انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا: جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس (عہدے) کے لیے مدد چاہی ١ ؎ وہ اس کے سپرد کردیا گیا ٢ ؎، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: If anyone desires the office of Judge and seeks help for it, he will be left to his own devices; if anyone does not desire it, nor does he seek help for it, Allah will send down an angel who will direct him aright. Waki said: (This tradition has also been transmitted) by Israil, from Abd al-Ala, from Bilal bin Abi Musa, from Anas, from the Prophet ﷺ . Abu Awanah said: from Abd al-Ala, from Bilal bin Mirdas al-Fazari, from Khaithamah al-Basri from Anas.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفارشیں کرائے گا۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١ (٢٣٠٩)، (تحفة الأشراف: ٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ٢٢٠) (ضعیف) (اس کے راوی بلال لین الحدیث ہیں )
عدی بن عمیرہ کندی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو (محاصل) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کردیا جائے اس سے رکا رہے ۔
Narrated Adi ibn Umayrah al-Kindi: The Prophet ﷺ said: O people, if any of you is put in an administrative post on our behalf and conceals from us a needle or more, he is acting unfaithfully, and will bring it on the Day of Resurrection. A black man from the Ansar, as if I am seeing him, stood and said: Messenger of Allah, take back from me my post. He asked: What is that? He replied: I heard you say such and such. He said: And I say that. If we appoint anyone to an office, he must bring what is connected with it, both little and much. What he is given, he may take, and he must refrain from what is kept away from him.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٧ (١٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٢) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء (فیصلہ کرنے) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آجائے گی وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ sent me to the Yemen as judge, and I asked: Messenger of Allah, are you sending me when I am young and have no knowledge of the duties of a judge? He replied: Allah will guide your heart and keep your tongue true. When two litigants sit in front of you, do not decide till you hear what the other has to say as you heard what the first had to say; for it is best that you should have a clear idea of the best decision. He said: I had been a judge (for long); or he said (the narrator is doubtful): I have no doubts about a decision afterwards.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٥ (١٣٣١)، مسند احمد (١/١١١) و عبداللہ بن أحمد فی زوائدی الأحد (١/١٤٩)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١ (٢٣١٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨١، ١٠١١٣ )، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣) والحاکم (٣/١٣٥) بسند آفریة انقطاع (حسن )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں انسان ہی ہوں ١ ؎، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
Umm Salamah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I am only a human being, and you bring your disputes to me, some perhaps being more eloquent in their plea than others, so that I give judgement on their behalf according to what I hear from them. Therefore, whatever I decide fr anyone which by right belongs to his brother, he must not take anything, for I am granting him only a portion of Hell.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں انسان ہوں اور انسان کو معاملہ کی حقیقت اور اس کے باطنی امر کا علم نہیں ہوتا، اس لیے کتاب اللہ کے ظاہر کے موافق لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں گا، اگر کوئی شخص اپنی منہ زوری اور چرب زبانی سے دھوکا دے کر حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ لے لے اور دوسرے کا حق چھین لے تو وہ مال اس کے حق میں اللہ کے نزدیک حرام ہوگا اور اس کا انجام جہنم کا عذاب ہے، آپ ﷺ کے فرمان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے اور لوگوں کو غیب کا حال معلوم نہیں ظاہر پر فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح آپ ﷺ کو بھی غیب کی ہر بات معلوم نہیں، موجودہ زمانہ کی عدالتی کارروائیوں اور وکلاء کی چرب زبانیوں اور رشوتوں اور سفارشوں کے نتیجہ میں ہونے والی جیت سے خوش ہونے والے مسلمانوں کے لئے اس ارشاد نبوی میں بہت بڑی موعظت اور نصیحت ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس بجز دعویٰ کے کوئی دلیل نہیں تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔۔۔ (پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو پیش نظر رکھ کر (مال) کو تقسیم کرلو، پھر قرعہ اندازی کرلو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو ۔
Umm Salamah said: Two men came to the Messenger of Allah ﷺ who were disputing over their inheritance. They had no evidence except their claim. The Prophet ﷺ then said in a similar way. Thereupon both the men wept and each of them said: This right of mine go to you. The Prophet ﷺ then said: Now you have done whatever you have done ; do divide it up, aiming at what is right, then drew lots, and let each of you consider the other to have what is legitimately his
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨١٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢٠) (صحیح) (سیاق حدیث میں زائد چیزیں ہیں، اس لئے شیخ البانی نے اسامة بن زید لیثی کے حفظ پر نقد کرتے ہوئے اس حدیث کی تصحیح نہیں کی ہے) (الصحیحة: ٤٥٥ )
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہوچکی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے ۔
Umm Salamah reported the Prophet ﷺ as saying when two men were disputing over inheritance and old things: I decide between you on the basis of my opinion in cases about which no revelation has been sent down to me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٨١٧٤) (صحیح) (سابقہ حدیث کا نوٹ ملاحظہ ہو )
ابن شہاب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے منبر پر فرمایا: لوگو! رائے تو صرف رسول اللہ ﷺ کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ١ ؎۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Umar said while he was (sitting) on the pulpit: O people, the opinion from the Messenger of Allah ﷺ was right, because Allah showed (i. e. inspired) him; but from us it is sheer conjecture and artifice.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم معاملہ کو سمجھ کر اور غور و فکر کرکے کوئی رائے قائم کرتے ہیں پھر اس پر بھی اطمینان نہیں کہ وہ درست ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٠٦) (ضعیف) (زہری کی عمر ؓ سے ملاقات نہیں ہے )
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔
Abdur-Rahman bin Abi Bakrah reported on the authority of his father that he wrote to his son: The Messenger of Allah ﷺ said: A judge should not decide between the two while he is in anger.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں آیت کریمہ فإن جاءوک فاحکم بينهم أو أعرض عنهم جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ چاہیں تو فیصلہ کریں یا فیصلہ سے اعراض کریں (سورۃ المائدہ: ٤٢) منسوخ ہے، اور اب یہ ارشاد ہے فاحکم بينهم بما أنزل الله تو ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے (سورۃ المائدہ: ٤٨) ۔
Ibn Abbas said: The Quranic verse: If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere was abrogated by the verse: So judge between them by what Allah hath revealed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٣) (حسن الإسناد )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں جب یہ آیت فإن جاءوک فاحکم بينهم أو أعرض عنهم جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں (سورۃ المائدہ: ٤٢) وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (سورۃ المائدہ: ٤٢) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ ﷺ نے دیت برابر کردی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When this verse was revealed: If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere. . . . If thou judge, judge in equity between them. Banu an-Nadir used to pay half blood-money if they killed any-one from Banu Qurayzah. When Banu Qurayzah killed anyone from Banu an-Nadir, they would pay full blood-money. So the Messenger of Allah ﷺ made it equal between them.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٣) (حسن )
معاذ بن جبل ؓ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ ؓ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ ؓ نے عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کی سنت کے موافق، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے ۔
Some companions of Muadh ibn Jabal said: When the Messenger of Allah ﷺ intended to send Muadh ibn Jabal to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allahs Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allahs Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ . He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ and in Allahs Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah ﷺ then patted him on the breast and said: Praise be to Allah Who has helped the messenger of the Messenger of Allah to find something which pleases the Messenger of Allah.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣ (١٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٦، ٢٤٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٠ (١٧٠) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث اور حمص کے کچھ لوگ مبہم ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے ۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے ۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Conciliation between Muslims is permissible. The narrator Ahmad added in his version: except the conciliation which makes lawful unlawful and unlawful lawful. Sulayman ibn Dawud added: The Messenger of Allah ﷺ said: Muslims are on (i. e. stick to) their conditions.
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن ایسی شرط سے بچیں جو شریعت میں ناجائز ہے، اور جس سے آئندہ خرابی واقع ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٦) (حسن صحیح )
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ ﷺ ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ ﷺ نے کعب بن مالک ؓ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کردیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم ﷺ نے (ابن حدرد) سے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو ۔
Kab bin Malik said that in the time of the Messenger of Allah ﷺ he made demand in the mosque for payment of a debt due to him from Ibn Abi Hadrad, and their voices rose till the Messenger of Allah ﷺ , who was in his house, heard them. The Messenger of Allah ﷺ then went out to them and, removing the curtain of his apartment, he called to Kab bin Malik, addressing: Kab! He said: At your service, Messenger of Allah. Thereupon he made a gesture with is hand indicating: Remit half the debt due to you. Kab said: I shall do so, Messenger of Allah. The Prophet ﷺ then said: Get up and discharge
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو یا فرمایا: اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ١ ؎۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ ﷺ نے الذي يأتي بشهادته فرمایا، یا يخبر بشهادته کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ اخبار ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف ابن ابی عمر ۃ کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔
Zaid bin Khalid al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Shall I not tell you of the best witnesses ? He is the one who produces his deposition or gives his evidence (the narrator is doubtful) before he is asked for it. Abdullah bin Abi Bakr dobted which of them he said. Abu Dawud said: Malis said: This refers to a man gives his evidence, but he does not know for whom it is meant. Al-Hamdani said: He should inform the authorities. Ibn al-Sarh said: He should give it to the ruler. The work ikhbar (inform) occurs in the version of al-Hamdani. Ibn al-Sarh said: Ibn Abi Amrah and not Abdur-Rahman.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حقوق اللہ جیسے طلاق، عتق (غلام کی آزادی) اور وقف وغیرہ میں، یا جب مدعی سچا اور برحق ہو اور اسے گواہ نہ ملتا ہو اور کسی شخص کو اس کے حق کا حال معلوم ہو تو وہ شخص خود بخود جا کر حاکم اور قاضی کے پاس گواہی دے تاکہ صاحب معاملہ کی حق تلفی نہ ہو، اس قسم کی گواہی باعث اجر و ثواب ہے، زیر نظر حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دے گی کیونکہ اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٩ (١٧١٩)، سنن الترمذی/الشھادات ١ (٢٢٩٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٨ (٢٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢(٣) (صحیح )
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہوجائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کرلے ۔
Yahya ibn Rashid said: We were sitting waiting for Abdullah ibn Umar who came out to us and sat. He then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyones intercession intervenes as an obstacle to one of the punishments prescribed by Allah, he has opposed Allah; if anyone disputes knowingly about something which is false, he remains in the displeasure of Allah till he desists, and if anyone makes an untruthful accusation against a Muslim, he will be made by Allah to dwell in the corrupt fluid flowing from the inhabitants of Hell till he retracts his statement.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٥٦٢)، وقد أخرجہ: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی (٤٣٧)، مسند احمد (٢/٧٠، ٨٢، ٢/٧٠) (صحیح )