Ayah 9:781 یعنی خواہ کیسے ہی وعدے کریں، باتیں بنائیں، یا مجبور ہو کر مال پیش کریں۔ خدا ان کے ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے اور اپنے ہم مشوروں کے ساتھ بیٹھ کر جو مشورے کرتے ہیں، ان سے پوری طرح آگاہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ( لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 9 ۔ التوبہ :75) کا وعدہ اور گھبرا کر زکوٰۃ حاضر کرنا کس دل اور کیسی نیت سے تھا۔
Ayah 9:792 ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے چار ہزار (دینار یا درہم) حاضر کردیے۔ عاصم بن عدی نے ایک سو وسق کھجوریں (جن کی قیمت چار ہزار درہم ہوتی تھی) پیش کیں۔ منافقین کہنے لگے کہ ان دونوں نے دکھلاوے اور نام و نمود کو اتنا دیا ہے۔ ایک غریب صحابی ابو عقیل حجاب نے جو محنت و مشقت سے تھوڑا سا کما کر لائے۔ اس میں سے ایک صاع ثمر صدقہ کیا تو مذاق اڑانے لگے کہ یہ خواہ مخواہ زورآوری سے لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ بھلا اس کی ایک صاع کھجوریں کیا پکار کریں گی۔ غرض تھوڑا دینے والا اور بہت خرچ کرنے والا کوئی ان کی زبان سے بچتا نہ تھا۔ کسی پر طعن، کسی سے ٹھٹھا کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا " سَخِرَاللّٰہُ مِنْہُم " (اللہ نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے) یعنی ان کے طعن و تمسخر کا بدلہ دیا، بظاہر تو وہ چند روز کے لیے مسخراپن کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیئے گئے ہیں، لیکن فی الحقیقت اندر ہی اندر سکھ کی جڑیں کٹتی چلی جا رہی ہیں۔ اور عذاب الیم ان کے لیے تیار ہے۔
Ayah 9:803 یعنی منافقین کے لیے آپ ﷺ کتنی ہی مرتبہ استغفار کیجئے ان کے حق میں بالکل بیکار اور بےفائدہ ہے، خدا ان بدبخت کافروں اور نافرمانوں کو کبھی معاف نہ کرے گا۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ مدینہ میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا۔ آپ نے قمیص مبارک کفن میں دیا۔ لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا۔ نماز جنازہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی، حضرت عمر اس معاملہ میں آڑے آتے تھے اور کہتے تھے کہ یا رسول اللہ ! یہ وہ ہی خبیث تو ہے جس نے فلاں فلاں وقت ایسی ایسی نالائق حرکات کیں۔ ہمیشہ کفر و نفاق کا علمبردار رہا۔ کیا حق تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا۔ (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ) 9 ۔ التوبہ :80) آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! مجھ کو استغفار سے منع نہیں کیا گیا۔ بلکہ آزاد رکھا گیا ہے کہ استغفار کروں یا نہ کروں۔ یہ خدا کا فعل ہے کہ ان کو معاف نہ کرے۔ یعنی ان کے حق میں میرا استغفار نافع نہ ہو (سو ان کے حق میں نہ سہی، ممکن ہے دوسروں کے حق میں میرا یہ طرز عمل نافع ہوجائے دوسرے لوگ سب سے بڑے موذی دشمن کے حق میں نبی کے اس وسعت اخلاق اور وفور رحمت و شفقت کو دیکھ کر اسلام و پیغمبر اسلام کے گرویدہ ہوجائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا) صحیح بخاری کی ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ اگر میں جانتا کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے سے اس کی مغفرت ہوسکتی ہے تو میں ستر مرتبہ سے زائد استغفار کرتا " گویا اس جملہ میں حضور ﷺ نے متنبہ فرما دیا کہ حضرت عمر کی طرح آپ بھی اس کے حق میں استغفار کو غیر مفید تصور فرما رہے تھے۔ فرق اس قدر ہے کہ حضرت عمر کی نظر بغض فی اللہ " کے جوش میں صرف اسی نقطہ پر مقصور تھی، اور نبی کریم ﷺ میت کے فائدہ سے قطع نظر فرما کر عام پیغمبرانہ شفقت کا اظہار، اور احیاء کے فائدہ کا خیال فرما رہے تھے۔ لیکن آخرکار وحی الٰہی (وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ ) 9 ۔ التوبہ :84) نے صریح طور پر منافقین کا جنازہ پڑھنے یا ان کے اہتمام دفن و کفن وغیرہ میں حصہ لینے کی ممانعت کردی۔ کیونکہ اس طرز عمل سے منافقین کی ہمت افزائی اور مومنین کی دل شکستگی کا احتمال تھا۔ اس وقت سے حضور ﷺ نے کسی منافق کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
Ayah 9:814 یہ ان منافقین کے متعلق ہے جو غزوہ تبوک کی شرکت سے علٰیحدہ رہے۔ یعنی منافقین کا حال یہ ہے کہ برائی اور عیب کا کام کر کے خوش ہوتے ہیں، نیکی سے گھبرا کر دور بھاگتے ہیں۔ اور جیسا کہ پہلے گزرا نیکی کرنے والوں پر طعن کرتے اور آوازے کستے ہیں۔ ایسی قوم کو نبی کے استغفار سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہاں سے گنہگار اور بد اعتقاد کا فرق نکلتا ہے۔ گناہ ایسا کونسا ہے جو پیغمبر کے بخشوانے سے نہ بخشا جائے۔ (وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا) 4 ۔ النسآء :64) لیکن بد اعتقاد کو پیغمبر کا ستر مرتبہ استغفار فائدہ نہ دے۔
5 یا تو منافقین آپس میں ایک دوسرے کو کہتے تھے اور یا بعض مومنین سے کہتے ہوں گے کہ ان کی ہمتیں سست ہوجائیں۔
6 یعنی اگر سمجھ ہوتی تو خیال کرتے کہ یہاں کی گرمی سے بچ کر جس گرمی کی طرف جا رہے ہو وہ کہیں زیادہ سخت ہے۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ دھوپ سے بھاگ کر آگ کی پناہ لی جائے۔ حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ تیز ہے۔ نعوذ باللہ منہا۔
Ayah 9:827 یعنی چند روز اپنی حرکات پر خوش ہو لو اور ہنس لو۔ پھر ان کرتوتوں کی سزا میں ہمیشہ کو رونا ہے۔
Ayah 9:831 حضور ﷺ تبوک میں تھے اور منافقین مدینہ میں ممکن تھا کہ بعض منافقین آپ ﷺ کی واپسی سے قبل مرجائیں، اس لیے اِلٰی طآئفۃٍ مِّنْہُمْ " فرمایا۔
2 یعنی اب اگر یہ لوگ کسی دوسرے غزوہ میں ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو فرما دیجئے کہ بس ! تمہاری ہمت و شجاعت کا بھانڈا پھوٹ چکا اور تمہارے دلوں کا حال پہلی مرتبہ کھل چکا، نہ تم کبھی ہمارے ساتھ نکل سکتے ہو اور نہ دشمنان اسلام کے مقابلہ میں بہادری دکھا سکتے ہو، لہذا اب تم کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔ عورتوں، بچوں، اپاہج اور ناتوان بڈھوں کے ساتھ گھر میں گھسے بیٹھے رہو اور جس چیز کو پہلی دفعہ تم نے اپنے لیے پسند کرلیا ہے مناسب ہے کہ اسی حالت پر مرو۔ تاکہ اچھی طرح عذاب الٰہی کا مزہ چکھو۔
Ayah 9:843 یعنی دعاء و استغفار کے لیے یا اہتمام دفن کے لیے۔
4 یہ آیت عبد اللہ بن ابی کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی، جیسا کہ چند آیات پہلے ہم مفصل بیان کرچکے ہیں اس آیت کے نزول کے بعد منافقین کا جنازہ پڑھنا قطعاً ممنوع ہوگیا۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ احتیاطاً ایسے شخص کا جنازہ نہ پڑھتے تھے جس کی نماز میں حضرت حذیفہ شریک نہ ہوں کیونکہ ان کو آنحضرت ﷺ نے بہت سے منافقین کا نام بنام علم کرا دیا تھا۔ اسی لیے ان کا لقب " صاحب سرِّ رسول اللہ ﷺ " ہوا۔
Ayah 9:855 چار رکوع پہلے اسی مضمون کی آیت گزر چکی، اس کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayahs 9:86–876 یعنی قرآن کی کسی سورت میں جب تنبیہ کی جاتی ہے کہ پوری طرح خلوص و پختگی سے ایمان لاؤ، جس کا بڑا اثر یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہو کر خدا کے راستہ میں جہاد کریں۔ تو یہ منافقین جان چرانے لگتے ہیں اور ان میں کے استطاعت و مقدور والے بھی جھوٹے عذر تراش کر اجازت طلب کرنے آتے ہیں کہ حضرت ! ہمیں تو یہیں مدینہ میں رہنے دیجئے۔ گویا کمال بےغیرتی اور نامردی سے اس پر راضی ہیں کہ لڑائی یا خطرہ کا نام سنتے ہی خانہ نشین عورتوں کے ساتھ گھروں میں گھس کر بیٹھ رہیں۔ ہاں جس وقت جنگ وغیرہ کا خطرہ نہ رہے اور امن و اطمینان کا زمانہ ہو تو باتیں بنانے اور قینچی کی طرح زبان چلانے میں سب سے پیش پیش ہوتے ہیں ( فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ رَاَيْتَهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ تَدُوْرُ اَعْيُنُهُمْ كَالَّذِيْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِـنَةٍ حِدَادٍ ) 33 ۔ الاحزاب :19)
7 یعنی کذب و نفاق نکول عن الجہاد، اور تخلف عن الرسول ﷺ کی شامت سے ان کے دلوں پر مہر کردی گئی کہ اب موٹے موٹے عیب بھی ان کو عیب نظر نہیں آتے اور انتہائی بےغیرتی و بزدلی پر بجائے شرمانے کے نازاں وفرحاں ہوتے ہیں۔
Ayahs 9:88–891 منافقین کے بالمقابل مومنین مخلصین کا بیان فرمایا کہ دیکھو ! یہ ہیں خدا کے وفادار بندے۔ جو اس کے راستہ میں نہ جان سے ہٹتے ہیں نہ مال سے۔ کیسا ہی خطرہ کا موقع ہو، اسلام کی حمایت اور پیغمبر اسلام کی معیت میں ہر قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پھر ایسوں کے لیے فلاح و کامیابی نہ ہوگی تو اور کس کے لیے ہوگی۔
Ayah 9:902 یعنی جس طرح مدینہ کے رہنے والوں میں منافقین بھی ہیں اور مخلصین بھی۔ اسی طرح دیہاتی گنواروں میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے یہاں دو قسموں کا ذکر فرمایا۔ مخلص دیہاتیوں کا ذکر اس رکوع کے خاتمہ پر " وَمِنَ الْاَ عْرَابِ مَنْ یُّؤمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ " میں آئے گا۔ یہاں دیہاتیوں کی جن دو جماعتوں کا ذکر ہے (مُعذّرون وْنَ اور قاعِدُوْنَ ) ان میں سے پہلی جماعت (مُعْذِرُوْنَ ) کے مصداق میں مفسرین سلف کا اختلاف ہے کہ آیا اس سے مراد جھوٹے بہانے بنانے والے منافق ہیں (جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے) یا سچے عذر کرنے والے مسلمان جو واقعی جہاد کی شرکت سے معذور تھے اگر پہلی شق اختیار کی جائے تو آیت میں منافقین کی دو قسموں کا بیان ہوگا۔ " مُعْذِرُوْنَ " تو وہ ہوئے جو باوجود نفاق کے محض رسم ظاہرداری نباہنے کے لیے جھوٹے حیلے بنا کر حضور ﷺ سے اجازت طلب کرتے تھے۔ اور " قَاعِدُوْنَ " سے وہ منافقین مراد ہوں گے جنہوں نے اول دعوائے ایمان میں جھوٹ بولا۔ پھر ظاہر داری کی بھی پروا نہیں کی۔ جہاد کا نام سن کر گھروں میں بیٹھ رہے، بالکل بےباک و بےحیا ہو کر عذر کرنے بھی نہ آئے۔ اس تقدیر پر " سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ " دونوں جماعتوں کو شامل ہوگا۔ اور معنی یہ ہوں گے کہ جو لوگ دونوں جماعتوں میں سے اپنے کفر پر اخیر تک قائم رہیں گے ان کے لیے عذاب دردناک ہے جن کو توبہ کی توفیق ہوجائے گی وہ اس وعید کے نیچے داخل نہیں۔ اور اگر " معذرون " سے مراد منافقین ہوں گے اور " سَیُصِیْبُ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابُ ، اَلِیْم " کی وعید صرف ان ہی کے حق میں ہوگی۔ پہلی جماعت کا ذکر گویا قبول عذر کے طور پر ہوگا۔
Ayah 9:913 جھوٹے عذر کرنے والوں کے بعد سچے معذورین کا بیان فرماتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ عذر کبھی تو شخصی طور پر لازم ذات ہوتا ہے مثلاً بڑھاپے کی کمزوری جو عادۃً کسی طرح آدمی سے جدا نہیں ہوسکتی، اور کبھی عارضی ہوتا ہے۔ پھر " عارضی " یا بدنی ہے جیسے بیماری وغیرہ، یا مالی، جیسے افلاس و فقدان اسباب سفر۔ چونکہ غزوہ تبوک میں مجاہدین کو بہت دور دراز مسافت طے کر کے پہنچنا تھا، اس لیے سواری نہ ہونے کا عذر بھی معتبر و مقبول سمجھا گیا، جیسے آگے آتا ہے۔
4 یعنی جو لوگ واقعی معذور ہیں، اگر ان کے دل صاف ہوں اور خدا و رسول کے ساتھ ٹھیک ٹھیک معاملہ رکھیں۔ مثلاً (خود نہ جاسکتے ہوں تو جانے والوں کی ہمتیں پست نہ کریں) بلکہ اپنے مقدور کے موافق نیکی کرنے اور اخلاص کا ثبوت دینے کے لیے مستعد رہیں، ان پر جہاد کی عدم شرکت سے کچھ الزام نہیں۔ ایسے مخلصین سے اگر بمقتضائے بشریت کوئی کوتاہی ہوجائے تو حق تعالیٰ کی بخشش و مہربانی سے توقع ہے کہ وہ درگزر فرمائے گا۔
Ayah 9:925 سبحان اللہ نبی کریم ﷺ کی صحبت نے صحابہ ؓ کے دلوں میں عشق الٰہی کا وہ نشہ پیدا کیا تھا جس کی مثال کسی قوم و ملت کی تاریخ میں موجود نہیں۔ مستطیع اور مقدور والے صحابہ کو دیکھو تو جان و مال سب کچھ خدا کے راستہ میں لٹانے کو تیار ہیں اور سخت سے سخت قربانی کے وقت بڑے ولولہ اور اشتیاق سے آگے بڑھتے ہیں۔ جن کو مقدور نہیں وہ اس غم میں رو رو کر جان کھوئے لیتے ہیں کہ ہم میں اتنی استطاعت کیوں نہ ہوئی کہ اس محبوب حقیقی کی راہ میں قربان ہونے کے لیے اپنے کو پیش کرسکتے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجاہدین کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم مدینہ میں ایک ایسی قوم کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو جو ہر قدم پر تمہارے اجر میں شریک ہے تم جو قدم خدا کے راستہ میں اٹھاتے ہو یا کوئی جنگل قطع کرتے ہو یا کسی پگڈنڈی پر چلتے ہو، وہ قوم برابر ہر موقع پر تمہارے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں واقعی مجبوریوں نے تمہارے ہمراہ چلنے سے روکا۔ حسن کے " مرسل " میں ہے کہ یہ مضمون بیان فرما کر آپ نے یہ ہی آیت ( وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ ) 9 ۔ التوبہ :92) تلاوت فرمائی۔
Ayah 9:936 یعنی باوجود قدرت و استطاعت جہاد سے پہلو تہی کرتے ہیں اور نہایت بےحمیتی سے یہ عار گوارا کرتے ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھ جائیں۔ گناہ کی ممارست (پریکٹس) سے آدمی کا قلب ایسا مسخ اور سیاہ ہوجاتا ہے کہ اسے بھلے برے اور عیب و ہنر کی تمیز بھی باقی نہیں رہتی۔ جب بےغیرتی کرتے کرتے کوئی شخص اس قدر پاگل ہوجائے کہ نادم و متأسف ہونے کی جگہ پر الٹا نازاں اور خوش ہو تو سمجھ لو کہ اس کے دل پر خدائی مہر لگ چکی ہے۔ العیاذ باللہ !
Ayah 9:941 یعنی جیسے تبوک کی طرف روانہ ہونے کے وقت منافقین نے طرح طرح کے حیلے بنائے، جب تم مدینہ واپس آؤ گے، اس وقت بھی یہ لوگ اعذار باطلہ پیش کر کے تم کو مطمئن بنانا چاہیں گے اور قسمیں کھائیں گے کہ حضرت ہمارا قصد مصمم تھا کہ آپ کے ساتھ چلیں، مگر فلاں فلاں موانع و عوائق پیش آجانے کی وجہ سے مجبور رہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ جھوٹی باتیں بنانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ تمہارے سب اعذار لغو اور بیکار ہیں۔ ہم کو حق تعالیٰ تمہارے کذب و نفاق پر مطلع کرچکا۔ پھر کس طرح ہم تمہاری لغو بات کو باور کرسکتے ہیں۔ اب پچھلے قصہ کو چھوڑو، آئندہ تمہارا طرز عمل دیکھا جائے گا کہ اپنے دعوے کو کہاں تک نباہتے ہو، سب جھوٹ سچ ظاہر ہو کر رہے گا اور بہرحال اس " عالم الغیب والشہادۃ " سے تو کوئی راز اور عمل یا نیت پوشیدہ نہیں رہ سکتی اس کے یہاں سب کو جانا ہے، وہ جزاء دینے کے وقت تمہارا ہر چھوٹا بڑا، ظاہری و باطنی عمل کھول کر رکھ دے گا اور اسی کے موافق بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 9:952 تبوک سے واپسی کے بعد منافقین جھوٹی قسمیں کھاکر جو عذر پیش کرتے تھے اس کی غرض یہ تھی کہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو اپنی قسموں اور ملمع سازیوں سے راضی و مطمئن کردیں تاکہ بارگاہ رسالت سے ان پر کوئی عتاب و ملامت اور دارو گیر نہ ہو۔ سابق کی طرح یوں ہی معاملہ ابہام میں رہے۔ مسلمان ان سے کچھ تعرض نہ کریں۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ بہتر ہے تم ان سے تعرض مت کرو۔ لیکن یہ اغماض و تغافل (تعرض نہ کرنا) راضی و مطمئن ہونے کی بناء پر نہیں، بلکہ ان کے نہایت پلید اور شریر ہونے کی وجہ سے ہے، یہ لوگ اس قدر گندے واقع ہوئے ہیں کہ ان کے پاک و صاف ہونے کی کوئی توقع نہیں رہی۔ لہذا اس غلاظت کی پوٹ کو دور پھینک دینا اور اس سے علیحدہ رہنا ہی بہتر ہے خدا خود ان کو ٹھکانے لگا دے گا۔
Ayah 9:963 بڑی کوشش یہ ہے کہ مکروفریب اور کذب ودروغ سے مسلمانوں کو خوش کرلیں۔ فرض کیجئے اگر چکنی چپڑی باتوں سے مخلوق راضی ہوجائے تو کیا نفع پہنچ سکتا ہے جب کہ خدا ان سے راضی نہ ہو۔ خدا کے آگے تو کوئی چالاکی اور دغا بازی نہیں چل سکتی۔ گویا متنبہ فرما دیا کہ جس قوم سے خدا راضی نہ ہو، کوئی مومن قانت کیسے راضی ہوسکتا ہے۔ لہذا جھوٹی باتوں سے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو خوش کرلینے کا خبط انہیں دماغوں سے نکال دینا چاہیے۔ اگر ان کے ساتھ تغافل و اعراض کا معاملہ کیا گیا ہے تو یہ اس کی دلیل نہیں کہ مسلمان ان سے خوش اور مطمئن ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جس شخص کا حال معلوم ہو کہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل روا ہے لیکن دوستی اور محبت و یگانگت روا نہیں۔ "
Ayah 9:974 یہاں تک مدینہ کے منافقین اور مومنین مخلصین کے احوال بیان ہوئے تھے۔ اب کچھ حال دیہاتی بدؤوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ان میں بھی کئی طرح کے آدمی ہیں۔ کفار، منافقین اور مخلص مسلمان چونکہ دیہاتی لوگ قدرتی طور پر عموماً تندخو اور سخت مزاج ہوتے ہیں (جیسا کہ حدیث میں ہے " مَنْ سَکَنَ الْبَادِیَۃَ جَفَا) " اور مجالس علم و حکمت سے دور رہنے کی وجہ سے تہذیب و شائستگی کا اثر اور علم و عرفان کی روشنی بہت کم قبول کرتے ہیں، ان کا کفرو نفاق شہری کفار و منافقین سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ ان کو ایسے مواقع دستیاب نہیں ہوتے کہ اہل علم و صلاح کی صحبت میں رہ کر دیانت و تہذیب کے وہ قانون اور قاعدے معلوم کریں جو خدا تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ پر نازل کیے۔ علم و معرفت ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل کو نرم کرتی اور مہذب بناتی ہے۔ جو لوگ اس قدر جہالت میں غرق ہیں، ضرور ہے کہ ان کے دل سخت ہوں اور کفر و نفاق کے جس راستہ پر پڑجائیں، بہائم اور درندوں کی طرح اندھا دھند بڑھے چلے جائیں۔ اعراب کی سنگدلی کا ذکر متعدد احادیث میں ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ کسی اعرابی نے حضور سے عرض کیا کہ آپ لوگ اپنے بچوں کا پیار لیتے ہیں، خدا کی قسم میں نے کبھی اپنی اولاد کا پیار نہیں لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں کیا کروں اگر خدا نے تیرے دل میں سے اپنی رحمت کو نکال لیا ہے۔
5 یعنی اس کا علم بنی آدم کے تمام طبقات پر محیط ہے، وہ اپنی حکمت سے ہر ایک طبقہ کے ساتھ اس کی استعداد و قابلیت کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اعراب کی طبیعت میں بےحکمی، غرض پرستی، اور جہالت شدید ہوتی ہے، سو اللہ حکمت والا ہے ان سے وہ مشکل کام بھی نہیں چاہتا اور درجے بلند بھی نہیں دیتا۔ "
Ayah 9:986 یعنی اعراب منافقین میں وہ لوگ بھی ہیں جنہیں اگر کسی وقت خدا کے راستہ میں کچھ خرچ کرنا پڑجاتا ہے تو ایسی کراہیت سے خرچ کرتے ہیں جیسے کوئی جرمانہ اور تاوان ادا کرتا ہو۔ وہ ابھی تک اس کے منتظر ہیں کہ مسلمان حوادث دہر سے کسی گردش اور آفت میں پھنس جائیں تو ہم خوب شادیانے بجائیں۔ یہ خبر نہیں کہ انہیں کی قسمت گردش میں آرہی ہے۔ اسلام تو غالب و فائق ہو کر رہے گا اور یہ منافقین سخت ذلیل و رسوا ہوں گے۔ خدا ہر ایک کی باتیں اور دعائیں سنتا ہے اور جانتا ہے کہ کون عزت و کامیابی کا اہل ہے اور کون لوگ ذلت اور رسوائی کے مستحق ہیں۔
Ayah 9:991 یہاں قرآن کریم کی معجزانہ تاثیر اور نبی کریم ﷺ کی تعلیم کا حیرت انگیز کرشمہ دکھلایا ہے کہ ان ہی درشت مزاج، سنگدل، تُندخو گنواروں میں جو کفر و نفاق اور جہل و طغیان کی وجہ سے اس لائق ہی نہ تھے کہ خدا کے بتلائے ہوئے ادب اور قاعدے سمجھ سکیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیم اور قرآن کریم کی آواز نے ایسے عارف اور مخلص افراد پیدا کردیے جو مبداً و معاد سب چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں، خالص قرب الٰہی حاصل کرنے اور پیغمبر ﷺ کی دعا لینے کی غرض سے کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے ان کو بشارت دی کہ بیشک وہ اپنی امیدوں میں حق بجانب ہیں۔ یقینا ان کو وہ چیز مل کر رہے گی جس کی نیت کی ہے (یعنی قرب الٰہی) اور خدا ضرور ان کو اپنی رحمت میں جگہ دے گا رہی پیغمبر ﷺ کی دعا اسے تو وہ اپنے کانوں سے سنتے اور آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص صدقہ وغیرہ لے کر حاضر ہوتا ہے تو حضور اس کو دعائیں دیتے ہیں حضور کی اس دعا کا ثمرہ بھی وہ ہی رحمت و قرب الٰہی ہے جس کا وعدہ پہلے ہوچکا۔
Ayah 9:1002 " اعراب مومنین " کے بعد مناسب معلوم ہوا کہ زعماء و اعیان مومنین کا کچھ ذکر کیا جائے یعنی جن مہاجرین نے ہجرت میں سبقت و اولیت کا شرف حاصل کیا، اور جن انصار نے نصرت و اعانت میں پہل کی، غرض جن لوگوں نے قبول حق اور خدمت اسلام میں جس قدر آگے بڑھ بڑھ کر حصے لیے، پھر جو لوگ نیکوکاری اور حسن نیت سے ان پیش روان اسلام کی پیروی کرتے رہے، ان سب کو درجہ بدرجہ خدا کی خوشنودی اور حقیقی کامیابی حاصل ہوچکی۔ جیسے انہوں نے پوری خوش دلی اور انشراح قلب کے ساتھ حق تعالیٰ کے احکام تشریعی اور قضاء تکوینی کے سامنے گردنیں جھکا دیں، اسی طرح خدا نے ان کو اپنی رضا و خوشنودی کا پروانہ دے کر غیر محدود انعام و اکرام سے سرفراز فرمایا۔ (تنبیہ) مفسرین سلف کے اقوال " اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ " کی تعیین میں مختلف ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ مہاجرین و انصار مراد ہیں جو ہجرت سے پہلے مشرف با اسلام ہوئے۔ بعض کے نزدیک وہ مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (کعبہ و بیت المقدس) کی طرف نماز پڑھی بعض کہتے ہیں کہ جنگ بدر تک کے مسلمان " سابقین اولین " ہیں۔ بعض حدیبیہ تک اسلام لانے والوں کو اس کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ تمام مہاجرین و انصار اطراف کے مسلمانوں اور پیچھے آنے والی نسلوں کے اعتبار سے " سابقین اولین " ہیں ہمارے نزدیک ان اقوال میں چنداں تعارض نہیں " سبقت " و " اولیت " اضافی چیزیں ہیں۔ ایک ہی شخص یا جماعت کسی کے اعتبار سے سابق اور دوسرے کی نسبت سے لاحق بن سکتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے " فائدہ " میں اشارہ کیا ہے جو شخص یا جماعت جس درجہ میں سابق و اول ہوگی اسی قدر رضائے الٰہی اور حقیقی کامیابی سے حصہ پائے گی۔ کیونکہ سبقت و اولیت کی طرح رضاء و کامیابی کے بھی مدارج بہت سے ہوسکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:1013 پہلے سے دیہاتی عربوں کا ذکر چلا آرہا تھا۔ درمیان میں اعراب مومنین کے تذکرہ سے مہاجرین و انصار کی طرف کلام منتقل ہوگیا اب اس آیت میں خاص " مدینہ " اور اس کے آس پاس رہنے والوں کا بیان ہے یعنی بعض اہل مدینہ اور گردو پیش کے رہنے والے نفاق کے خوگر ہوچکے اور اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ نفاق اس قدر عریق و عمیق ہے کہ ان کے قرب مکانی اور نبی کریم ﷺ کی کمال فطانت و فراست کے باوجود آپ بھی بالتعیین اور قطعی طور پر محض علامات و قرائن سے ان کے نفاق پر مطلع نہیں ہو سکے ان کا ٹھیک ٹھیک تعین صرف خدا کے علم میں ہے۔ جس طرح عام منافقین کا پتہ چہرہ لب و لہجہ اور بات چیت سے لگ جاتا تھا (وَلَوْ نَشَاۗءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيْمٰهُمْ ۭ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ ) 47 ۔ محمد :30) ان کا نفاق اتنا گہرا ہے کہ اس قسم کی ظاہری علامات ان کا پردہ فاش نہیں کرتیں۔
4 بڑا عذاب دوزخ کا ہے۔ (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) 4 ۔ النسآء :145) اس سے قبل کم ازکم دو بار ضرور عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ ایک عذاب قبر اور دوسرا وہ عذاب جو اس دنیاوی زندگی میں پہنچ کر رہے گا۔ مثلاً ابن عباس کی ایک روایت کے موافق حضور ﷺ نے جمعہ کے روز منبر پر کھڑے ہو کر تقریباً چھتیس آدمیوں کو نام بنام پکار کر فرمایا۔ " اُخرج فانک منافق۔ " یعنی تو منافق ہے مسجد سے نکل جا۔ یہ رسوائی ایک قسم عذاب کی تھی۔ یا پہلے اس سورت میں گزرا کہ ان کے اموال و اولاد کو حق تعالیٰ نے ان کے حق میں عذاب بنادیا۔ (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :55) یا ان میں کے بعض بھوک وغیرہ آفات ارضی و سماوی میں مبتلا ہو کر ذلت کی موت مرے یا اسلام کی ترقی و عروج کو دیکھ کر غیظ کھانا اور دانت پیسنا، یہ بھی ان کے حق میں سوہان روح تھا۔ میرے نزدیک یہ سب قسم کے عذاب " مَّرَّتَيْنِ " کے احاطہ میں داخل ہیں۔ اور دو کا عدد یا تو مطلق تعدد کے لیے ہے جیسے " ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ " میں اور یا دو بار سے مراد تنوعی اثنینیت ہے۔ یعنی " عذاب قبر ' اور " عذاب قبل الموت "۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:1025 اہل مدینہ میں اگر ایک طرف یہ منافقین متمردین ہیں جو اپنی شرارتوں اور جرموں کو پردہ نفاق میں چھپاتے اور ان پر سختی سے اڑے رہتے ہیں تو دوسری جانب بعض وہ مسلمان ہیں جن سے بمقتضائے بشریت کوئی خطا و قصور سرزد ہوجائے تو نادم ہو کر بےتامل اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔ ان کی بھلائی اور برائی مخلوط (رلی ملی) ہے۔ برائی تو مثلاً یہ کہ نفیر عام کے باوجود نبی کریم ﷺ کی دعوت پر " غزوہ تبوک " میں حاضر نہ ہوئے بعدہ، اس غیر حاضری پر دل سے پشیمان و متأسف ہونا اور ظاہراً و باطناً توبہ کرنا اور دوسرے اعمال صالحہ (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا دوسرے غزوات کی شرکت وغیرہ) بجا لانا، یہ سب ان کی بھلائیوں کی فہرست میں داخل ہیں۔ ایسے حضرات کو حق تعالیٰ نے معافی کی امید دلائی ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ اور ان کے چند ہمراہیوں کے حق میں نازل ہوئی۔ جو محض کسل اور تن آسانی کی وجہ سے " تبوک " میں حاضر نہ ہوئے۔ لیکن جب تبوک سے حضرت ﷺ کی واپسی معلوم ہوئی تو غایت ندامت سے ان سب نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا اور قسم کھائی کہ جب تک نبی کریم ﷺ اپنے ان مجرموں اور قیدیوں کو معاف کر کے اپنے ہاتھ سے نہ کھولیں گے، اسی طرح بندھے کھڑے رہیں گے۔ آپ ﷺ نے یہ حال دیکھ کر فرمایا۔ واللہ جب تک خدا ان کے کھولنے کا حکم نہ دے میں ان کو نہیں کھول سکتا۔ آخر یہ آیات نازل ہوئیں تب آپ نے کھولا اور قبول توبہ کی بشارت دی۔ کہتے ہیں کہ یہ لوگ کھلنے کے بعد تکمیل توبہ کے طور پر کچھ مال لے کر حاضر ہوئے کہ خدا کی راہ میں تصدق کریں اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:1031 " صدقہ " کا ترجمہ مترجم محقق نے " زکوٰۃ " کیا ہے۔ لیکن اگر لفظ " صدقہ " کو عام رکھا جاتا جو زکوٰۃ و صدقات نافلہ سب کو شامل ہو تو بہتر تھا۔ کیونکہ اکثر روایات کے موافق یہ آیت ان ہی لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو بعد معافی تکمیل توبہ کے طور پر صدقہ لے کر حاضر ہوئے تھے۔ جیسا کہ ابھی پیچھے فائدہ میں نقل کیا جا چکا ہے۔ ہاں عموم الفاظ کو دیکھتے ہوئے حکم کو مورد نص پر مقصور رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے سلف ؓ مسئلہ زکوٰۃ میں بھی اس آیت کو پیش کرتے رہے ہیں۔
2 توبہ سے گناہ معاف ہوجاتا ہے۔ یعنی اس پر مواخذہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن ایک قسم کی روحانی کدورت و ظلمت وغیرہ جو گناہ کا طبعی اثر ہے وہ ممکن ہے باقی رہ جاتی ہو جو بالخصوص صدقہ اور عموماً حسنات کی مباشرت سے زائل ہوتی ہے۔ بایں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ صدقہ گناہوں کے اثرات سے پاک و صاف کرتا اور اموال کی برکت بڑھاتا ہے " زکوٰۃ " (کے لغوی معنی نماء یعنی بڑھنے کے ہیں) اور ایک بڑا فائدہ صدقہ کرنے میں یہ تھا کہ صدقہ کرنے والوں کو حضور ﷺ دعائیں دیتے تھے۔ جن سے دینے والے کا دل بڑھتا اور سکون حاصل کرتا تھا۔ بلکہ آپ کی دعاء کی برکت دینے والے کی اولاد در اولاد تک پہنچتی تھی۔ اب بھی ائمہ کے نزدیک مشروع ہے کہ جو شخص صدقہ لائے امام مسلمین بحیثیت وارث نبی ہونے کے اس کے لیے دعاء کرے۔ البتہ جمہور کے نزدیک لفظ " صلوٰۃ " کا استعمال نہ کرے جو حضور ﷺ کا مخصوص حق تھا۔
Ayah 9:1043 یعنی توبہ اور صدقات کا قبول کرنا صرف خدا کے اختیار میں ہے کیونکہ وہ ہی جانتا ہے کہ کس نے اخلاص قلب اور شرائط قبول کی رعایت کے ساتھ توبہ کی یا صدقہ دیا۔ چناچہ پہلے بعضوں پر عتاب ہوچکا کہ ہمیشہ کے لیے ان کی زکوٰۃ لینی موقوف ہوئی اور منافقین کے صدقات کو مردود ٹھہرایا گیا اور ان کے حق میں دعاء و استغفار کو بھی بےسود بتلایا۔ بلکہ جنازہ پڑھنے کی ممانعت کردی۔ جن لوگوں کا یہاں ذکر ہے ان کی توبہ قبول کی اور صدقات قبول کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہ حضور ﷺ ان کے حق میں (حیًا ومیتًا) دعاء کریں۔
Ayah 9:1054 یعنی توبہ وغیرہ سے گزشتہ تقصیرات معاف ہوگئیں۔ لیکن آگے دیکھا جائے گا کہ تم کہاں تک صدق و استقامت کا عملی ثبوت پیش کرتے ہو۔ اس جہاد میں قصور ہوا تو آئندہ اور جہاد ہوں گے۔ پیغمبر ﷺ کے یا خلفاء کے روبرو ان میں امتحان ہوگا کہ کیسا عمل کرتے ہو۔ پھر خدا کے یہاں جا کر ہر عمل کو پورا بدلہ مل جائے گا کیونکہ وہ ہی تمام کھلی چھپی چیزوں اور ظاہری عمل اور باطنی نیتوں پر مطلع ہے ہر ایک کے ساتھ اس کی واقعی حالت کے موافق معاملہ کرے گا (آیت کی یہ تقریر حضرت شاہ صاحب کے مذاق پر کی گئی ہے کیونکہ اوفق بالسیاق ہے۔ واللہ اعلم)
Ayah 9:1065 اہل مدینہ میں سے یہاں ایک چھوٹی سی جماعت کا ذکر فرمایا ہے اصل یہ ہے کہ متخلفین عن تبوک (یعنی تبوک میں نہ شریک ہونے والے) تین قسم کے تھے۔ ایک منافقین جو ازراہ شک و نفاق علیحدہ رہے۔ دوسرے بعض مومنین جو محض سستی اور تن آسانی کی بدولت شریک جہاد نہ ہوئے۔ پھر ان میں دو قسمیں تھیں۔ اکثر وہ تھے جنہوں نے واپسی کی اطلاع پا کر اپنے کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا ان کا ذکر پچھلی آیات میں گزر چکا۔ صرف تین شخصوں کی جماعت وہ تھی جنہوں نے نہ اپنے کو ستونوں سے بندھوایا نہ کوئی عذر تراشا۔ بس جو واقعہ تھا اور جو قصور ہوا تھا صاف صاف بلا کم وکاست آنحضرت ﷺ کے سامنے عرض کردیا۔ ان کے بارے میں آیت (وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :109) نازل ہوئی۔ یعنی ان کا معاملہ ابھی ڈھیل میں ہے۔ چند روز خدا کے حکم کا انتظار کرو۔ خواہ ان کو سزا دے یا معاف کرے۔ جو اس کے علم و حکمت کا اقتضاء ہوگا کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے تانزول حکم الٰہی ادب دینے کے لیے مسلمانوں کے تعلقات ان تینوں سے منقطع کردیے۔ پچاس دن تک یہ ہی معاملہ رہا۔ پھر معافی ہوئی۔ ان واقعات کی اور تینوں کے ناموں کی تفصیل اگلے رکوع کے خاتمہ پر بیان ہوگی۔
Ayah 9:1071 پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جن سے بظاہر ایک برا کام ہوگیا (تخلف عن الجہاد) مگر صحت اعتقاد اور اعتراف خطا کی بدولت معافی مل گئی۔ یہاں ایسی جماعت کا بیان ہے جنہوں نے بظاہر اچھا کام کیا (تعمیر مسجد) لیکن بداعتقادی کی وجہ سے وبال بن گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے آئے تو اول مدینہ سے باہر " بنی عمرو بن عوف " کے محلہ میں فروکش ہوئے۔ پھر چند روز بعد شہر مدینہ میں تشریف لے گئے اور مسجد نبوت تعمیر کی، اس محلہ میں جہاں آپ بیشتر نماز پڑھتے تھے وہاں کے لوگوں نے مسجد تیار کرلی جو مسجد قباء کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر ہفتہ کے روز وہاں جا کردو رکعت نماز پڑھتے اور بڑی فضیلت اس کی بیان فرماتے تھے۔ بعض منافقین نے چاہا کہ پہلوں کی ضد پر اسی کے قریب ایک اور مکان مسجد کے نام سے تعمیر کریں۔ اپنی جماعت جدا ٹھہرائیں اور بعض سادہ دل مسلمانوں کو مسجد قبا سے ہٹا کر ادھر لے آئیں۔ فی الحقیقت اس ناپاک تجویز کا محرک اصلی ایک شخص ابو عامر راہب خزرجی تھا۔ ہجرت سے پہلے اس شخص نے نصرانی بن کر راہبانہ زندگی اختیار کرلی تھی۔ مدینہ اور آس پاس کے لوگ خصوصاً قبیلہ خزرج اس کے زہد و درویشی کے معتقد تھے اور بڑی تعظیم کرتے تھے حضور ﷺ کے قدوم میمنت لزوم سے جب مدینہ میں ایمان و عرفان کا آفتاب چمکا تو اس طرح کے درویشوں کا بھرم کھلنے لگا۔ بھلا نور آفتاب کے سامنے چراغ مردہ کو کون پوچھتا۔ ابو عامر یہ دیکھ کر چراغ پا ہوگیا حضور ﷺ نے اس کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں ٹھیک ملت ابراہیمی لے کر آیا ہوں۔ کہنے لگا کہ میں پہلے سے اس پر قائم ہوں لیکن تم نے اپنی طرف سے ملت ابراہمی میں اس کے خلاف چیزیں داخل کردی ہیں۔ حضور ﷺ نے بہت زور سے اس کی تردید فرمائی۔ آخر اس کی زبان سے نکلا کہ جو ہم میں سے جھوٹا ہو خدا اس کو وطن سے دور و تنہا غربت و بیکسی کی موت مارے۔ آپ ﷺ نے فرمایا " آمین " خدا ایسا ہی کرے۔ جنگ بدر کے بعد جب اسلام کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور مسلمانوں کا عروج و فروغ حاسدوں کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگا۔ ابو عامر کو تاب نہ رہی۔ بھاگ کر مکہ پہنچا۔ تاکہ کفار مکہ کو حضور ﷺ کے مقابلہ میں چڑھا کر لائے۔ چناچہ معرکہ احد میں قریش کے ساتھ خود آیا۔ مبازرہ شروع ہونے سے پہلے آگے بڑھ کر انصار مدینہ کو جو عہد جاہلیت میں اس کے بڑے معتقد تھے خطاب کر کے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ احمق یہ نہ سمجھا کہ پیغمبرانہ تصرف کے سامنے اب وہ پرانا جادو کہاں چل سکتا ہے۔ آخر انصار نے جو اسے پہلے راہب کہہ کر پکارتے تھے جواب دیا کہ او فاسق دشمن خدا ! تری آنکھ خدا کبھی ٹھنڈی نہ کرے۔ کیا رسول خدا کے مقابلہ میں ہم تیرا ساتھ دیں گے ؟ انصار کا مایوس کن جواب سن کر کچھ حواس درست ہوئے اور غیظ میں آکر کہنے لگا کہ اے محمد ! ﷺ آئندہ جو قوم بھی تیرے مقابلہ کے لیے اٹھے گی میں برابر اس کے ساتھ رہوں گا۔ چناچہ جنگ حنین تک ہر معرکہ میں کفار کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے لڑتا رہا۔ احد میں اسی کی شرارت سے حضور ﷺ کو چشم زخم پہنچا۔ دونوں صفوں کے درمیان اس نے پوشیدہ طور پر کچھ گڑھے کھدوا دیئے تھے۔ وہیں چہرہ مبارک کے زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید ہونے کا واقعہ پیش آیا حنین کے بعد جب ابو عامر نے محسوس کرلیا کہ اب عرب کی کوئی طاقت اسلام کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی تو بھاگ کر ملک شام پہنچا۔ اور منافقین مدینہ کو خط لکھا کہ میں قیصر روم سے مل کر ایک لشکر جرار محمد ﷺ کے مقابلہ میں لانے والا ہوں جو چشم زدن میں ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا دے گا اور مسلمانوں کو بالکل پامال کر کے چھوڑے گا۔ (العیاذ باللہ) تم فی الحال ایک عمارت مسجد کے نام سے بنا لو۔ جہاں نماز کے بہانے سے جمع ہو کر اسلام کے خلاف ہر قسم کے سازشی مشورے ہو سکیں۔ اور قاصد تم کو وہیں میرے خطوط وغیرہ پہنچا دیا کرے اور میں بذات خود آؤں تو ایک موزوں جگہ ٹھہرنے اور ملنے کی ہو۔ یہ خبیث مقاصد تھے جن کے لیے مسجد ضرار تعمیر ہوئی اور حضور ﷺ کے روبرو بہانہ یہ کیا کہ یا رسول اللہ ! خدا کی قسم ہماری نیت بری نہیں بلکہ بارش اور سردی وغیرہ میں بالخصوص بیماروں، ناتوانوں اور ارباب حوائج کو مسجد قبا تک جانا دشوار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مسجد بنائی گئی ہے تاکہ نمازیوں کو سہولت ہو اور مسجد قبا میں تنگی مکان کی شکایت نہ رہے حضور ﷺ ایک مرتبہ وہاں چل کر نماز پڑھ لیں تو ہمارے لیے موجب برکت وسعادت ہو۔ یہ اس لیے کہ حضور ﷺ کا طرز عمل دیکھ کر بعض سادہ دل مسلمان حسن ظن کی بنا پر ان کے جال میں پھنس جائیں۔ آپ اس وقت تبوک جانے کے لیے پابرکاب تھے۔ فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو واپسی پر ایسا ہو سکے گا۔ جب حضور ﷺ تبوک سے واپس ہو کر بالکل مدینہ کے نزدیک پہنچ گئے، تب جبرائیل یہ آیات لے کر آئے جن میں منافقین کی ناپاک اغراض پر مطلع کر کے مسجد ضرار کا پول کھول دیا۔ آپ ﷺ نے مالک بن خشم اور معن بن عدی کو حکم دیا کہ اس مکان کو (جس کا نام ازراہ خداع و فریب مسجد رکھا تھا) گرا کر پیوند زمین بنادو۔ انہوں نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جلا کر خاک سیاہ کردیا اس طرح منافقین اور ابو عامر فاسق کے سب ارمان دل کے دل میں رہ گئے اور ابو عامر اپنی دعا اور حضور ﷺ کی آمین کے موافق قنسرین) ملک شام (میں تنہا سخت بےکسی کی موت مرا۔ (فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۭوَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :45) سے یہ ہی ابو عامر فاسق مراد ہے۔
Ayah 9:1082 یعنی اس مسجد میں جس کی بنیاد محض ضد، کفر و نفاق، عداوت اسلام اور مخالفت خدا اور رسول پر رکھی گئی۔ آپ کبھی نماز کے لیے کھڑے نہ ہوں۔ آپ کی نماز کے لائق وہ مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ اور پرہیزگاری پر قائم ہوئی (خواہ مسجد نبوی ہو یا مسجد قبا) اس کے نمازی گناہوں اور شرارتوں اور ہر قسم کی نجاستوں سے اپنا ظاہر و باطن پاک و صاف رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسی لیے خدائے پاک ان کو محبوب رکھتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اہل قبا سے دریافت کیا کہ تم طہارت و پاکیزگی کا کیا خاص اہتمام کرتے ہو، جو حق تعالیٰ نے تمہاری تطہیر کی مدح فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ڈھیلے کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ یعنی عام طہارت ظاہری و باطنی کے علاوہ وہ لوگ اس چیز کا معتاد سے زائد اہتمام رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیت میں مسجد قبا کا ذکر ہے۔ لیکن بعض روایات صریح میں ہے کہ " لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی " سے مسجد نبوی ﷺ سے مراد ہے۔ علماء نے اس پر بہت کچھ کلام کیا ہے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں اس کے متعلق اپنا ناقص خیال ظاہر کر کے روایات میں تطبیق دی ہے یہاں اس کے بیان کا موقع نہیں۔
Ayah 9:1093 یعنی جس کام کی بنیاد تقویٰ ، یقین و اخلاص اور خدا کی رضا جوئی پر ہو، وہ نہایت مستحکم اور پائدار ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے جس کام کی بناء شک و نفاق اور مکرو خداع پر ہو، وہ اپنی ناپائداری، بودے پن اور انجام بد کے لحاظ سے ایسا ہے جیسے کوئی عمارت ایک کھائی کے کنارہ پر کھڑی کی جائے کہ ذرا زمین سر کی یا پانی کی تھپیڑ کنارہ کو لگی، ساری عمارت دھڑام سے نیچے آرہی اور آخرکار دوزخ کے گڑھے میں جا پہنچی۔
4 یعنی بظاہر کوئی نیک عمل بھی کریں (جیسے مسجد بنانا) ظلم و ناانصافی کی شامت سے بن نہیں پڑتا۔
Ayah 9:1105 " ریبہ " کا ترجمہ کیا ہے " شبہ " جس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی اس عمل بد کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ ان کے دلوں میں (جب تک موت انہیں پارہ پارہ نہ کر ڈالے) نفاق قائم رہے گا۔ جیسے اسی سورة میں پہلے گزر چکا۔ (فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :77) بعض مترجمین نے " ریبہ " کے معنی کیے ہیں " کھٹکنا " یعنی جو عمارت انہوں نے ناپاک مقاصد کے لیے بنائی تھی۔ مگر حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مطلع کر کے ان کے تمام پلید مقاصد کا خاتمہ کردیا، اس کا خیال ہمیشہ ان کے دلوں میں کانٹا سا کھٹکتا رہے گا۔ والراجح عندالسلف ہو الاول کما حکی ابن کثیر۔
Ayah 9:1111 اس سے زیادہ سودمند تجارت اور عظیم الشان کامیابی کیا ہوگی کہ ہماری حقیر سی جانوں اور فانی اموال کا خداوند قدوس خریدار بنا۔ ہماری جان و مال جو فی الحقیقت اسی کی مملوک و مخلوق ہے محض ادنیٰ ملابست سے ہماری طرف نسبت کر کے " مبیع " قرار دیا جو " عقد بیع " میں مقصود بالذات ہوتی ہے۔ اور جنت جیسے اعلیٰ ترین مقام کو اس کا " ثمن " بتلایا جو مبیع تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ " جنت " میں وہ نعمتیں ہوں گی جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی بشر کے قلب پر ان کی کیفیات کا خطور ہوا اب خیال کرو کہ جان و مال جو برائے نام ہمارے کہلاتے ہیں، انہیں جنت کا ثمن نہیں بنایا نہ یہ کہا کہ حق تعالیٰ " بائع " اور ہم مشتری ہوتے، تلطف و نوازش کی حد ہوگئی کہ اس ذرا سی چیز کے (حالانکہ وہ بھی فی الحقیقت اسی کی ہے) معاوضہ میں جنت جیسی لازوال اور قیمتی چیز کو ہمارے لیے مخصوص کردیا، جیسا کہ " بالجنۃ " کی جگہ " بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃُ فرمانے سے ظاہر ہوتا ہے
نیم جاں بستاند و صد جاں دہد
آنچہ درہمت نیاید آں دہد
پھر یہ نہیں کہ ہمارے جان و مال خرید لیے گئے تو فوراً ہمارے قبضہ سے نکال لئے جائیں صرف اس قدر مطلوب ہے کہ جب موقع پیش آئے جان و مال خدا کے راستہ میں پیش کرنے کے لیے تیار رہیں۔ دینے سے بخل نہ کریں خواہ وہ لیں یا نہ لیں۔ اسی کے پاس چھوڑے رکھیں۔ اسی لیے فرمایا (يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :111) یعنی مقصود خدا کی راہ میں جان و مال حاضر کردینا ہے۔ بعدہ ' ماریں یا مارے جائیں۔ دنوں صورتوں میں عقد مبیع پورا ہوگیا اور یقینی طور پر ثمن کے مستحق ٹھہر گئے ممکن ہے کسی کو وسوسہ گزرتا کہ معاملہ تو بیشک بہت سودمند اور فائدہ بخش ہے لیکن ثمن نقد نہیں ملتا۔ اس کا جواب دیا۔ (وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ ) 9 ۔ التوبہ :111) یعنی زر ثمن کے مارے جانے کا کوئی خطرہ نہیں۔ خدا تعالیٰ نے بہت تاکید و اہتمام سے پختہ دستاویز لکھ دی ہے جس کا خلاف ناممکن ہے۔ کیا خدا سے بڑھ کر صادق القول، راست باز اور وعدہ کا پکا کوئی دوسرا ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ لہذا اس کا ادھار بھی دوسروں کے نقد سے ہزاروں درجہ پختہ اور بہتر ہوگا پھر مومنین کے لیے خوش ہونے اور اپنی قسمت پر نازاں ہونے کا اس سے بہتر کون سا موقع ہوگا کہ خود رب العزت ان کا خریدار بنے، اور اس شان سے بنے۔ سچ فرمایا عبد اللہ بن رواحہ نے کہ یہ وہ بیع ہے جس کے بعد اقالت کی کوئی صورت ہم باقی رکھنا نہیں چاہتے۔ حق تعالیٰ اپنے فضل سے ہم ناتوانوں کو ان مومنین کے زمرہ میں محشور فرمائے آمین۔
Ayah 9:1122 بعض نے " سائحون " سے مراد روزہ دار لیے ہیں۔ کیونکہ روزہ دار کھانے پینے وغیرہ لذائذ و مرغوبات سے بےتعلق ہو کر روحانی مدارج اور ملکوتی مقامات کی سیر کرتا ہے۔ بعض کے نزدیک اس لفظ کا مصداق مہاجرین ہیں۔ جو گھر بار سے بےتعلق ہو کر " دارالسلام " میں سکونت پذیر ہوتے ہیں۔ بعض نے " مجاہدین " کا ارادہ کیا ہے کہ مجاہد اپنی جان تک سے بےتعلق ہو کر خدا کے راستہ میں قربان ہونے کے لیے نکلتا ہے۔ بعض کی رائے میں یہ لفظ طلبہ علوم کے لیے ہے جو وطن، کنبہ، راحت و آسائش وغیرہ سب کو خیر باد کہہ کر طلب علم کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ بہرحال مترجم محقق نے جو ترجمہ کیا، اس میں ان سب اقوال کی گنجائش ہے مگر اکثر سلف کے نزدیک پہلی تفسیر مختار ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ شاید بےتعلق رہنے سے مراد یہ ہو کہ دنیا میں دل نہ لگائے۔
3 یعنی خود درست ہونے کے ساتھ دوسروں کو بھی درست کرتے ہیں۔ گویا ان کا کام ہے عبادت حق اور خیر خواہی خلق۔
4 یعنی نیکی بدی کی جو حدود حق تعالیٰ نے معین فرما دی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بےحکم شرح کوئی قدم نہ اٹھائے۔ یہ سب صفات ان مومنین کی ہوئیں۔ جو جان و مال سے خدا کے ہاتھ پر بک چکے ہیں۔
Ayah 9:1135 مومنین جب جان و مال سے خدا کے ہاتھوں بیع ہوچکے تو ضروری ہے کہ تنہا اسی کے ہو کر رہیں۔ اعداء ُ اللہ سے جن کا دشمن خدا اور جہنمی ہونا معلوم ہوچکا ہو۔ محبت و مہربانی کا واسطہ نہ رکھیں۔ خواہ دشمنان خدا ان کے ماں باپ، چچا، تایا اور خاص بھائی بند ہی کیوں نہ ہوں۔ جو خدا کا باغی اور دشمن ہے وہ ان کا دوست کیسے ہوسکتا ہے۔ پس جس شخص کی بابت پتہ چل جائے کہ وہ بالیقین دوزخی ہے۔ خواہ وحی الٰہی کے ذریعہ سے یا اس طرح کے اعلانیہ کفر و شرک پر اس کو موت آچکی ہو، اس کے حق میں استغفار کرنا اور بخشش مانگنا ممنوع ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض احادیث میں مذکورہ ہے کہ آپ کے چچا ابو طالب کے حق میں اتری۔ اور بعض نے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں نے چاہا کہ اپنے آباؤ مشرکین کے لیے جو مرچکے تھے استغفار کریں۔ اس آیت میں ان کو منع کیا گیا۔ بہرحال شان نزول کچھ ہو، حکم یہ ہے کہ کفار و مشرکین کے حق میں جن کا خاتمہ کفرو شرک پر معلوم ہوجائے، استغفار جائز نہیں۔ (تنبیہ) حضور ﷺ کے والدین کے بارے میں علمائے اسلام کے اقوال بہت مختلف ہیں۔ بعض نے ان کو مومن و ناجی ثابت کرنے کے لیے مستقل رسائل لکھے ہیں۔ اور شراح حدیث نے محدثانہ و متکلمانہ بحثیں کی ہیں۔ احتیاط و سلامت روی کا طریقہ اس مسئلہ میں یہ ہے کہ زبان بند رکھی جائے۔ اور ایسے نازک مباحث میں خوض کرنے سے احتراز کیا جائے حقیقت حال کو خدا ہی جانتا ہے اور وہ ہی تمام مسائل کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے۔
Ayah 9:1146 سورة مریم میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے قبول حق سے اعراض کیا اور ضد وعناد سے حضرت ابراہیم کو قتل کی دھمکیاں دینے لگا، تو آپ نے والدین کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا۔ (سَلٰمٌ عَلَيْكَ ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ۭاِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا) 19 ۔ مریم :47) یعنی میں خدا سے تیرے لیے استغفار کروں گا۔ اس وعدہ کے موافق آپ برابر استغفار کرتے رہے چناچہ دوسری جگہ " وَاغْفِرْ لاَ بِی " ' فرمانے کی تصریح ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک مشرک کی حالت شرک پر قائم رہتے ہوئے مغفرت چاہتے تھے، نہیں غرض یہ تھی کہ اللہ اس کو توفیق دے کہ حالت شرک سے نکل کر آغوش اسلام میں آجائے اور قبول اسلام اس کی خطاؤں کے معاف ہونے کا سبب بنے۔ " اِنَّ اْلِاسْلاَمُ یَہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہ،" ابراہیم (علیہ السلام) کے استغفار کو قرآن میں پڑھ کر بعض صحابہ کے دلوں میں خیال آیا کہ ہم بھی اپنے مشرک والدین کے حق میں استغفار کریں اس کا جواب حق تعالیٰ نے دیا کہ ابراہیم نے وعدہ کی بنا پر صرف اس وقت تک اپنے باپ کے لیے استغفار کیا۔ جب تک یقینی طور سے یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ اسے کفر و شرک اور خدا کی دشمنی پر مرنا ہے۔ کیونکہ مرنے سے پہلے احتمال تھا کہ توبہ کر کے مسلمان ہوجائے اور بخشا جائے پھر جب کفر و شرک پر خاتمہ ہونے سے صاف کھل گیا کہ وہ حق کی دشمنی سے باز آنے والا نہ تھا، تو ابراہیم (علیہ السلام) اس سے بالکلیہ بیزار ہوگئے۔ اور دعاء و استغفار وغیرہ ترک کردیا۔ پہلے نرم دلی اور شفقت سے دعاء کرتے تھے۔ جب توبہ ورجوع کے احتمالات منقطع ہوگئے، تو آپ نے اس کی خیرخواہی سے ہاتھ اٹھا لیا۔ اور اس حادثہ کو پیغمبرانہ صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ حدیث میں ہے کہ محشر میں ابراہیم (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ خداوندا ! تیرا وعدہ ہے کہ مجھے رسوا نہ کرے گا۔ مگر اس سے زیادہ کیا رسوائی ہوگی کہ آج میرا باپ سب کے سامنے دوزخ میں پھینکا جائے۔ اسی وقت ان کے باپ کی صورت مسخ ہو کر ضبع (کفتار) کی سی ہوجائے گی اور فرشتے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیں گے۔ شاید یہ اس لیے ہو کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں۔ کیونکہ رسوائی کا دارومدار شناخت پر ہے جب شناخت نہ رہے گی کہ کیا چیز دوزخ میں پھینکی گئی۔ پھر بیٹے کی رسوائی کا کچھ مطلب نہیں۔
Ayah 9:1151 یعنی اتمام حجت اور اظہار حق سے پہلے خدا کسی کو گمراہ نہیں کرتا، گمراہی یہ ہے کہ جب خدا اپنے احکام صاف کھول کر بیان کرچکا، پھر امتثال نہ کیا جائے۔ گویا اشارہ کردیا کہ جو لوگ ممانعت سے قبل مشرکین کے لیے استغفار کرچکے ہیں ان پر مواخذہ نہیں، لیکن اب اطلاع پانے کے بعد ایسا کرنا گمراہی ہے۔
Ayah 9:1162 جب اس کی سلطنت ہے ' تو اسی کا حکم چلنا چاہیے۔ وہ علم محیط اور قدرت کاملہ سے جو احکام نافذ کرے بندوں کا کام ہے کہ بےخوف و خطر تعمیل کریں۔ کسی کی روز رعایت کو دخل نہ دیں، کیونکہ خدا کے سوا کوئی کام آنے والا نہیں۔