نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Wine is made from grape-syrup, raisins, dried dates, wheat, barley, millet, and I forbid you from every intoxicant.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah bin Bashir reported the Apostel of Allah ﷺ as saying: Wine comes from these two trees, the date-palm and the grapes-vine. Abu Dawud said: The name of Abu KAthir al-Ubari is Yazid bin Abdur-Rahman bin Ghufailat al-Sahmi. Some said: Uzainah. What is correct is Ghufailah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خاص طور سے کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے، ورنہ دیگر چیزوں سے بھی بنتی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں گزرا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ١ ؎، اور جو مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا) ۔
Ibn Umar reported the Apostel of Allah ﷺ as saying: Every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world, and dies when he is addiction to it, will not drink it in the next.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کردینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کردی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کرلی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہوجاتا ہے کہ اسے طینہ الخبال پلائے عرض کیا گیا: طینہ الخبال کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Every intoxicant is khamr (wine) and every intoxicant is forbidden. If anyone drinks wine, Allah will not accept prayer from him for forty days, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he repeats it a fourth time, it is binding on Allah that He will give him tinat al-khabal to drink. He was asked: What is tinat al-khabal, Messenger of Allah? He replied: Discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell. If anyone serves it to a minor who does not distinguish between the lawful and the unlawful, it is binding on Allah that He will give him to drink the discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: لا إله إلا الله جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about bit’. He replied: Every liquor which intoxicates is forbidden. Abu Dawud said: I read out this tradition to Yazid bin Abd Rabbihi al-Jurjisi. Muhammad bin Hard told you this tradition from al-Zabidi from al-Zuhri through his chain of narrators. This version added: Bit is the nabidh from honey, which the people of the Yemen would drink. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: There is no god but Allah. there was none stronger in memory and like al-Jurjisi among the people of Hims.
دیلم حمیری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
Narrated Daylam al-Himyari (RA) : I asked the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! we live in a cold land in which we do heavy work and we make a liquor from wheat to get strength from if for our work and to stand the cold of our country. He asked: Is it intoxicating? I replied: Yes. He said: You must avoid it. I said: The people will not abandon it. He said: If they do not abandon it, fight with them.
Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣١، ٢٣٢) (صحیح )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتادو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Abu Musa said: I asked the prophet ﷺ about wine made from honey. He said: That is bit. I said: And the one made from barley and millet ? He said: That is mizr. He then said: Tell your people that every intoxicant is prohibited.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩١٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٦٠ (٤٣٤٣)، الأدب ٨٠ (٦١٢٤)، الأحکام ٢٢ (٧١٧٢)، صحیح مسلم/الأشربة ٧ (١٧٣٣)، سنن النسائی/الأشربة ٢٣ (٥٥٩٨)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٩ (٣٣٩١)، مسند احمد (٤/٤١٠، ٤١٦، ٤١٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شراب، جوا، کو بہ (چوسر یا ڈھولک) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ forbade wine (khamr), game of chance (maysir), drum (kubah), and wine made from millet (ghubayrah), saying: Every intoxicant is forbidden. Abu Dawud said: Ibn Sallam Abu Ubaid said: Ghubairah was an intoxicant liquor made from millet. This wine was made by the Abyssinians
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٨، ١٧١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ١ ؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Every intoxicant is forbidden; if a faraq of anything causes intoxication, a handful of it is forbidden.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک پیمانہ ہے جو (١٦) رطل کے برابر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ٣ (١٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧١، ٧٢، ١٣١) (صحیح )
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ١ ؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ٢ ؎۔
Narrated Abdur Rahman ibn Ghanam (RA) : Malik ibn Abu Maryam said: Abdur Rahman ibn Ghanam entered upon us and we discussed tila and he said: Abu Malik al-Ashari told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name.
Notes · وضاحت
١ ؎: طلاء: انگور سے بنا ہوا ایک قسم کا شیرہ ہے۔ ٢ ؎: جیسے اس زمانے میں تاڑی اور بھانگ استعمال کرنے والے اسے شراب نہیں سمجھتے حالانکہ ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور وہ حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٢ (٤٠٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٢) (صحیح )
حارث بن منصور کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے داذی ١ ؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا کہنا ہے:داذی فاسقوں کی شراب ہے۔
Abu Dawud said: An old man of the people of Wasit narrated from Abu Mansur al-Harith bin Mansur saying: I heard Sufyan Al-Thawri who was asked about al-dadhi. He said: The Messenger of Allah ﷺ said: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name.
Notes · وضاحت
١ ؎: داذی ایک قسم کا دانہ جسے نبیذ میں ڈالتے ہیں تو اس میں تیزی پیدا ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح) ( یہ روایت نہیں بلکہ پچھلی حدیث کی طرف اشارہ ہے )
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ١ ؎ سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Umar and Ibn Abbas said: We testify that the Messenger of Allah ﷺ forbade (the use of) gourds, green jars, receptacles smeared with pitch, and hollowed stumps of palm-trees.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں وارد الفاظ: دباء، حنتم، مزفت اور نقیر مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں یہ ممانعت بریدہ اسلمی ؓ کی روایت كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء سے منسوخ ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٧)، سنن النسائی/الأشربة ٣٦ (٥٦٤٦)، (تحفة الأشراف: ٥٦٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٥٢) (صحیح )
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جر (مٹی کا گھڑا) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس ؓ کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر ؓ کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس ؓ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جر کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جر کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: جر کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔
Adb Allah bin Umar said: The Messenger of Allah ﷺ forbade the nabidh (date-wine) of jarr. I was alarmed by his statement: The Apostel of Allah ﷺ forbade the nabidh of jarr. I then entered upon Ibn Abbas and asked him: Are you listening to what Ibn Umar says ? He asked: What is that ? I said: The Apostel of Allah ﷺ forbade the nabidh of jarr. He said: He spoke the truth. The Apostel of Allah ﷺ forbade the nabidh of jarr. I asked: what is jarr ? He replied: Anything made of clay.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ١ ؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور آپ ﷺ نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
Ibn Abbas said: The deputation of Abd al-Qais came to Messenger of Allah ﷺ and said: This is the tribe of Rabiah, and the infidels of Mudar are between us and you. We are able to come to you only in the sacred month. So give a decisive command which we may follow ourselves and to which we call those at home behind us. He (the Prophet) said: I command you to observe four things, and forbade you four things: Belief in Allah. the testimony that there is no god but Allah, and he expresses one by folding his hand. Musadads version has: Faith in Allah, and he explained to them: The testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, observance of prayer, payment of zakat, and your giving the filth of the booty. I forbid you the use of pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch, and hollow stumps of palm-trees. Ibn Ubaids version has word muqayyar (vessels smeared with pitch) instead of naqir (hollow stumps). Musaddads version has naqir and muqayyar (pitch); he did not mention muzaffat (vessels smeared with pitch). Abu Dawud said: The name of Abu Jamrah is Nasr bin Imran al-Dubai.
Notes · وضاحت
١ ؎: حرمت والے مہینوں سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ said to the deputation of Abd al-Qais: I forbid you the use of hollow stumps, vessels smeared with pitch, green harrs, pumpkins, and a skin cut off at the top, but drink from your skin and tie it with string.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٢)، سنن النسائی/الأشربة ٣٨ (٥٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٣، ١٤٤٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٩١، ٤١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پئیں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں ۔
In the story of the deputation of AbdulQays Ibn Abbas said: They (the people) asked: In which should we drink, Prophet of Allah? The Prophet ﷺ said: You should use those skin vessels that are tied at their mouths.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر رقم: (٣٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦١) (صحیح )
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا (عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آجائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔
A man of the deputation of Abd al-Qais who came to the Prophet ﷺ said - the narrator Awf thinks that his name was Qais bin al-Numan: The Prophet ﷺ said: Do not drink from hollowed stumps, vessel smeared with pitch, pumpkins, and green jars, but drink from a skin which is tied with string. If the drink ferments, lighten it by infusing water. If you are helpless, then pour it away.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١١٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٠٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آجائے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اسے بہا دو ١ ؎ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا: شراب، جوا، اور ڈھول ٢ ؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کو بہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔
Ibn Abbas said: The deputation of Abd al-Qais asked (the prophet): From which (vessels)should we drink ? He (the prophet) replied: Do not drink from the pumpkins, vessels smeared with pitch, and hollow stumps, and steep dates in skins. They asked: Messenger of Allah, if it ferments? He replied: infuse water in it. They asked: Messenger of Allah. . . ” (repeating the same words). He replied to them third or fourth time: Pour it away. He then said: Allah has forbidden me, or he said: He has forbidden me wine, game of chance and kubah (drums). He said: Every intoxicant is unlawful. Sufyan said: I asked ‘All bin Badhimah about kubah. He replied: Drum.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ ٢ ؎: حدیث میں کوب ۃ کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق کوب ۃ کا ترجمہ ڈھول سے کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(٣٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٤، ٢٨٩، ٣٥٠) (صحیح )