Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 205 of 265

4096Sunan Abu Dawoodصحیح

ازار کہاں تک لٹکانا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ، رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ، فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ، قُلْتُ: لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَزِرُهَا.

عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس (رض) کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا : آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں ؟ تو وہ بولے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔

Ikrimah said that he saw Ibn Abbas putting on lower garment, letting the hem on the top of his foot and raising it behind. He said: Why do you put on the lower garment in this way? He replied: It is how I saw the Messenger of Allah ﷺ do it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٢١٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری (٩٦٨١) (صحیح الإسناد )
4097Sunan Abu Dawoodصحیح

عورتوں کے لباس کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ لَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ cursed women who imitate men and men who imitate women.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦١ (٥٨٨٥) ، الحدود ٣٣ (٦٨٣٤) ، سنن الترمذی/الأدب ٣٤ (٢٧٨٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٢ (١٩٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٦١٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٥١، ٢٥٤، ٣٣٠، ٣٣٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢١ (٢٦٩١) (صحیح )
4098Sunan Abu Dawoodصحیح

عورتوں کے لباس کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مرد پر جو عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر جو مردوں کا لباس پہنتی ہے لعنت فرمائی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ cursed the man who dressed like a woman and the woman who dressed like a man.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٢٦٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٥) (صحیح )
4099Sunan Abu Dawoodصحیح

عورتوں کے لباس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ وَبَعْضُهُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قِيلَلِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَ، فَقَالَتْلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَةَ مِنَ النِّسَاءِ.

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا گیا کہ عورت جوتا پہنتی ہے (جو مردوں کے لیے مخصوص تھا) تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مرد بننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

Ibn Abu Mulaykah told that when someone remarked to Aisha (RA) that a woman was wearing sandals, she replied: The Messenger of Allah ﷺ cursed mannish women.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٢٥١) (صحیح )
4100Sunan Abu Dawoodصحیح

اللہ تعالیٰ کا فرمان عورتیں اپنی چادریں تھوڑا نیچے لٹکائیں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ، وَقَالَتْ: لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمِدْنَ إِلَى حُجُورٍ أَوْ حُجُوزٍ شَكَّ أَبُو كَامِلٍ، فَشَقَقْنَهُنَّ فَاتَّخَذْنَهُ خُمُرًا.

ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورة النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔

Safiyyah, daughter of Shaybah, said that Aisha (RA) mentioned the women of Ansar, praised them and said good words about them. She then said: When Surat an-Nur came down, they took the curtains, tore them and made head covers (veils) of them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٤٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تفسیر القرآن (النور) ١٢ (٤٧٥٨، ٤٧٥٩) ، مسند احمد (٦/١٨٨) (صحیح الإسناد )
4101Sunan Abu Dawoodصحیح

اللہ تعالیٰ کا فرمان عورتیں اپنی چادریں تھوڑا نیچے لٹکائیں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَدُ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ خَرَجَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الْأَكْسِيَةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ يدنين عليهن من جلابيبهن وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں (سورۃ الاحزاب : ٥٩) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : When the verse That they should cast their outer garments over their persons was revealed, the women of Ansar came out as if they had crows over their heads by wearing outer garments.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٢٨١) (صحیح )
4102Sunan Abu Dawoodصحیح

اللہ تعالیٰ کے فرمان چاہیے کہ وہ عورتیں اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیں ( کا بیان)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ وَابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالُوا: أَخْبَرَنَاابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ سورة النور آية 31 شَقَقْنَ أَكْنَفَ، قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: أَكْثَفَ مُرُوطِهِنَّ، فَاخْتَمَرْنَ بِهَا.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ وليضربن بخمرهن على جيوبهن اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں (سورۃ النور : ٣١) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے أكنف کے بجائے أكثف کہا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : May Allah have mercy on the early immigrant women. When the verse That they should draw their veils over their bosoms was revealed, they tore their thick outer garments and made veils from them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر رقم حدیث : (٤١٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٦٧، ١٦٥٧٧) (صحیح )
4103Sunan Abu Dawoodصحیح

اللہ تعالیٰ کے فرمان چاہیے کہ وہ عورتیں اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیں ( کا بیان)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.

ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں عقيل عن ابن شهاب کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔

Ibn al-Sarh said: I saw (this tradition) in the writing of my maternal uncle from Aqil, from Ibn Shihab through a different chain of narrators and to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم :( ٤١٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٦٧، ١٦٥٧٧) (صحیح )
4104Sunan Abu Dawoodصحیح

عورت اپنی زینت کے کن اعضاء کو کھلا رکھ سکتی ہے؟

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ دُرَيْكٍ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ ﷺ نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا : اسماء ! جب عورت بالغ ہوجائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ ﷺ نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ (رض) کو نہیں پایا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Asma, daughter of Abu Bakr, entered upon the Messenger of Allah ﷺ wearing thin clothes. The Messenger of Allah ﷺ turned his attention from her. He said: O Asma, when a woman reaches the age of menstruation, it does not suit her that she displays her parts of body except this and this, and he pointed to her face and hands. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i. e. the narrator who transmitted it from Aisha (RA) is missing) Khalid bin Duraik did not see Aisha (RA) .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٦٢) (صحیح )
4105Sunan Abu Dawoodصحیح

جو غلام اپنی مالکہ کے بال دیکھے اس کا کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ جابر (رض) نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔

Narrated Jabir: Umm Salamah asked the Messenger of Allah ﷺ permission for getting herself cupped. He commanded Abu Tibah to cup her. The transmitter said: I think he was her foster-brother or a boy not yet of age.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح )
4106Sunan Abu Dawoodصحیح

جو غلام اپنی مالکہ کے بال دیکھے اس کا کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فاطمہ (رض) کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ (رض) ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ (رض) جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم ﷺ نے دیکھا تو فرمایا : تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ brought Fatimah a slave which he donated to her. Fatimah wore a garment which, when she covered her head, did not reach her feet, and when she covered her feet by it, that garment did not reach her head. When the Prophet ﷺ saw her struggle, he said: There is no harm to you: Here is only your father and slave.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٩) (صحیح )
4107Sunan Abu Dawoodصحیح

اللہ تعالیٰ کا فرمان غیر اولی الایة کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِي، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑجاتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خبردار ! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A mukhannath (eunuch) used to enter upon the wives of Prophet ﷺ . They (the people) counted him among those who were free of physical needs. One day the Prophet ﷺ entered upon us when he was with one of his wives, and was describing the qualities of a woman, saying: When she comes forward, she comes forward with four (folds in her stomach), and when she goes backward, she goes backward with eight (folds in her stomach). The Prophet ﷺ said: Do I not see that this (man) knows what here lies. Then they (the wives) observed veil from him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ١٣ (٢١٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٣٤، ١٧٢٤٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری (٩٢٣٧) ، مسند احمد (٦/١٥٢) (صحیح )
4108Sunan Abu Dawood(4109)صحیح

اللہ تعالیٰ کا فرمان غیر اولی الایة کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمَعْنَاهُ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَأَخْرَجَهُ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ جُمْعَةٍ يَسْتَطْعِمُ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے اسی مفہوم کی (حدیث) مروی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators to the same effect. The tradition mentioned about has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. This version has: He (the Prophet) exiled him and he lived in a desert (outside Madina). He would come every Friday asking for food.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٣٤) (صحیح ) اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے : آپ ﷺ نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا ۔ تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : ٤١٠٧، (تحفة الأشراف : ١٦٧٤١) (صحیح )
4110Sunan Abu Dawoodصحیح

اللہ تعالیٰ کا فرمان غیر اولی الایة کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ إِذَنْ يَمُوتُ مِنَ الْجُوعِ، فَأَذِنَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ مَرَّتَيْنِ فَيَسْأَلُ، ثُمَّ يَرْجِعُ.

اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! تب تو وہ بھوک سے مرجائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کرلے جاتا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Auzai through a different chain of narrators. This version adds: He was told: Messenger of Allah, in that case he will of starvation. So he allowed him to visit (the cit) twice a week so that he might ask for food and go back.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم :( ٤١٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥١٨) (صحیح )
4111Sunan Abu Dawoodصحیح

مومن عورتوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دینے والے فرمان الہی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍوَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ سورة النور آية 31 الْآيَةَ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا سورة النور آية 60الْآيَةَ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آیت کریمہ وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۃ النور : ٣١) کے حکم سے والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نکاحا بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو (سورۃ النور : ٦٠) کو منسوخ و مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The verse: And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: Such elderly women as are past the prospect of marriage.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٢٦٦) (حسن الإسناد )
4112Sunan Abu Dawoodضعیف

مومن عورتوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دینے والے فرمان الہی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجِبَا مِنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَلَا تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ (رض) بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا یہ نابینا نہیں ہیں ؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اندھی ہو ؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو ؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم (رض) کے پاس فاطمہ بنت قیس (رض) کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ بنت قیس (رض) سے فرمایا تھا : تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : I was with the Messenger of Allah ﷺ while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet ﷺ said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet ﷺ said: Are both of you blind? Do you not see him? Abu Dawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet ﷺ . Do you not see that Fatimah daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet ﷺ said to Fatimah daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٢٩ (٢٧٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٦) (ضعیف) (سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں )
4113Sunan Abu Dawoodصحیح

مومن عورتوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دینے والے فرمان الہی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَيْمُونِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى عَوْرَتِهَا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: When one of you marries his male-slave to his slave-woman, he should not look at her private parts.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٢) (حسن )
4114Sunan Abu Dawoodصحیح

مومن عورتوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دینے والے فرمان الہی کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَصَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: When one of you marries his female servant to his slave or to his employee, he should not look at her private part below the navel and above the knees. Abu Dawud said: The correct name is Sawwad bin Dawud al-Muzani al-Sairafi (and not Dawud bin Sawwad as mentioned in the chain). The narrator Waki misunderstood it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٧) (حسن )
4115Sunan Abu Dawoodضعیف

دوپٹہ اوڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ: لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَى قَوْلِهِ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ يَقُولُ: لَا تَعْتَمُّ مِثْلَ الرَّجُلِ لَا تُكَرِّرُهُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لية لا ليتين کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ came to visit her when she was veiled, and said: use one fold and not two. Abu Dawud said: Use one fold and not two means: Do not fold it like the turban of a man. Do not double it up manifolds.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٨٢٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٣، ٢٩٤، ٢٩٦، ٢٩٧، ٣٠٧) (ضعیف )
4116Sunan Abu Dawoodضعیف

مصری کپڑے (جو باریک ہوتے ہیں) عورتوں کا انہیں پہننے کا کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً، فَقَالَ: اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، فَقَالَ: عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ.

دحیہ بن خلیفہ کلبی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا : اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کرلو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کرلے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو ۔

Narrated Dihyah ibn Khalifah al-Kalbi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was brought some pieces of fine Egyptian linen and he gave me one and said: Divide it into two; cut one of the pieces into a shirt and give the other to your wife for veil. Then when he turned away, he said: And order your wife to wear a garment below it and not show her figure. Abu Dawud said: Yahya bin Ayyub transmitted it and said: Abbas bin Ubaid Allah bin Abbas

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٣٨) (ضعیف )