Sunan Abu Dawood 1862

مناسک حج کا بیان

1862Sunan Abu Dawood

حج سے رک جانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ، قَالَ عِكْرِمَةُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.

حجاج بن عمرو انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہوجائے تو وہ حلال ہوگیا، اب اس پر اگلے سال حج ہوگا ١ ؎۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔

Al Hajjaj bin Amr Al Ansari reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ If anyone breaks (a bone or leg) or becomes lame, he has come out of the sacred state and must perform Hajj the following year. ” Ikrimah said I asked Ibn Abbas and Abu Hurairah about this. They replied He spoke the truth.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج و عمرہ کی نیت سے گھر سے نکلنے والے کو اگر اچانک کوئی مرض لاحق ہوجائے تو وہ وہیں پر حلال ہوجائے گا، لیکن آئندہ سال اس کو حج کرنا ہوگا، اگر یہ حج فرض حج ہو تو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٩٦ (٩٤٠)، سنن النسائی/الحج ١٠٢(٢٨٦٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٥ (٣٠٧٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٩٤، ٦٢٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥٧ (١٩٣٦) (صحیح )