انس ؓ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول ﷺ نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کرلیا، پھر آپ ﷺ نے ان کو آزاد کردیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: وهو الذي كف أيديهم عنکم وأيديكم عنهم ببطن مكة إلى آخر الآية (سورۃ الفتح: ٢٤) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا ۔
Anas said “Eighty Makkahns came down from the mountain of Al Tan’im against the Prophet ﷺ and his Companions at the (time of the) dawn prayer to kill them. The Messenger of Allah ﷺ took them captive without fighting and the Messenger of Allah ﷺ set them free. Thereupon Allaah Most High sent down “He it is Who averted their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah, ” till the end of the verse.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٤٦ (١٨٠٨)، سنن الترمذی/تفسیرالفتح ٣ (٣٢٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٩٠) (صحیح )
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: اگر مطعم بن عدی ١ ؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا ۔
Jubair bin Mutim reported the Prophet ﷺ as saying about the prisoners taken at Badr. If Mutim bin Adi had been alive and spoken to me about these filthy ones, I would have left them for him.
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ اہل طائف سے پہنچنے والی ایذاء اور تکلیف سے بچنے کے لئے طائف سے لوٹتے وقت مطعم بن عدی کے یہاں پہنچے، تو انہوں نے مشرکین کو دفع کیا اور آپ ﷺ کو ان سے بچایا، اسی احسان کا بدلہ چکانے کے لئے آپ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ مطعم کی سفارش پر میں ان سب کو چھوڑ دیتا، یعنی فدیہ وغیرہ نہیں لیتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ١٦ (٣١٣٩)، والمغازي ١٢ (٤٠٢٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ما کان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض سے مسکم فيما أخذتم تک نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان (کافروں کا) اچھی طرح خون نہ بہا لیں، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی (سورۃ الأنفال: ٦٧-٦٨) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کردیا۔
Umar bin Al Khattab said “During the battle of Badr, the Prophet ﷺ took ransom”. Thereupon Allaah Most High sent down “It is not fitting for an Messenger that he should have prisoners of war until he hath thoroughly subdued the land. You look on the temporal goods of this world, but Allaah looketh to the Hereafter”. And Allaah is exalted in might and Wise. Had it not been for a previous ordainment from Allaah, a severe penalty would have reached you for the (ransom) that you took. Allaah then made the spoils of war lawful. Abu Dawud said “I heard that Ahmad bin Hanbal was asked about the name of Abu Nuh”. He said “What will you do with his name? His name is a bad one. Abu Dawud said “the name of Abu Nuh is Qurad. What is correct is that his name is Abd Al Rahman bin Ghazwan.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ١٨ (١٧٦٣)، سنن الترمذی/التفسیر ٩ (٣٠٨١)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠، ٣٢) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے دن جاہلیت کے لوگوں کا فدیہ فی آدمی چار سو مقرر کیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ fixed the ransom of the people of pre-Islamic Arabia at four hundred dirhams per head on the day of the battle of Badr.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٨٢) (صحیح) (لیکن چار سو کی بات صحیح نہیں ہے، بلکہ ابن عباس ہی سے دوسری بہتر سند سے چار ہزار مروی ہے، اس سند میں ابوالعنبس لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب ؓ نے ابوالعاص ؓ ١ ؎ کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ ؓ کا تھا، انہوں نے یہ ہار زینب کو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو ان کی خاطر و دلداری میں ان کا قیدی چھوڑ دو، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو ، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ زینب ؓ کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے، پھر رسول ﷺ نے زید بن حارثہ ؓ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں بطن یأجج میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا ٢ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the people of Makkah sent about ransoming their prisoners Zaynab sent some property to ransom Abul As, sending among it a necklace of hers which Khadijah had had, and (which she) had given to her when she married Abul As. When the Messenger of Allah ﷺ saw it, he felt great tenderness about it and said: If you consider that you should free her prisoner for her and return to her what belongs to her, (it will be well). They said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ made an agreement with him that he should let Zaynab come to him, and the Messenger of Allah ﷺ sent Zayd ibn Harithah and a man of the Ansar (the Helpers) and said: Wait in the valley of Yajij till Zaynab passes you, then you should accompany her and bring her back.
Notes · وضاحت
١ ؎: زینب ؓ رسول اکرم ﷺ کی بڑی صاحب زادی تھیں، اور ابو العاص ؓ خدیجہ ؓ کے بھانجے اور زینب کے شوہر تھے۔ ٢ ؎: شاید یہ نامحرم کے ساتھ سفر کرنے کی ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہو، زینب ؓ کے مدینہ آجانے کے بعد ابو العاص ؓ کفر کی حالت میں مکہ ہی میں مقیم رہے، پھر تجارت کے لئے شام گئے، وہاں سے لوٹتے وقت انھیں اسلام پیش کیا گیا، تو وہ مکہ واپس گئے اور وہ مال جس جس کا تھا اس کو واپس کیا اور سب کے سامنے کلمہ شہادت پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگئے، پھر ہجرت کر کے مدینہ آگئے اور مسلمان ہوجانے پر رسول اکرم ﷺ نے زینب کو ان کی زوجیت میں لوٹا دیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٦) (حسن )
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ ؓ نے خبر دی کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں (کی واپسی) اختیار کرلو یا مال ، انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا: تمہارے یہ بھائی (شرک سے) توبہ کر کے آئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کرلے ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی، اور کس نے نہیں دی؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں ، لوگ لوٹ گئے، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے۔
Marwan and Al Miswar bin Makhramah told that when the deputation of the Hawazin came to the Muslims and asked the Messenger of Allah ﷺ to return to them their property, the Messenger of Allah ﷺ said to them “with me are those whom you see”. The speech dearest to me is the one which is true, so choose (one of the two) either the captives or the property. They said “We choose our captives. The Messenger of Allah ﷺ stood up, extolled Allaah and then said “To proceed, your brethren have come repentant I have considered that I should return their captives to them, so let those of you who are willing to release the captives act accordingly, but those who wish to hold on to what they have till we give them some of the first booty Allaah gives us may do so. The people said “We are willing for that (to release their captives), Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said “We cannot distinguish between those of you who have granted that and those who have not, so return till your headmen may tell us about your affair. The people then returned and their headmen spoke to them, then they informed that they were agreeable and had given their permission.
عبداللہ بن عمرو ؓ اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے ، پھر آپ ﷺ ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا: لوگو! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے ، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا: یہاں تک کہ یہ (بال) بھی حلال نہیں سوائے خمس (پانچواں حصہ) کے، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو (یعنی بیت المال میں جمع کر دو ) ، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، اس نے کہا: میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے ، تو اس نے کہا: جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اس نے اسے (غنیمت کے مال میں) پھینک دیا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ then said: Return to them (Hawazin) their women and their sons. If any of you withholds anything from this booty, we have six camels for him from the first booty which Allah gives us. The Prophet ﷺ then approached a camel, and taking a hair from its hump said: O people, I get nothing of this booty, not even this (meanwhile raising his two fingers) but the fifth, and the fifth is returned to you, so hand over threads and needles. A man got up with a ball of hair in his hand and said: I took this to repair the cloth under a pack-saddle. The Messenger of Allah ﷺ said: You can have what belongs to me and to the Banu al-Muttalib. He said: If it produces the result that I now realise, I have no desire for it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غنیمت کے مال میں سے چوری کرنا گناہ عظیم ہے، جو کچھ ملے سب امام کے پاس جمع کردیا جائے پھر وہ تقسیم کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الھبة ١ (٣٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٤، ٢١٨) (حسن )
ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے: جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید (سعید ابن ابی عروبہ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے، اس لیے کہ ١٤٥ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہوگیا تھا، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ١ ؎۔
Abu Talhah said “When the Messenger of Allah ﷺ prevailed on any people, he stayed three nights in the field. Ibn Al Muthanna said “When he prevailed over people, he liked to stay three nights in the field. ” Abu Dawud said “Yahya bin Saeed used to object to this tradition for this is not from his early traditions because his memory was spoiled at the age of forty five. He narrated this tradition in the last days of his age. ” Abu Dawud said “ It is said that Waki ‘ recived this tradition from him when his memory was spoiled. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری اور مسلم نے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کو روح بن عبادہ کی روایت سے صحیحین میں داخل کیا ہے، یہ روایت بھی روح ہی کے واسطے سے ہے، اس لئے اس کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہے، وکیع نے ابن ابی عروبہ سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے یہ بات مسلَّم ہے، مگر یہاں اس کا کوئی عمل دخل نہیں یہ بات مؤلف نے برسبیل تذکرہ لکھ دی ہے۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، اور بیع کو رد کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میمون نے علی ؓ کو نہیں پایا ہے، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے، اور جماجم ٨٣ ہجری میں ہوئی ہے، نیز واقعہ حرہ (٦٣ ہجری) میں پیش آیا، اور ابن زبیر (٧٣ ہجری) میں قتل ہوئے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Ali separated between a slave-girl and her child. The Prophet ﷺ prohibited it and made the sale transactions withdrawn. Abu Dawud said: The narrator Maimun (b. Abi Shaib) did not meet Ali. He (Maimun) was killed in the battle of Jamajim in 83 A. H. Abu Dawud said: The battle of Harrah took place in 63 A. H., and Ibn al-Zubair was killed in 73 A. H.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٦) (حسن) (بعض لوگوں نے علی ؓ سے میمون کا سماع ثابت مانا ہے اسی بنیاد پر البانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے )
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر ؓ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں، تو میں نے ایک تیر چلائی، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہوگئے، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر ؓ کے پاس لایا، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی، وہ کھال پہنے ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی، ابوبکر ؓ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ ﷺ سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو ، میں نے کہا: اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، آپ خاموش ہوگئے، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، قسم ہے اللہ کی ١ ؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، اور وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ ﷺ نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا۔
Salamah said “We went out (on an expedition) with Abu Bakr. The Messenger of Allah ﷺ appointed him commander over us. We attacked Fazarah and took them from all sides. I then saw a group of people which contained children and women. I shot an arrow towards them, but it fell between them and the mountain. They stood; I brought them to Abu Bakr. There was among them a woman of Fazarah. She wore a skin over her and her daughter who was the most beautiful of the Arabs was with her. Abu Bakr gave her daughter to me as a reward. I came back to Madeenah. The Messenger of Allah ﷺ met me and said to me “Give me the woman, Salamah. I said to him, I swear by Allaah, she is to my liking and I have not yet untied he garment. He kept silence, and when the next day came the Messenger of Allah ﷺ met me in the market and said to me “Give me the woman, Salamah, by Allaah, your father. I said the Messenger of Allah, I have not yet untied her garment. I swear by Allaah, she is now yours. He sent her to the people of Makkah who had (some Muslims) prisoners in their hands. They released them for this woman.
Notes · وضاحت
١ ؎: متن حدیث میں لله أبوك کے الفاظ ہیں یہ جملہ قسم کے حکم میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ١٤ (١٧٥٥)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٢ (٢٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦، ٤٧، ٥١) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے یہ غلام عبداللہ بن عمر ؓ کو واپس دے دیا، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi said that a slave of Ibn Umar ran away to the enemy, and then the Muslims overpowered them. The Messenger of Allah ﷺ returned him to Ibn Umar and that was not distributed (as a part of booty). Abu Dawud said: The other narrators said: Khalid bin al-Walid returned him to him (Ibd Umar).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨١٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٨٧ (٣٠٦٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٢ (٢٨٤٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آگئے تو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کو واپس لوٹا دیا گیا، اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم چلا گیا، پھر رومیوں پر مسلمان غالب آئے تو نبی اکرم ﷺ کے بعد خالد بن ولید ؓ نے (بھی) انہیں غلام واپس لوٹا دیا۔
Nafi said that a horse of Ibn Umar went away and the enemy seized it. The Muslims overpowered them. Khalid bin Walid returned it to him after the Prophet ﷺ .
علی ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ حدیبیہ میں صلح سے پہلے کچھ غلام (بھاگ کر) رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے، تو ان کے مالکوں نے آپ کو لکھا: اے محمد! اللہ کی قسم! یہ غلام تمہارے دین کے شوق میں تمہارے پاس نہیں آئے ہیں، یہ تو فقط غلامی کی قید سے بھاگ کر آئے ہیں، تو کچھ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان لوگوں نے سچ کہا: انہیں مالکوں کے پاس واپس لوٹا دیا جائے تو آپ ﷺ غصہ ہوگئے ١ ؎ اور فرمایا: قریش کے لوگو، میں تم کو باز آتے ہوئے نہیں دیکھتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تمہارے اوپر اس شخص کو بھیجے جو اس پر ٢ ؎ تمہاری گردنیں مارے ، اور آپ ﷺ نے انہیں واپس لوٹانے سے انکار کیا اور فرمایا: یہ اللہ عزوجل کے آزاد کئے ہوئے ہیں ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Some slaves (of the unbelievers) went out to the Messenger of Allah ﷺ on the day of al-Hudaybiyyah before treaty. Their masters wrote to him saying: O Muhammad, they have not gone out to you with an interest in your religion, but they have gone out to escape from slavery. Some people said: They have spoken the truth, Messenger of Allah, send them back to them. The Messenger of Allah ﷺ became angry and said: I do not see your restraining yourself from this action), group of Quraysh, but that Allah send someone to you who strike your necks. He then refused to return them, and said: They are emancipated (slaves) of Allah, the Exalted.
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے شرع کے حکم پر ظن وتخمین کی بنیاد پر اعتراض کیا، اور مشرکین کے دعوے کی حمایت کی۔ ٢ ؎: اس پر سے مراد جاہلی عصبیت اور بےجا قومی حمیت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٢٠ (٣٧١٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔
Abd Allaah bin Mughaffal said “On the day of Khaibar a skin of fat was hanging. I came to it and clung to it. I then said (i. e., thought) I shall not give any one any of it today. I then turned round and saw the Messenger of Allah ﷺ smiling at me.
ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کردیا۔
Narrated Abdur Rahman ibn Samurah ibn Kabul (RA) : AbuLabid said: We were with Abdur Rahman ibn Samurah ibn Kabul. The people got booty and plundered it. He stood and addressed (the people): I heard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting getting property from the booty before its distribution. Therefore, they returned what they had taken, He then distributed it among them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٢، ٦٣)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٣ (٢٠٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا۔
Narrated Abdullah ibn Abu Awfa (RA) : Muhammad ibn AbulMujahid reported Abdullah ibn Abu Awfa as saying: I asked: Did you set aside the fifth of the food in the time of the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: On the day of Khaybar we captured food and a man would come and take as much food of it as needed and then go away.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥١٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٥) (صحیح )
ایک انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں، اتنے میں نبی اکرم ﷺ اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے، اور فرمایا: لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ، یا فرمایا: مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں ، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے ١ ؎۔
Narrated A man of the Ansar (RA) : Kulayb reported from a man of the Ansar. He said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ on a journey. The people suffered from intense need and strain. They gained booty and then plundered it. While our pots were boiling the Messenger of Allah ﷺ came walking with his bow touching the ground. He turned over our pots with his bow and smeared the meat with the soil, and said: Plunder is more unlawful than carrion, or he said: Carrion is more unlawful than plunder. The narrator Hannad was doubtful.
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ بکریاں غلے یا تیار کھانے کی چیزوں کی قبیل سے نہیں ہیں اس لئے ان کی لوٹ سے منع کیا گیا، جائز صرف غلہ یا تیار کھانے کی اشیاء میں سے بقدر ضرورت لینا ہے۔
بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں غزوات میں گاجر کھاتے تھے، ہم اسے تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ہم اپنے مکانوں کی طرف لوٹتے اور ہمارے برتن اس سے بھرے ہوتے تھے۔
Narrated One of the Companion: Al-Qasim, the client of Abdur Rahman, quoted one of the Companion of the Prophet ﷺ as saying: We would eat a camel on an expedition without dividing it, and when we returned to our dwellings our saddle-bags would be full with its flesh.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی ابن خرشف مجہول ہیں )
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کردیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کرلیں، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل ؓ سے ہوئی، میں نے ان سے بیان کیا، تو آپ نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ ﷺ نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کردیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کردیا ١ ؎۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : Abdur Rahman ibn Ghanam said: We were stationed at the frontiers of the city of Qinnisrin with Shurahbil ibn as-Simt. When he conquered it, he got sheep and cows there. He distributed some of them amongst us, and deposited the rest of them in the spoils of war. I met Muadh ibn Jabal and mentioned it to him. Muadh said: we went on an expedition of Khaybar along with the Messenger of Allah ﷺ and we got spoils there. The Messenger of Allah ﷺ divided them among us and placed the rest of them in the booty.
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا کھانے پینے کی چیزیں حسب ضرورت مجاہدین میں تقسیم کردی جائیں گی اور بقیہ مال غنیمت میں شامل کردیا جائے گا ان کا بیچنا صحیح نہیں ہوگا، یہی باب سے مطابقت ہے۔