Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 15 of 265

282Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں ایک ایسی عورت ہوں جس کو برابر استحاضہ کا خون آتا ہے، کبھی پاک نہیں رہتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ی ہ تو صرف ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، تم کو حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب وہ ختم ہوجائے تو خون دھو لو، پھر (غسل کر کے) نماز پڑھ لو ۔

Urwah reported on the authority of Aisha (RA) : Fatimah daughter of Abu Hubaish came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I am a woman who has prolonged flow of blood; I am never purified ; should I abandon prayer ? He replied: This is (due to) a vein, and not menstruation. When the menstruation begins, you should abandon prayer ; when it is finished, you should wash away the blood and pray.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٣ (٢٢٨)، والحیض ٨ (٣٠٦)، ١٩ (٣٢٠)، ٢٤ (٣٢٥)، ٢٦ (٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٣)، سنن الترمذی/الطھارة ٩٣ (١٢٥)، سنن النسائی/الطھارة ١٣٤ (٢٠١)، ١٣٥ (٢١٢)، والحیض ٤ (٣٥٨)، ٦ (٣٦٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٥ (٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨٠١) (صحیح )
283Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي.

اس طریق سے بھی ہشام نے زہیر کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کے بقدر (دن) گزر جائیں تو اپنے سے خون دھو ڈالو، اور (غسل کر کے) نماز پڑھ لو ۔

This tradition has also been transmitted by Zuhair through a different chain of narrators, to the same effect. He said: When the menstruation begins, you should abandon prayer; when the period equal to its length of time passes, you should wash away the blood and pray.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٨(٣٠٦)، سنن النسائی/الطہارة (١٣٨ (٢١٩)، (تحفة الأشراف: ١٧١٤٩) (صحیح )
284Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ، فَلْتَعْتَدَّ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ أَوْ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّي.

بہیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ایک عورت کے بارے میں جس کا حیض بگڑ گیا تھا اور خون برابر آ رہا تھا (مسئلہ) پوچھتے ہوئے سنا (ام المؤمنین عائشہ کہتی ہیں) : تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں اسے بتاؤں کہ وہ دیکھ لے کہ جب اس کا حیض صحیح تھا تو اسے ہر مہینے کتنے دن حیض آتا تھا؟ پھر اسی کے بقدر ایام شمار کر کے ان میں یا انہیں کے بقدر ایام میں نماز چھوڑ دے، غسل کرے، کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Bahiyyah said: I heard a woman asking Aisha (RA) about the woman whose menses became abnormal and she had an issue of blood. The Messenger of Allah ﷺ asked me to advise her that she should consider the period during which she used to menstruate every month, when her menstruation was normal. Then she should count the days equal to the length of time (of her normal menses); then she should abandon prayer during those days or equal to that period. She should then take a bath, tie a cloth on her private parts a pray.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٦) (ضعیف) (اس کی سند میں واقع بہیَّہ مجہول ہیں )
285Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَرَوَاهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، وَيُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَمَعْمَرٌ،وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَإِنَّمَا هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيهِ أَيْضًا: أَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَهُوَ وَهْمٌ مِنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ الزُّهْرِيِّ، فِيهِ شَيْءٌ يَقْرُبُ مِنَ الَّذِي زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کی بیوی ام حبیبہ بنت حجش ؓ کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھتی رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں اوزاعی نے زہری سے، زہری نے عروہ اور عمرہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یوں اضافہ کیا ہے کہ: ام حبیبہ بنت حجش ؓ کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے عقد میں تھیں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جب حیض آجائے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہوجائے تو غسل کر کے نماز پڑھو۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اوزاعی کے علاوہ زہری کے کسی اور شاگرد نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے، اسے زہری سے عمرو بن حارث، لیث، یونس، ابن ابی ذئب، معمر، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن کثیر، ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ صرف ہشام بن عروہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جسے انہوں نے اپنے والد سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے اس میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا، یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ١ ؎، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے زہری سے نقل کیا ہے کچھ ایسی چیز ہے، جو اوزاعی کے اضافہ کے قریب قریب ہے ٢ ؎۔

Aishah said: Umm Habibah, daughter of Jahsh and sister-in-law of Messenger of Allah ﷺ m and wife of Abdur-Rahman bin Awf, had a prolonged flow of blood for seven years. She inquired from the Messenger of Allah ﷺ about it. The Messenger of Allah ﷺ said: This is not menstruation, but this (due to) a vein. Therefore, wash yourself and pray. Abu Dawud said: In this tradition which is transmitted by al-Zuhri from Urwah and Urwah on the authority of Aisha (RA) , al-Awzai added: She (Aishah) said: Umm Habibah daughter of Jahsh and wife of Abdur-Rahman bin Awf had a prolonged flow of blood for seven years. The Prophet ﷺ commander her saying: When the menstruation begins, abandon prayer; when it is finished, take a bath and pray. Abu Dawud said: None of the disciple of al-Zuhri mentioned these words except al-Awzai, from al-Zuhri it has been narrated by Amr bin al-Harith, al-Laith, Yunus, Ibn Abi Dhib, Mamar, Ibrahim bin Saad, Sulaiman bin Kathir, Ibn Ishaq and Sufyan bin Uyainah, they did not narrate these words. Abu Dawud said: These are the words of the version reported by Hisham bin Urwah from this father on the authority of Aisha (RA) . Abu Dawud said: In this tradition Ibn Uyainah also added the words: He commander her to abandon prayer during her menstrual period. This is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah. The version of this tradition narrated by Muhammad bin Amr from al-Zuhri has the addition similar to that made by al-Awzai in his version.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کا یہ قول حدیث نمبر ٢٨١ میں گزر چکا ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث کو مختلف رواۃ نے متعدد طریقے اور الفاظ سے روایت کیا ہے اس سے اصل مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مستحاضہ حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھے گی اور ان مخصوص ایام کے گزر جانے کے بعد وہ غسل کر کے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرے اور شرمگاہ پر لنگوٹ کس کر نماز پڑھا کرے گی، یا پھر دو دو نماز کے لئے ایک بار وضو کرے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٧)، صحیح مسلم/الحیض ١٤(٣٣٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٥ (٢١١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٥ (٦٢٦) (تحفة الأشراف: ١٧٩٢٢، ١٦٥٧٢) (صحیح )
286Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ، فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ بَعْدُ حِفْظًا، قَالَ: حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي، وقَالَ مَكْحُولٌ: إِنَّ النِّسَاءَ لَا تَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، إِنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ، فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رَقِيقَةً، فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَرَكَتِ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتِ اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَرَوَى سُمَيٌّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، الْحَائِضُ إِذَا مَدَّ بِهَا الدَّمُ تُمْسِكُ بَعْدَ حَيْضَتِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ، وقَالَ التَّيْمِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، إِذَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا خَمْسَةُ أَيَّامٍ، فَلْتُصَلِّ، وقَالَ التَّيْمِيُّ: فَجَعَلْتُ أَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَتْ يَوْمَيْنِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ حَيْضِهَا، وسُئِلَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْهُ، فَقَالَ: النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ.

فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچان لیا جاتا ہے، جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب اس کے علاوہ خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مثنی کا بیان ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے اپنی کتاب سے اسی طرح بیان کی ہے پھر اس کے بعد انہوں نے ہم سے اسے زبانی بھی بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ہے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ فاطمہ ؓ کو استحاضہ کا خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انس بن سیرین نے مستحاضہ کے سلسلے میں ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب وہ گاڑھا کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے (یعنی کالا خون کا آنا بند ہوجائے) خواہ تھوڑی ہی دیر سہی، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور مکحول نے کہا ہے کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون کالا اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہوجائے اور زرد اور پتلا ہوجائے، تو وہ (عورت) مستحاضہ ہے، اب اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مستحاضہ کے بارے میں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے قعقاع بن حکیم سے، قعقاع نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جب حیض آئے تو نماز ترک کر دے، اور جب حیض آنا بند ہوجائے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔ سمیّ وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے (یعنی نماز سے رکی رہے) ۔ ایسے ہی اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ عورت کا خون جب زیادہ دن تک جاری رہے تو وہ اپنے حیض کے بعد ایک یا دو دن نماز سے رکی رہے، پھر وہ مستحاضہ ہوگی۔ تیمی، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں، تو اب وہ نماز پڑھے۔ تیمی کا بیان ہے کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آگیا: جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض کے ہی ہیں۔ ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: عورتیں اسے زیادہ جانتی ہیں۔

Narrated Fatimah daughter of Abu Hubaysh (RA) : Urwah ibn az-Zubayr reported from Fatimah daughter of Abu Hubaysh that her blood kept flowing, so the Prophet ﷺ said to her: When the blood of the menses comes, it is black blood which can be recognised; so when that comes, refrain from prayer; but when a different type of blood comes, perform ablution and pray, for it is (due only to) a vein. Abu Dawud said: Ibn al-Muthanna narrates this tradition from his book on the authority of Ibn Adi in a similar way. Later on he transmitted it to us from his memory: Muhammad bin Amr reported to us from al-Zuhri from Urwah on the authority of Aisha (RA) who said: Fatimah used to have her blood flowing. He then reported the tradition conveying the same meaning. Abu Dawud said: Anas bin Sirin reported from Ibn Abbas about the woman who has a prolonged flow of blood. He said: If she sees thick blood, she should not pray; if she finds herself purified even for a moment, she should was an pray. Makhul said: Menses are not hidden from women. Their blood is black and thick. When it (blackness and thickness) goes away and there appears yellowness and liquidness, that is the flow of blood (from vein). She should wash and pray. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Saeed bin al-Musayyab through a different chain of narrators, saying: The woman who has a prolonged flow of blood should abandon prayer when the menstruation begins; when it is finished, she should wash and pray. Sumayy and others have also reported it from Saeed bin al-Musayyab. This version adds: She should refrain (from prayer) during her menstrual period. Hammad bin Salamah has reported it similarly from Yahya bin Saeed on the authority of Saeed bin al-Musayyab. Abu Dawud said: Yunus has reported from Al-Hasan: When the bleeding of a menstruating woman extends (beyond the normal period), she should refrain (from prayer), after her menses are over, for one or two days. Now she becomes the woman who has a prolonged flow of blood. Al-Taimi reported from Qatadah (RA) : If her menstrual period is prolonged by five days, she should pray. Al-Taimi said: I kept on reducing (the number of days) until I reached two days. He said: If the period extends by two days, they will be counted from the menstrual period. When Ibn Sirin was questioned about it, he said: Women have better knowledge of that.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٣٥ (٢١١) (تحفة الأشراف: ١٨٠١٩، ١٦٦٢٦) (حسن )
287Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ ؟ فَقَالَ: أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَاتَّخِذِي ثَوْبًا، فَقَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ، قَالَ لَهَا: إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِيكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ، فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدِرْتِ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: فَقَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ، لَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ رَجُلُ سُوءٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ صَدُوقًا فِي الْحَدِيثِ، وَثَابِتُ بْنُ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ ثِقَةٌ، وَذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، يَقُولُ: حَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ.

حمنہ بنت حجش ؓ کہتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ سے مسئلہ پوچھنے، اور آپ کو اس کی خبر دینے آئی، میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت حجش ؓ کے گھر پایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے، اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں (شرمگاہ پر) روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہوجائے گا ، حمنہ نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو ، انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان دونوں میں سے جس کو بھی تم اختیار کرلو وہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے زیادہ جانتی ہو ، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ تو شیطان کی لات ہے، لہٰذا تم (ہر ماہ) اپنے آپ کو چھ یا سات دن تک حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو، اور جب تم اپنے آپ کو پاک و صاف سمجھ لو تو تیئس یا چوبیس روز نماز ادا کرو اور روزے رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح ہر ماہ تم بھی کرلیا کرو، اور اگر تم ظہر کی نماز مؤخر کرنے اور عصر کی نماز جلدی پڑھنے پر قادر ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو جمع کرلو اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء میں جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نماز کو ایک ساتھ ادا کرو، اور ایک نماز فجر کے لیے غسل کرلیا کرو، تو اسی طرح کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم اس پر قادر ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ حمنہ ؓ نے کہا: یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے، انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کا قول نہیں بلکہ حمنہ ؓ کا قول قرار دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ثابت رافضی برا آدمی ہے، لیکن حدیث میں صدوق ہے۔ اور ثابت بن مقدام ثقہ آدمی ہیں۔ ١ ؎، اس کا ذکر انہوں نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں بےاطمینانی ہے ٢ ؎۔

Narrated Hamnah daughter of Jahsh (RA) : Hamnah said my menstruation was great in quantity and severe. So I came to the Messenger of Allah ﷺ for a decision and told him. I found him in the house of my sister, Zaynab, daughter of Jahsh. I said: Messenger of Allah, I am a woman who menstruates in great quantity and it is severe, so what do you think about it? It has prevented me from praying and fasting. He said: I suggest that you should use cotton, for it absorbs the blood. She replied: It is too copious for that. He said: Then take a cloth. She replied: It is too copious for that, for my blood keeps flowing. The Messenger of Allah ﷺ said: I shall give you two commands; whichever of them you follow, that will be sufficient for you without the other, but you know best whether you are strong enough to follow both of them. He added: This is a stroke of the Devil, so observe your menses for six or seven days, Allah alone knows which it should be; then wash. And when you see that you are purified and quite clean, pray during twenty-three or twenty-four days and nights and fast, for that will be enough for you, and do so every month, just as women menstruate and are purified at the time of their menstruation and their purification. But if you are strong enough to delay the noon (Zuhr) prayer and advance the afternoon (Asr) prayer, to wash, and then combine the noon and the afternoon prayer; to delay the sunset prayer and advance the night prayer, to wash, and then combine the two prayers, do so: and to wash at dawn, do so: and fast if you are able to do so if possible. The Messenger of Allah ﷺ said: Of the two commands this is more to my liking. 1 Abu Dawud said: Amr bin Thabit narrated from Ibn Aqil: Hamnah said: Of the two commands this is the one which is more to my liking. 2 In this version these words were not quoted as the statement of the Prophet ﷺ ; it gives it as a statement of Hamnah. Abu Dawud said: Amr bin Thabit was a Rafidi. This has been said by Yahya bin Main. Abu Dawud said: I heard Ahmad (b. Hanbal) say: I am doubtful about the tradition transmitted by Ibn Aqil.

Notes · وضاحت
١ ؎: ثابت بن مقدام کا تذکرہ مؤلف نے برسبیل تذکرہ عمرو بن ثابت بن ابی المقدام کی وجہ سے کردیا ہے، ورنہ یہاں کسی سند میں ان کا نام نہیں آیا ہے، عمرو بن ثابت کو حافظ ابن حجر نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے۔ ٢ ؎: لیکن بتصریح ترمذی امام بخاری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے حتی کہ امام احمد نے بھی اس کی تحسین کی ہے، حافظ ابن القیم نے اس پر مفصل بحث کی ہے، اس کی تائید حدیث نمبر: (٣٩٤) سے بھی ہو رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٩٥ (١٢٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٥ (٦٢٢، ٦٢٧) (تحفة الأشراف: ١٥٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٩، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨١٢) (حسن )
288Sunan Abu Dawood

مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش ؓ کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو وہ اپنی بہن زینب بنت حجش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے لگن میں غسل کرتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی تھی۔

Aishah, wife of Prophet ﷺ , said: Umm Habibah, daughter of Jahsh, sister-in-law of Messenger of Allah ﷺ and wife of Abdur-Rahman bin Awf, had a flow of blood for seven years. She asked the Messenger of Allah ﷺ about it. The Messenger of Allah ﷺ said: This is not menstruation but only vein; so you should take a bath and pray. Aisha (RA) said: She used to take bath in a wash-tub in the apartment of her sister Zainab daughter of Jahsh ; the redness of (her) blood dominated the water.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٥، (تحفة الأشراف: ١٧٩٢٢، ١٦٥٧٢) (صحیح )
289Sunan Abu Dawood

مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.

اس سند سے ام حبیبہ ؓ سے بھی یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔

This tradition has been transmitted through a different chain of narrators. According to this version. Aisha (RA) said: She would wash herself for every prayer.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٤) (صحیح )
290Sunan Abu Dawood

مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، بِمَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَلَمْ يَقُلْ إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ أَيْضًا، قَالَ فِيهِ: قَالَتْ عَائِشَة: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے وہ (ام حبیبہ ؓ) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قاسم بن مبرور نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے، اور انہوں نے ام حبیبہ بنت جحش ؓ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے معمر نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے، اور کبھی کبھی معمر نے عمرہ سے، انہوں نے ام حبیبہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ انہوں (زہری) نے یہ نہیں کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں (ام حبیبہ کو) غسل کرنے کا حکم دیا، نیز اسی طرح اسے اوزاعی نے بھی روایت کی ہے اس میں ہے کہ عائشہ نے کہا: وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔

This has been narrated though a different chain of narrators by Aisha (RA) . This version has the words: She used to take a bath for every prayer. Abu Dawud said: Al-Qasim bin Mabrur reported from Yunus from Ibn Shihab from Amrah from Aisha (RA) from Umm Habibah daughter of Jahsh. Similarly, it was reported by Mamar from al-Zuhri from Amrah from Aisha (RA) . Mamar sometimes reported from Amrah on the authority of Umm Habibah to the same effect. Similarly, it was reported by Ibrahim bin Saad and Ibn Uyainah from al-Zuhri from Amrah from Aisha (RA) . Ibn Uyainah said in his version: He (al-Zuhri) did not say that the Prophet ﷺ commanded her to take bath. It has also been transmitted by al-Awzai in a similar way. In this version he said: Aisha (RA) said: She used to take bath for very prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٤)، سنن الترمذی/الطہارة ٩٦ (١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٣) (صحیح )
291Sunan Abu Dawood

مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ ؓ (حمنہ) کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا، چناچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔

Aishah said: Umm Habibah had a prolonged flow of blood for seven years. The Messenger of Allah ﷺ commanded her to take bath; so shed used to take bath for every prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٧) (تحفة الأشراف: ١٧٩١٠، ١٦٦١٩) (صحیح )
292Sunan Abu Dawood

مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المؤمنین زینب بنت حجش ؓ کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرو ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔

Aishah said: Umm Habibah had a prolonged flow of blood during the time of Messenger of Allah ﷺ . He commanded her to take bath for every prayer. The narrator then transmitted the tradition (in full). Abu Dawud said: It has also been narrated by Abu al-Walid al-Tayalisi, but I did not hear him. He reported it from Aisha (RA) through a different chain of narrators. Aisha (RA) said: Zainab daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood. The Prophet ﷺ said to her: Take bath for every prayer. The narrator then reported the tradition (in full). Abu Dawud said: The version transmitted by Abd al-Samad from Sulaiman bin Kathir has: Perform ablution for every prayer. This is a misunderstanding on the part of Abd al-Samad. The correct version is the one narrated by Abu al-Walid.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ١٦٦١٠، ١٦٤٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٧) (صحیح )
293Sunan Abu Dawood

مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، وأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّعَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: إِنَّمَا هِيَ، أَوْ قَالَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، أَوْ قَالَ: عُرُوقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الْأَمْرَانِ جَمِيعًا، وَقَالَ: إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَإِلَّا فَاجْمَعِي، كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے مجھے خبر دی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ (یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے ، یا فرمایا: یہ تو بس رگیں ہیں ، راوی کو شک ہے کہ إنما هي عرق کہا یا إنما هو عروق کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں، اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو، ورنہ دو دو نماز کو جمع کرلو ، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے، وہ علی اور ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں۔

Narrated Zaynab daughter of Abu Salamah (RA) : Abu Salamah said: Zaynab daughter of Abu Salamah reported to me that a woman had a copious flow of blood. She was the wife of Abdur Rahman ibn Awf. The Messenger of Allah ﷺ commanded her to take a bath at the time of every prayer, and then to pray. He reported to me that Umm Bakr told him that Aisha (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said about a woman who was doubtful of her menstruation after purification that it was a vein or veins. Abu Dawud said: The two commands (of which the Prophet gave option) were as follows in the version reported by Ibn Aqil: He said: If you are strong enough, then take a bath for every prayer; otherwise combine the (two prayers), as al-Qasim reported in his version. This statement was also narrated by Saeed bin Jubair from Ali and Ibn Abbas.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٦، ١٥٨٨٦) (صحیح )
294Sunan Abu Dawood

مستحاضہ دو نمازوں کے لئے ایک غسل کرے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَأَنْ تُؤُخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا، فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اسے حکم دیا گیا کہ عصر جلدی پڑھے اور ظہر میں دیر کرے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، اور عشاء میں جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔ شعبہ کہتے ہیں: تو میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا: کیا یہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں جو کچھ تم سے بیان کرتا ہوں وہ نبی اکرم ﷺ ہی سے مروی ہوتا ہے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman had a prolonged flow of blood in the time of the Messenger of Allah ﷺ . She was commanded to advance the afternoon prayer and delay the noon prayer, and to take a bath for them only once; and to delay the sunset prayer and advance the night prayer and to take a bath only once for them; and to take a bath separately for the dawn prayer. I (Shubah) asked Abdur Rahman (RA) : (Is it) from the Prophet ﷺ ? I do not report to you anything except from the Prophet ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: اصل میں عبارت یوں ہے: لا أحدثک إلا عن النبي ﷺ شيء جو معنوی اعتبار سے یوں ہے:لاأحدثک بشيء إلا عن النبي ﷺ ، ترجمہ اسی اعتبار سے کیا گیا ہے، اور بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے:لاأحدثک عن النبي ﷺ بشيء، یعنی غصہ سے کہا کہ:” اب میں تم کو نبی اکرم ﷺ سے کچھ روایت نہیں کیا کروں گا “۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٣٦ (٢١٤)، والحیض ٥ (٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٨٢ (٧٩٨) (صحیح )
295Sunan Abu Dawood

مستحاضہ دو نمازوں کے لئے ایک غسل کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، اسْتُحِيضَتْ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا بِمَعْنَاهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل ؓ کو استحاضہ ہوا، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، جب ان پر یہ شاق گزرا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک غسل سے ظہر اور عصر پڑھنے، اور ایک غسل سے مغرب و عشاء پڑھنے اور ایک غسل سے فجر پڑھنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے اسے حکم دیا، پھر اس راوی نے اوپر والی روایت کے ہم معنی روایت کی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Sahlah daughter of Suhayl had a prolonged flow of blood. She came to the Prophet ﷺ . He commanded her to take a bath for every prayer. When it became hard for her, he commanded her to combine the noon and afternoon prayers with one bath and the sunset and night prayer with one bath, and to take a bath (separately) for the dawn prayer. Abu Dawud said: Ibn Uyainah reported from Abdur-Rahman bin al-Qasim on the authority of his father, saying: A woman had a prolonged flow of blood. She asked the Prophet ﷺ . He commanded her to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١٩، ١٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے لیکن متن دوسری روایتوں سے ثابت ہے)۔
296Sunan Abu Dawood

مستحاضہ دو نمازوں کے لئے ایک غسل کرے

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.

اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے (خون) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہوگیا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے۔

Asma daughter of Unais said: I said: Messenger of Allah, Fatimah daughter of Abu Hubaish had a flow of blood for a certain period and did not pray. The Messenger of Allah ﷺ said: Glory be to Allah! This comes from the devil. She should sit in a tub, and when she sees yellowness of the top of the water, she would take a bath once for the Zuhr and Asr prayer, and take another bath for the Maghrib and Isha prayers, and take a bath once for the fajr prayer, and in between times she would perform ablution. Abu Dawud said: Mujahid reported on the authority of Ibn Abbas (RA) : When bathing became hard for her, he commanded her to combine the two prayers. Abu Dawud said: Ibrahim reported it from Ibn Abbas. This is also the view of Ibrahim al-Nakhai and Abdullah bin Shaddad.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٠) (صحیح )
297Sunan Abu Dawood

مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَالْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ عُثْمَانُ: وَتَصُومُ وَتُصَلِّي.

عدی بن ثابت کے دادا ١ ؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اور روزے رکھے، اور نماز پڑھے ۔

Narrated Grandfather of Adi ibn Thabit ?: The Prophet ﷺ said about the woman having a prolonged flow of blood: She should abandon prayer during her menstrual period: then she should take a bath and pray. She should perform ablution for every prayer. Abu Dawud said: Uthman added: She should keep fast and pray.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مزی نے دینار، جدعدی بن ثابت انصاری کی مسند میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے، اور ابوداؤد کا یہ قول نقل کیا ہے:ھو حدیث ضعیف ( یہ حدیث ضعیف ہے) اور حافظ ابن حجر نے النکت الظراف میں لکھا ہے کہ عدی کے دادا کا نام راجح یہ ہے کہ ثابت بن قیس ابن الخطیم ہے ( تحفۃ الأشراف: ٣٥٤٢) ٢ ؎: جمہور کا یہی مذہب ہے، اور دلیل سے یہی قوی ہے، اور ہر نماز کے وقت غسل والی روایتیں استحباب پر محمول ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٩٤ (١٢٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٥ (٦٢٥)، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٢) (صحیح) (اس سند میں ابوالیقظان ضعیف ہیں، دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہوئی ہے )
298Sunan Abu Dawood

مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ خَبَرَهَا، وَقَالَ: ثُمَّ اغْتَسِلِي، ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَصَلِّي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں۔ پھر راوی نے ان کا واقعہ بیان کیا، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو اور نماز پڑھو ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Fatimah daughter of Abu Hubaysh came to the Prophet ﷺ and narrated what happened with her. He said: Then take a bath and then perform ablution for every prayer and pray.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٥ (٦٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٢) (صحیح )
299Sunan Abu Dawood

مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْعَائِشَةَ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ تَعْنِي مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ تَوَضَّأُ إِلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ مستحاضہ کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ غسل کرے گی، یعنی ایک مرتبہ (غسل کرے گی) پھر اپنے حیض آنے تک وضو کرتی رہے گی۔

Aishah said about the woman who has a prolonged flow of blood: She should take bath, i. e. only once; then she should perform ablution until he next menstrual period.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، سنن الدارمی/الطھارة ٨٤ (٨١٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٨ و ١٧٩٨٩) (صحیح) (اس سند میں ایوب ضعیف ہیں، دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہوئی ہے )
300Sunan Abu Dawood

مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ،وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ لَا تَصِحُّ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، هَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْكَرَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا، وَأَوْقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، مَوْقُوفٌ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا، أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ، وَرَوَى أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَالْمُغِيرَةُ، وَفِرَاسٌ، وَمُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ،وَرِوَايَةَ دَاوُدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ، تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً، وَرَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ، إِلَّا حَدِيثَ قَمِيرَ، وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَحَدِيثَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَالْمَعْرُوفُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الْغُسْلُ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ ؓ سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی ؓ سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے: ایک قمیر کی حدیث (جو عائشہ ؓ سے مروی ہے) ، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث (جو ابن عباس ؓ سے مروی ہے) ، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ٢ ؎۔

This tradition has also been narrated by Aisha (RA) through a different chain of transmitters. Abu Dawud said: All the traditions (on this subject) transmitted by Adi bin Thabit and Amash on the authority of Habib and Ayyub al-Ala, all of them are weak; none of them is sound. This tradition indicatesthe tradition reported by al-Amash a a statement of Companion, i. e. Aisha (RA) . Hafs bin Ghayath has rejected the tradition transmitted by Habib as the statement (of the Prophet). And Asbat also reported it as a statement of Aisha (RA) . Abu Dawud said: Ibn Dawud has narrated the first part of this tradition as a statement (of the Prophet), and denied that there was any mention of performing ablution for every prayer. The weakness of the tradition reported by Habib is also indicated by the fact that the version transmuted by al-Zuhri from Urwah on the authority of Aisha (RA) says that she used to wash herself for every prayer; (these words occur) in the tradition about the woman who has a flow of blood. This tradition has been reported by Abu al-Yaqzan from Adi bin Thabit from his father from Ali, and narrated by Ammar, the freed salve of Banu Hashim, from Ibn Abbas, and transmitted by Abd al-Malik bin Maisarah, Bayan, al-Mughirah, Firas, on the authority of al-Shabi, from Qumair from Aisha (RA) , stating: You should perform ablution for every prayer. The version transmitted by Dawud, and Asim from al-Shabi from Qumair from Aisha (RA) has the words: She should take bath only once every day. The version reported by Hisham bin Urwah from his father has the words: The woman having a flow of blood should perform ablution for every prayer. All these traditions are weak except the tradition reported by Qumair and the tradition reported by Ammar, the freed slave of Banu Hashim, and the tradition narrated by Hisham bin Urwah on the authority of his father. What is commonly known from Ibn Abbas is bathing (for every prayer).

Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب کے طریق سے روایت کیا ہے دو وجہوں سے ضعیف ہے ایک یہ کہ حفص بن غیاث نے بھی اسے اعمش سے روایت کیا ہے ؛ لیکن انہوں نے اسے ام المومنین عائشہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے، اور اسباط بن محمد نے بھی اسے اعمش سے موقوفاً ہی روایت کیا ہے اور خود اعمش نے بھی صرف اس کے ابتدائی حصہ کو مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ذکر کا انکار کیا ہے، دوسری یہ کہ حبیب بن ثابت نے زہری کی مخالفت کی ہے کیونکہ زہری نے اپنی روایت میں (جسے انہوں نے بواسطہ عروہ ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے) ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا ذکر کیا ہے اور حبیب کی روایت میں ہر نماز کے لئے وضو کا ذکر ہے۔ وضاحت: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مؤلف نے اس باب میں نو روایتیں ذکر کی ہیں جن میں سے تین مرفوع، چھ موقوف ہیں، یہ ساری روایتیں ضعیف ہیں سوائے ان تین آثار کے جن کا ذکر انہوں نے آخر میں کیا ہے (تینوں مرفوع روایات بھی متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر معناً صحیح ہیں)۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٨ و ١٧٩٨٩) (صحیح) (اس کے راوی ایوب ضعیف ہیں، دوسری حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے )
301Sunan Abu Dawood

مستحاضہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک کے لئے غسل کرے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ الْقَعْقَاعَ، وَزَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَرْسَلَاهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِيَسْأَلُهُ كَيْفَ تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ ؟، فَقَالَتَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَثْفَرَتْ بِثَوْبٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى دَاوُدُ، وَعَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، إِلَّا أَنَّ دَاوُدَ، قَالَ: كُلَّ يَوْمٍ، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ، عِنْدَ الظُّهْرِ، وَهُوَ قَوْلُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: إِنِّي لَأَظُنُّ حَدِيثَ ابْنِ الْمُسَيَّبِ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ، فَقَلبَهَا النَّاسُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَلَكِنَّ الْوَهْمَ دَخَلَ فِيهِ، وَرَوَاهُ الْمِسْوَرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ فِيهِ: مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ، فَقَلَبَهَا النَّاسُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ.

ابوبکر کے غلام سمیّ کہتے ہیں کہ قعقاع اور زید بن اسلم دونوں نے انہیں سعید بن مسیب کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ مستحاضہ عورت کس طرح غسل کرے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک ایک غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور اگر استحاضہ کا خون زیادہ آئے تو کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر اور انس بن مالک ؓ سے بھی مروی ہے کہ وہ ظہر سے ظہر تک ایک غسل کرے، اور اسی طرح داود اور عاصم نے شعبی سے، شعبی نے اپنی بیوی سے، انہوں نے قمیر سے، اور قمیر نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، مگر داود کی روایت میں لفظ كل يوم کا (اضافہ) ہے یعنی ہر روز غسل کرے، اور عاصم کی روایت میں عند الظهر کا لفظ ہے اور یہی قول سالم بن عبداللہ، حسن اور عطاء کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ ابن مسیب کی حدیث: من ظهرٍ إلى ظهرٍ کے بجائے من طهرٍ إلى طهرٍ ہے، لیکن اس میں وہم داخل ہوگیا اور لوگوں نے اسے بدل کر من ظهرٍ إلى ظهرٍ کردیا، نیز اسے مسور بن عبدالملک بن سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع نے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے من طهر إلى طهر کہا ہے، پھر لوگوں نے اسے من ظهرٍ إلى ظهرٍ میں بدل دیا۔

Sumayy, the freed slave of Abu Bakr, says that al-Qaqa and Zaid bin Aslam sent him to Saeed bin al-Musayyab to ask him as to how the woman who has flow of blood should wash. He replied: She should wash at the time of the Zuhr prayer (the bath will be valid one Zuhr prayer to the next Zuhr prayer); and should perform ablution for every prayer. If there is excessive bleed gin, she should tie a cloth over her private part. Abu Dawud said: It has been narrated by Ibn Umar and Anas bin Malik (RA) that she should take bath at the time of the Zuhr prayer (being valid) until the next Zuhr prayer. This tradition has also been transmuted by Dawud and Asim from al-Shabi from his wife from Qumair on the authority of Aisha (RA) , except that the version of Dawud has the words: every day, and the version of Asim has the words: at the time of Zuhr prayer. This is the view of Salim bin Abdullah, al-Hassan, and Ata. Abu Dawud said: Malik said: I think that the tradition narrated by Ibn a;-Musayyab must contain the words: from one purification to another. But it was misunderstood and the people changed it to: for one Zuhr prayer to another. It has also been reported by Miswar bin Abd al-Malik bin Saeed bin Abdur-Rahman bin Yarbu, saying: from one purification to another, but the people changed it to: from one zuhr to another.

Takhrij · تخریج
موطا امام مالک/الطہارة ٢٩ (١٠٧)، أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٨٤ (٨٣٧) (صحیح) (انس، عائشہ اور حسن کے اقوال بھی سنداً صحیح ہیں )