Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 180 of 265

3598Sunan Abu Dawood

گواہیوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ يَزِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ، فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے آپ نے فرمایا: اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہوگا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ through different chain of narrators to the same effect. In this version he also said: He who assits in a dispute unjustly deserves the anger of Allah, Most High.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٦ (٢٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٥) (حسن) (اس کے راوی مثنیٰ مجہول، اور مطر ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے حسن ہے، الإرواء ٧/٣٥٠، سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٤٣٧، ١٠٢١ )
3599Sunan Abu Dawood

جھوٹی گواہی دینے کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ، بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَرَأَ: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ 30 حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 29-30.

خریم بن فاتک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ ﷺ نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشرکين به بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر (سورۃ الحج: ٣٠) ۔

Narrated Khuraym Ibn Fatik: The Messenger of Allah ﷺ offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣٢ (٢٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الشھادات ٣ (٢٢٩٩)، مسند احمد (٤/٢٣١) (ضعیف) (اس کے راواة سفیان کے والد اور حبیب دونوں مجہول ہیں )
3600Sunan Abu Dawood

جس شخص کی گواہی رد کردی جائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغِمْرُ الْحِنَةُ، وَالشَّحْنَاءُ، وَالْقَانِعُ الْأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الْأَجِيرِ الْخَاصِّ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کردیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غمر کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور قانع سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔

Amr bin Shuaib on his fathers authority told that his grandfather said: The Messenger of Allah ﷺ rejected the testimony of a deceitful man and woman, of one who harbours rancour against his brother, and he rejected the testimony of one who is dependent on a family, and he allowed his testimony for other. Abu Dawud said: Ghimr means malice and enimity ; qani (dependant), a subordinate servant like a special servant.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٧١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١، ٢٠٣، ٢٠٤، ٢٢٥) (حسن )
3601Sunan Abu Dawood

جس شخص کی گواہی رد کردی جائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ طَارِقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ، وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں ۔

The tradition mentioned above (No. 3593) has also been transmitted by Sulayman ibn Musa through a different chain of narrators. This version has: The Messenger of Allah ﷺ said: The testimony of a deceitful man or woman, of an adulterer and adulteress, and of one who harbours rancour against his brother is not allowable.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٧١١) (حسن )
3602Sunan Abu Dawood

دیہاتی کی گواہی شہر والوں پر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The testimony of a nomad Arab against a townsman is not allowable.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣٠ (٢٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٣١) (صحیح )
3603Sunan Abu Dawood

رضاعت پر گواہی کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنِيهِصَاحِبٌ لِي عَنْهُ، وَأَنَا لِحَدِيثِ صَاحِبِي أَحْفَظُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا لَكَاذِبَةٌ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ ؟ وَقَدْ قَالَتْ: مَا قَالَتْ دَعْهَا عَنْكَ.

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ (عقبہ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے ١ ؎، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے چہرہ پھیرلیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو ۔

Uqbah bin al-Harith said: I married Umm Yahya daughter of Abu Ihab. A black woman entered upon us. She said that she had suckled both of us. So I came to the Prophet ﷺ , and amentioned it to him. He turned away from me. I said (to him): Messenger of Allah! she is a liar. He said: What do you know? She has said what she has said. Separate yourself from her (wife).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک مرضعہ (دودھ پلانے والی) کی گواہی کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
خ العلم ٢٦ (٨٨)، البیوع ٣ (٢٠٥٢)، الشھادات ٤ (٢٦٤٠)، ١٣ (٢٦٥٩)، ١٤ (٢٦٦٠)، النکاح ٢٣ (٥١٠٤)، سنن الترمذی/الرضاع ٤ (١١٥١)، سنن النسائی/النکاح ٥٧ (٣٣٣٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧، ٨، ٣٨٤)، سنن الدارمی/النکاح ٥١ (٢٣٠١) (صحیح )
3604Sunan Abu Dawood

رضاعت پر گواہی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمُانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ، وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: نَظَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى،الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالَ: هَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَصْحَابِ أَيُّوبَ.

اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Uqbah bin al-Harith to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid looked at al-Harith bin Umair and said: He is from reliable narrators from Ayyub.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٥) (صحیح )
3605Sunan Abu Dawood

سفر کے دوران وصیت پر کافر ذمی کی گواہی کا بیان

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاء هَذِهِ، وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَأَخْبَرَاهُ، وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، وَوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلَا كَذَبَا وَلَا بَدَّلَا وَلَا كَتَمَا وَلَا غَيَّرَا، وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا.

شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہوگیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ ؓ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری ؓ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی ﷺ میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ ؓ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ ؓ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کرلیں (اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا) ۔

Ash-Shabi said: A Muslim was about to die at Daquqa, but he did not find any Muslim to call him for witness to his will. So he called two men of the people of the Book for witness. Then they came to Kufah, and approaching Abu Musa al-Ashari they informed him (about his) will. They brought his inheritance and will. Al-Ashari said: This is an incident (like) which happened in the time of the Messenger of Allah ﷺ and never occurred after him. So he made them to swear by Allah after the afternoon prayer to the effect that they had not misappropriated, nor told a lie, nor changed, nor concealed, nor altered, and that it was the will of the man and his inheritance. He then executed their witness.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٠١٣) (صحیح الإسناد )
3606Sunan Abu Dawood

سفر کے دوران وصیت پر کافر ذمی کی گواہی کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَعُدَيِّ بْنِ بَدَّاءٍ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعُدَيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيهِمْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ سورة المائدة آية 106.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مرگیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدکم الموت سورة المائدة: (١٠٦) انہی کی شان میں اتری ١ ؎۔

Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : A man from Banu Sahm went out with Tamim ad-Dari and Adi ibn BAdda. The man of Banu Sahm died in the land where no Muslim was present. When they returned with his inheritance, they (the heirs) did not find a silver cup with lines of gold (in his property). The Messenger of Allah ﷺ administered on oath to them. The cup was then found (with someone) at Makkah. They said: We have bought it from Tamim and Adi. Then two men from the heirs of the man of Banu Sahm got up and swore saying: Our witness is more reliable than their witness. They said that the cup belonged to their man. He (Ibn Abbas) said: The following verse was revealed about them: O ye who believe! when death approaches any of you. . . . .

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں اس واقعہ کے وقت نصرانی تھے، یہی باب سے مطابقت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٣٥ (٢٧٨٠)، سنن الترمذی/التفسیر ٢٠ (٣٠٦٠)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥١) (صحیح )
3607Sunan Abu Dawood

جب حاکم کو کسی آدمی کی گواہی کے صحیح ہونے اور سچے ہونے کا یقین ہو تو اس پر فیصلہ کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ، فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ، فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسِ وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ: أَوْ لَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلَى، قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ، فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا، فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: بِمَ تَشْهَدُ ؟، فَقَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ.

عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کردیں، آپ ﷺ جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کردی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے خرید لیا ہے، چناچہ دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت ؓ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم ﷺ کو فروخت کرچکے ہو، نبی اکرم ﷺ خزیمہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت ؓ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے خزیمہ ؓ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔

Narrated Uncle of Umarah ibn Khuzaymah (RA) : The Prophet ﷺ bought a horse from a Bedouin. The Prophet ﷺ took him with him to pay him the price of his horse. The Messenger of Allah ﷺ walked quickly and the Bedouin walked slowly. The people stopped the Bedouin and began to bargain with him for the horse as and they did not know that the Prophet ﷺ had bought it. The Bedouin called the Messenger of Allah ﷺ saying: If you want this horse, (then buy it), otherwise I shall sell it. The Prophet ﷺ stopped when he heard the call of the Bedouin, and said: Have I not bought it from you? The Bedouin said: I swear by Allah, I have not sold it to you. The Prophet ﷺ said: Yes, I have bought it from you. The Bedouin began to say: Bring a witness. Khuzaymah ibn Thabit then said: I bear witness that you have bought it. The Prophet ﷺ turned to Khuzaymah and said: On what (grounds) do you bear witness? He said: By considering you trustworthy, Messenger of Allah ﷺ ! The Prophet ﷺ made the witness of Khuzaymah equivalent to the witness of two people.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٧٩ (٤٦٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٥) (صحیح )
3608Sunan Abu Dawood

ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكَّيُّ، قَالَ عُثْمَانُ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ١ ؎۔

Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ gave a decision on the basis of an oath and a single witness.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مدعی کے پاس ایک ہی گواہ تھا، نبی کریم ﷺ نے مدعی سے حلف لیا، اور یہ حلف ایک گواہ کے قائم مقام مان لیا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٢ (١٧١٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣١ (٢٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٦٢٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨، ٣١٥، ٣٢٣) (صحیح )
3609Sunan Abu Dawood

ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ عَمْرٌو: فِي الْحُقُوقِ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا (نہ کہ حدود میں) ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Amr bin Dinar through a different chain of narrators and to the same effect. Salamah has in his version: Amr said: In the rights (of the people).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٩٩) (صحیح )
3610Sunan Abu Dawood

ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلَا أَحْفَظُهُ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلًا عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہوگیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آگیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے عن ربیعہ عن أبیہ کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ gave a decision on the basis of an oath and a single witness. Abu Dawud said: Al-Rabi bin Sulaiman al-muadhdhin told me some additional words in this tradition: Al-Shafii told me from Abd al-Aziz. I then mentioned it fo Suhail who said: Rabiah told me - and he is reliable in my opinion - that I told him this (tradition) and I do not remember it. Abd al-Aziz said: Suhail suffered from some disease which caused him to lose a little of his intelligence, and he forgot some of his traditions. Thereafter Suhail would narrate traditions from Rabiah on the authority of his father.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٣ (١٣٤٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣١ (٢٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٤٠) (صحیح )
3611Sunan Abu Dawood

ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي.

ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Rabiah through the chain of Abu Musab and to the same effect. Sulaiman said: I then met Suhail and asked him about this tradition. He said: I do not know it. I said to him: Rabiah transmitted it to me from you. He said: If Rabiah transmitted it to you from me, then retransmit it from Rabiah on my authority.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٤٠) (صحیح )
3612Sunan Abu Dawood

ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّيالزُّبَيْبَ، يَقُولُ: بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ، إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ بَيِّنَتُكَ ؟، قُلْتُ: سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ، لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا، فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ، لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ الْعَمَلَ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا، قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُه، فَقَالَ لِي: احْبِسْهُ، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ ؟، فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي، قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ.

زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ ١ ؎ میں گرفتار کرلیا، اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کرلیا، حالانکہ ہم مسلمان ہوچکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ٢ ؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کردیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کردیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چناچہ آپ ﷺ نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہوچکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کرلو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا تو شک چھین لیا ہے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا تو شک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔

Narrated Zubayb ibn Thalabah al-Anbari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent an army to Banu al-Anbar. They captured them at Rukbah in the suburbs of at-Taif and drove them to the Holy Prophet ﷺ . I rode hurriedly to the Holy Prophet ﷺ and said: Peace be on you, Messenger of Allah, and the mercy of Allah and His blessings. Your contingent came to us and arrested us, but we had already embraced Islam and cut the sides of the ears of our cattle. When Banu al-Anbar arrived, the Holy Prophet ﷺ said to me: Have you any evidence that you had embraced Islam before you were captured today? I said: Yes. He said: Who is your witness? I said: Samurah, a man from Banu al-Anbar, and another man whom he named. The man testified but Samurah refused to testify. The Holy Prophet ﷺ said: He (Samurah) has refused to testify for you, so take an oath with your other witness. I said: Yes. He then dictated an oath to me and I swore to the effect that we had embraced Islam on a certain day, and that we had cut the sides of the ears of the cattle. The Holy Prophet ﷺ said: Go and divide half of their property, but do not touch their children. Had Allah not disliked the wastage of action, we should not have taxed you even a rope. Zubayb said: My mother called me and said: This man has taken my mattress. I then went to the Holy Prophet ﷺ and informed him. He said to me: Detain him. So I caught him with a garment around his neck, and stood there with him. Then the Holy Prophet ﷺ looked at us standing there. He asked: What do you intend (doing) with your captive? I said: I shall let him go free if he returns to this (man) the mattress of his mother which he has taken from her. He said: Prophet of Allah ﷺ , I no longer have it. He said: The Holy Prophet ﷺ took the sword of the man and gave it to me, and said to him: Go and give him some sas of cereal. So he gave me some sas of barley.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” ركبة “: طائف کے نواح میں ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎: خطابی کہتے ہیں: شاید پہلے زمانہ میں مسلمانوں کے جانوروں کی یہ علامت رہی ہوگی کہ ان کے کان پھٹے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٦١٩) (ضعیف) (اس کے رواة ” عمار “ اور ” شعیث “ دونوں لین الحدیث ہیں )
3613Sunan Abu Dawood

دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ ﷺ کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : Two men claimed a camel or an animal and brought the case to the Holy Prophet ﷺ . But as neither of them produced any proof, the Holy Prophet ﷺ declared that they should share it equally.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/آداب القضاة ٣٤ (٥٤٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣٣٠)، (تحفة الأشراف والإرواء: ٢٦٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٢) (ضعیف) (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے )
3614Sunan Abu Dawood

دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Saeed through a different chain of narrators to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٨) (ضعیف )
3615Sunan Abu Dawood

دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ.

اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the effect that two men laid claim camel and both of them produced witness so the prophet ﷺ divided it in halves between them.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦١٣، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٨) (ضعیف )
3616Sunan Abu Dawood

دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ١ ؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Two men disputed about some property and brought the case to the Holy Prophet ﷺ , but neither of them could produce any proof. So the Holy Prophet ﷺ said: Cast lots about the oath whatever it may be, whether they like it or dislike it.

Notes · وضاحت
١ ؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٨٩، ٥٢٤) (صحیح )
3617Sunan Abu Dawood

دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا، قَالَ سَلَمَةُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَقَالَ: إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے) ۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں حدثنا معمر کے بجائے أخبرنا معمر اور إذا كَرِهَ الاثنان اليمين کے بجائے إذا أكره الاثنان على اليمين ہے۔

Abu Hurairah reported the holy prophet ﷺ as saying: When two men dislike the oath or like it, lots will be cost about it. Salamah said on the authority of Mamar who said: when the two are compelled to take an oath.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشہادات ٢٤ (٢٦٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦٠٠١) (صحیح )