عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں محمد رسول الله کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا : اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول الله کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر (رض) نے پہنی، پھر ابوبکر (رض) کے بعد عمر (رض) نے پھر ان کے بعد عثمان (رض) نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی (جب وہ گرگئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہوگئے) ۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ took a signet-ring of gold, and put the stone next the palm of his hand. He engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. The people then took signet-rings of gold. When he saw that they had taken them (like his ring) he threw it away and said: I shall never wear it. He then fashioned a silver ring and engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. Then Abu Bakr wore it after him, then Umar wore it after Abu Bakr, and the Uthman wore it after Umar till it fell down in a well called Aris. Abu Dawud said: The people did not disagree on Uthman till the signet-rin fell down from his hand.
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے محمد رسول الله کندہ کرایا، اور فرمایا : کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators from the Prophet ﷺ . This version adds: He engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. and said: No one must engrave anything in the manner of this signet-ring of mine. He then transmitted the rest of the tradition.
اس سند سے بھی ابن عمر (رض) سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو عثمان (رض) نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں محمد رسول الله کندہ کرایا۔ راوی کہتے ہیں : وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا : اسے پہنا کرتے تھے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through different chain of narrators from the Prophet ﷺ . This version adds: They searched for it but could not find it. Uthman then fashioned a signet-ring and engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. He used to wear it or stamp with it.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے من ورق کہا ہے۔
Anas bin Malik (RA) said that he saw a silver signet-ring on the hand of the Prophet ﷺ only for a day. The people then fashioned and wore (rings). The Prophet ﷺ then threw it away and the people also threw (them.) Abu Dawud said: Ziyad bin Saad, Shuaib and Ibn Musafir transmitted it from al-Zuhri. Ali said in their versions: of silver.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٦ (٥٨٦٨) ، صحیح مسلم/اللباس والزینة من المجتبی ٢٧ (٥٢٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٠، ٢٢٣، ٢٢٥) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ١ ؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بےموقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet of Allah ﷺ disliked ten things: Yellow colouring, meaning khaluq, dyeing grey hair, trailing the lower garment, wearing a gold signet-ring, a woman decking herself before people who are not within the prohibited degrees, throwing dice, using spells except with the Muawwidhatan, wearing amulets, withdrawing the penis before the semen is discharged, in the case of a woman who is wife or not a wife, and having intercourse with a woman who is suckling a child; but he did not declare them to be prohibited. Abu Dawud said: Only the transmitters of Basrah have transmitted this tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی انہیں اکھیڑنے یا ان میں کالا خضاب لگانے کو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٧ (٥١٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨٠، ٣٩٧، ٤٣٩) (منکر) (اس کے رواة قاسم اور عبدالرحمن دونوں لین الحدیث ہیں )
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں ؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو ١ ؎۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A man came to the Prophet ﷺ and he was wearing a signet-ring of yellow copper. He said to him: How is it that I notice the odour of idols in you? So he threw it away, and came wearing an iron signet ring. He (the Prophet) said: What is it that I see you wearing the adornment of the inhabitants of Hell? So he threw it away. He asked: Messenger of Allah, what material I must use? He said: Make it of silver, but do not weigh it as much as a mithqal, The narrator Muhammad did not say: Abdullah bin Muslim, and al-Hasan did not say: al-Sulami al-Marwazi.
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایک مثقال ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے اگر اس کے برابر ہوگی تو بھاری اور بد وضع ہوگی یا مردوں کے لئے اس سے زیادہ چاندی کا استعمال درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٤٣ (١٧٨٥) ، سنن النسائی/الزینة ٤٤ (٥١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٩) (ضعیف) (ابوطیبہ عبداللہ بن مسلم کثیرالوہم راوی ہیں )
معیقیب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں : اور نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔
Iyas bin al-Harith bin al-Muaiqib quoting his grandfather said and his grandfather from his mothers side was Abu Dhubab: The signet-ring of the Prophet ﷺ was of iron polished with silver. Sometimes it remained in my possession. Al-Muayqib was in charge of the signet-ring of the Prophet ﷺ .
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کہو : اے اللہ ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں (عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے) اور مجھے قسیہ اور میثرہ سے منع فرمایا۔ ابوبردہ (رض) کہتے ہیں : تو ہم نے علی (رض) سے پوچھا : قسیہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج (چکوترہ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور میثرہ وہ بچھونا (بستر) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔
Narrated Ali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Say: O Allah, guide me, and set me right. Remember by guidance (hidayah) the showing of the straight path, and remember by setting right (sadad) the setting right of an arrow. Then pointing to the middle finger and the one next to it, he said: He forbade me to wear a signet-ring on this finger of mine or on this (Asim was doubtful). He forbade me to wear qassiyyah (qasi garments) and mitharah. Abu Burdah said: We asked Ali (RA) : What is qasiyyah ? He said: These are garments imported to us from Syria or Egypt. They are stripped and marked like citrons. And mitharah was a thing made by women for their husbands.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to wear the signet-ring on his left hand, and put its stone next the palm of his hand. Abu Dawud said: Ibn Ishaq and Usamah bin Zaid transmitted from Nafi (RA) : On his right hand.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٧٦٦) (شاذ) (محفوظ اور صحیح دائیں ہاتھ میں پہننا ہے )
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس (رض) کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی پشت کی طرف کئے دیکھا، اور کہا : یہ مت سمجھنا کہ صرف ابن عباس (رض) ہی ایسا کرتے تھے، بلکہ وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اپنی انگوٹھی ایسا ہی پہنی کرتے تھے۔
Muhammad ibn Ishaq said: I saw as-Salt ibn Abdullah ibn Nawfal ibn Abdul Muttalib wearing the signet-ring on his right small finger. I asked: What is this? He replied: I saw Ibn Abbas wearing his ring in this manner. He put its stone towards the upper part of his palm. Ibn Abbas also mentioned that the Messenger of Allah ﷺ used to wear his signet-ring in his manner.
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب (رض) کے پاس لے کرگئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر (رض) نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
Ibn az-Zubayr told that a woman client of theirs took az-Zubayrs daughter to Umar ibn al-Khattab wearing bells on her legs. Umar cut them off and said that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is a devil along with each bell.
عبدالرحمٰن بن حسان کی لونڈی بنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھونگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا : اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو ، اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو ۔
Bunanah, female client of Abdur-Rahman bin Hayyan al-Ansari told that when she was with Aisha (RA) a girl wearing little tinkling bells was brought in to her. She ordered that they were not to bring her in where she was unless they cut off her little bells. She said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The angels do not enter a house in which there is a bell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٥٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٤٢، ٢٤٣) (حسن )
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ١ ؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ٢ ؎۔
Abdur Rahman ibn Tarafah said that his grandfather Arfajah ibn Asad who had his nose cut off at the battle of al-Kilab got a silver nose, but it developed a stench, so the Prophet ﷺ ordered him to get a gold nose.
Notes · وضاحت
١ ؎ : بصرہ اور کوفہ کے مابین ایک چشمہ کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک جنگ ہوئی تھی (النہا یۃ لا بن الا ثیر) ٢ ؎ : اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہوگا، اسی لئے دانت بندھوانے کا باب باندھا۔
اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، یزید کہتے ہیں میں نے ابواشہب سے پوچھا : عبدالرحمٰن بن طرفہ نے اپنے دادا عرفجہ کا زمانہ پایا ہے، تو انہوں نے کہا : ہاں (پایا ہے) ۔
The tradition mentioned above (No. 4220) has also been transmitted by Arfajah ibn Asad through a different chain to the same effect. Yazid said: I asked AbulAshhab: Did Abdur Rahman ibn Tarafah meet his grandfather Arfajah? He replied: Yes.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا : بیٹی ! اسے تو پہن لے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ got some ornaments presented by Negus as a gift to him. They contained a gold ring with an Abyssinian stone. The Messenger of Allah ﷺ turning his attention from it took it by means of a stick or his finger, then called Umamah, daughter of Abul As and daughter of his daughter Zaynab, and said: Wear it, my dear daughter.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٠ (٣٦٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠١، ١١٩) (حسن الإسناد )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ١ ؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone wants to put a ring of fire on one he loves, let him put a gold ring on him: if anyone wants to put a necklace of fire on one he loves, let him put a gold necklace on him, and if anyone wants to put a bracelet of fire on one he loves let him put a gold bracelet on him. Keep to silver and amuse yourselves with it.
Notes · وضاحت
١ ؎ : طوق گلے میں پہننے کا زیور، اسے گلوبند اور ہنسلی بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٤٦٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣٤، ٣٧٨) (حسن )