Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 210 of 265

4197Sunan Abu Dawoodضعیف

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ، فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ، وَقَالَ: احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ.

حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک (رض) کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا : تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا : ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔

Narrated Anas ibn Malik: Al-Hajjaj ibn Hassan said: We entered upon Anas ibn Malik. My sister al-Mughirah said: You were a boy in those days and you had two locks of hair. He (Anas) rubbed your head and invoked blessing on you. He said: Shave them (i. e. the locks) or clip them, for this is the fashion of the Jews.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٢) (ضعیف الإسناد )
4198Sunan Abu Dawoodصحیح

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا : پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں : ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: The inborn characteristics of man are five. Another version says: Five things are of the inborn characteristics of man: circumcision, shaving the pubes, plucking out hair under the armpit, paring the nails and clipping the moustaches.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٣ (٥٨٨٩) ، ٦٤ (٥٨٩١) الاستئذان ٥١ (٦٢٩٧) ، صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٧) ، سنن النسائی/الطھارة ٩ (٩) ، الزینة من المجتبی ١ (٥٢٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٦) ، موطا امام مالک/صفة النبی ٣ (٣ موقوفاً ) مسند احمد (٢/٢٣٩) (صحیح )
4199Sunan Abu Dawoodصحیح

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھوں کے خوب کترنے، اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded to clip the moustaches and grow the beard long.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٩) ، سنن الترمذی/الأدب ١٨ (٢٧٦٤) ، سنن النسائی/الطھارة ١٥ (١٥) ، الزینة ٥٤ (٥٢٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٤٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/اللباس ٦٤ (٥٨٩٢) ، ٦٥ (٥٨٩٣) ، الزینة من السنن ٢ (٥٠٤٩) ، الزینة من المجتبی ٢ (٥٢٢٨) ، موطا امام مالک/الشعر ١ (١) ، مسند احمد (٢/٥٢) (صحیح )
4200Sunan Abu Dawoodصحیح

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَدُقَةُ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الْإِبِطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَنَسٍ، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں وقَّتَ لنا کے بجائے وُقِّتَ لنا بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ fixed forty days to shave the pubes, paring the nails, clipping the moustaches, and plucking the hair under the armpit. Abu Dawud said: Jafar bin Sulaiman transmitted it from Abu Imran on the authority of Anas. In this version he did not mention the Prophet ﷺ . He said: Forty days were fixed for us. This is a more correct version.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٨) ، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٨) ، سنن النسائی/الطھارة ١٤ (١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٠٣، ٢٥٥) (صحیح )
4201Sunan Abu Dawoodضعیف

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الِاسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : استحداد کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔

Narrated Jabir: We used to grow beard long except during the Hajj or Umrah. Abu Dawud said: Istihdad means to shave the pubes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٧٨٩) (ضعیف الإسناد )
4202Sunan Abu Dawoodصحیح

سفید بال اکھاڑنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ عَنْ سُفْيَانَ: إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى: إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔

Amr bin Shuaib, on his fathers authority, told that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said: Do not pluck out grey hair. If any believer grows a grey hair in Islam, he will have light on the Day of Resurrection. (This is Sufyans version). Yahyas version says: Allah will record on his behalf a good deed for it, and will blot out a sin for it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧٨٣، ٨٨٠١ ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ٥٩ (٢٨٢١) ، سنن النسائی/الزینة ١٣ (٥٠٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٥ (٣٧٢١) ، مسند احمد (٢/٢٠٦، ٢٠٧، ٢١٢) (حسن صحیح )
4203Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Jews and Christians do not dye (their beards), so act differently from them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٠ (٣٤٦٢) واللباس ٦٧ (٥٨٩٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٥ (٢١٠٣) ، سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٢) ، سنن النسائی/الزینة ١٤ (٥٠٧٥) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٨٠، ١٥١٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٦٠، ٣٠٩، ٤٠١) (صحیح )
4204Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن (ابوبکر (رض) کے والد) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ (نامی سفید رنگ کے پودے) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : Abu Quhafah was brought on the day of the conquest of Makkah with head and beard while like hyssop. The Messenger of Allah ﷺ said: Change this something, but avoid black.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢) ، سنن النسائی/الزینة ١٥، (٥٢٤٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٧، ٥٠٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٦، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح )
4205Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.

ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے (بال کی سفیدی) کو بدلا جائے حناء (مہندی) اور کتم (وسمہ) ہے ۔

Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: The best things with which grey hair are changed are henna and katam.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٣) ، سنن النسائی/الزینة ١٦ (٥٠٨١، ٥٠٨٢) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٢ (٣٦٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٧، ١٨٨٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩) (صحیح )
4206Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعُ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ.

ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔

Narrated Abu Rimthah (RA) : I went with my father to the Prophet ﷺ . He had locks hanging down as far as the lobes of the ears stained with henna, and he was wearing two green garments.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٠٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٦) (صحیح )
4207Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ، قَالَ: اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا.

اس سند سے ابورمثہ (رض) سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا : طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے (مریض کو تسکین اور دلا سے دیتا ہے) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔

This version adds (to the previous hadith No 4194): My father said to him (the Prophet): Show me what is on your back, for I am a physician. He (the Prophet) said: You are only a soother. Its physician is He Who has credit it.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٠٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٦) (صحیح )
4208Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لِأَبِيهِ: مَنْ هَذَا ؟ قَالَ: ابْنِي، قَالَ: لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَكَانَ قَدْ لَطَّخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ.

ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا : یہ کون ہے ؟ وہ بولے : میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا : یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہوگی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔

Narrated Abu Rimthah (RA) : I and my father came to the Prophet ﷺ . He said to a man or to my father: Who is this? He replied: He is my son. He said: Do not commit a crime on him. He had stained his beard with henna.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الشمائل (٤٣، ٤٥) ، سنن النسائی/القسامة ٣٥ (٤٨٣٦) ، ویأتی برقم (٤٤٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٣) (صحیح )
4209Sunan Abu Dawoodصحیح

خضاب لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَخْضِبْ وَلَكِنْ قَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

انس (رض) سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ نے تو خضاب لگایا ہی نہیں، ہاں ابوبکر و عمر (رض) نے لگایا ہے۔

Thabit said that Anas was asked about the hair-dye of the Prophet ﷺ . He replied: He did not dye his hair, but Abu Bakr and Umar dyed their hair.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٠) ، اللباس ٦٦ (٥٨٩٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤١) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الزینة ١٧ (٥٠٩٠) ، مسند احمد (٣/٢١٦) (صحیح )
4210Sunan Abu Dawoodصحیح

زرد رنگ کے خضاب کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ١ ؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر (رض) بھی ایسا کرتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to wear tanned leather sandals and dye his beard yellow with wars and saffron, and Ibn Umar used to do that too.

Notes · وضاحت
١ ؎ : ورس ایک قسم کی گھاس ہے جس سے رنگتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبی ١٢ (٥٢٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٧٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١١٤) (صحیح )
4211Sunan Abu Dawoodضعیف

زرد رنگ کے خضاب کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا ؟ قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَّبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا : یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا : یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا : یہ ان سب سے اچھا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When a man who had dyed himself with henna passed by the Prophet ﷺ , he said: How fine this is! When another man who had dyed himself with henna and katam passed by, he said: This is better than that. Then another man who had dyed himself with yellow dye, passed by, he said: This is better than all that.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٢٠) (ضعیف )
4212Sunan Abu Dawoodصحیح

سیاہ خضاب کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ قَوْمٌ يَخْضِبُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِالسَّوَادِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی بو تک نہ پائیں گے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: At the end of time there will be people who will use this black dye like the crops of doves who will not experience the fragrance of Paradise.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
4213Sunan Abu Dawoodضعیف

ہاتھی دانت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةَ، فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مِسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا وَحَلَّتِ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّكَتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ: يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا يَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ.

ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ (رض) سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ (رض) سے ملاقات کرتے، چناچہ آپ ﷺ ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ (رض) نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین (رض) دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا : ثوبان ! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ پھر فرمایا : یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان ! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کرلے آؤ ۔

Narrated Thawban (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ went on a journey, the last member of his family he saw was Fatimah, and the first he visited on his return was Fatimah. Once when he returned from an expedition she had hung up a hair-cloth, or a curtain, at her door, and adorned al-Hasan and al-Husayn with silver bracelets. So when he arrived, he did not enter. Thinking that he had been prevented from entering by what he had seen, she tore down the curtain, unfastened the bracelets from the boys and cut them off. They went weeping to the Messenger of Allah ﷺ , and when he had taken them from them, he said: Take this to so and sos family. Thawban. In Madina, these are my family, and I did not like them to enjoy their good things in the present life. Buy Fatimah a necklace or asb, Thawban, and two ivory bracelets.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٠٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (ضعیف الإسناد منکر )
4214Sunan Abu Dawoodصحیح

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمد رسول الله کندہ کرایا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ wanted to write to some persian rulers. He was told that they would not read a letter without a seal in the form of a silver ring on which he engraved Muhammad the Messenger of Allah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٧ (٥٨٦٨) ، ٥٠ (٥٨٧٢) ، ٥٢ (٥٨٧٥) ، ٥٤ (٥٨٧٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٣، ١١٨٥، ١٢٥٦، ١٣٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩٢) ، سنن الترمذی/اللباس ١٤ (١٧٣٩) ، الشمائل ١١ (٩٢) ، الاستئذان (٢٧١٨) ، سنن النسائی/الزینة سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤١) ، ٤١ (٣٦٤٥) ، مسند احمد (٣/١٦١، ١٧٠، ١٨١، ١٩٨، ٢٠٩، ٢٢٣) (صحیح )
4215Sunan Abu Dawoodصحیح

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ زَادَ فَكَانَ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُثْمَانَ، فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ بِئْرٍ إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَنُزِحَتْ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ.

اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ ﷺ کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق (رض) کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی، پھر عمر (رض) کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان (رض) کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گرگئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators. This version as transmitted by Isa bin Yunus adds: It remained in his hand until he died, in the hand of Abu Bakr until he died, in the hand of Umar until he died, and in the hand of Uthman. When he was near a well, it fell down in it. He ordered to take it out, but it could not be found.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٨٥) (صحیح الإسناد )
4216Sunan Abu Dawoodصحیح

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔

Narrated Anas (RA) : The signet-ring of the Prophet ﷺ was of silver with an Abyssinian stone.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ اللباس ٤٧ (٥٨٦٨) ، صحیح مسلم/ اللباس ١٢ (٢٠١٢) ، سنن الترمذی/ اللباس ١٤ (١٧٣٩) ، سنن النسائی/ الزینة ٤٥ (٥١٩٩) ، سنن ابن ماجہ/ اللباس ٣٩ (٣٦٤١) ، ٤١ (٣٦٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٠٩، ٢٢٥) (صحیح )