Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 183 of 265

3658Sunan Abu Dawood

فتوی میں احتیاط سے کام لینے کا بیان

ح وحَدَّثَنَاسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ، عَنْأَبِي عُثْمَانَ الطُّنْبُذِيِّ رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، زَادَ سُلَيْمَانُ الْمَهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ: وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ، وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے فتوی دیا اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is given a legal decision ignorantly, the sin rests on the one who gave it. Sulayman al-Mahri added in his version: If anyone advises his brother, knowing that guidance lies in another direction, he has deceived him. These are the wordings of Sulayman.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٨ (٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٦٥)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٠ (١٦١) (حسن )
3658Sunan Abu Dawood

علم سے روکنے کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے کوئی دین کا مسئلہ پوچھا گیا اور اس نے اسے چھپالیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who is asked something he knows and conceals it will have a bridle of fire put on him on the Day of Resurrection.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٣ (٢٦٤٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٤ (٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣٠٥، ٣٤٤، ٣٥٣، ٤٩٥، ٤٩٦، ٤٩٩، ٥٠٨) (حسن صحیح )
3659Sunan Abu Dawood

علم کی نشرواشاعت کی فضیلت

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسْمَعُونَ، وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ (علم دین) مجھ سے سنتے ہو اور لوگ تم سے سنیں گے اور پھر جن لوگوں نے تم سے سنا ہے لوگ ان سے سنیں گے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: You hear (from me), and others will hear from you; and people will hear from them who heard from you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (١/٣٢١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٢) (صحیح )
3660Sunan Abu Dawood

علم کی نشرواشاعت کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ۔

Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: May Allah brighten a man who hears a tradition from us, gets it by heart and passes it on to others. Many a bearer of knowledge conveys it to one who is more versed than he is; and many a bearer of knowledge is not versed in it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٧ (٢٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٨ (١٢٣٠)، مسند احمد (١/٤٣٧، ٥/١٨٣)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٤(٢٣٥) (صحیح )
3661Sunan Abu Dawood

علم کی نشرواشاعت کی فضیلت

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِهُدَاكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے (جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں) بہتر ہے ۔

Sahl bin Saad reported the prophet ﷺ as saying: I swear on Allah, it will be better for you that Allah should give guidance to one man through your agency than that you should acquire the red ones among the camels.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٠٢(٢٩٤٢)، ١٤٣ (٣٠٠٩)، المناقب ١ (٣٧٠١)، المغازي ٣٨ (٤٢١٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٦)، مسند احمد (١/١٨٥) (صحیح )
3662Sunan Abu Dawood

بنی اسرائیل سے روایت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: relate traditions from the children of Israil; there is no harm.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٧٤، ٥٠٢، ٣/٤٦، ٥٦) (صحیح )
3663Sunan Abu Dawood

بنی اسرائیل سے روایت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہوجاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ used to relate to us traditions from the children of Israil till morning came; he would not get up except for obligatory prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٧) (صحیح الإسناد )
3664Sunan Abu Dawood

غیر اللہ کے لئے علم طلب کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَعْنِي رِيحَهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone acquires knowledge of things by which Allahs good pleasure is sought, but acquires it only to get some worldly advantage, he will not experience the arf, i. e. the odour, of Paradise.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٨) (صحیح )
3665Sunan Abu Dawood

قصے وغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْعَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ، أَوْ مَأْمُورٌ، أَوْ مُخْتَالٌ.

عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی ۔

Narrated Awf ibn Malik al-Ashjai: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Only a ruler, or one put in charge, or one who is presumptuous, gives instructions.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣، ٢٧، ٢٩) (حسن صحیح )
3666Sunan Abu Dawood

قصے وغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہوگئے، جب آپ ﷺ کھڑے ہوگئے تو قاری خاموش ہوگیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کرلیں، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہوگیا۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہوگا ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I was sitting in the company of the poor members of the emigrants. Some of them were sitting together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. All of a sudden the Messenger of Allah ﷺ came along and stood beside us. When the Messenger of Allah ﷺ stood, the reader stopped and greeted him. He asked: What were you doing? We said: Messenger of Allah! We had a reader who was reciting to us and we were listening to the Book of Allah, the Exalted. The Messenger of Allah ﷺ then said: Praise be to Allah Who has put among my people those with whom I have been ordered to stay. The Messenger of Allah ﷺ then sat among us so as to be like one of us, and when he had made a sign with his hand they sat in a circle with their faces turned towards him. The narrator said: I think that the Messenger of Allah ﷺ did not recognize any of them except me. The Messenger of Allah ﷺ then said: Rejoice, you group of poor emigrants, in the announcement that you will have perfect light on the Day of Resurrection. You will enter Paradise half a day before the rich, and that is five hundred years.

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ایسے فقراء و مساکین کا مقام و مرتبہ اغنیاء اور مالداروں سے بڑھ کر ہوگا، اور قیامت کے دن کے طویل ہونے میں جو اختلاف آیات و احادیث میں مذکور ہے تو یہ لوگوں کے اختلاف حال پر محمول ہے، یعنی جس پر جتنی سختی ہوگی اسے قیامت کا دن اتنا ہی لمبا معلوم ہوگا، اور اس پر جس قدر تکلیف کم ہوگی اسے اتنا ہی کم معلوم ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ الزہد ٦ (١٤٢٢)، (قولہ: فقراء المہاجرون یدخلون الجنة قبل أغنیاء الناس ۔۔۔ ) مسند احمد (٣/٦٣، ٩٦) (ضعیف) ( اس کے راوی العلاء مجہول ہیں، لیکن آخری ٹکڑا متابعات کے سبب حسن ہے )
3667Sunan Abu Dawood

قصے وغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: That I sit in the company of the people who remember Allah the Exalted from morning prayer till the sun rises is clearer to me than that I emancipate four slaves from the children of Israil, and that I sit with the people who remember Allah from afternoon prayer till the sun sets is dearer to me than that I emancipate four slaves.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٥١) (حسن )
3668Sunan Abu Dawood

قصے وغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ سورة النساء آية 41، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلَانِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مجھ پر سورة نساء پڑھو میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں پھر میں نے آپ کو فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے (سورة النساء: ٤١) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔

Abd Allah (bin Masud) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: recite Surat al-Nisa’. I asked: Shail I recite to you what was sent down to you ? He replied: I like to here it from someone else. So I recite (it) until I reached this verse “How then shall it be when We bring from every people a witness ?”. Then raised my head and saw tears falling from his eyes.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٩ (٤٥٨٢)، فضائل القرآن ٣٢ (٥٠٤٩)، ٣٣ (٥٠٥٠)، ٣٥ (٥٠٥٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٠ (٨٠٠)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٥ (٣٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٤٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٠، ٤٣٢) (صحیح )
3669Sunan Abu Dawood

شراب کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ: مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ: الْجَدُّ، وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کردیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔

Umar said: The prohibition of wine came down when (the Quranic verse) came down. It was made from five thing namely, grapes, dates, honey, wheat, barley. Wine is what infects (khamara) the mind. There are three things I wished that the prophet ﷺ would not leave us until he explained them fully to our satisfaction: (share of) grandfather, one who leaves no descendants or ascendants as hairs, and the details of usury.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة المائدة ١٠ (٤٦١٩)، الأشربة ٢ (٥٥٨١)، ٥ (٥٥٨٨)، صحیح مسلم/التفسیر ٦ (٣٠٣٢)، سنن الترمذی/الأشربة ٨ (١٨٧٤ تعلیقًا)، سنن النسائی/الأشربة ٢٠ (٥٥٨١)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٣٨) (صحیح )
3670Sunan Abu Dawood

شراب کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرٍو، عَنْعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ سورة البقرة آية 219، قَالَ: فَدُعِيَ عُمَرُ، فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43، فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُنَادِي: أَلَا لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ، فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91، قَالَ عُمَرُ انْتَهَيْنَا.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہوجائے تو سورة البقرہ کی یہ آیت اتری: يسألونک عن الخمر والميسر قل فيهما إثم کبير یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں (سورة البقرہ: ٢١٩) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر ؓ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ (سورة النساء: ٤٣) چناچہ رسول اللہ ﷺ کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر ؓ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر ؓ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:فهل أنتم منتهون یعنی کیا اب باز آجاؤ گے (سورة المائدہ: ٩١) عمر ؓ نے کہا: ہم باز آگئے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : When the prohibition of wine (was yet to be) declared, Umar said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. So the following verse of Surat al-Baqarah revealed; They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin. . . . Umar was then called and it was recited to him. He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. Then the following verse of Surat an-Nisa was revealed: O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged. . . . Thereafter the herald of the Messenger of Allah ﷺ would call when the (congregational) prayer was performed: Beware, one who is drunk should not come to prayer. Umar was again called and it was recited to him). He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. This verse was revealed: Will ye not then abstain? Umar said: We abstained.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة المائدة ٨ (٣٠٤٩)، سنن النسائی/الأشربة ١ (٥٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٣) (صحیح )
3671Sunan Abu Dawood

شراب کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضَي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ، فَقَرَأَ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، فَخَلَطَ فِيهَا، فَنَزَلَتْ: لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی ؓ نے مغرب پڑھائی اور سورة قل يا أيها الکافرون کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کردیا تو آیت: لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى حتى تعلموا ما تقولون نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: A man of the Ansar called him and Abdur Rahman ibn Awf and supplied them wine before it was prohibited. Ali then led them in the evening prayer, and he recited; Say: O ye who reject faith. He was confused in it. Then the following verse came down: O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged until you can understand all that ye say.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ١٢ (٣٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٥) (صحیح )
3672Sunan Abu Dawood

شراب کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيِّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43، وَ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ سورة البقرة آية 219، نَسَخَتْهُمَا الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ سورة المائدة آية 90.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى (سورة النساء: ٤٣) اور يسألونک عن الخمر والميسر قل فيهما إثم کبير و منافع للناس (سورة البقرہ: ٢١٩) ان دونوں آیتوں کو سورة المائدہ کی آیت إنما الخمر والميسر والأنصاب (سورة المائدة: ٩٠) نے منسوخ کردیا ہے۔

Ibn Abbas said: The Quranic verse: ”O ye who believe, approach not prayer with minds befogged until you can understand all they say, ” and the verse: “They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin and some profit for men, ” were repeated by the verse in Surat al-Ma’idah: ”O ye who believe, intoxicants and gambling, (dedication) stones.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٥) (حسن الإسناد )
3673Sunan Abu Dawood

شراب کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، وَمَا شَرَابُنَا يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْفَضِيخُ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، وَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: هَذَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ ؓ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کردی گئی، رسول اللہ ﷺ کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کا منادی ہے۔

Narrated Anas ibn Malik: I was serving wine to the people in the house of Abu Talhah when it was prohibited and that day our wine was made from unripe dates. A man entered upon us and said: The wine has been prohibited, and the herald of the Messenger of Allah ﷺ made an announcement. We then said: This is the herald of the Messenger of Allah ﷺ

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢١ (٢٤٦٤)، تفسیر سورة المائدة ١٠ (٤٦١٧)، ١١ (٤٦٢٠)، الأشربة ٢ (٥٥٨٠)، ٣ (٥٥٨٢)، ١١ (٥٥٨٣)، ١٢ (٥٥٨٤)، أخبارالآحاد ١ (٧٢٥٣)، صحیح مسلم/الأشربة ١ ( ١٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٢)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأشربة ٢ (٥٥٤٣)، موطا امام مالک/الأشربة ٥ (١٢)، مسند احمد (٢/١٨٣، ١٨٩، ٢٢٧) (صحیح )
3674Sunan Abu Dawood

انگور کا رس شراب کے لئے نکالنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَاهُمْ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, the one who conveys it, and the one to whom it is conveyed.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأشربة ٦ (٣٣٨٠)، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥، ٧١) (صحیح )
3675Sunan Abu Dawood

شراب کا سرکہ بناناجائز نہیں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا ؟ قَالَ: أَهْرِقْهَا، قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا ؟ قَالَ: لَا.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ ﷺ سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ ؓ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔

Anas bin Malik (RA) said: Abu Talhah asked the prophet ﷺ about the orphans who had inherited wine. He replied: Pour it out. He asked: May I not make vinegar of it ? He replied: No.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٢ (١٩٨٣)، سنن الترمذی/البیوع ٥٨ (١٢٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٨٠، ٢٦٠)، سنن الدارمی/الأشربة ١٧ (٢١٦١) (صحیح )
3676Sunan Abu Dawood

شراب کس سے بنتی ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ١ ؎۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: The Prophet ﷺ said: from grapes wine is made, from dried dates wine is made, from honey wine is made, from wheat wine is made, from barley wine is made.

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اکثر شراب مذکورہ بالا چیزوں سے بنتی تھی اس لیے انہیں کا ذکر فرمایا، ورنہ شراب کا بننا انہیں چیزوں پر منحصر اور موقوف نہیں بلکہ اور چیزوں سے بھی شراب بنتی ہے، شراب ہر اس مشروب کو کہتے ہیں جو نشہ آور ہو اور عقل کو ماؤوف کر دے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ٨ (١٨٧٢، ١٨٧٣)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٥ (٣٣٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٧٣) (صحیح )