سنت کو لازم پکڑنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَتِيقٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْالْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تین بار فرمایا: سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہوگئے ١ ؎۔
Abdullah bin Masud reported the Prophet ﷺ as saying: Beware! The extremists perished, saying it three times.
Notes · وضاحت
١ ؎: متنطعون سے مراد ایسے اشخاص ہیں جو حد سے تجاوز کر کے اہل کلام و فلسفہ کے طریقہ پر بےکار کی بحثوں میں پڑے رہتے ہیں اور ان مسائل میں بھی جو ماوراء عقل ہیں اپنی عقلیں دوڑاتے ہیں جس کی وجہ سے سلف کے طریقہ سے دور جا پڑتے ہیں، ان کے لئے اس میں سخت وعید ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ نصوص پر حکم ان کے ظاہر کے اعتبار ہی سے لگایا جائے گا اور جب تک ظاہری معنی مراد لینا ممکن ہو اس سے عدول نہیں کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العلم ٤ (٢٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٦) (صحیح )