Ayah 9:1173 مشکل کی گھڑی سے مراد " غزوہ تبوک " کا زمانہ ہے جس میں کئی طرح کی مشکلات جمع تھیں۔ سخت گرمی، طویل مسافت، کھجور کا موسم، اس زمانہ کی عظیم الشان سلطنت کے مقابلہ پر فوج کشی، پھر ظاہری بےسروسامانی ایسے کہ ایک ایک کھجور روزانہ دو دو سپاہیوں پر تقسیم ہوتی تھی۔ اخیر میں یہ نوبت پہنچ گئی کہ بہت سے مجاہدین ایک ہی کھجور کو یکے بعد دیگرے چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ پھر پانی کے فقدان سے اونٹوں کی آلائش نچوڑ کر پینے کی نوبت آگئی۔ سواری کا اتنا قحط تھا کہ دس دس آدمی ایک ایک اونٹ پر اترتے چڑھتے چلے جا رہے تھے۔ یہ ہی وہ جذبہ ایثار و فدا کاری تھا جس نے مٹھی بھر جماعت کو تمام دنیا کی قوموں پر غالب کردیا۔ فللہ الحمد والمنہ۔
4 خدا کی مہربانیاں پیغمبر ﷺ پر بیشمار ہیں۔ اور آپ کی برکت سے مہاجرین و انصار پر بھی حق تعالیٰ کی مخصوص توجہ اور مہربانی رہی ہے کہ ان کو ایمان و عرفان سے مشرف فرمایا۔ اتباع نبوی، جہاد فی سبیل اللہ اور عزائم امور کے سرانجام دینے کی ہمت و توفیق بخشی۔ پھر ایسے مشکل وقت میں جبکہ بعض مومنین کے قلوب بھی مشکلات اور صعوبتوں کا ہجوم دیکھ کر ڈگمگانے لگے تھے اور قریب تھا کہ رفاقت نبوی ﷺ سے پیچھے ہٹ جائیں۔ حق تعالیٰ نے دوبارہ مہربانی اور دستگیری فرمائی کہ ان کو اس قسم کے خطرات و وساوس پر عمل کرنے سے محفوظ رکھا اور مومنین کی ہمتوں کو مضبوط اور ارادوں کو بلند کیا۔
Ayah 9:1185 یہ تین شخص کعب بن مالک، ہلال بن امیّہ اور مرارہ بن الربیع ہیں۔ جو باوجود مومن مخلص ہونے کے محض تن آسانی اور سہل انگاری کی بناء پر بدون عذر شرعی کے تبوک کی شرکت سے محروم رہے۔ جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے تو نہ انہوں نے منافقین کی طرح جھوٹے عذر پیش کئے اور نہ بعض صحابہ کی طرح اپنے آپ کو ستونوں سے باندھا۔ جو واقعہ تھا صاف صاف عرض کردیا، اور اپنی کوتاہی اور تقصیر کا اعلانیہ اعتراف کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ منافقین کی طرف سے بظاہر اغماض کر کے ان کے بواطن کو خدا کے سپرد کیا گیا۔ " اصحاب سواری " کی (یعنی جو مسجد کے ستونوں سے بندھے ہوئے تھے) توبہ قبول کرلی گئی۔ اور ان تینوں کا فیصلہ تادیباً کچھ مدت کے لیے ملتوی رکھا گیا۔ پچاس دن گزرنے کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی پیچھے رکھے جانے کا یہ ہی مطلب ہے جیسا کہ بخاری میں خود کعب بن مالک سے نقل کیا ہے۔
6 ان تین میں سے حضرت کعب بن مالک ؓ نے اپنا واقعہ نہایت شرح وبسط سے عجیب موثر طرز میں بیان فرمایا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ملاحظہ کیا جائے۔ یہاں اس کے بعض اجزاء نقل کیے جاتے ہیں۔ کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ تبوک کی مہم چونکہ بہت سخت اور دشوار گزار تھی۔ حضور ﷺ نے صحابہ کو عام حکم تیاری کا دیا۔ لوگ مقدور و استطاعت کے موافق سامان سفر درست کرنے میں مشغول تھے مگر میں بےفکر تھا کہ جب چاہوں گا فوراً تیار ہو کر ساتھ چلا جاؤں گا۔ کیونکہ بفضل ایزدی اس وقت ہر طرح کا سامان مجھ کو میسر تھا۔ ایک چھوڑ دو سواریاں میرے پاس موجود تھیں میں اسی غفلت کے نشہ میں رہا۔ ادھر نبی کریم ﷺ نے تیس ہزار مجاہدین اسلام کو کوچ کا حکم دے دیا۔ مجھے اب بھی یہ خیال تھا کہ حضور ﷺ روانہ ہوگئے تو کیا ہے، اگلی منزل پر آپ ﷺ سے جا ملوں گا۔ آج چلوں کل چلوں اس امروز و فردا میں وقت نکل گیا۔ حضور ﷺ نے تبوک پہنچ کر فرمایا " مافعل کعب بن مالک " (کعب بن مالک کو کیا ہوا) بنی سلمہ کا ایک شخص بولا کہ یارسول اللہ ! اس کی عیش پسندی اور اعجاب و غرور نے نکلنے کی اجازت نہ دی۔ معاذ بن جبل نے کہا کہ تو نے بری بات کہی۔ خدا کی قسم ہم نے اس میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا حضور ﷺ یہ گفتگو سن کر خاموش رہے۔ کعب کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد بہت زیادہ وحشت اس سے ہوتی تھی کہ سارے مدینہ میں پکے منافق یا معذور مسلمان کے سوا مجھے کوئی مرد نظر نہ پڑتا تھا۔ بہرحال اب دل میں طرح طرح کے جھوٹے منصوبے گانٹھنے شروع کیے کہ آپ کی واپسی پر فلاں عذر کر کے جان بچالوں گا۔ مگر جس وقت معلوم ہوا کہ حضور ﷺ خیر و عافیت سے واپس تشریف لے آئے، دل سے سارے جھوٹ فریب محو ہوگئے اور طے کرلیا کہ سچ کے سوا کوئی چیز اس بارگاہ میں نجات دلانے والی نہیں۔ حضور ﷺ مسجد میں رونق افروز تھے، اصحاب کا مجمع تھا۔ منافقین جھوٹے حیلے بہانے بنا کر ظاہری گرفت سے چھوٹ رہے تھے کہ میں حضور ﷺ کے سامنے آیا۔ میرے سلام کرنے پر آپ نے غضب آمیز تبسم فرمایا اور غیر حاضری کی وجہ دریافت کی میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! اگر اس وقت میں دنیا والوں میں سے کسی دوسرے کے سامنے ہوتا تو آپ دیکھتے کہ کس طرح زبان زوری اور چرب لسانی سے جھوٹے حیلے حوالے کر کے اپنے آپ کو صاف بچا لیتا۔ مگر یہاں تو معاملہ ایک ایسی ذات مقدس سے ہے جسے جھوٹ بول کر اگر میں راضی بھی کرلوں تو تھوڑی دیر کے بعد خدا اس کو سچی بات پر مطلع کر کے مجھ سے ناراض کر دے گا۔ برخلاف اس کے سچ بولنے میں گو تھوڑی دیر کے لیے آپ کی خفگی برداشت کرنی پڑے گی لیکن امید کرتا ہوں کہ خدا کی طرف سے اس کا انجام بہتر ہوگا۔ اور آخرکار سچ بولنا ہی مجھے خدا اور رسول کے غصہ سے نجات دلائے گا۔ یا رسول اللہ واقعہ یہ ہے کہ میرے پاس غیر حاضری کا کوئی عذر نہیں، جس وقت حضور ﷺ کی ہم رکابی کے شرف سے محروم ہوا، اس وقت سے زیادہ فراخی اور مقدرت کبھی مجھ کو حاصل نہ ہوئی تھی۔ میں مجرم ہوں، آپ کو اختیار ہے جو فیصلہ چاہیں میرے حق میں دیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ شخص ہے جس نے سچی بات کہی۔ اچھا جاؤ اور خدائی فیصلے کا انتظار کرو۔ میں اٹھا اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع) یہ دو شخص میرے ہی جیسے ہیں۔ ہم تینوں کے متعلق آپ ﷺ نے حکم دے دیا کہ کوئی ہم سے بات نہ کرے۔ سب علیحدہ رہیں۔ چناچہ کوئی مسلمان ہم سے بات نہ کرتا تھا، نہ سلام کا جواب دیتا تھا۔ وہ دونوں تو خانہ نشین ہوگئے، شب و روز گھر میں وقف گریہ وبکا رہتے تھے میں ذرا سخت اور قوی تھا۔ مسجد میں نماز کے لیے حاضر ہوتا۔ حضور ﷺ کو سلام کر کے دیکھتا تھا کہ جواب میں لب مبارک کو حرکت ہوئی یا نہیں۔ جب میں حضور ﷺ کی طرف دیکھتا۔ آپ میری طرف سے منہ پھیر لیتے تھے مخصوص اقارب اور محبوب ترین اعزہ بھی مجھ سے بیگانہ ہوگئے تھے۔ اس اثناء میں ایک روز ایک شخص نے بادشاہ " غسان " کا خط مجھے دیا۔ جس میں میری مصیبت پر اظہار ہمدری کرنے کے بعد دعوت دی تھی کہ میں اس کے ملک میں آجاؤں وہاں میری بہت آؤ بھگت ہوگی میں نے پڑھ کر کہا کہ یہ بھی ایک مستقل امتحان ہے۔ آخر وہ خط میں نے نذر آتش کردیا۔ چالیس دن گزرنے کے بعد بارگاہ رسالت سے جدید حکم پہنچا کہ میں اپنی عورت سے بھی علیحدہ رہوں، چناچہ اپنی بیوی کو کہہ دیا کہ اپنے میکے چلی جائے اور جب تک خدا کے یہاں سے میرا کوئی فیصلہ ہو وہیں ٹھہری رہے۔ سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر اسی حالت میں موت آئی تو حضور میرا جنازہ نہ پڑھیں گے۔ اور فرض کیجئے ان دنوں میں آپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو مسلمان ہمیشہ یہ ہی معاملہ مجھ سے رکھیں گے۔ میری میت کے قریب بھی کوئی نہ آئے گا غرض پچاس دن اسی حالت میں گزرے کہ خدا کی زمین مجھ پر باوجود فراخی کے تنگ تھی بلکہ عرصہ حیات تنگ ہوگیا تھا، زندگی موت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی تھی کہ یکایک جبل سلع سے آواز آئی " یاکعب بن مالک ! ابشر " (اے کعب بن مالک خوش ہوجا) میں سنتے ہی سجدہ میں گرپڑا۔ معلوم ہوا کہ اخیر شب میں حق تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر ﷺ کو خبر دی گئی کہ ہماری توبہ مقبول ہے۔ آپ نے بعد نماز فجر صحابہ کو مطلع فرمایا۔ ایک سوار میری طرف دوڑا کہ بشارت سنائے۔ مگر دوسرے شخص نے پہاڑ پر زور سے للکارا۔ اس کی آواز سوار سے پہلے پہنچی اور میں نے اپنے بدن کے کپڑے اتار کر آواز لگانے والے کو دیے۔ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لوگ جوق جوق آتے اور مجھے مبارک باد دیتے تھے۔ مہاجرین میں سے حضرت طلحہ نے کھڑے ہو کر مصافحہ کیا حضور کا چہرہ خوشی سے چادر کی طرح چمک رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا، خدا نے تیری توبہ قبول فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ اس توبہ کا تتمہ یہ ہے کہ اپنا کل مال و جائداد خدا کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ سب نہیں، کچھ اپنے لیے روکنا چاہیے۔ چناچہ میں نے خیبر کا حصہ الگ کر کے باقی مال صدقہ کردیا۔ چونکہ محض سچ بو لنے سے مجھ کو نجات ملی تھی، اس لیے عہد کیا کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، آئندہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا، اس عہد کے بعد بڑے سخت امتحانات پیش آئے۔ مگر الحمدللہ میں سچ کہنے سے کبھی نہیں ہٹا اور نہ انشاء اللہ تازیست ہٹوں گا۔ یہ واقعہ ہے جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔ گویا ان تینوں پر خدا کی پہلی مہربانی تو یہ ہی تھی کہ ایمان و اخلاص بخشا ' نفاق سے بچایا۔ اب نئی مہربانی یہ ہوئی کہ توبہ نصوح کی توفیق دے کر پھر اپنی طرف کھینچ لیا اور کوتاہیوں کو معاف فرما دیا۔
Ayah 9:1197 یعنی سچوں کی صحبت رکھو اور انہی جیسے کام کرو۔ دیکھ لو یہ تین شخص سچ کی بدولت بخشے گئے اور مقبول ٹھہرے منافقین نے جھوٹ بولا اور خدا کا ڈر دل سے نکال دیا تو " درک اسفل " کے مستحق بنے۔
Ayah 9:1201 یعنی رسول اللہ ﷺ تو تکلیفیں اٹھائیں اور ہم آرام سے بیٹھے رہیں، ایسا نہیں چاہیے، حدیث میں ہے کہ ابو خیثمہ ؓ بھی غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے۔ حضور ﷺ کی روانگی کے بعد باغ میں گئے وہاں خوشگوار سایہ تھا، حسین و جمیل بیوی سامنے تھے اس نے پانی چھڑک کر زمین کو خوب ٹھنڈا کردیا، چٹائی کا فرش کیا۔ تازہ کھجور کے خوشے سامنے رکھے اور سرد و شیریں پانی حاضر کیا۔ یہ سامان عیش دیکھ کر دفعتاً ابو خیثمہ کے دل میں ایک بجلی سی دوڑ گئی۔ بولے تف ہے اس زندگی پر کہ میں تو خوشگوار سائے، ٹھنڈے پانی اور باغ و بہار کے مزے لوٹ رہا ہوں، اور خدا کا محبوب پیغمبر ایسی سخت لو اور گرمی و تشنگی کے عالم میں کوہ و بیاباں طے کر رہا ہے۔ یہ خیال آتے ہی سواری منگائی تلوار حمائل کی نیزہ سنبھالا اور حضور ﷺ کے نقش قدم پر چل نکلے۔ اونٹنی تیز ہوا کی طرح چل رہی تھی، آخر لشکر کو جا پکڑا۔ حضور ﷺ نے دور سے دیکھ کر کہ کوئی اونٹنی سوار ریت کے ٹیلے قطع کرتا چلا آرہا ہے، فرمایا " کن اباخیثمہ " (ہو جا ابو خیثمہ) تھوڑی دیر میں سب نے دیکھ لیا کہ وہ ابو خیثمہ ہی تھے۔ ؓ وعن سائر الصحابۃ ورضوا عنہ۔
2 یعنی باوجودیکہ ان میں سے اکثر چیزیں (مثلاً بھوک، پیاس لگنا، یا تکلیف پہنچنا) اختیاری کام نہیں ہیں، تاہم نیت جہاد کی برکت سے ان غیر اختیاری چیزوں کے مقابلہ میں اعمال صالحہ ان کی فرد حسنات میں درج کردیئے جائیں گے جن پر خدا اجر نیک مرحمت فرمائے گا۔
Ayah 9:1213 خرچ کرنا یا میدان طے کرنا، خود عمل صالح اور اختیاری افعال ہیں۔ اسی لیے یہاں " اِلاَّ کُتِبَ لَہُمْ " فرمایا۔ گذشتہ آیت کی طرح الاَّ کُتِبَ لَہُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ" نہیں ارشاد ہوا۔ نبہ علیہ ابن کثیر۔
4 یعنی بہترین عمل کی بہترین جزاء دے گا۔
Ayah 9:1225 گذشتہ رکوعات میں " جہاد " میں نکلنے کی فضیلت اور نہ نکلنے پر ملامت تھی۔ ممکن تھا کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ ہمیشہ ہر جہاد میں تمام مسلمانوں پر نکلنا فرض عین ہے، اس آیت میں فرمایا کہ نہ ہمیشہ یہ ضروری ہے، نہ مصلحت ہے کہ سب مسلمان ایک دم جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ مناسب یہ ہے کہ ہر قبیلہ اور قوم میں سے ایک جماعت نکلے، باقی لوگ دوسری ضروریات میں مشغول ہوں۔ اب اگر نبی کریم ﷺ بنفس نفیس جہاد کے لیے تشریف لے جا رہے ہوں تو ہر قوم میں سے جو جماعت آپ کے ہمراہ نکلے گی وہ حضور ﷺ کی صحبت میں رہ کر اور سینکڑوں حوادث و واقعات میں سے گزر کر دین اور احکام دینیہ کی سمجھ حاصل کرے گی اور واپس آکر اپنی باقی ماندہ قوم کو مزید علم و تجربہ کی بناء پر بھلے برے سے آگاہ کرے گی اور فرض کیجئے اگر حضور ﷺ خود مدینہ میں رونق افروز رہے تو باقی ماندہ لوگ جو جہاد میں نہیں گئے حضور ﷺ کی خدمت سے مستفید ہو کر دین کی باتیں سیکھیں گے۔ اور مجاہدین کی غیبت میں جو وحی و معرفت کی باتیں سنیں گے ان سے واپسی کے بعد مجاہدین کو خبردار کریں گے۔ آیت کے الفاظ میں عربی ترکیب کے اعتبار سے دونوں احتمال ہیں۔ کما فی " روح المعانی " وغیرہ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر قوم میں سے چاہیے بعض لوگ پیغمبر کی صحبت میں رہیں تاکہ علم دین سیکھیں اور پچھلوں کو سکھائیں۔ اب پیغمبر اس دنیا میں موجود نہیں لیکن علم دین اور علماء موجود ہیں۔ طلب علم فرض کفایہ ہے اور جہاد بھی فرض کفایہ ہے۔ البتہ اگر کسی وقت امام کیطرف سے نفیر عام ہوجائے تو " فرض عین " ہوجاتا ہے۔ تبوک میں یہ ہی صورت تھی اس لیے پیچھے رہنے والوں سے باز پرس ہوئی۔ واللہ اعلم۔ ابو حیان کے نزدیک یہ آیت جہاد کے لیے نہیں، طلب علم کے بارے میں ہے۔ جہاد اور طلب کی آیات میں مناسبت یہ ہے کہ دونوں میں خروج فی سبیل اللہ ہے اور دونوں کی غرض احیاء و اعلائے دین ہے۔ ایک میں تلوار سے دوسرے میں زبان وغیرہ سے۔
Ayah 9:1236 جہاد فرض کفایہ ہے جو ترتیب طبعی کے موافق اول ان کفار سے ہونا چاہیے جو مسلمانوں سے قریب تر ہوں بعدہ، ان کے قریب رہنے والوں سے۔ اسی طرح درجہ بدرجہ حلقہ جہاد کو وسیع کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے جہاد اسی ترتیب سے ہوئے " دفاعی جہاد " میں بھی فقہاء نے یہ ہی ترتیب رکھی ہے کہ جس اسلامی ملک پر کفار حملہ آور ہوں، وہاں کے مسلمانوں پر دفاع واجب ہے اگر وہ کافی نہ ہوں یا سستی کریں تو ان کے متصل رہنے والوں پر وہ کافی نہ ہوں تو پھر جو ان سے متصل ہیں۔ اسی طرح اگر ضرورت پڑے تو درجہ بدرجہ مشرق سے مغرب تک جہاد فرض ہوتا چلا جائے گا۔
7 مومن کی شان یہ ہے کہ اپنے بھائی کے حق میں نرم اور دشمنان خدا و رسول کے معاملہ میں سخت و شدید ہو۔ تاکہ اس کی نرمی اور ڈھیلا پن دیکھ کر دشمن جری نہ ہوجائے۔ (اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْن) 5 ۔ المائدہ :54) ( وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ ) 48 ۔ الفتح :29) (جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ) 9 ۔ التوبہ :73) وَفِی الحدیث انہ ﷺ قال انا الضحوک القتال۔ "
8 یعنی خدا سے ڈرنے والے کو کسی کافر قوم سے ڈرنے اور دبنے کی کوئی وجہ نہیں۔ جب تک اور جس قدر مسلمان خدا سے ڈرتے رہے اسی وقت تک اور اسی قدر ان کو کفار پر غلبہ حاصل ہوتا رہا۔ حق تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنا ڈر پیدا کر دے۔
Ayahs 9:124–1251 جب کوئی سورت قرآنی نازل ہوتی تو منافقین آپس میں ایک دوسرے یا بعض سادہ دل مسلمانوں سے از راہ استہزاء و تمسخر کہتے کہ کیوں صاحب تم میں سے کس کس کا ایمان اس سورت نے بڑھایا۔ مطلب یہ تھا کہ (معاذ اللہ) اس سورت میں رکھا ہی کیا ہے۔ کون سے حقائق و معارف ہیں جو ایمان و یقین کی ترقی کا موجب ہوں حق تعالیٰ نے جواب دیا کہ بیشک کلام الٰہی سن کر مومنین کے ایمان میں تازگی اور ترقی ہوتی ہے اور قلوب مسرور و منشرح ہوتے ہیں۔ ہاں جن کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری اور گندگی ہے ان کی بیماری و گندگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ حتی کہ یہ بیماری ان کی جان ہی لے کر چھوڑتی ہے
باراں کہ درلطافت طبعش خلاف نیست
درباغ لالہ روید و درشورہ بوم خس
حضرت شاہ صاحب نے دوسری طرح آیت کی تقریر کی ہے۔ یعنی کلام الٰہی جس مسلمان کے دل کے خطرہ سے موافق پڑتا وہ خوش ہو کر بول اٹھتا کہ سبحان اللہ۔ اس آیت نے میرا ایمان و یقین اور زیادہ کردیا۔ اسی طرح جب کسی سورت میں منافقین کے پوشیدہ عیوب ظاہر کیے جاتے تو وہ بھی شرمندگی سے کھسیانے ہو کر کہتے کہ بیشک اس کلام نے ہمارے یقین و ایمان کو بڑھا دیا۔ لیکن یہ کہنا چونکہ خوشی اور انشراح سے نہ تھا۔ محض رفع خجالت کے لیے کہہ دیتے تھے اس لیے یہ توفیق نہ ہوتی تھی کہ آئندہ توبہ کر کے سچے دل سے حق کی پیروی کریں۔ بلکہ پہلے سے زیادہ اپنے عیب چھپانے کی فکر و تدبیر کرتے تھے۔ یہ ہی ہے گندگی پر گندگی۔ عیب دار کو لازم ہے کہ نصیحت سن کر اپنی اصلاح کرے نہ یہ کہ الٹا ناصح سے چھپانے لگے۔
Ayah 9:1262 یعنی ہر سال کم ازکم ایک دو مرتبہ ان منافقین کو فتنہ اور آزمائش میں ڈالا جاتا ہے مثلاً قحط، بیماری وغیرہ کسی آفت ارضی و سماوی میں مبتلا ہوتے ہیں یا پیغمبر ﷺ کی زبانی ان کا نفاق اعلانیہ ظاہر کر کے رسوا کیا جاتا ہے یا جنگ و جہاد کے وقت ان کی بزدلی اور تیرہ باطنی بےنقاب کردی جاتی ہے مگر وہ ایسے بےحیا اور بدباطن واقع ہوئے ہیں کہ تازیانے کھا کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے نہ پچھلی خطاؤں سے توبہ کرتے ہیں نہ آئندہ کو نصیحت پکڑتے ہیں۔
Ayah 9:1273 جس وقت وحی نازل ہوتی اور منافقین مجلس میں موجود ہوتے تو کلام الٰہی کا سننا ان پر بہت شاق گزرتا تھا خصوصاً وہ آیات جن میں ان کے عیوب کھولے جاتے تھے۔ اس وقت ایک دوسرے کی طرف کن انکھیوں سے اشارہ کرتے اور ادھر ادھر دیکھتے کہ مجلس میں کسی مسلمان نے ہم کو پرکھا نہ ہو۔ پھر نظر بچا کر شتاب مجلس سے کھسک جاتے تھے۔
4 یعنی مجلس نبوی سے کیا پھرے۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر دیا کہ وہ اپنی جہل و حماقت سے ایمان و عرفان کی باتوں کو سمجھنا اور قبول کرنا نہیں چاہتے۔
Ayah 9:1285 جس کے حسب و نسب، اخلاق واطوار اور دیانت و امانت سے تم خوب واقف ہو۔
6 جس چیز سے تم کو تکلیف یا سختی پہنچے وہ ان پر بہت بھاری ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے آپ یہ ہی چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو اور دنیاوی و اخروی عذاب سے محفوظ رہے۔ اس لیے جو دین آپ لائے وہ بھی سہل اور نرم ہے۔ اور عمال کو آپ یہ ہی نصیحت فرماتے تھے۔ یَسِّرُوْا وَلَاتُعَسِّرُوْا " (آسانی کرو سختی مت کرو)
7 یعنی تمہاری خیر خواہی اور نفع رسانی کی خاص تڑپ ان کے دل میں ہے۔ لوگ دوزخ کی طرف بھاگتے ہیں، آپ ان کی کمریں پکڑ پکڑ کر ادھر سے ہٹاتے ہیں۔ آپ کی بڑی کوشش اور آرزو یہ ہے کہ خدا کے بندے اصلی بھلائی اور حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ جہاد وغیرہ کا مقصد بھی خونریزی نہیں بلکہ بحالت مجبوری سخت آپریشن کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کے فاسد و مسموم اعضاء کو کاٹ کر اور خراب جراثیم کو تباہ کر کے امت کے مزاج عمومی کو صحت و اعتدال پر رکھنا ہے۔
8 جب آپ تمام جہان کے اس قدر خیر خواہ ہیں تو خاص ایمانداروں کے حال پر ظاہر ہے کس قدر شفیق و مہربان ہوں گے۔
Ayah 9:1299 اگر آپ کی عظیم الشان شفقت، خیر خواہی اور دل سوزی کی لوگ قدر نہ کریں تو کچھ پروا نہیں۔ اگر فرض کیجئے ساری دنیا آپ سے منہ پھیر لے تو تنہا خدا آپ کو کافی ہے جس کے سوا نہ کسی کی بندگی ہے نہ کسی پر بھروسہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ زمین و آسمان کی سلطنت اور " عرش عظیم " (تخت شہنشاہی) کا مالک وہی ہے۔ سب نفع و ضرر، ہدایت و ضلالت اس کے ہاتھ میں ہے۔
فائدہ ابو داؤد میں ابو الدرداء سے روایت کی ہے کہ جو شخص صبح و شام سات سات مرتبہ (حَسْبِيَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ) 9 ۔ التوبہ :129) پڑھا کرے، خدا اس کے تمام ہموم و غموم کو کافی ہوجائے گا۔ باقی عرش کی عظمت کے متعلق اگر تفصیل دیکھنا ہو تو " روح المعانی " میں زیر آیت حاضرہ ملاحظہ کیجئے۔
تَمَّ سُوْرَۃُ الَّتوْبَۃِ بِفَضْلِ اللّٰہِ وُحُسْنِ تَوْفِیْقِہٖ اَللّٰہُمَّ تُبْ عَلَیَّ وَاجْعَلْ لِّیْ بَرَاءَ ۃً مِّنَ النَّارِ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ ۔