Sunan Abu Dawood 3585

فیصلوں کا بیان

3585Sunan Abu Dawood

قاضی کے فیصلہ میں خطا کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيث، قَالَ: يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہوچکی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے ۔

Umm Salamah reported the Prophet ﷺ as saying when two men were disputing over inheritance and old things: I decide between you on the basis of my opinion in cases about which no revelation has been sent down to me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٨١٧٤) (صحیح) (سابقہ حدیث کا نوٹ ملاحظہ ہو )