ الْعُرُوقِ وَالْبَطُّ وَالْكَيُّ.

عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہوگا ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں : اعنت نعت سے نہیں (بلکہ عنت سے ہے جس کے معنی) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔

Narrated Abdul Aziz ibn Umar ibn Abdul Aziz: Some people of the deputation which came to my father reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Any physician who practises medicine when he was not known as a practitioner before that and he harms (the patients) he will be held responsible. Abdul Aziz said: Here physician does not refer to a man by qualification. it means opening a vein, incision and cauterisation.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٣١) (حسن )