9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو تم کو کیا ہوا جب تم سے کہا جاتا ہے کہ کوچ کرو اللہ کی راہ میں تو گرے جاتے ہو زمین پر کیا خوش ہوگئے دنیا کی زندگی پر آخرت کو چھوڑ کر سو کچھ نہیں نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلہ میں مگر بہت تھوڑا4

4 یہاں سے غزوہ تبوک کے لیے مومنین کو ابھارا گیا ہے گذشتہ رکوع سے پہلے رکوع میں (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ) 9 ۔ التوبہ :29) سے اہل کتاب کے مقابلہ میں جہاد کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ درمیان میں جو ذیلی مضامین آئے ان کا ربط موقع بہ موقع ظاہر ہوتا رہا ہے گویا وہ سب رکوع حاضر کی تمہید تھی۔ اور رکوع حاضر غزوہ تبوک کے بیان کی تمہید ہے۔ فتح مکہ و غزوہ حنین کے بعد 9 ہجری میں نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ شام کا نصرانی بادشاہ (ملک غسان) قیصر روم کی مدد سے مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے۔ حضور نے مناسب سمجھا کہ ہم خود حدود شام پر اقدام کر کے اس کا جواب دیں۔ اس لیے کے آپ ﷺ نے عام طور پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ جہاد کے لیے تیار ہوجائیں۔ گرمی سخت تھی۔ قحط سالی کا زمانہ تھا کجھور کی فصل پک رہی تھی سایہ خوشگوار تھا۔ پھر اس قدر بعید مسافت طے کر کے جانا، اور نہ صرف ملک غسان بلکہ قیصر روم کی باقاعدہ اور سروسامان سے آراستہ افواج سے نبرد آزما ہونا، کوئی کھیل تماشہ نہ تھا۔ ایسی مہم میں مومنین مخلصین کے سوا کس کا حوصلہ تھا کہ جانبازانہ قدم اٹھا سکتا۔ چناچہ منافقین جھوٹے حیلے بہانے تراش کر کھسکنے لگے۔ بعض مسلمان بھی ایسے سخت وقت میں اس طویل وصعب سفر سے کترا رہے تھے۔ جن میں بہت سے تو آخرکار ساتھ ہو لیے اور گنے چنے آدمی رہ گئے۔ جن کو کسل و تقاعد نے اس شرف عظیم کی شرکت سے محروم رکھا۔ نبی کریم ﷺ تقریباً تیس ہزار سر فروش مجاہدین کا لشکر جرار لے کر حدود شام کی طرف روانہ ہوگئے اور مقام تبوک میں ڈیرے ڈال دیے۔ ادھر قیصر روم کے نام نامہ مبارک لکھا جس میں اسلام کی طرف دعوت دی گئی تھی۔ حضور ﷺ کی صداقت اس کے دل میں گھر کرگئی۔ مگر قوم نے موافقت نہ کی۔ اس لیے قبول اسلام سے محروم رہا۔ شام والوں کو جب حضور ﷺ کے ارادے کی اطلاع ہوئی تو قیصر روم سے ظاہر کیا۔ اس نے مدد نہ کی، ان لوگوں نے اطاعت کی مگر اسلام نہ لائے۔ تھوڑی مدت کے بعد حضور ﷺ کی وفات ہوئی اور فاروق اعظم کے عہد خلافت میں تمام ملک شام فتح ہوا۔ جب حضور ﷺ تبوک سے غالب و منصور واپس تشریف لائے اور خدا نے بڑی بڑی سلطنتوں پر اسلام کی دھاک بٹھلا دی تو منافقین مدینہ بہت فضیحت ہوئے۔ نیز چند سچے مسلمان جو محض سستی اور کسل کی بنا پر نہ گئے تھے بیحد نادم و متحسر تھے۔ اس رکوع کے شروع سے بہت دور تک ان ہی واقعات کا ذکر ہے مگر زیادہ منافقین کی حرکات بیان ہوئی ہیں کہیں کہیں مسلمانوں کو خطاب اور ان کے احوال سے تعرض کیا گیا ہے۔ آیت حاضرہ میں مسلمانوں کو خطاب اور ان کے احوال سے تعرض کیا گیا ہے۔ آیت حاضرہ میں مسلمانوں کو بڑی شدت سے جہاد کی طرف ابھارا اور بتلایا ہے کہ تھوڑے سے عیش و آرام میں پھنس کر جہاد کو چھوڑنا گویا بلندی سے پستی کی طرف گر جانے کا مرادف ہے۔ مومن صادق کی نظر میں دنیا کے عیش و آرام کی آخرت کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہ ہونی چاہیے۔ حدیث میں ہے کہ اگر خدا کے نزدیک دنیا کی وقعت پر پشہ کی برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی کا نہ دیتا۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو دے گا تم کو عذاب دردناک اور بدلے میں لائے گا اور لوگ تمہارے سوا اور کچھ نہ بگاڑ سکو گے تم اس کا اور اللہ سب چیز پر قادر ہے5

5 یعنی خدا کا کام تم پر موقوف نہیں۔ تم اگر سستی کرو گے وہ اپنی قدرت کاملہ سے کسی دوسری قوم کو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا کر دے گا۔ تم اس سعادت سے محروم رہو گے جو تمہارے ہی نقصان کا موجب ہے منّت منہ کہ خدمت سلطاں ہمی کنی منّت شناس ازوکہ بخدمت گزاشتت
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم نہ مدد کرو گے رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اللہ نے جس وقت اس کو نکالا تھا کافروں نے کہ وہ دوسرا تھا دو میں کا جب وہ دونوں تھے غار میں جب وہ کہہ رہا تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں اور نیچے ڈالی بات کافروں کی اور اللہ کی بات ہمیشہ اوپر ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والاف 1

1 یعنی بالفرض اگر تم نبی کریم ﷺ کی مدد نہ کرو گے نہ سہی۔ ان کا منصورو کامیاب ہونا کچھ تم پر موقوف نہیں، ایک وقت پہلے ایسا آچکا ہے جب ایک یار غار کے سوا کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا۔ معدودے چند مسلمان مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت کر گئے تھے اور آپ ﷺ کو بھی ہجرت کا حکم ہوا مشرکین کا آخری مشورہ یہ قرار پایا تھا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک نوجوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر بیک وقت آپ ﷺ پر تلواروں کی ضرب لگائیں تاکہ خون بہا دینا پڑے تو سب قبائل پر تقسیم ہوجائے اور بنی ہاشم کی یہ ہمت نہ ہو کہ خون کے انتقام میں سارے عرب سے لڑائی مول لیں۔ جس شب میں اس ناپاک کاروائی کو عملی جامہ پہنچانے کی تجویز تھی، حضور ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علی کو لٹایا، تاکہ لوگوں کی امانتیں احتیاط سے آپ ﷺ کے بعد مالکوں کے حوالہ کردیں اور حضرت علی کی تسلی فرمائی کہ تمہارا بال بیکا نہ ہوگا پھر خود بہ نفس نفیس ظالموں کے ہجوم میں سے " شاہت الوجوہ " فرماتے ہوئے اور ان آنکھوں میں خاک جھونکتے ہوئے صاف نکل آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لیا اور مکہ سے چند میل ہٹ کر غار ثور میں قیام فرمایا۔ یہ غار پہاڑ کی بلندی پر ایک بھاری مجوف چٹان ہے۔ جس میں داخل ہونے کا صرف ایک راستہ تھا وہ بھی ایسا تنگ کہ انسان کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اس میں گھس نہیں سکتا۔ صرف لیٹ کر داخل ہونا ممکن تھا۔ اول حضرت ابوبکر نے اندر جا کر اسے صاف کیا۔ سب سوراخ کپڑے سے بند کیے۔ کہ کوئی کیڑا کانٹا گزند نہ پہنچا سکے۔ ایک سوراخ باقی تھا، اس میں اپنا پاؤں اڑا دیا۔ سب انتظام کر کے حضور ﷺ سے اندر تشریف لانے کو کہا۔ آپ ﷺ صدیق کے زانو پر سر مبارک رکھ کر استراحت فرما رہے تھے کہ سانپ نے ابوبکر کا پاؤں ڈس لیا۔ پاؤں کو حرکت نہ دیتے تھے مبادا حضور ﷺ کی استراحت میں خلل پڑے۔ جب آپ ﷺ کی آنکھ کھلی اور قصہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے لعاب مبارک صدیق کے پاؤں کو لگا دیا جس سے فوراً شفا ہوگئی، ادھر کفار " قائف " کو ہمراہ لے کر جو نشان ہائے قدم کی شناخت میں ماہر تھا۔ حضور ﷺ کی تلاش میں نکلے۔ اس نے غار ثور تک نشان قدم کی شناخت کی، مگر خدا کی قدرت کہ غار کے دروازہ پر مکڑی نے جالا تن لیا اور جنگلی کبوتر نے انڈے دے دیئے۔ یہ دیکھ کر سب نے قائف کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ مکڑی کا جالا تو محمد ﷺ کی ولادت سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے۔ اگر اندر کوئی داخل ہوتا تو یہ جالا اور انڈے کیسے صحیح وسالم رہ سکتے تھے۔ ابوبکر صدیق کو اندر سے کفار کے پاؤں نظر پڑے تھے۔ انہیں فکر تھی کہ جان سے زیادہ محبوب جس کے لیے سب کچھ فدا کرچکے ہیں دشمنوں کو نظر نہ پڑجائیں۔ گھبرا کر کہنے لگے یا رسول اللہ ! اگر ان لوگوں نے ذرا جھک کر اپنے قدموں کی طرف نظر کی تو ہم کو دیکھ پائیں گے، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر تیرا کیا خیال ہے ان دو کی نسبت جن کا تیسرا اللہ ہے، یعنی جب اللہ ہمارے ساتھ ہے تو پھر کس کا ڈر ہے۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ایک خاص قسم کی کیفیت سکون و اطمینان حضور ﷺ کے قلب مبارک پر اور آپ ﷺ کی برکت سے ابوبکر کے قلب مقدس پر نازل فرمائی اور فرشتوں کی فوج سے حفاظت و تائید کی۔ یہ اسی تائید غیبی کا کرشمہ تھا کہ مکڑی کا جالا جسے " اوہن البیوت " بتلایا ہے، بڑے بڑے مضبوط و مستحکم قلعوں سے بڑھ کر ذریعہ تحفظ بن گیا۔ اسی طرح خدا نے کافروں کی بات نیچی کی اور ان کی تدابیر خاک میں ملا دیں۔ آپ ﷺ تین روز غار میں قیام فرما کر بعافیت تمام مدینہ پہنچ گئے۔ بیشک انجام کار خدا ہی کا بول بالا رہتا ہے۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں (تنبیہ) بعض نے وَاَیَّدَہ، بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْہَا سے بدر وحنین وغیرہ میں جو نزول ملائکہ ہوا وہ مراد لیا ہے مگر ظاہر سیاق سے وہ ہی ہے جو ہم نے بیان کیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکلو ہلکے اور بوجھل2 اور لڑو اپنے مال سے اور جان سے اللہ کی راہ میں یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے3

2 یعنی پیادہ اور سوار، فقیر اور غنی جو ان اور بوڑھے جس حالت میں ہوں نکل کھڑے ہوں۔ نفیر عام کے وقت کوئی عذر پیش نہ لائیں۔ 3 یعنی دنیاوی اور اخروی ہر حیثیت سے۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال ہوتا نزدیک اور سفر ہلکا تو وہ لوگ ضرور تیرے ساتھ ہو لیتے لیکن لمبی نظر آئی ان کو مسافت4 اور اب قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم ضرور چلتے تمہارے ساتھ وبال میں ڈالتے ہیں اپنی جانوں کو اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں5

4 یہ منافقین کو فرمایا کہ اگر سفر ہلکا ہوتا اور بےمحنت مال غنیمت ہاتھ آنے کی توقع ہوتی تو جلدی سے ساتھ ہو لیتے۔ لیکن ایسی کٹھن منزلوں کا طے کرنا ان سے کہاں ممکن ہے ؟ 5 یا تو نکلنے سے پہلے قسمیں کھا کر طرح طرح کے حیلے حوالے کریں گے کہ آپ ان کو مدینہ میں ٹھہرے رہنے کی اجازت دے دیں اور یا آپ کی واپسی کے بعد جھوٹی قسمیں کھا کر باتیں بنائیں گے تاکہ اپنے نفاق پر پردہ ڈالیں۔ حالانکہ خدا سے ان کا جھوٹ اور نفاق پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ یہ نفاق و فریب دہی اور جھوٹی قسمیں کھانا انجام کار انہی کے حق میں وبال جان ہوگا۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ بخشے تجھ کو کیوں رخصت دے دی تو نے ان کو یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے تجھ پر سچ کہنے والے اور جان لیتا تو جھوٹوں کو6

6 منافقین جھوٹے عذر کر کے جب مدینہ میں ٹھہرے رہنے کی اجازت طلب کرتے تو آپ ان کے کید و نفاق سے اغماض کر کے اور یہ سمجھ کر کہ ان کے ساتھ چلنے میں فساد کے سوا کوئی بہتری نہیں اجازت دیتے تھے اس کو فرمایا کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ کیونکہ اس وقت ظاہر ہوجاتا کہ انہوں نے اپنے نہ جانے کو کچھ آپ کی اجازت پر موقوف نہیں رکھا ہے جانے کی توفیق تو انہیں کسی حال نہ ہوتی۔ البتہ آپ کے روبرو ان کا جھوٹ سچ کھل جاتا۔ پس اجازت دینا کوئی گناہ نہ تھا، البتہ نہ دینا مصالح حاضرہ کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہوتا۔ اس اعلیٰ و اکمل صورت کے ترک کی وجہ سے خطاب کو " عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ " سے شروع فرمایا۔ عفو کا لفظ ضروری نہیں کہ گناہ ہی کے مقابلہ میں ہو۔ بعض محققین نے عفا اللہ عنک " اس جملہ کو صدر کلام میں محض دعا و تعظیم کے طور پر لیا ہے جیسا کہ عرب کے محاورات میں شائع تھا، مگر سلف سے وہ ہی منقول ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا۔ اور لفظ " لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ " اس کی تائید کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 9:44–45

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

نہیں رخصت مانگتے تجھ سے وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس سے کہ لڑیں اپنے مال اور جان سے اور اللہ خوب جانتا ہے ڈر والوں کو

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

رخصت وہی مانگتے ہیں تجھ سے جو نہیں ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور شک میں پڑے ہیں دل ان کے سو وہ اپنے شک ہی میں بھٹک رہے ہیں1

1 یعنی جن کے دلوں میں ایمان وتقویٰ کا نور ہے، ان کی یہ شان نہیں کہ جہاد سے الگ رہنے کی اس طرح بڑھ بڑھ کر اجازت حاصل کریں۔ ان کا حال تو وہ ہے جو اس پارہ کے آخر میں بیان ہوا ہے۔ (تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :92) یعنی بےسروسامانی وغیرہ کے عذر سے اگر " جہاد فی سبیل اللہ " کے شرف سے محروم رہ جائیں تو اس فضل کے فوت ہوجانے پر ان کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔ بےحیا بن کر جہاد سے علیحدہ رہنے کی اجازت لینا انہی کا شیوہ ہے جن کو خدا کے وعدوں پر یقین نہیں نہ آخرت کی زندگی کو سمجھتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے اسلام و مسلمین کے غالب و منصور ہونے کی جو خبریں دی ہیں ان کے متعلق ہمیشہ شک و شبہ میں گرفتار رہتے ہیں۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ چاہتے نکلنا تو ضرور تیار کرتے کچھ سامان اس کا لیکن پسند نہ کیا اللہ نے ان کا اٹھنا سو روک دیا ان کو اور حکم ہوا کہ بیٹھے رہو ساتھ بیٹھنے والوں کے2

2 ان کا ارادہ ہی گھر سے نکلنے کا نہیں۔ ورنہ اس کا کچھ تو سامان کرتے حکم جہاد سنتے ہی جھوٹے عذر نہ لے دوڑتے۔ واقعہ یہ ہے کہ خدا نے ان کی شرکت کو پسند ہی نہیں کیا۔ یہ جاتے تو وہاں فتنے اٹھاتے۔ نہ جانے کی صورت میں انہیں پتہ لگ جائے گا کہ مومنین کو خدا کے فضل سے ایک تنکے کے برابر ان کی پروا نہیں۔ اسی لیے خدا نے صفوف مجاہدین میں شامل ہونے سے روک دیا اس طرح کہ رکنے کا وبال انہی کے سر پر رہے۔ گویا ان کو تکویناً کہہ دیا گیا کہ جاؤ، عورتوں بچوں اور اپاہج آدمیوں کے ساتھ گھر میں گھس کر بیٹھ رہو۔ اور پیغمبر ﷺ نے ان کے اعذارِ کا ذبہ کے جواب میں جو گھر بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی، یہ بھی ایک طرح خدا ہی کا فرما دینا ہے۔ اس لیے تکویناً کی قید بھی ضروری نہیں۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر نکلتے تم میں تو کچھ نہ بڑھاتے تمہارے لیے مگر خرابی اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر بگاڑ کروانے کی تلاش میں3 اور تم میں بعضے جاسوس ہیں ان کے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو4

3 یعنی اگر تمہارے ساتھ نکلتے تو اپنے جبن و نامردی کی وجہ سے دوسروں کی ہمتیں بھی سست کردیتے اور آپس میں لگا بجھا کر مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کی کوشش کرتے اور جھوٹی افواہیں اڑا کر ان کو دشمنوں سے ہیبت زدہ کرنا چاہتے۔ غرض ان کے وجود سے بھلائی میں تو کوئی اضافہ نہ ہوتا ہاں برائی بڑھ جاتی اور فتنہ انگیزی کا زور ہوتا۔ ان ہی وجوہ سے خدا نے ان کو جانے کی توفیق نہ بخشی۔ 4 یعنی اب بھی ان کے جاسوس یا بعض ایسے سادہ لوح افراد تم میں موجود ہیں جو ان کی بات سنتے اور تھوڑا بہت متاثر ہوتے ہیں (ابن کثیر) گو ویسا فتنہ فساد برپا نہیں کرسکتے جو ان شریروں کے وجود سے ہوسکتا تھا، بلکہ ایک حیثیت سے ایسے جواسیس کا ہمراہ جانا مفید ہے کہ وہ بچشم خود مسلمانوں کی اولوالعزمی، بےجگری وغیرہ دیکھ کر ان سے نقل کریں گے تو ان کے دلوں پر بھی مسلمانوں کی ہیبت قائم ہوگی۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

وہ تلاش کرتے رہے ہیں بگاڑ کی پہلے سے اور الٹتے رہے تیرے کام یہاں تک کہ آپہنچا سچا وعدہ اور غالب ہوا حکم اللہ کا اور وہ ناخوش ہی رہے5

5 جس وقت حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے، یہود اور منافقین مدینہ آپ کے خلاف طرح طرح کی فتنہ انگیزیاں کرتے رہے اور اسلام کی روز افزوں تر قیات کا تختہ الٹنے کے لیے بہت کچھ الٹ پھیر کی۔ مگر بدر میں جب کفر و شرک کے بڑے بڑے ستون گرگئے اور حیرت انگیز طریقہ پر اسلام کا غلبہ ظاہر ہوا تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا اِنْ ہٰذَا اَمْرٌ قَدْتَوَجَّہَ کہ یہ چیز تو اب رکنے والی معلوم نہیں ہوتی چناچہ بہت سے لوگ خوف کھا کر محض زبان سے کلمہ پڑھنے لگے مگر چونکہ دل میں کفر چھپا ہوا تھا اس لئے جوں جوں اسلام و مسلمین کی کامیابی اور غلبہ دیکھتے، دل دل میں جلتے اور غیظ کھاتے تھے۔ غرض ان کی فتنہ پردازی اور مکاری کوئی نئی چیز نہیں۔ شروع سے ان کا یہ ہی وطیرہ رہا ہے جنگ احد میں یہ لوگ اپنی جماعت کو لے کر راستہ سے لوٹ آئے تھے۔ مگر آخر دیکھ لیا کہ حق کس طرح غالب ہو کر رہتا ہے اور باطل کیسے ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کہتے ہیں مجھ کو رخصت دے اور گمراہی میں نہ ڈال، سنتا ہے وہ تو گمراہی میں پڑچکے ہیں اور بیشک دوزخ گھیر رہی ہے کافروں کو1

1 ایک بڑے منافق جد بن قیس نے کہا کہ حضرت مجھے تو یہیں رہنے دیجئے۔ روم کی عورتیں بہت حسین ہوتی ہیں میں انہیں دیکھ کر دل قابو میں نہ رکھ سکوں گا۔ تو مجھے وہاں لیجا کر گمراہی میں نہ ڈالیے۔ فرمایا کہ یہ لفظ کہہ کر اور اپنے جبن و کفر پر جھوٹی پرہیزگاری کا پردہ ڈال کر وہ گمراہی کے گڑھے میں گر چکا۔ اور آگے چل کر کفر و نفاق کی بدولت دوزخ کے گڑھے میں گرنے والا ہے بعض نے آیت کو عام منافقین کے حق میں رکھا ہے اور لاتَفْتَنِیْ کا مطلب یہ لیا ہے کہ ہم کو ساتھ لے جا کر اموال وغیرہ کے نقصان میں مبتلا نہ کیجئے اس کا جواب الافی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوا سے دیا۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تجھ کو پہنچے کوئی خوبی تو وہ بری لگتی ہے ان کو اور اگر پہنچے کوئی سختی تو کہتے ہیں ہم نے تو سنبھال لیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور پھر کر جائیں خوشیاں کرتے2

2 منافقین کی عادت تھی۔ جب مسلمانوں کو غلبہ و کامیابی نصیب ہوتی تو جلتے اور کڑھتے تھے۔ اور اگر کبھی کوئی سختی کی بات پیش آگئی مثلاً کچھ مسلمان شہید یا مجروح ہوگئے۔ تو فخریہ کہتے کہ ہم نے ازراہ دور اندیشی پہلے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کرلیا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہی حشر ہونے والا ہے لہذا ان کے ساتھ گئے ہی نہیں۔ غرض ڈینگیں مارتے ہوئے اور خوشی سے بغلیں بجاتے ہوئے اپنی مجلسوں سے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔
Ayahs 9:51–52

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

تو کہہ دے ہم کو ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے وہی ہے کارساز ہمارا، اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں مسلمان

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

تو کہہ دے تم کیا امید کرو گے ہمارے حق میں مگر دو خوبیوں میں سے ایک کی اور ہم امیدوار ہیں تمہارے حق میں کہ ڈالے تم پر اللہ کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سو منتظر رہو ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں3

3 یعنی سختی یا نرمی جو جس وقت کے لیے مقدر ہے وہ تو ٹل نہیں سکتی، نہ دنیا میں اس سے چارہ ہے۔ مگر ہم چونکہ ظاہر و باطن سے خدا کو اپنا حقیقی مولا اور پروردگار سمجھتے ہیں، لہذا ہماری گردنیں اس کے فیصلے اور حکم کے سامنے پست ہیں۔ کوئی سختی اس کی فرمانبرداری سے باز نہیں رکھتی۔ اور اسی پر ہم کو بھروسہ ہے کہ وہ عارضی سختی کو آخرت میں بالیقین اور بسا اوقات دنیا میں بھی راحت و خوشی سے تبدیل کر دے گا۔ اندریں صورت تم ہماری نسبت دو بھلائیوں میں سے کسی ایک کی ضرور امید کرسکتے ہو۔ اگر خدا کے راستہ میں مارے گئے تو شہادت و جنت، اور واپس آئے تو اجر یا غنیمت ضرور مل کر رہے گی۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں حق تعالیٰ نے مجاہد کی نسبت ان چیزوں کا تکفّل فرمایا ہے۔ برخلاف اس کے تمہاری نسبت ہم منتظر ہیں کہ دو برائیوں میں سے ایک برائی ضرور پہنچ کر رہے گی یا نفاق و شرارت کی بدولت بلاواسطہ قدرت کی طرف سے کوئی عذاب تم پر مسلط ہوگا، یا ہمارے ہاتھوں سے خدا تم کو سخت سزا دلوائے گا جو رسوا کر کے تمہارے نفاق کا پردہ فاش کر دے گی۔ بہرحال تم اور ہم دونوں کو ایک دوسرے کا انجام دیکھنے کے لیے منتظر رہنا چاہیے۔ آخر معلوم ہوجائے گا کہ دونوں میں زیادہ انجام بین اور دور اندیش کون تھا۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دے کہ مال خرچ کرو خوشی سے یا ناخوشی سے ہرگز قبول نہ ہوگا تم سے بیشک تم نافرمان لوگ ہو4

4 جد بن قیس نے رومی عورتوں کے فتنہ کا بہانہ کر کے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت میں بذات خود نہیں جاسکتا۔ لیکن مالی اعانت کرسکتا ہوں۔ اس کا جواب دیا کہ بےاعتقاد کا مال قبول نہیں خواہ خوشی سے خرچ کرے یا ناخوشی سے۔ یعنی خوشی سے خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کی ان کو توفیق کہاں ( وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :54) تاہم اگر بالفرض خوشی سے بھی خرچ کریں تو خدا قبول نہ کرے گا۔ اس کا سبب اگلی آیت میں بتایا ہے۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور موقوف نہیں ہوا قبول ہونا ان کے خرچ کا مگر اسی بات پر کہ وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے، اور نہیں آتے نماز کو مگر ہارے جی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے5

5 عدم قبول کا اصل سبب تو ان کا کفر ہے جیسا کہ ہم پہلے متعدد مواقع میں اشارہ کرچکے کہ کافر کا ہر عمل مردہ اور بےجان ہوتا ہے۔ باقی نماز میں ہارے جی سے آنا، یا برے دل سے خرچ کرنا، یہ سب کفر کے ظاہری آثار ہیں۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو تو تعجب نہ کر ان کے مال اور اولاد سے یہی چاہتا ہے اللہ کہ ان کو عذاب میں رکھے ان چیزوں کی وجہ سے دنیا کی زندگی میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں1

1 شبہ گزر سکتا تھا کہ جب یہ ایسے مردود ہیں تو ان کو مال و اولاد وغیرہ نعمتوں سے کیوں نوازا گیا ہے۔ اس کا جواب دیا کہ یہ نعمتیں ان کے حق میں بڑا عذاب ہیں، جس طرح ایک لذیذ اور خوشگوار غذا تندرست آدمی کی صحت و قوت کو بڑھاتی ہے اور فاسد الاخلاط مریض کو ہلاکت سے قریب تر کردیتی ہے۔ یہ ہی حال ان دنیاوی نعمتوں (مال و اولاد وغیرہ) کا سمجھو، ایک کافر کے حق میں یہ چیزیں سوئے مزاج کی وجہ سے زہرہلاہل ہیں۔ چونکہ کفار دنیا کی حرص و محبت میں غریق ہوتے ہیں، اس لیے اول اس کے جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں۔ پھر ذرا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے، اسی قدر غم سوار ہوتا ہے اور کوئی وقت اس کے فکر و اندیشہ اور ادھیڑ بن سے خالی نہیں جاتا۔ پھر جب موت ان محبوب چیزوں سے جدا کرتی ہے اس وقت کے صدمے اور حسرت کا تو اندازہ کرنا مشکل ہے۔ غرض دنیا کے عاشق اور حریص کو کسی وقت حقیقی چین اور اطمینان میسر نہیں۔ چناچہ یورپ و امریکہ وغیرہ کے بڑے بڑے سرمایہ داروں کے اقوال اس پر شاہد ہیں۔ باقی مومنین جو دولت اور اولاد کو معبود اور زندگی کا اصلی نصب العین نہیں سمجھتے، چونکہ ان کے دل میں حب دنیا کا مرض نہیں ہوتا اس لیے یہ ہی چیزیں ان کے حق میں نعمت اور دین کی اعانت کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر کفار کثرت مال و اولاد پر مغرور ہو کر کفرو طغیان میں اور زیادہ شدید ہوجاتے ہیں جو اس کا سبب بنتا ہے کہ اخیر دم تک کافر ہی رہیں۔ نیز منافقین مدینہ جن کے حق میں یہ آیات نازل ہوئیں، ان کا حال یہ تھا کہ بادل نخواستہ جہاد وغیرہ کے مواقع پر ریاء و نفاق سے مال خرچ کرتے تھے اور ان کی اولاد میں بعض لوگ مخلص مسلمان ہو کر نبی کریم ﷺ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتے تھے، یہ دونوں چیزیں منافقین کے منشائے قلبی کے بالکلیہ خلاف تھیں، اس طرح اموال و اولاد ان کے لیے دنیا میں عذاب بن گئے تھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی یہ تعجب نہ کرے کہ بےدین کو اللہ نے نعمت کیوں دی، بےدین کے حق میں اولاد اور مال وبال ہے کہ ان کے پیچھے دل پریشان رہے اور ان کی فکر سے چھوٹنے نہ پائے مرتے دم تک، تاکہ توبہ کرے یا نیکی اختیار کرے۔ "
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بیشک تم میں ہیں اور وہ تم میں نہیں و لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں تم سے

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ پائیں کوئی پناہ کی جگہ یا غار یا سر گھسانے کو جگہ تو الٹے بھاگیں اسی طرف رسیاں تڑاتے2

2 یعنی محض اس خوف سے کہ کفر ظاہر کریں تو کفار کا سا معاملہ ان کے ساتھ بھی ہونے لگے گا۔ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو تمہاری ہی جماعت (مسلمین) میں شامل ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اگر آج ان کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا کسی غار میں چھپ کر زندگی بسر کرسکیں یا کم ازکم ذرا سر گھسانے کی جگہ ہاتھ آجائے، غرض حکومت اسلامی کا خوف نہ رہے، تو سب دعوے چھوڑ کر بےتحاشا اسی طرف بھاگنے لگیں، چونکہ نہ اسلامی حکومت کے مقابلہ کی طاقت ہے نہ کوئی پناہ کی جگہ ملتی ہے اس لیے قسمیں کھا کھا کر جھوٹی باتیں بناتے ہیں۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ تجھ کو طعن دیتے ہیں خیرات بانٹنے میں سو اگر ان کو ملے اس میں سے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے تو جبھی وہ ناخوش ہوجائیں3

3 بعض منافقین اور بعض اعراب (بدو) صدقات و غنائم کی تقسیم کے وقت دنیاوی حرص اور خود غرضی کی راہ سے حضور ﷺ کی نسبت زبان طعن کھولتے تھے کہ تقسیم میں انصاف کا پہلو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ مگر یہ اعتراض اسی وقت تک تھا جب تک ان کی خواہش کے موافق صدقات وغیرہ میں سے حصہ نہ دیا جائے۔ اگر انہیں خوب جی بھر کر خواہش و حرص کے موافق دے دیا گیا تو خوش ہوجاتے اور کچھ اعتراض نہیں رہتا تھا گویا ہر طرح مال و دولت کو قبلہ مقصود ٹھہرا رکھا تھا۔ آگے بتلاتے ہیں کہ ایک مدعی ایمان کا مطمح نظر یہ نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ راضی ہوجاتے اسی پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہم کو اللہ وہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم کو تو اللہ ہی چاہیے4

4 یعنی بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ خدا پیغمبر کے ہاتھ سے دلوائے اس پر آدمی راضی و قانع ہو اور صرف خدا پر توکل کرے اور سمجھے کہ وہ چاہے گا تو آئندہ اپنے فضل سے بہت کچھ مرحمت فرمائے گا۔ غرض دنیا کی متاع فانی کو نصب العین نہ بنائے۔ صرف خداوند رب العزت کے قرب و رضا کا طالب ہو اور جو ظاہری و باطنی دولت خدا اور رسول کی سرکار سے ملے اسی پر مسرور و مطمئن ہو۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

زکوٰۃ جو ہے وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر چانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے1

1 چونکہ تقسیم صدقات کے معاملہ میں پیغمبر پر طعن کیا گیا تھا، اس لیے متنبہ فرماتے ہیں کہ صدقات کی تقسیم کا طریقہ خدا کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اس نے صدقات وغیرہ کے مصارف معتین فرما کر فہرست نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ آپ ﷺ اسی کے موافق تقسیم کرتے ہیں اور کریں گے کسی کی خواہش کے تابع نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ " خدا نے صدقات (زکوٰۃ) کی تقسیم کو نبی یا غیر نبی کسی کی مرضی پر نہیں چھوڑا۔ بلکہ بذات خود اس کے مصارف متعین کردیے ہیں۔ جو آٹھ ہیں۔ " فقراء " (جن کے پاس کچھ نہ ہو) " مساکین " (جن کو بقدر حاجت میسر نہ ہو) " عاملین " (جو اسلامی حکومت کی طرف سے تحصیل صدقات وغیرہ کے کاموں پر مامور ہوں) " مؤلفۃ القلوب " (جن کے اسلام لانے کی امید ہو یا اسلام میں کمزور ہوں وغیر ذلک من الانواع، اکثر علماء کے نزدیک حضور کی وفات کے بعد یہ مد نہیں رہی) " رقاب " (یعنی غلاموں کا بدل کتابت ادا کر کے آزادی دلائی جائے۔ یا خرید کر آزاد کیے جائیں۔ یا اسیروں کا فدیہ دے کر رہا کرائے جائیں) " غارمین " (جن پر کوئی حادثہ پڑا اور مقروض ہوگئے یا کسی کی ضمانت وغیرہ کے بارے میں دب گئے) " سبیل اللہ " (جہاد وغیرہ میں جانے والوں کی اعانت کی جائے) " ابن السبیل " (مسافر جو حالت سفر میں مالک نصاب نہ ہو، گو مکان پر دولت رکھتا ہو) " حنفیہ " کے یہاں تملیک ہر صورت میں ضروری ہے اور فقر شرط ہے۔ تفصیل فقہ میں ملاحظہ کی جائے۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور بعضے ان میں بد گوئی کرتے ہیں نبی کی اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے تو کہہ کان ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین رکھتا ہے اللہ اور یقین کرتا ہے مسلمانوں کی بات کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے حق میں تم میں سے اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ان کے لیے عذاب ہے دردناک2

2 منافقین آپس میں بیٹھ کر اسلام کے متعلق بد گوئی کرتے۔ جب کوئی کہتا کہ ہماری یہ باتیں پیغمبر ﷺ تک پہنچ جائیں گی تو کہتے کیا پروا ہے۔ ان کے سامنے ہم جھوٹی تاویلیں کر کے اپنی برأت کا یقین دلا دیں گے۔ کیونکہ وہ تو کان ہی کان ہیں جو سنتے ہیں فوراً تسلیم کرلیتے ہیں۔ ان کو باتوں میں لے کر آنا کچھ مشکل نہیں۔ بات یہ تھی کہ حضرت اپنے حیاء و وقار اور کریم النفسی سے جھوٹے کا جھوٹ پہچانتے، تب بھی نہ پکڑتے۔ خلق عظیم کی بناء پر مسامحت اور تغافل برتتے۔ وہ بیوقوف جانتے کہ آپ نے سمجھا ہی نہیں۔ حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اگر وہ کان ہی ہیں تو تمہارے بھلے کے واسطے ہیں۔ نبی کی یہ خوبی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ نہیں تو اول تم پکڑے جاؤ گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ کی اس چشم پوشی اور خلق عظیم پر کسی وقت مطلع ہو کر تمہیں ہدایت ہوجائے۔ تمہاری جھوٹی باتوں پر نبی (علیہ السلام) کا سکوت اس لیے نہیں کہ انہیں واقعی تمہارا یقین آجاتا ہے۔ یقین تو ان کو اللہ پر ہے اور ایمانداروں کی بات پر ہاں تم میں سے جو دعوائے ایمان رکھتے ہیں، ان کے حق میں آپ کی خاموشی و اغماض ایک طرح کی رحمت ہے کہ فی الحال منہ توڑ تکذیب کر کے ان کو رسوا نہیں کیا جاتا۔ باقی منافقین کی حرکات شنیعہ خدا سے پوشیدہ نہیں۔ رسول کی پیٹھ پیچھے جو بد گوئی کرتے ہیں یا " ہُوَا اُذُنُ " کہہ کر آپ ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں، ان پر سزائے سخت کے منتظر رہیں۔
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمہارے آگے تاکہ تم کو راضی کریں اور اللہ کو اور اس کے رسول کو بہت ضرور ہے راضی کرنا اگر وہ ایمان رکھتے ہیں3

3 حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ " کسی وقت حضرت ﷺ ان کی دغا بازی پکڑتے تو مسلمانوں کے روبرو قسمیں کھاتے کہ ہمارے دل میں بری نیت نہ تھی۔ تاکہ ان کو راضی کر کے اپنی طرف کرلیں۔ نہ سمجھے کہ یہ فریب بازی خدا اور رسول ﷺ کے ساتھ کام نہیں آتی۔ " اگر دعوائے ایمان میں واقعی سچے ہیں تو دوسروں کو چھوڑ کر خدا و رسول ﷺ کو راضی کرنے کی فکر کریں۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ جان نہیں چکے کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے تو اس کے واسطے ہے دوزخ کی آگ سدا رہے اس میں یہی ہے بڑی رسوائی4

4 یعنی جس رسوائی سے بچنے کے لیے نفاق اختیار کیا ہے اس سے بڑی رسوائی یہ ہے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

ڈرا کرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل ہو مسلمانوں پر ایسی سورت کی جتا دے ان کو جو ان کے دل میں ہے تو کہہ دے ٹھٹھے کرتے رہو اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس کا تم کو ڈر ہے5

5 منافقین اپنی مجلسوں میں اسلام و پیغمبر اسلام کی بدگوئی کرتے، مومنین صادقین پر آوازے کستے، مہمات دین کا مذاق اڑاتے، پھر جب خیال آتا کہ ممکن ہے یہ باتیں حضور ﷺ تک پہنچ جائیں، تو کہتے کیا مضائقہ ہے وہ تو کان ہی کان ہیں، ہم ان کے سامنے جو تاویل و تلمیع کردیں گے، سن کر اسے قبول کرلیں گے۔ مگر چونکہ بسا اوقات وحی الٰہی کے ذریعہ سے ان کے نفاق و بدباطنی کی قلعی کھلتی رہتی تھی، اس لیے یہ ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ کوئی سورت قرآن میں ایسی نازل نہ ہوجائے جو ہمارے مخاطبات سریہ ونیات خفیہ کا پردہ فاش کر دے۔ اصل یہ ہے کہ منافقین کا قلب جبن و کمزوری سے کسی ایک طرف قائم نہ ہوتا تھا۔ ان کے دل ہر وقت دگدا میں رہتے تھے۔ کبھی آنحضرت ﷺ کی شان اغماض و کریم النفسی کو دیکھ کر کچھ تسلی حاصل کرتے مگر صاعقہ قرآنی کی گرج سے پھر دہلنے لگتے تھے۔ اسی لیے فرمایا کہ بہتر ہے، تم ٹھٹھے کرتے رہو اور استہزاء و تمسخر کا عمل جاری رکھو اور پیغمبر کی نسبت " ہوا اذن " کہہ کر تسلی کرلو۔ لیکن خدا اس چیز کو ضرور کھول کر رہے گا جس کا تم کو ڈر لگا ہوا ہے وہ تمہارے مکرو خداع کا تار تار بکھیر کر رکھ دے گا۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے تو وہ کہیں گے ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی6 تو کہہ کیا اللہ سے اور اس کے حکموں سے اس کے رسول سے تم ٹھٹھے کرتے تھے1

6 " تبوک " میں جاتے ہوئے بعض منافقین نے ازراہ تمسخر کہا۔ اس شخص (محمد ﷺ کو دیکھو کہ شام کے محلات اور روم کے شہروں کو فتح کرلینے کا خواب دیکھتا ہے۔ انہوں نے رومیوں کی جنگ کو عربوں کی باہمی جنگ پر قیاس کر رکھا ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کل ہم سب رومیوں کے سامنے رسیوں میں بندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ یہ ہمارے قراء (صحابہ ؓ پیٹو، جھوٹے اور نامردے کیا روم کی باقاعدہ فوجوں سے جنگ کریں گے " وغیرذالک من الہفوات۔ اس قسم کے مقولے جو مسلمانوں کو روم سے مرعوب وہیبت زدہ کرنے اور شکستہ خاطر بنانے کے لیے کہہ رہے تھے، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں نقل ہوئے۔ آپ ﷺ نے بلا کر باز پرس کی تو کہنے لگے کہ حضرت ! ہم کہیں سچ مچ ایسا اعتقاد تھوڑا ہی رکھتے ہیں محض خوش وقتی ودل لگی کے طور پر کچھ کہہ رہے تھے کہ باتوں میں با آسانی سفر کٹ جائے۔ 1 یعنی کیا دل لگی اور خوش وقتی کا موقع و محل یہ ہے کہ اللہ، رسول اور ان کے احکام کے ساتھ ٹھٹھا کیا جائے ؟ خدا اور رسول کا استہزاء اور احکام الٰہیہ کا استخفاف تو وہ چیز ہے کہ اگر محض زبان سے دل لگی کے طور پر کیا جائے، وہ بھی کفر عظیم ہے۔ چہ جائیکہ منافقین کی طرح ازراہ شرارت و بد باطنی ایسی حرکت سرزد ہو۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم تو کافر ہوگئے اظہار ایمان کے پیچھے اگر ہم معاف کردیں گے تم میں سے بعضوں کو تو البتہ عذاب بھی دیں گے بعضوں کو اس سبب سے کہ وہ گناہ گار تھے2

2 یعنی جھوٹے عذر تراشنے اور حیلے حوالوں سے کچھ فائدہ نہیں جن کو نفاق و استہزاء کی سزا ملنی ہے مل کر رہے گی۔ ہاں جو اب بھی صدق دل سے توبہ کر کے اپنے جرائم سے باز آجائیں گے، انہیں خدا معاف کر دے گا، یا جو پہلے ہی سے باوجود کفر و نفاق کے اس طرح کی فتنہ انگیزی اور استہزاء سے علیحدہ رہے ہیں، انہیں استہزاء و تمسخر کی سزا یہاں نہ ملے گی۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتوں سب کی ایک چال ہے سکھائیں بات بری اور چھڑائیں بات بھلی اور بند رکھیں اپنی مٹھی بھول گئے اللہ کو سو وہ بھول گیا ان کو تحقیق منافق وہی ہیں نافرمان3

3 یعنی سب سے بڑے نافرمان یہ ہی بد باطن منافق ہیں جن کے مرد و عورت زبانی اقرار و اظہار اسلام کے باوجود شب و روز اسی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ ہر قسم کے حیلے اور فریب کر کے لوگوں کو اچھی باتوں سے بیزار اور برے کاموں پر آمادہ کریں۔ خرچ کرنے کے اصلی موقعوں پر مٹھی بند رکھیں۔ غرض کلمہ پڑھتے رہیں۔ لیکن نہ ان کی زبان سے کسی کو بھلائی پہنچے نہ مال سے۔ جب یہ خدا کو ایسا چھوڑ بیٹھے تو خدا نے بھی ان کو چھوڑ دیا۔ چھوڑ کر کہاں گرایا ؟ اس کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو دوزخ کی آگ کا پڑے رہیں گے اس میں وہی بس ہے ان کو4 اور اللہ نے ان کو پھٹکار دیا، اور ان کے لیے عذاب ہے برقرار رہنے والاف 5

4 یعنی یہ ایسی کافی سزا ہے جس کے بعد دوسری سزا کی ضرورت نہیں رہتی۔ 5 شاید یہ مطلب ہو کہ دنیا میں بھی خدا کی پھٹکار (لعنت) کا اثر برابر پہنچتا رہے گا۔ یا پہلے جملہ کی تاکید ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

جس طرح تم سے اگلے لوگ زیادہ تھے تم سے زور میں اور زیادہ رکھتے تھے مال اور اولاد پھر فائدہ اٹھا گئے اپنے حصہ سے6 پھر فائدہ اٹھایا تم نے اپنے حصہ سے جیسے فائدہ اٹھا گئے تم سے اگلے اپنے حصہ سے اور تم بھی چلتے ہو انہی کی سی چال7 وہ لوگ مٹ گئے ان کے عمل دنیا میں اور آخرت میں اور وہی لوگ پڑے نقصان میں1

6 یعنی دنیاوی لذائذ کا جو حصہ ان کے لیے مقدر تھا، اس سے فائدہ اٹھا گئے اور آخری انجام کا خیال نہ کیا۔ 7 یعنی تم بھی ان کی طرح آخری انجام کے تصور سے غافل ہو کر دنیا کی متاع فانی سے جتنا مقدر ہے حصہ پا رہے ہو اور ساری چال ڈھال انہی کی سی رکھتے ہو، تو سمجھ لو جو حشر ان کا ہوا وہ ہی تمہارا بھی ہوسکتا ہے ان کے پاس مال و اولاد اور جسمانی قوتیں تم سے زائد تھیں پھر انتقام الٰہی کی گرفت سے نہ بچ سکے تو تم کو کا ہے پر بھروسہ ہے جو خدائی سزا سے اس قدر بےفکر ہو بیٹھے ہو۔ 1 یعنی کوئی دنیاوی و اخروی برکت و کرامت انہیں نصیب نہ ہوئی۔ باقی دنیاوی لذائذ کا جو حصہ بظاہر ملا وہ فی الحقیقت ان کے حق میں استدراج اور عذاب تھا، جیسا کہ دو رکوع پہلے (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ) 9 ۔ التوبہ :55) کے فوائد میں گزر چکا اور اس سے پیشتر بھی کئی مواقع میں لکھا جا چکا ہے۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا پہنچی نہیں ان کو خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے قوم نوح کی اور عاد کی اور ثمود کی اور قوم ابراہیم کی اور مدین والوں کی اور ان بستیوں کی خبر جو الٹ دی گئی تھیں2 پہنچے ان کے پاس ان کے رسول صاف حکم لے کر سو اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے3

2 قوم نوح طوفان سے " عاد " آندھی سے، " ثمود " صیحہ (چیخ) سے ہلاک ہوئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی حق تعالیٰ نے عجیب و غریب خارق عادت طریقہ سے تائید فرمائی جنہیں دیکھ کر ان کی قوم ذلیل و ناکام ہوئی، ان کا بادشاہ نمرود نہایت بدحالی کی موت مارا گیا۔ اصحاب مدین صیحہ (چیخ) رجفہ (زلزلہ) وغیرہ سے تباہ ہوئے۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں اور اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ ان سب اقوام کا قصہ (بجز قوم ابراہیم کے) سورة اعراف میں گزر چکا۔ 3 یعنی خدا کسی کو بلا وجہ اور بےموقع سزا نہیں دیتا۔ لوگ خود ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جن کے بعد عذاب الٰہی کا آنا ناگزیر ہے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کی مددگار ہیں سکھلاتے ہیں نیک بات اور منع کرتے ہیں بری بات سے اور قائم رکھتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور حکم پر چلتے ہیں اللہ کے اور اس کے رسول کے وہی لوگ ہیں جن پر رحم کرے گا اللہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والاف 4

4 ابتدائے رکوع میں منافقین کے اوصاف بیان ہوئے تھے۔ یہاں بطور مقابلہ مومنین کی صفات ذکر کی گئیں۔ یعنی جبکہ منافقین لوگوں کو بھلائی سے روک کر برائی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مومنین بدی کو چھڑا کر نیکی کی طرف آمادہ کرتے ہیں۔ منافقین کی مٹھی بند ہے مومنین کا ہاتھ کھلا ہوا ہے۔ وہ بخل کی وجہ سے خرچ کرنا نہیں جانتے، یہ اموال میں سے باقاعدہ حقوق ( زکوٰۃ وغیرہ) ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بالکل بھلا دیا۔ یہ پانچ وقت خدا کو یاد کرتے اور تمام معاملات میں خدا اور رسول کے احکام پر چلتے ہیں اسی لیے وہ مستحق لعنت ہوئے اور یہ رحمت خصوصی کے امیدوار ٹھہرے۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہا کریں انہی میں اور ستھرے مکانوں کا رہنے کے باغوں میں اور رضامندی اللہ کی ان سب سے بڑی ہے یہی ہے بڑی کامیابی5

5 یعنی تمام نعمائے دنیاوی و اخروی سے بڑھ کر حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ جنت بھی اسی لیے مطلوب ہے کہ وہ رضائے الٰہی کا مقام ہے۔ حق تعالیٰ مومنین کو جنت میں ہر قسم کی جسمانی و روحانی نعمتیں اور مسرتیں عطا فرمائے گا۔ مگر سب سے بڑی نعمت محبوب حقیقی کی دائمی رضا ہوگی۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حق تعالیٰ اہل جنت کو پکارے گا۔ جنتی " لبیک " کہیں گے۔ دریافت فرمائے گا۔ " رَضَیْتُمْ " یعنی اب تم خوش ہوگئے۔ جواب دیں گے کہ پروردگار ! خوش نہ ہونے کی وجہ ؟ جبکہ آپ نے ہم پر انتہائی انعام فرمایا ہے۔ ارشاد ہوگا ہَلْ اُعْطِیْکُمْ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ " یعنی جو کچھ اب تک دیا گیا ہے کیا اس سے بڑھ کر ایک چیز لینا چاہتے ہو، جتنی سوال کریں گے کہ اے پروردگار ! اس سے افضل اور کیا چیز ہوگی ؟ اس وقت فرمائیں گے احل عَلَیْکُمْ رِضْوَانِی فَلاَ اَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہ، اٰبَداً اپنی دائمی رضا اور خوشنودی تم پر اتارتا ہوں، جس کے بعد کبھی خفگی اور ناخوشی نہ ہوگی رَزَقْنَا اللّٰہ وَسَائِرِ الْمُوْمِنِیْنَ ہذہ الکرامۃ العَظِیْمَۃِ الْبَاہِرَۃَ ۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی لڑائی کر کافروں سے اور منافقوں سے اور تند خوئی کر ان پر اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے1

1 " جہاد " کے معنی ہیں کسی ناپسندیدہ چیز کے دفع کرنے میں انتہائی کوشش کرنا۔ یہ کوشش کبھی ہتھیار سے ہوتی ہے، کبھی زبان سے، کبھی قلم سے، کبھی کسی اور طریق سے، منافقین جو زبان سے اسلام کا اظہار کریں اور دل سے مسلمان نہ ہوں، ان کے مقابلہ میں جہاد بالسیف جمہور امت کے نزدیک مشروع نہیں، نہ عہد نبوت میں ایسا واقع ہوا۔ اسی لیے جہاد کا لفظ اس آیت میں عام رکھا گیا ہے یعنی تلوار سے، زبان سے، قلم سے، جس وقت جس کے مقابلہ میں جس طرح مصلحت ہو جہاد کیا جائے۔ بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ اگر منافقین کا نفاق بالکل عیاں ہوجائے تو ان پر بھی جہاد بالسیف کیا جاسکتا ہے بہرحال غزوہ تبوک نے چونکہ منافقین کا نفاق بہت آشکارا کردیا تھا۔ اس لیے اس آیت میں ان کی نسبت ذرا سخت رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ نبی کریم ﷺ فطری طور پر نہایت نرم خو واقع ہوئے تھے۔ (فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ) 3 ۔ آل عمران :159) پھر حق تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا۔ (وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :215) چونکہ منافقین بھی بظاہر مومنین کے زمرہ میں شامل رہتے تھے، اس لیے حضور ﷺ ان کے ساتھ بھی درگزر، چشم پوشی اور نرم خوئی کا معاملہ فرماتے تھے۔ تبوک کے موقع پر جب منافقین نے کھلم کھلا بےحیائی، عناد اور دشمنی کا اندازہ اختیار کرلیا تو حکم ہوا کہ اب ان کے معاملہ میں سختی اختیار کیجئے، یہ شریر خوش اخلاقی اور نرمی سے ماننے والے نہیں ہیں۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ ہم نے نہیں کہا اور بیشک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہوگئے مسلمان ہو کر2 اور قصد کیا تھا اس چیز کا جو ان کو نہ ملی اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ دولت مند کردیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے سو اگر توبہ کرلیں تو بھلا ہے ان کے حق میں اور اگر نہ مانیں گے تو عذاب دے گا ان کو اللہ عذاب دردناک دنیا اور آخرت میں اور نہیں ان کا روئے زمین پر کوئی حمایتی اور نہ مددگار4

2 منافقین پیچھے بیٹھ کر پیغمبر ﷺ کی اور دین اسلام کی اہانت کرتے، جیسا کہ سورة منافقون میں آئے گا، جب کوئی مسلمان حضور ﷺ تک ان کی باتیں پہنچا دیتا تو اس کی تکذیب کرتے اور قسمیں کھالیتے کہ ہم نے فلاں بات نہیں کی۔ حق تعالیٰ نے مسلمان راویوں کی تصدیق فرمائی کہ بیشک انہوں نے وہی باتیں زبان سے نکالی ہیں۔ اور دعوائے اسلام کے بعد مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام کی نسبت وہ کلمات کہے ہیں جو صرف منکرین کی زبان سے نکل سکتے ہیں۔ 3 غزوہ تبوک سے واپسی میں آنحضرت ﷺ لشکر سے علیحدہ ہو کر ایک پہاڑی راستہ کو تشریف لے جا رہے تھے۔ تقریباً بارہ منافقین نے چہرے چھپا کر رات کی تاریکی میں چاہا کہ آپ ﷺ پر ہاتھ چلائیں اور معاذ اللہ پہاڑی سے گرا دیں۔ حضور ﷺ کے ساتھ حذیفہ اور عمار تھے۔ عمار کو انہوں نے گھیر لیا تھا، مگر حذیفہ نے مار مار کر ان کی اونٹنیوں کے منہ پھیر دیے۔ چونکہ چہرے چھپائے ہوئے تھے۔ حذیفہ وغیرہ نے ان کو نہیں پہچانا۔ بعدہ آنحضرت ﷺ نے حذیفہ و عمار ؓ کو نام بنام ان کے پتے بتا دیے۔ مگر منع فرمادیا کہ کسی پر ظاہر نہ کریں۔ اسی واقعہ کی طرف وہَمُّوا بِمَا لَمْ یَنَالُوا میں اشارہ ہے کہ جو ناپاک قصد انہوں نے کیا خدا کے فضل سے پورا نہ ہوا، بعض علماء نے لکھا ہے کہ کسی موقع پر لشکر اسلام میں کچھ خانہ جنگی ہوگئی تھی، منافقین نے اغوا کر کے مہاجرین و انصار میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ حضرت ﷺ نے اصلاح فرما دی جیسا کہ سورة منافقون میں آئے گا۔ 4 یعنی حضور ﷺ کی دعا سے خدا نے انہیں دولت مند کردیا، قرضوں کے بارے سے سبکدوش ہوئے، مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے رہنے کی وجہ سے غنائم میں حصہ ملتا رہا، حضور ﷺ کی برکت سے پیداوار اچھی ہوئی، ان احسانات کا بدلہ یہ دیا کہ خدا اور رسول ﷺ کے ساتھ دغابازی کرنے لگے اور ہر طرح پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو ستانے پر کمر باندھ لی۔ اب بھی اگر توبہ کر کے شرارتوں اور احسان فراموشیوں سے باز آجائیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔ ورنہ خدا دنیا و آخرت میں وہ سزا دے گا جس سے بچانے والا روئے زمین پر کوئی نہ ملے گا۔ بعض روایات میں ہے کہ " جلاس " نامی ایک شخص یہ آیات سن کر صدق دل سے تائب ہوا، اور آئندہ اپنی زندگی خدمت اسلام میں قربان کردی۔
Ayahs 9:75–76

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ عہد کیا تھا اللہ سے اگر دیوے ہم کو اپنے فضل سے تو ہم ضرور خیرات کریں اور ہو رہیں ہم نیکی والوں میں

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جب دیا ان کو اپنے فضل سے تو اس میں بخل کیا اور پھرگئے ٹلا کر5

5 ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میرے حق میں دولت مند ہوجانے کی دعا فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ ثعلبہ ! تھوڑی چیز جس پر تو خدا کا شکر ادا کرے، اس بہت چیز سے اچھی ہے جس کے حقوق ادا نہ کرسکے۔ اس نے پھر وہی درخواست کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ثعلبہ ! کیا تجھے پسند نہیں کہ میرے نقش قدم پر چلے۔ آپ ﷺ کے انکار پر اس کا اصرار بڑھتا رہا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اگر خدا مجھ کو مال دے گا، میں پوری طرح حقوق ادا کروں گا۔ آخر حضور ﷺ نے دعا فرمائی، اس کی بکریوں میں اس قدر برکت ہوئی کہ مدینہ سے باہر ایک گاؤں میں رہنے کی ضرورت پڑی اور اتنا پھیلاوا ہوا کہ ان میں مشغول ہو کر رفتہ رفتہ جمعہ و جماعات بھی ترک کرنے لگا۔ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والے " محصل " پہنچے تو کہنے لگا کہ زکوٰۃ توجزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک دفعہ ٹلا کر آخر زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کردیا۔ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا " ویح ثعلبہ " اور یہ آیات نازل ہوئیں جب اس کے بعد اقارب نے اس کی خبر پہنچائی تو بادل نخواستہ زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خدا نے مجھ کو تیری زکوٰۃ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ یہ سن کر اس نے بہت ہائے واویلا کی کیونکہ حضور ﷺ کا زکوٰۃ قبول نہ کرنا اس کے لیے بڑی عار کی بات تھی۔ بدنامی کے تصور سے سر پر خاک ڈالتا تھا۔ مگر دل میں نفاق چھپا ہوا تھا۔ پھر حضور ﷺ کے بعد ابوبکر صدیق کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا۔ انہوں نے بھی قبول کرنے سے انکار فرمایا۔ پھر حضرت عمر اور ان کے بعد حضرت عثمان کی خدمت میں زکوٰۃ پیش کی، دونوں نے انکار فرمایا۔ ہر ایک یہ ہی کہتے تھے کہ جو چیز نبی کریم ﷺ نے رد کردی ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے۔ آخر اسی حالت نفاق پر حضرت عثمان کے عہد میں اس کا خاتمہ ہوا۔
Ayah 9:77

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

پھر اس کا اثر رکھ دیا نفاق ان کے دلوں میں جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا، اور اس وجہ سے کہ بولتے تھے جھوٹ6

6 یعنی خدا سے صریح وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولتے رہنے کی سزا میں ان کے بخل و اعراض کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ کے لیے نفاق کی جڑ ان کے دلوں میں قائم ہوگئی جو قیامت تک نکلنے والی نہیں۔ اور یہ ہی " سنت اللہ " ہے کہ جب کوئی شخص اچھی یا بری خصلت خود اختیار کرلیتا ہے تو کثرت سے مزاولت و ممارست سے وہ دائمی بن جاتی ہے۔ بری خصلت کے اسی دوام و استحکام کو کبھی کبھی ختم و طبع (مہر لگانے) سے تعبیر کردیتے ہیں۔