قیدی کو فدیہ لئے بغیر احسان کے طور پر چھوڑ دینا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ سورة الفتح آية 24 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول ﷺ نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کرلیا، پھر آپ ﷺ نے ان کو آزاد کردیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: وهو الذي كف أيديهم عنکم وأيديكم عنهم ببطن مكة إلى آخر الآية (سورۃ الفتح: ٢٤) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا ۔
Anas said “Eighty Makkahns came down from the mountain of Al Tan’im against the Prophet ﷺ and his Companions at the (time of the) dawn prayer to kill them. The Messenger of Allah ﷺ took them captive without fighting and the Messenger of Allah ﷺ set them free. Thereupon Allaah Most High sent down “He it is Who averted their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah, ” till the end of the verse.