Supplications for Healing

بیماریوں سے شفا کے لئے10 duas

1

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرآنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا ۝

‘And We send down of the Qur'an that which is healing and mercy for the believers, but it does not increase the wrongdoers except in loss.’ Note: The recitation of the Holy Qur’ān is a healing for physical and spiritual ailments.

اور ہم اس قرآن کے ذریعه وه کچھ نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے سراسر شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے لیے سوائے خسارے کے کسی اور چیز کا اضافه نہیں ہوتا۔ تلاوت قرآن مجید جسمانی اور روحانی بیماریوں کے لیے شفا ہے-

Al-Isrā’: 82

بنی اسرائیل: 82

Background & narration

Al-Isrā’: 82

(بنی اسرائیل: 82)

2

یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَ هُدًی وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْن ۝

‘O mankind, there has come to you instruction from your Lord and healing for what is in the breasts and guidance and mercy for the believers.

اے لوگو! تحقیق تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آگئی ہے اور وه دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

Yunus: 57

یونس: 57

Background & narration

Yunus: 57

(یونس: 57)

3

Benefit from various natural nutrients and medicines for cure from the disease. E.g. Honey, Ḥabbat al Saudā’ (Black Seed-Nigella Sativa), Zam Zam water, rain water, olive oil etc.

بیماری کے علاج کے لیے مختلف قدرتی غذاؤں اور دواؤں سے استفاده کریں مثلًا شہد، کلونجی، آب زمزم، بارش کا صاف و شفاف پانی، زیتون کا تیل

Sunan al-Tirmidhī: 1852 Ṣaḥīḥ

سنن الترمذی: 1852 صحیح

Background & narration

Honey: ‘...in which there is healing for people.’ [Al-Naḥl: 69] Ḥabbat al Saudā’- Black Seed (Nigella Sativa): Khalid bin Sa‘d (r.a) narrated, ‘I was travelling with Ghalib Bin Jabr that he fell ill. We reached Madinah while he was still unwell. Ibn Abī Atīq came to see him and he took 5 or 7 Black Seeds and ground them, mixed them in olive oil and dropped the mixture in both his nostrils. He then told a narration from ‘Ā’ishah (r.a) that the Prophet (s.a.w) said, ‘there is cure in black seeds for all ailments except sām.’ I asked him, ‘what is sām?’ he replied, ‘Death’. [Ṣaḥīḥ al-Bukhārī: 5687] Zam Zam Water: Jābir bin ‘Abdullāh (r.a) narrated that the Prophet (s.a.w) said, ‘Zam Zam water is for the purpose for which it is consumed.’ [Sunan Ibn Mājah: 3062] Ṣaḥīḥ Rain Water: ‘And We have sent down blessed water from the sky.’ [Qāf: 9] Olive Oil: ‘Umar bin Khaṭṭāb (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said ‘Eat olive oil and massage with it because indeed it’s from a blessed tree.’ [Sunan al-Tirmidhī: 1852] Ṣaḥīḥ

:شہد فِیْهِ شِفَاءً لِّلنَّاسِ اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے ۔ (النحل :69) کلونجی: خالد بن سعد رضی الله عنه سے روایت ہے که ہم باہر گئے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ حضرت غالب بن ابجر بھی تھے۔ وه راستے میں بیمار پڑگئے پھر جب ہم مدینه واپس آئے اس وقت بھی وه بیمار تھے حضرت ابنِ ابی عتیق ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ہم سے کہا که انہیں یه کالے دانے (کلونجی) استعمال کراؤ، اس کے پانچ یا سات دانے لے کر پیس لو اور پھر زیتون کے تیل میں ملا کر (ناک کے) اِس طرف اور اُس طرف قطره قطره کر کے ٹپکاؤ کیونکه حضرت عائشه رضی الله عنها نے مجھ سے بیان کیا که انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیه وسلم سے سنا نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا که ’’یه کلونجی ہر بیماری کی دوا ہے سوائے سام کے‘‘۔ میں نے عرض کیا سام کیا ہے؟ فرمایا که موت۔ (صحیح البخاری: 5687) آب زمزم: حضرت جابر بن عبد الله سعد رضی الله عنه سے روایت ہے، میں نے رسول الله صلی الله علیه وسلم کو فرماتے سنا: زمزم کا پانی اس (مقصد) کے لیے ہے جس کے لیے وه پیا جائے۔ (سنن ابنِ ماجه :3062) صحیح بارش کا پانی: وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبَارَکًا اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا۔ (ق:9) زیتون کا تیل: حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنه سے روایت ہے که نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: زیتون کھاؤ اور اس کو لگاؤ بے شک یه مبارک درخت سے ہے۔ (سنن الترمذی: 1852) صحیح

4

سورة الفاتحہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎۝‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎۝‏ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۝‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‎۝ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝‏ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝‏ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎۝

Bismillāhir Raḥmānir Raḥīm Alḥamdulillāhi Rabbil ‘ālamīna. Ar Raḥmānir Raḥīmi. Māliki yawmid dīni. iyyāka na‘budu wa iyyāka nasta‘īnu. ihdinaṣ ṣirāṭal mustaqīma. ṣirāṭal ladhīna an‘amta ‘alaihim ghairil maghḍūbi ‘alaihim walaḍ ḍāllīna.

(All) praise is (due) to Allah, Lord of the worlds. The Entirely Merciful, the Especially Merciful. Sovereign of the Day of Recompense. You we worship and You we ask for help. Guide us to the straight path. The path of those upon whom You have bestowed favour, not of those who have evoked anger nor of those who are astray.

سب تعریف الله کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے بدلے کے دن کامالک ہے ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ہمیں سیدھی راه دکھا ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا، ان لوگو ں کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نه گمراہوں کی

Sunan Abū Dawūd: 3896 Ṣaḥīḥ

سنن أبی داؤد :3896 صحیح

Background & narration

i. Abū Sa‘īd Khudrī (r.a) reported that some people amongst the Companions of Allah’s Messenger (s.a.w) set out on a journey and happened to pass by a tribe from the tribes of Arabia. They requested hospitality from the members of that tribe, but they did not extend any to them. Then a scorpion stung their chief, and they came to the Companions asking, ‘Is there anyone to do incantation amongst you?’ A person amongst us said, ‘Yes’. So he came to him and he practiced incantation through Surah Al-Fātiḥah and the chief became fine. That man was given a flock of sheep (as reward), but he refused to accept, saying, ‘I shall mention it to Allah’s Messenger (s.a.w) and if he approves of it then I will accept it.’ So we came to Allah’s Messenger (s.a.w) and mentioned it to him, and he (that person) said, ‘O Messenger of Allah (s.a.w) I swear by Allah, I did not practice incantation but with Surah Al-Fātiḥah.’ The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said, ‘How did you come to know that it can be used (as incantation)?’ and said, ‘Take of that and allocate a share for me along with your share.’ [Al-Fātiḥah: 1-7] [Ṣaḥīḥ Muslim: 5733] ii. Kharjah bin Ṣalt al-Tamīmi (r.a) narrated from his uncle that he (r.a) came to the Messenger of Allah (s.a.w) and embraced Islām. On his return from the Messenger of Allah (s.a.w), he passed by some people who had a lunatic fettered in chains. His people said, ‘We have heard that your companion (i.e. Muhammad (s.a.w)) has brought some good. Have you something with which you can cure him?’ I then recited Surah Al-Fātiḥah: (All) praise is (due) to Allah, Lord of the worlds. The Entirely Merciful, the Especially Merciful. Sovereign of the Day of Recompense. You we worship and You we ask for help. Guide us to the straight path. The path of those upon whom You have bestowed favour, not of those who have evoked anger nor of those who are astray. And he was cured. They gave me one hundred sheep. I then came to the Messenger of Allah (s.a.w) and informed him of what happened. He (s.a.w) asked, ‘Did you say anything other than this?’ I said, ‘No.’ He (s.a.w) said, ‘Take it, for by my life, some accept it for a worthless incantation, but you have done so for a genuine one.’ [Sunan Abū Dawūd: 3896] Ṣaḥīḥ

(a) ابو سعید خدری رضی الله عنه سے روایت ہے که رسول الله صلی الله علیه وسلم کے اصحاب میں سے بعض صحابه ایک سفر میں جا رہے تھے وه عرب قبائل میں سے ایک قبیله کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان قبیله والوں سے مہمانی طلب کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی نه کی پھر انہوں نے صحابه کرام سے پوچھا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے کیونکه قبیله کے سردار کو (کسی جانور نے) ڈس لیا ہے یا کوئی تکلیف ہے۔ صحابه میں سے کسی نے کہا جی ہاں پس وه اس کے پاس آئے اور اسے سورة الفاتحه کے ساتھ دم کیا تو وه آدمی تندرست ہوگیا انہیں بکریوں کا ریوڑ دیا گیا لیکن اس صحابی نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا که جب تک اس کا ذکر میں نبی صلی الله علیه وسلم سے نه کرلوں نہیں لوں گا، وه نبی صلی الله علیه وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی الله علیه وسلم سے یه سارا واقعه ذکر کیا اور عرض کیا اے الله کے رسول الله کی قسم میں نے سورة الفاتحه ہی کے ذریعے دم کیا ہے آپ صلی الله علیه وسلم مسکرائے اور فرمایا تمہیں یه کیسے معلوم ہوا که یه دم ہے پھر فرمایا ان سے لے لو اور اپنے ساتھ میرا حصه بھی رکھو۔ (صحیح مسلم: 5733) (b) خارجه بن صلت تمیمی رضی الله عنه اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں که وه نبی صلی الله علیه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ صلی الله علیه وسلم سے واپسی پر ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا، جن کا ایک دیوانه شخص بیڑیوں میں جکڑا ہواتھا۔ اس کے گھر والوں نے ان سے کہا: ہمیں بتایا گیا ہے که آپ کے صاحب (نبی صلی الله علیه وسلم) خیر کے ساتھ آئے ہیں تو کیا آپ لوگوں کے پاس اس کے علاج کے لیے کوئی چیز ہے؟ میں نے سورة الفاتحه پڑھ کر دم کیاتو وه صحت یاب ہوگیا اور انہوں نے مجھے سوبکریاں دیں۔ پھر میں رسول الله صلی الله علیه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور صورت حال عرض کی تو آپ صلی الله علیه وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تو نے اس کے سوا بھی کچھ پڑھا۔ میں نے عرض کی: نہیں آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو، میری زندگی کی قسم اگر کوئی باطل جھاڑ پھونک سے کھا سکتا ہے، تو تم تو سچے دم کے ذریعه کھا رہے ہو۔ (سنن أبی داؤد :3896) صحیح

5

اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۝

Annī massaniyaḍ ḍurru wa anta arḥamur rāḥimīn.

Indeed, adversity has touched me, and You are the Most Merciful of the merciful.

مجھے بیماری لگی ہے اور تو سب مہربانوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

Al-Anbiyā’: 83

الأنبیاء: 83

Background & narration

The supplication of Prophet Ayūb (a.s) when he fell ill: Indeed, adversity has touched me, and You are the Most Merciful of the merciful. [Al-Anbiyā’: 83]

حضرت ایوب علیه السّلام کی دعا جب ان کو بیماری لگ گئی تھی اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ o (الأنبیاء: 83) مجھے بیماری لگی ہے اور تو سب مہربانوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

6

بِسْمِ اللهِ ×3 اَعُوْذُ بِاللهِ وَ قُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ ×7

* Bismillāh * A‘ūdhu billāhi wa qudratihi min sharri mā ajidu wa uḥādhiru.

In the name of Allah (3 Times) I seek refuge in Allah and His Power from the evil that I find and that I fear (7 Times).

اپنا ہاتھ درد والی جگه پر رکھیں اور پڑھیں: الله کے نام کے ساتھ (3 بار) میں الله تعالیٰ اور اس کی قدرت کی پناه چاہتا ہوں، اس چیز کے شر سے جس کو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں (7 بار)

Recite 7 times

0 / 7 · tap the circle to count

Ṣaḥīḥ Muslim: 5737

صحیح مسلم: 5737

Background & narration

‘Uthmān bin Abū Al-‘Āṣ Al-Thaqafī (r.a) reported that he complained to the Messenger of Allah (s.a.w) about the pain that he felt in his body at the time he had become Muslim. Thereupon the Messenger of Allah (s.a.w) said, put your hand at the place where you feel pain in your body and say, 3 times In the name of Allah. and 7 times say, I seek refuge in Allah and His Power from the evil that I find and that I fear. [Ṣaḥīḥ Muslim: 5737]

حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی رضی الله عنه سے روایت ہے که انہوں نے رسول الله صلی الله علیه وسلم سے درد کی شکایت کی که جب سے وه مسلمان ہوئے ہیں، پورے جسم میں درد رہتا ہے۔ تو رسول الله صلی الله علیه وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنا ہاتھ درد کی جگه پر رکھو اور تین بار بِسْمِ اللهِ کہو اس کے بعد سات بار یه کہو اَعُوْذُ بِاللهِ وَ قُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ الله کے نام کے ساتھ۔ میں الله تعالیٰ اور اس کی قدرت کی پناه چاہتا ہوں، اس چیز کے شر سے جس کو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 5737)

7

اَسْاَلُ اللهَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَكَ

As’alullāhal ‘aẓīma rabbal ‘arshil ‘aẓīmi a(n)y yashfiyaka. (7 times)

I ask Allah, the Great, Lord of the Magnificent Throne, to cure you. (7 Times) Note: When supplicating for your own self recite a(n)y yashfiyanī instead of a(n)y yashfiyaka.

میں عظمت والے الله سے، عرش عظیم کے رب سے سوال کرتا ہوں که وه تجھے شفا دے (7 بار) ٭ اپنے لیے دعا کرتے ہوئے اَنْ یَّشْفِیَکَ کے بجائے اَنْ یَّشْفِیَنِیْ پڑھیں

Recite 7 times

0 / 7 · tap the circle to count

Sunan Abū Dawūd: 3106 Ṣaḥīḥ

سنن أبی داؤد: 3106 صحیح

Background & narration

‘Abdullah Ibn ‘Abbās (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘If anyone visits a person who is sick whose time (of death) has not come, and reads for him seven times, I ask Allah, the Great, Lord of the Magnificent Throne, to cure you. Allah will cure him from that disease.’ [Sunan Abū Dawūd: 3106] Ṣaḥīḥ

حضرت ابن عباس رضی الله عنه سے روایت ہے که نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی ابھی اجل نه آئی ہو تو سات بار اس کے پاس یه دعا اَسْاَلُ اللهَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ۔ میں عظمت والے الله سے، عرش عظیم کے رب سے سوال کرتا ہوں که وه تجھے شفا دے۔ پڑھے تو الله تعالیٰ اس کو اس بیماری سے عافیت دے دے گا۔ (سنن أبی داؤد: 3106) صحیح

8

اَذْهِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا

Adh-hibil ba’sa Rabban nāsi washfi antash shāfī la shifā’a illā shifā’uka shifā’a(n)l lā yughādiru saqaman.

O Lord of mankind! Remove the disease and bring about healing as You are the Healer. There is no healing but Your Healing, a healing that leaves no ailment.

اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دے اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے ٭ مریض پر دایاں ہاتھ پھیرتے ہوئے پڑھیں خود کو بھی دم کر سکتے ہیں

Ṣaḥīḥ Muslim: 5707

صحیح مسلم: 5707

Background & narration

‘Ā’ishah (r.a) narrated that when one of us would be unwell, the Messenger of Allah (s.a.w) used to pass his right hand over the place of ailment and used to say, O Lord of mankind! Remove the disease and bring about healing as You are the Healer. There is no healing but Your healing, a healing that leaves no ailment. [Ṣaḥīḥ Muslim: 5707]

حضرت عائشه رضی الله عنہا سے روایت ہے که جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو رسول الله صلی الله علیه وسلم اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے پھر فرماتے اَذْھِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَاءً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دے اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نه چھوڑے۔ (صحیح مسلم: 5707)

9

اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِكَ الشِّفَاءُ لَا یَكْشِفُ الْكَرْبَ اِلَّا اَنْتَ

Imsaḥil ba’sa Rabban nāsi biyadikash shifā’u lā yakshiful karba illā anta.

O Lord of mankind! Remove the disease. In your hand is all cure, there is no one to relieve sorrow and distress except You.

اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دے، تیرے ہاتھ میں شفا ہے، تیرے سوا کوئی رنج اور تکلیف کو نہیں ہٹا سکتا

Musnad Aḥmad, Vol: 40, 24234 Ṣaḥīḥ

مسند احمد، ج: 40، 24234 صحیح

Background & narration

‘Ā’ishah (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) read, ‘ O Lord of mankind! Remove the disease. In your hand is all cure, there is no one to relieve sorrow and distress except You. And then blew over him (the sick person).’ [Musnad Aḥmad, Vol: 40, 24234] Ṣaḥīḥ

حضرت عائشه رضی الله عنہا سے روایت ہے که نبی کریم صلی الله علیه وسلم (یه کلمات پڑھ کر مریض کو) دم کیا کرتے تھے: اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا یَکْشِفُ الْکَرْبَ اِلَّا اَنْتَ۔ اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دے، تیرے ہاتھ میں شفا ہے، تیرے سوا کوئی رنج اور تکلیف کو نہیں ہٹا سکتا۔ (مسند احمد، ج: 40، 24234) صحیح

10Masnoon Duaمسنون دعاء

Dua of Ayesha (RA)

عائشہؓ کی دعاء

أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ أَنْتَ الطَّبِيبُ وَأَنْتَ الشَّافِي

Remove this harm, O Lord of Mankind! You are Al-Tabeeb and The Healer

اے لوگوں کے رب آپ ہی طبیب ہیں اور شفا دینے والے ہیں اس تکلیف کو دور کر دیں

[مسند احمد:24774]