Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 181 of 265

3618Sunan Abu Dawood

دو آدمی کسی چیز کا دعوی کریں لیکن گواہ کسی کے پاس نہ ہو تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.

سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں في متاع کے بجائے في دابة کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Saeed bin ‘Urubah through the chain as narrated by Ibn Minhal. This version has: About an animal and they had no proof. So the Messenger of Allah ﷺ ordered to cast lots about the oath.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٢) (صحیح) بما قبلہ
3619Sunan Abu Dawood

قسم اٹھانا مدعی علیہ کے ذمہ ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے (یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے) ۔

Ibn Abi Mulaikah said: Ibn Abbas wrote to me that the Messenger of Allah ﷺ had defendant should take an oath.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرھن ٦ (٢٥١٤)، الشھادات ٢٠ (٢٦٦٨)، تفسیر آل عمران ٣ (٤٥٥٢)، صحیح مسلم/الأقضیة ١ (١٧١١)، سنن الترمذی/الأحکام ١٢ (١٣٤٢)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٥ (٥٤٢٧)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٢، ٥٧٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٤٢، ٣٥١، ٣٥٦، ٣٦٣) (صحیح )
3620Sunan Abu Dawood

حلف کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ: احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ، يَعْنِي لِلْمُدَّعِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Holy Prophet ﷺ said to a man whom he asked to take an oath: Swear by Allah except whom there is no god that you have nothing belonging to him, i. e. the plaintiff.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٤٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ١/٢٨٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عطاء اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے )
3621Sunan Abu Dawood

اگر مدعا علیہ ذمی ہو تو کیا اس سے حلف لیا جائے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

اشعث ؓ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں (سورة آل عمران: ٧٧) ۔

Al-Ashath bin Qais said: A Jew and I shared some land and he denied my right, so I took him to the holy prophet ﷺ . The holy prophet ﷺ said to me: Have you have proof. I said: No. He then said to the Jew: Swear an oath I said Messenger of Allah, he will swear an oath and go off my property. So Allah sent down: “Those who barter for a small price Allah’s covenant and their oaths. . . . to the end of the verse.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المساقاة ٤ (٢٣٥٦)، الرہن ٦ (٢٥١٥، ٢٥١٦)، الشہادات ١٩ (٢٢٦٦، ٢٢٦٧)، التفسیر ٣ (٤٥٤٩)، الأیمان ١١ (٦٦٥٩، ٦٦٦٠)، الأحکام ٣٠ (٧١٨٣، ٧١٨٤)، صحیح مسلم/ الإیمان ٦١ (١٣٨)، سنن الترمذی/ البیوع ٤٢ (١٢٩)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨، ٩٢٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١١) (صحیح )
3622Sunan Abu Dawood

کسی ایسے امر پر قسم کھانا جو اس کی غیر موجودگی میں ہوا ہو اور اسے صرف علم ہو

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کرلی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہوگیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر: ٣٢٤٤) ۔

Al-Ashath bin Qais said: A men from Kindah and a men from Hadramawt came to the Holy Prophet ﷺ with their dispute about a land in the Yemen. The Hadrami said: Messenger of Allah, the this (man)had usurped land belonging to me, and it is his possession. He asked: Have you any proof ?He replied: No, but I can have him swear on oath. Allah knows that it is my land, and father seized it from me. The Kindi was prepared to take oath. He then narrated the rest of the tradition.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٩) (صحیح )
3623Sunan Abu Dawood

کسی ایسے امر پر قسم کھانا جو اس کی غیر موجودگی میں ہوا ہو اور اسے صرف علم ہو

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ.

وائل بن حجر حضرمی ؓ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ ﷺ نے (کندی سے) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ ﷺ نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔

Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami said on the authority of the father: A man from Hadramaw and a man from kindah came to the Messenger of Allah ﷺ . The hadrami said: Messenger of Allah, this (man) has seized land which belonged to my father. Al-Kindi said: That is my land in my possession and I cultivate it; he has no right to it. The Holy prophet (may be peace upon him) said to the Hadrami: Have you any proof? We said: No. he (the Prophet)said: Then he will swear an oath for you. He said: Messenger of Allah, he is a reprobate and he would not care to swear to anything and stick at nothing. He said: That is only your recourse

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٨) (صحیح )
3624Sunan Abu Dawood

ذمی سے حلف کیسے لیا جائے گا؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِلْيَهُودِ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الرَّجْمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔

Abu Hurairah said: The holy Prophet ﷺ said to the Jew: I adjure you by Allah Who sent down the Torah to Moses! do you not find in the Torah (a rule about a man) who commits adultery. He then narrated the rest of the tradition relating to the stoning.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٩٢) (ضعیف) (اس کا راوی رجل من مزینة مبہم ہے )
3625Sunan Abu Dawood

ذمی سے حلف کیسے لیا جائے گا؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مُزْيَنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrator. This version has: A man from Muzainah who followed the knowledge and memorized it to me that Saeed bin al-Musayyab transmitted it. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٩٢) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی وہی مجہول راوی ہے )
3626Sunan Abu Dawood

ذمی سے حلف کیسے لیا جائے گا؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ صُورِيَا: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ ؟قَالَ: ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ وَلَا يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے یعنی ابن صوریا ١ ؎ سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من وسلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم (زانی کو پتھر مارنے) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Narrated Ikrimah (RA) : The Holy Prophet ﷺ said to Ibn Suriya: I remind you by Allah Who saved you from the people of Pharaoh, made you cover the sea, gave you the shade of clouds, sent down to you manna and quails, sent down you Torah to Moses, do you find stoning (for adultery) in your Book? He said: You have reminded me by the Great. It is not possible for me to belie you. He then transmitted the rest of the tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک یہودی عالم کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفر بہ أبو داود (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل ہے )
3627Sunan Abu Dawood

آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عليْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ، فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہوجاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔

Narrated Awf ibn Malik: The Holy Prophet ﷺ gave a decision between two men, and the one against whom the decision was given turned away and said: For me Allah sufficeth, and He is the best dispenser of affairs. The Holy Prophet ﷺ said: Allah, Most High, blames for falling short, but apply intelligence, and when the matter gets the better of you, say; For me Allah sufficeth, and He is the best disposer of affairs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی بقیہ ضعیف ہیں )
3628Sunan Abu Dawood

آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ: يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ.

شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کردیتا ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔

Narrated Ash-Sharid: The Prophet ﷺ said: Delay in payment on the part of one who possesses means makes it lawful to dishonour and punish him. Ibn al-Mubarak said that dishonour means that he may be spoken to roughly and punish means he may be imprisoned for it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٨ (٤٦٩٣)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن )
3629Sunan Abu Dawood

آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: الْزَمْهُ، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ ؟.

حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ ان کے والد نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اس کو پکڑے رہو پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو؟ ۔

Narrated Grandfather of Hirmas ibn Habib: I brought my debtor to the Holy Prophet ﷺ . He said to me: Stick to him. He again said to me: O brother of Banu Tamim, what do you want to do with your prisoner.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی ہر م اس اور حبیب دونوں مجہول ہیں )
3630Sunan Abu Dawood

آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ.

معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔

Bahz bin Hakim, on his fathers authority, said that his grandfather told that the Prophet ﷺ imprisoned a man on suspicion.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٢١ (١٤١٧)، سنن النسائی/قطع السارق ٢ (٤٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢، ٤، ٤/٤٤٧) (حسن )
3631Sunan Abu Dawood

آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ، وَقَالَ مُؤَمَّل: إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ، لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ.

معاویہ بن حیدہ ؓ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیرلیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔

Bahz ibn Hakim reported from his grandfather: (Ibn Qudamahs version has: His grandfathers brother or uncle reported:) - the narrator Muammal said: - He (his grandfather Muawiyah) got up before the Holy Prophet ﷺ who was giving sermon: and he said: Why have your companions arrested my neighbours? He turned away from him twice. He (his grandfather Muawiyah) then mentioned something. The Holy Prophet ﷺ then said: Let his neighbours go. (Muammal did not mention the words He was giving sermon. )

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٩) (حسن الإسناد )
3632Sunan Abu Dawood

وکالت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ: إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I intended to go (on expedition) to Khaybar. So I came to the Holy Prophet ﷺ , greeted him and said: I am intending to go to Khaybar. He said: When you come to my agent, you should take from him fifteen wasqs (of dates). If he asks you for a sign, then place your hand on his collar-bone.

Notes · وضاحت
١ ؎: شاید یہی نشانی آپ ﷺ نے اپنے وکیل کو بتائی ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٣١) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
3633Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا تَدَارَأْتُمْ فِي طَرِيقٍ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی راستہ کے متعلق جھگڑو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دو ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If you dispute over a pathway, leave the margin of seven yards.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ راہ چلنے والوں اور جانوروں کے لئے اتنا کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٠ (١٣٥٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٦ (٢٣٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (١٦١٣)، مسند احمد (٢/٤٦٦، ٤٧٤) (صحیح )
3634Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعُهُ، فَنَكَّسُوا، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ أَعْرَضْتُمْ ؟ لَأُلْقِيَنَّهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ وَهُوَ أَتَمُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا (یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔

Abu Hurairah reported the Holy Prophet ﷺ as saying: When one of you asks permission for inserting a wooden peg in his wall, he should not prevent him. So they (the people) lowered down their heads. Then he (Abu Hurairah) said: What is the matter ? I am seeing you are neglecting (to hear this tradition), I shall spread it among you. Abu Dawud said: This is the tradition of Ibn Abi Khalaf is more perfect.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٠ (٢٤٦٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٩ (١٦٠٩)، سنن الترمذی/الأحکام ١٨ (١٣٥٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٥ (٢٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢٦ (٣٢)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٧٤، ٣٩٦، ٤٦٣) (صحیح )
3635Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ.

ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا ۔

Narrated Abu Sirmah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone harms (others), Allah will harm him, and if anyone shows hostility to others, Allah will show hostility to him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٢٧ (١٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٧ (٢٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٣) (حسن )
3636Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّيُحَدِّثُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍأَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، قَالَ: فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، قَالَ: فَهِبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا أَمْرًا رَغَّبَهُ فِيهِ، فَأَبَى، فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ ؓ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کردینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کرلیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: اسے بیچ ڈالو پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم مضار یعنی ایذا دینے والے ہو تب رسول اللہ ﷺ نے انصاری سے فرمایا: جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو ۔

Abu Jafar Muhammad bin Ali reported from Samurah ibn Jundub that he had a row of palm-trees in the garden of a man of the Ansar. The man had his family with him. Samurah used to visit his palm-trees, and the man was annoyed by that and felt it keenly. So he asked him (Samurah) to sell them to him, but he refused. He then asked him to take something else in exchange, but he refused. So he came to the Holy Prophet ﷺ and mentioned it to him. The Holy Prophet ﷺ asked him to sell it to him, but he refused. He asked him to take something else in exchange, but he refused. He then said: Give it to him and you can have such and such, mentioning something with which he tried to please him, but he refused. He then said: You are a nuisance. The Messenger of Allah ﷺ then said to the Ansari: Go and uproot his palm-trees.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٣) (ضعیف) (محمد بن علی باقر نے سمرة ؓ کو نہیں پایا ہے )
3637Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَجُلًا خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ سورة النساء آية 65.

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے زبیر ؓ سے حرۃ کی نالیوں کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر ؓ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر ؓ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے زبیر ؓ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو یہ سن کر انصاری کو غصہ آگیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے زبیر ؓ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ کھیت کے مینڈھوں تک بھر جائے ۔ زبیر ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں یہ آیت فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموك قسم ہے تیرے رب کی وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپ کو اپنا فیصل نہ مان لیں (سورة النساء: ٦٥) اسی بابت اتری ہے۔

Narrated Abdullah ibn az-Zubayr: A man disputed with az-Zubayr about streamlets in the lava plain which was irrigated by them. The Ansari said: Release the water and let it run, but az-Zubayr refused. The Holy Prophet ﷺ said to az-Zubayr: Water (your ground), Zubayr, then let the water run to your neighbour. The Ansari then became angry and said: Messenger of Allah! it is because he is your cousin! Thereupon the face of the Messenger of Allah ﷺ changed colour and he said: Water (your ground), then keep back the water till it returns to the embankment. Az-Zubayr said: By Allah! I think this verse came down about that: But no, by thy Lord! they can have no (real) faith, until they make thee judge. . . . .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المساقاة ٦ (٢٣٦٠)، ٨ (٢٣٦٢)، الصلح ١٢ (٢٧٠٨)، تفسیر سورة النساء ١٢ (٤٥٨٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٦ (١٣٦٣)، تفسیر النساء (٣٢٠٧)، سنن النسائی/القضاة ٢٦ (٥٤١٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥)، الرھون ٢٠ (٢٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٥) (صحیح )