4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی اور مضبوط پکڑا اللہ کو اور خالص حکم بردار ہوئے اللہ کے سو وہ ہیں ایمان والوں کے ساتھ اور جلد دے گا اللہ ایمان والوں کو بڑا ثواب6

6 یعنی جو منافق اپنے نفاق سے توبہ کرے اور اپنے اعمال کی درستی کرے اور اللہ کے پسندیدہ دین کو خوب مضبوط پکڑے اور اللہ پر توکل کرے اور ریا وغیرہ خرابیوں سے دین کو پاک و صاف رکھے تو وہ خالص مسلمان ہے۔ دین و دنیا میں ایمان والوں کے ساتھ ہوگا اور ایمان والوں کو بڑا ثواب ملنے والا ہے ان کے ساتھ ان کو بھی ملے گا جنہوں نے نفاق سے سچی توبہ کی۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

کیا کرے گا اللہ تم کو عذاب کر کے اگر تم حق کو مانو اور یقین رکھو اور اللہ قدردان ہے سب کچھ جاننے والاف 7

7 یعنی اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا قدرداں ہے اور بندوں کی سب باتوں کو خوب جانتا ہے۔ سو جو شخص اس کے حکم کو ممنونیت اور شکر گزاری کے ساتھ تسلیم کرتا ہے اور اس پر یقین رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ عادل رحیم کو ایسے شخص پر عذاب کرنے سے کوئی تعلق نہیں یعنی ایسے شخص کو ہرگز عذاب نہ دے گا وہ تو سرکش اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ کو پسند نہیں کسی کی بری بات کا ظاہر کرنا مگر جس پر ظلم ہوا ہو اور اللہ ہے سننے والا جاننے والاف 1

1 یعنی اگر کسی میں دین یا دنیا کا عیب معلوم ہو تو اس کو مشہور نہ کرنا چاہئے۔ خدا تعالیٰ سب کی بات سنتا ہے اور سب کے کام کو جانتا ہے۔ ہر ایک کو اس کے موافق جزا دے گا اسی کو غیبت کہتے ہیں۔ البتہ مظلوم کو رخصت ہے کہ ظالم کا ظلم لوگوں سے بیان کرے۔ ایسے ہی بعض اور صورتوں بھی غیبت کی ہیں اور یہ حکم یہاں شاید اس لئے فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کسی منافق کا نام مشہور نہ کرے اور علی الاعلان اس کو بدنام نہ کرے اس میں وہ بگڑ کر شاید بےباک ہوجائے بلکہ مبہم نصیحت کرے۔ منافق آپ سمجھ لے گا یا تنہائی میں نصیحت کرے۔ اس طرح شاید ہدایت قبول کرلے۔ چناچہ حضرت محمد ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے کسی کا نام لے کر مشہور نہیں فرماتے تھے۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم کھول کر کرو کوئی بھلائی یا اس کو چھپاؤ یا معاف کرو برائی کو تو اللہ بھی معاف کرنے والا بڑی قدرت والا ہے2

2 اس آیت میں مظلوم کو معافی کی رغبت دلانی منظور ہے کہ حق تعالیٰ زبردست اور قدرت والا ہو کر خطا والوں کی خطا بخشتا ہے۔ بندہ زیردست عاجز کو تو بطریق اولیٰ دوسروں کا قصور معاف کردینا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے مگر افضل یہ ہے کہ صبر کرے اور بخش دے۔ آیت میں اشارہ ہے اس طرف کہ منافقوں کی اصلاح چاہتے ہو تو ان کی ایذاء اور شرارت پر صبر کرو اور نرمی اور پردہ سے ان کو سمجھاؤ۔ ظاہر کی طعن اور لعن سے بچو اور کھلا مخالف مت بناؤ۔
Ayahs 4:150–151

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہیں اللہ سے اور اس کے رسولوں سے اور چاہتے ہیں کہ فرق نکالیں اللہ میں اور اس کے رسولوں میں اور کہتے ہیں ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور چاہتے ہیں کہ نکالیں اس کے بیچ میں ایک راہ

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

ایسے لوگ وہی ہیں اصل کافر اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے ذلت کا عذاب3

3 یہاں سے ذکر ہے یہود کا۔ چونکہ یہود میں نفاق کا مضمون بہت تھا اور آپ کے زمانہ میں جو منافق تھے وہ یہود تھے یا یہودیوں سے ربط اور محبت رکھنے والے اور ان کے مشورہ پر چلنے والے تھے اس لئے قرآن شریف میں اکثر ان دونوں فریق کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اسکے رسولوں سے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے بیچ میں ایک نیا مذہب اپنے لئے نکالیں ایسے ہی لوگ اصل اور ڈھیٹ کافر ہیں۔ ان کے لئے خواری اور ذلت کا عذاب تیار ہے۔ فائدہ : اللہ کا ماننا جب ہی معتبر ہے کہ اپنے زمانہ کے پیغمبر کی تصدیق کرے اور اس کا حکم مانے بدون تصدیق نبی کے اللہ کا ماننا غلط ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ ایک نبی کی تکذیب اللہ کی اور تمام رسولوں کی تکذیب سمجھی جاتی ہے۔ یہود نے جب رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تو حق تعالیٰ کی اور تمام انبیاء کی تکذیب کرنے والے قرار دیے گئے اور کٹے کافر سمجھے گئے۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور جدا نہ کیا ان میں سے کسی کو ان کو جلد دے گا ان کے ثواب اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان4

4 یعنی اور جن لوگوں نے کسی نبی کو جدا نہیں کیا بلکہ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کو بڑے ثواب عطا فرمائے گا۔ اس سے مراد مسلمان ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور سب پر ایمان لائے۔
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

تجھ سے درخواست کرتے ہیں اہل کتاب کہ تو ان پر اتار لاوے لکھی ہوئی کتاب آسمان سے سو مانگ چکے ہیں موسیٰ سے اس سے بھی بڑی چیز اور کہا ہم کو دکھلادے اللہ کو بالکل سامنے سو آپڑی ان پر بجلی ان کے گناہ کے باعث پھر بنالیا بچھڑے کو بہت کچھ نشانیاں پہنچ چکنے کے بعد پھر ہم نے وہ بھی معاف کیا1 اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ صریح2

1 یہودیوں کے چند سردار آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا اگر تم سچے پیغمبر ہو تو ایک کتاب لکھی لکھائی یکبارگی آسمان سے لا دو جیسے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لائے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس تمام رکوع میں الزامات کو ان کے جواب میں ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد تحقیقی جواب دیا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے محمد ﷺ یہودی جو تم سے عنادًا ایسی کتاب طلب کرتے ہیں ان کی یہ بےباکی اور سرکشی تعجب کی بات نہیں۔ ان کے بزرگوں نے تو اس سے بھی بڑی اور سخت بات اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے طلب کی تھی کہ خداوند تعالیٰ کا آشکارا ہم کو دکھا دو ورنہ ہم تمہارا یقین نہ کریں گے جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرا۔ اس پر یہ ہوا کہ ان کے کہنے والوں پر بجلی آپڑی اور سب مرگئے پھر حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان کو زندہ کردیا۔ ایسی عظیم الشان نشانیاں دیکھ کر پھر یہ کیا کہ بچھڑے کو پوجنے لگے بالآخر حق تعالیٰ نے اس سے بھی درگزر فرمائی۔ سورة بقرہ میں کسی قدر تفصیل سے مذکور ہوچکا ہے۔ 2 غلبہ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بچھڑے کو تو ذبح کر کے آگ میں جلا دیا اور اس کی راکھ ہوا میں دریا پر اڑا دی اور ستر ہزار آدمی بچھڑے کو سجدہ کرنے والے قتل کئے گئے۔
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے اٹھایا ان پر پہاڑ قرار لینے کے واسطے3 اور ہم نے کہا داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے4 اور ہم نے کہا کہ زیادتی مت کرو ہفتہ کے دن میں اور ہم نے ان سے لیا قول مضبوط5

3 یعنی جب یہود نے کہا تھا کہ تورات کے حکم سخت ہیں ہم نہیں مانتے تو اس وقت کوہ طور کو زمین سے اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا کہ ان حکموں کو قبول کرو اور مضبوطی سے پکڑو ورنہ پہاڑ ڈالا جاتا ہے۔ 4 یہود کو حکم ہوا تھا کہ شہر میں داخل ہوں سجدہ کر کے اور سر جھکائے ہوئے انہوں نے سجدہ کے بدلے سرین پر سرکنا اور پھسلنا شروع کیا۔ جب شہر میں پہنچے تو ان پر طاعون پڑا، دوپہر میں قریب ستر ہزار کے مرگئے۔ 5 یہودیوں کو حکم تھا کہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں اور سب دنوں سے زیادہ ہفتہ ہی کے دن مچھلیاں دریا میں بکثرت نظر آتیں۔ یہودیوں نے یہ حیلہ کیا کہ دریا کے پاس حوض بنائے۔ ہفتہ کے دن جب مچھلیاں دریا سے حوضوں میں آتیں تو ان کو بند کر رکھتے پھر دوسرے دن حوضوں میں سے شکار کرتے۔ اس فریب اور عہد شکنی پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بندر کردیا جو جانوروں میں بہت خسیس اور مکار ہے۔
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کردی ان کے دل پر کفر کے سبب سو ایمان نہیں لا تے مگر کم6

6 یعنی یہود نے اس عہد کو توڑ دیا تو حق تعالیٰ نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی سے منکر ہونے پر اور انبیاء (علیہم السلام) کے ناحق قتل کرنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو غلاف میں ہیں، ان پر سخت عذاب مسلط فرمائے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو ہدایت کی تو کہنے لگے ہمارے دل پردہ میں ہیں تمہاری بات وہاں تک پہنچ نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے جس کے باعث ان کو ایمان نصیب نہیں ہوسکتا مگر تھوڑے لوگ اس سے مستشنٰی ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
Ayahs 4:156–157

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا7 اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بیشک

7 یعنی اور نیز اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے منکر ہو کر دوسرا کفر کمایا اور حضرت مریم پر طوفان عظیم باندھا اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ تھا ان تمام وجوہ سے یہود پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔
Ayah 4:158

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والاف 1

1 اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا۔ یہود جو مختلف باتیں اس بارے میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صورت کے مشابہ کردی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اسکو میسح سمجھ کر قتل کردیا پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لا ویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ2

2 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ موجود ہیں آسمان پر جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے حرام کیں ان پر بہت سی پاک چیزیں جو ان پر حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ روکتے تھے اللہ کی راہ سے بہت

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس وجہ سے کہ سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہوچکی تھی اور اس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے واسطے جو ان میں ہیں عذاب دردناک3

3 یہود کی اگلی پچھلی سخت شرارتیں ذکر فرما کر جس سے ان کی سرکشی اور ان کا گناہوں پر دلیر ہونا ظاہر ہوگیا اب فرماتے ہیں کہ اسی واسطے ہم نے ان پر شریعت بھی سخت رکھی کہ ان کی سرکشی ٹوٹے تو اب یہ شبہ نہ رہا کہ تحریم طیبات تو ان پر تورات میں کی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مخالفت کرنا اور حضرت مریم پر تہمت لگانا نزول تورات کے بہت بعد میں ہوا تو سزا جرم سے مقدم کیسے ہوگئی اس تمام رکوع کا خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے اہل کتاب برابر ایک سے ایک زائد شرارت اور نافرمانی اور عہد شکنی اور حضرات انبیاء کو ایذاء رسانی کرتے چلے آئے ہیں اب اگر اے محمد رسول اللہ ﷺ تم سے عنادا تورات جیسی کتاب دفعتاً واحدۃً طلب کریں اور قرآن شریف جو سب کتابوں سے افضل ہے اس پر کفایت نہ کریں تو ان متعصب نالائقوں سے کیا مستبعد ہے ان کی اس قسم کی ناشائستہ حرکات سے تعجب مت کرو اور متحیر نہ ہو ان کی تمام حرکات چھوٹی بڑی اگلی پچھلی ہم کو خوب معلوم ہیں ہم نے بھی شریعت سخت ان کے لئے دنیا میں رکھی اور آخرت میں عذاب شدید ان کے واسطے تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں اور ایمان والے سو مانتے ہیں اس کو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آفریں ہے نماز پر قائم رہنے والوں کو اور جو دینے والے ہیں زکوٰۃ کے اور یقین رکھنے والے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو ایسوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب4

4 یعنی بنی اسرائیل میں جن کا علم مضبوط ہے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور جو لوگ کہ صاحب ایمان ہیں وہ مانتے ہیں قرآن اور تورات و انجیل سب کو اور نماز کو قائم رکھنے والوں کا تو کیا کہنا ہے اور دینے والے زکوٰۃ کے اور ایمان رکھنے والے اللہ پر اور قیامت پر ایسے لوگوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب بخلاف اول فریق کے کہ ان کے لئے عذاب سخت موجود ہے۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

ہم نے وحی بھیجی تیری طرف5 جیسے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے6 اور وحی بھیجی ابراہیم پر اور اسماعیل پر اور اسحاق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور عیسیٰ پر اور ایوب پر اور یونس پر اور ہارون پر اور سلیمان پر اور ہم نے دی داؤد کو زبور

5 اہل کتاب اور مشرکین مکہ جملہ کفار قرآن مجید کی حقانیت اور صداقت میں طرح طرح سے بیہودہ شبہ پیدا کرتے۔ دیکھئے اس موقع میں یہی کہہ دیا کہ جیسے تورات سب کی سب ایک دفعہ اتری تھی ایسے ہی تم بھی ایک کتاب آسمان سے لا دو تو ہم تم کو سچا جانیں بقول شخصے خوئے بدرا بہانہ بسیار۔ سو حق تعالیٰ نے اس جگہ چند آیتیں نازل فرما کر اس کی حقیقت واضح کردی اور وحی کی عظمت اور کفار کے سب خیالات اور شبہات بیہودہ کو رد کردیا اور وحی الہٰی کی متابعت کو عامۃ اور قرآن مجید کی اطاعت کو تخصیص کے ساتھ بیان فرما کر بتلا دیا کہ حکم الہٰی کا ماننا سب پر فرض ہے کسی کا کوئی عذر اس میں نہیں چل سکتا۔ جو اس کے تسلیم کرنے میں تردد یا تامل یا انکار کرے وہ گمراہ اور بےدین ہے۔ اب یہاں سے تحقیقی جواب دیا جاتا ہے۔ 6 اس سے معلوم ہوگیا کہ وحی خاص اللہ کا حکم اور اس کا پیام ہے جو پیغمبروں پر بھیجا جاتا ہے اور انبیائے سابقین پر جیسے وحی الہٰی نازل ہوئی ویسے ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی بھیجی تو جس نے اس کو مانا اس کو بھی ضرور ماننا چاہیے اور جس نے اس کا انکار کیا گویا ان سب کا منکر ہوگیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان سے پچھلوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ شاید یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے جو وحی شروع ہوئی تو اس وقت بالکل ابتدائی حالت تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر اس کی تکمیل ہوگئی گویا اوّل حالت محض تعلیمی حالت تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ حالت پوری ہو کر اس قابل ہوگئی کہ ان کا امتحان لیا جائے اور فرمانبرداروں کو انعام اور نافرمانوں کو سزا دی جائے۔ چناچہ انبیائے اولوالعزم کا سلسلہ بھی حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہی شروع ہوا اور وحی الہٰی سے سرتابی کرنے والوں پر بھی اوّل عذاب حضرت نوح (علیہ السلام) کے وقت سے شروع ہوا خلاصہ یہ کہ پہلے حکم الہٰی اور انبیاء کی مخالفت پر عذاب نازل نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کو معذور سمجھ کر ان کو ڈھیل دی جاتی تھی اور سمجھانے ہی میں کوشش کی جاتی تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں جب مذہبی تعلیم خوب ظاہر ہوچکی اور لوگوں کو حکم خداوندی کی متابعت کرنے میں کوئی خفا باقی نہ رہا تو اب نافرمانوں پر عذاب نازل ہوا۔ اوّل حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں طوفان آیا اس کے بعد حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب (علیہم السلام) وغیرہ کے زمانہ میں کافروں پر قسم قسم کے عذاب آئے تو آپ کی وحی کو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان سے پچھلوں کی وحی کے ساتھ تشبیہ دینے میں اہل کتاب اور مشرکین مکہ کو پوری تنبیہ کردی گئی کہ جو آپ کی وحی یعنی قرآن کو نہ مانے گا وہ عذاب عظیم کا مستحق ہوگا۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بھیجے ایسے رسول کہ جن کا احوال ہم نے سنایا تجھ کو اس سے پہلے اور ایسے رسول جن کا احوال نہیں سنایا تجھ کو اور باتیں کیں اللہ نے موسیٰ سے بول کر1

1 حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء ہوئے ان سب کو بالاجمال ذکر فرما کر جو ان میں اولوالعزم ہیں اور جو مشہور اور جلیل القدر ہیں ان کو تخصیص اور تفصیل کے ساتھ ذکر فرما دیا جس سے خوب معلوم ہوگیا کہ آپ کے اوپر جو وحی نازل ہوئی اس کا حق ہونا اور اس کا ماننا ایسا ہی ضروری ہے جیسا تمام اولوالعزم اور مشاہیر انبیاء کی وحی کو اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انبیاء پر جو وحی آتی ہے کبھی فرشتہ پیغام لے کر آتا ہے کبھی کتاب لکھی ہوئی مل جاتی ہے کبھی بغیر پیغام اور بدون واسطہ کے خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے بات کرتا ہے مگر ان سب صورتوں میں چونکہ وہ اللہ کا ہی حکم ہے کسی دوسرے کا حکم نہیں تو بندوں پر اس کی اطاعت یکساں فرض ہے۔ بندوں تک پہنچنے کا طریقہ تحریر ہو خواہ تقریر ہو، خواہ پیغام ہو تو اب یہود کا یہ کہنا کہ تورات کی طرح پوری کتاب ایک دفعہ میں آسمان سے لاؤ گے تو ہم تم کو سچا جانیں گے ورنہ نہیں کتنی بےایمانی اور حماقت ہے۔ جب وحی حکم الہٰی ہے اور اس کے نازل ہونے کی صورتیں البتہ متعدد ہیں تو پھر کسی صورت میں اس کے ماننے میں تردد اور انکار کرنا یا یہ کہنا کہ فلاں خاص طریقہ سے آئے گی تو مانوں گا ورنہ نہیں صریح کفر ہے اور کھلی حماقت۔
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

بھیجے پیغمبر خوشخبری اور ڈر سنانے والے تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کو اللہ پر الزام کا موقع رسولوں کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والاف 2

2 اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مومنوں کو خوشخبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر مرضی معلوم نہ تھی معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے۔ سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے راہ حق بتلائی تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا۔ وحی الہٰی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے رو برو کوئی حجت نہیں چل سکتی بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر ہے اور اگر زبردستی کرے تو کون روک سکتا ہے مگر اس کو پسند نہیں۔
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن اللہ شاہد ہے اس پر جو تجھ پر نازل کیا کہ یہ نازل کیا ہے اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ کافی ہے حق ظاہر کرنے والاف 3

3 یعنی وحی ہر پیغمبر کو آتی رہی یہ کچھ نئی بات نہیں سب کو معلوم ہے لیکن اس قرآن میں اللہ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کر دے گا۔ چناچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ جو علوم اور حقائق قرآن مجید میں سے حاصل ہوئے اور برابر حاصل ہوتے رہیں گے وہ کسی کتاب سے نہیں ہوئے اور جس قدر ہدایت لوگوں کو حضرت محمد ﷺ سے ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئی۔
Ayahs 4:167–169

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور روکا اللہ کی راہ سے وہ بہک کر دور جا پڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور حق دبا رکھا ہرگز اللہ بخشنے والا نہیں ان کو اور نہ دکھلاوے گا ان کو سیدھی راہ

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

مگر راہ دوزخ کی رہا کریں اس میں ہمیشہ اور یہ اللہ پر آسان ہے4

4 قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی تصدیق اور توثیق کے بعد فرماتے ہیں کہ اب جو لوگ آپ سے منکر ہوئے اور تورات میں جو آپ ﷺ کے اوصاف اور حالات موجود تھے ان کو چھپالیا اور لوگوں پر کچھ کا کچھ ظاہر کر کے ان کو بھی دین حق سے باز رکھا۔ سو ایسوں کو نہ مغفرت نصیب ہوئی نہ ہدایت جس سے خوب واضح ہوگیا کہ ہدایت آپ کی متابعت میں منحصر ہے اور گمراہی آپ کی مخالفت کا نام ہے جس سے یہود کو پوری سرزنش ہوگئی اور ان کے خیالات کی تغلیط واضح ہوگئی۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگوں تمہارے پاس رسول آچکا ٹھیک بات لے کر تمہارے رب کی سو مان لو تاکہ بھلا ہو تمہارا اور اگر نہ مانو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والاف 5

5 آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی کتاب کی تصدیق اور آپ ﷺ کے مخالفین یعنی اہل کتاب کی تغلیط اور تضلیل بیان فرما کر اب عام سب لوگوں کو منادی کی جاتی ہے کہ اے لوگوں ہمارا رسول سچی کتاب اور سچا دین لیکر تمہارے پاس پہنچ چکا اب تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ اس کی بات مانو اور نہ مانو گے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور تمہارے تمام احوال اور افعال سے خبردار ہے، تمہارے اعمال کا پورا حساب و کتاب ہو کر اس کا بدلہ ملے گا۔ فائدہ : اس ارشاد سے بھی صاف معلوم ہوگیا کہ وحی جو پیغمبر پر نازل ہو اس کا ماننا فرض اور اس کا انکار کفر ہے۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے کتاب والو مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں اور مت کہو اللہ کی شان میں مگر پکی بات بیشک مسیح جو ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا وہ رسول ہے اللہ کا اور اس کا کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح ہے اس کے ہاں کی سو مانو اللہ کو اور اس کے رسولوں کو اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں اس بات کو چھوڑو بہتر ہوگا تمہارے واسطے بیشک اللہ معبود ہے اکیلا اس کے لائق نہیں ہے کہ اس کے اولاد ہو1 اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کار ساز2

1 اہل کتاب اپنے انبیاء کی تعریف میں غلو سے کام لیتے اور حد سے نکل جاتے خدا اور خدا کا بیٹا کہنے لگتے۔ سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کی بات میں مبالغہ مت کرو اور جس سے اعتقاد ہو اس کی تعریف میں حد سے نہ بڑھنا چاہئے۔ جتنی بات تحقیق ہو اس سے زیادہ نہ کہے اور حق تعالیٰ کی شان مقدس میں بھی وہی بات کہو جو سچی اور محقق ہو اپنی طرف سے کچھ مت کہو۔ تم نے یہ کیا غضب کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو کہ رسول اللہ ہیں اور اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے تھے ان کو وحی کے خلاف خدا کا بیٹا کہنے لگے اور تین خدا کے معتقد ہوگئے۔ ایک خدا، دوسرے عیسیٰ ، تیسرے حضرت مریم۔ ان باتوں سے باز آؤ اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہوسکتا ہے۔ اس کی ذات پاک اور اس سے منزہ اور مقدس ہے۔ یہ تمام خرابی اس کی ہے کہ تم نے وحی کی اطاعت اور پابندی نہ کی۔ وحی کی متابعت کرتے تو خدا کے لئے بیٹا نہ مانتے اور تین خدا کے قائل ہو کر صریح مشرک نہ ہوتے اور محمد رسول اللہ سید الرسل اور قرآن مجید افضل الکتب کی تکذیب کر کے آج دوہرے کافر نہ بنتے۔ فائدہ : اہل کتاب کے ایک فریق نے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بھی نہ مانا اور قتل کرنا پسند کیا، جن کا ذکر پہلے گزرا۔ دوسرے فریق نے ان کو خدا کا بیٹا کہا دونوں کافر ہوگئے دونوں فریق کی گمراہی کا سبب یہی ہوا کہ وحی کے خلاف کیا۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ نجات وحی کی متابعت میں منحصر ہے۔ 2 یعنی آسمانوں اور زمین میں نیچے سے اوپر تک جو کچھ ہے سب اس کی مخلوق اور اس کی مملوک اور اس کے بندے ہیں پھر کہیے اس کا شریک یا اس کا بیٹا کون اور کیونکر ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کام بنانے والا ہے اور سب کی کارسازی کے لئے وہی کافی ہے اور کسی دوسرے کی حاجت نہیں، پھر بتلائیے اس کو شریک یا بیٹے کی حاجت کیسے ہوسکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نہ کسی مخلوق میں اس کے شریک بننے کی قابلیت اور لیاقت اور نہ اس کی ذات پاک میں اس کی گنجائش اور نہ اس کو اس کی حاجت جس سے معلوم ہوگیا کہ مخلوقات میں سے کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک یا بیٹا کہنا اس کا کام ہے جو ایمان اور عقل دونوں سے محروم ہو۔ فائدہ : مضمون بالا سے یہ سمجھ میں آگیا کہ جو کوئی حق تعالیٰ کے لئے بیٹا یا کسی کو اس کا شریک مانتا ہے وہ حقیقت میں جمیع موجودات کو مخلوق باری اور باری تعالیٰ کو خالق جملہ موجودات نہیں مانتا اور نیز اللہ تعالیٰ کو سب کی حاجت براری اور کارسازی کے لئے کافی نہیں جانتا۔ گویا خدا کو خدائی سے نکال کر مخلوقات اور ممکنات میں داخل کردیا تو اب ارشاد ( سبحانہ ان یکون لہ ولد) میں جس ناپاکی کی طرف اشارہ خفی تھا اس کا پتہ چل گیا اور فرزند حقیقی اور فرزند مجازی اور ظاہری دونوں میں وہ ناپاکی چونکہ برابر موجود ہے تو خوب سمجھ میں آگیا کہ اس کی ذات مقدس جیسے اس سے پاک ہے کہ اس کے بیٹا پیدا ہو ایسا ہی اس سے بھی پاک اور برتر ہے کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بیٹا بنائے۔
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح کو اس سے ہرگز عار نہیں کہ وہ بندہ ہو اللہ کا اور نہ فرشتوں کو جو مقرب ہیں3 اور جس کو عار آوے اللہ کی بندگی سے اور تکبر کرے سو وہ جمع کرے گا ان سب کو اپنے پاس اکٹھا

3 یعنی اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکموں کو بجا لانا تو اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر اور ضرورت پوچھیے ان کو اس سے کیسے ننگ اور عار آسکتا ہے۔ البتہ ذلت اور غیرت تو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ہے جیسے نصاریٰ نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود مان لیا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مان کر ان کی اور بتوں کی عبادت کرنے لگے سو ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب اور ذلت ہے۔
Ayah 4:173

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے انہوں نے اچھے تو ان کو پورا دے گا ان کا ثواب اور زیادہ دے گا اپنے فضل سے اور جنہوں نے عار کی اور تکبر کیا سو ان کو عذاب دے گا عذاب دردناک اور نہ پاویں گے اپنے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار4

4 یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی بندگی سے ناک چڑھاوے گا اور سرکشی کرے گا تو وہ یونہی نہ چھوڑ دیا جائے گا بلکہ ایک روز سب کو اللہ کے سامنے جمع ہونا ہے اور حساب دینا ہے۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے یعنی اللہ کی بندگی پوری بجا لائے ان کو ان کے کاموں کا پورا ثواب ملے گا بلکہ اللہ کے فضل سے بڑی بڑی نعمتیں ان کے ثواب سے زیادہ بھی ان کو عنایت ہوں گی اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی سے ناک چڑھائی اور سرکشی کی وہ عذاب عظیم میں گرفتار ہونگے اور کوئی ان کا خیر خواہ اور مددگار نہ ہوگا۔ جن کو اللہ کی بندگی میں شریک کر کے عذاب میں پڑے وہ بھی کام نہ آئیں گے۔ سو اب نصاریٰ خوب سمجھ لیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے ان کے مناسب حال کیا ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے موافق شان کیا ہے۔
Ayahs 4:174–175

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگوں تمہارے پاس پہنچ چکی تمہارے رب کی طرف سے سند اور اتاری ہم نے تم پر روشنی واضح

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کو مضبوط پکڑا تو ان کو داخل کرے گا اپنی رحمت اور فضل میں اور پہنچا دے گا ان کو اپنی طرف سیدھے راستہ پر1

1 پہلے وحی الہٰی اور بالخصوص قرآن مجید کی عظمت اور اسکی حقانیت کا بیان اور اس کی متابعت اور اتباع کی تاکیدات کا ذکر تھا۔ اسی کے ذیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت اور ان کے ابن اللہ ہونے کا ذکر کیا تھا جس کے قائل نصاریٰ تھے۔ اس کی تردید اور ابطال کے بعد اب اخیر میں پھر اسی اصلی اور ضروری بات کی سب کو تاکید فرمائی جاتی ہے کہ اے لوگوں تمہارے پاس رب العالمین کی طرف سے حجت کامل اور نور روشن پہنچ چکا جو ہدایت کے لئے کافی اور وافی ہے یعنی قرآن مجید، اب کسی تامل اور تردد کی گنجائش نہیں۔ سو جو کوئی اللہ پر ایمان لائے گا اور اس مقدس کتاب کو مضبوط پکڑے گا وہ اللہ کی رحمت اور فضل میں داخل ہوگا اور براہ راست اس تک پہنچے گا اور جو اس کے خلاف کرے گا اس کی گمراہی اور خرابی اسی سے سمجھ لیجئے .
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

حکم پوچھتے ہیں تجھ سے سو کہہ دے اللہ حکم بتاتا ہے تم کو کلالہ کا2 اگر کوئی مرد مرگیا اور اس کے بیٹا نہیں اور اس کے ایک بہن ہے تو اس کو پہنچے آدھا اس کا جو چھوڑ مرا3 اور وہ بھائی وارث ہے اس بہن کا اگر نہ ہو اس کے بیٹا4 پھر اگر بہنیں دو ہوں تو ان کو پہنچے دو تہائی اس مال کا جو چھوڑ مرا5 اور اگر کئی شخص ہوں اسی رشتہ کے کچھ مرد اور کچھ عورتیں تو ایک مرد کا حصہ ہے برابر دو عورتوں کے6 بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے تا کہ تم گمراہ نہ ہو7 اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے8

2 شروع سورت میں آیت میراث میں کلالہ کی میراث کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس کے بعد جو بعض صحابہ ؓ نے اس کے متعلق زیادہ تفصیل پوچھنی چاہی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ کلالہ کے معنی ہیں کمزور اور ضعیف۔ یہاں وہ شخص مراد ہے جس کے وارثوں میں باپ اور اولاد میں سے کوئی نہ ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا کیونکہ اصلی وارث والد اور ولد ہی ہیں جس کے یہ نہیں تو اس کے حقیقی بھائی بہن کو بیٹا بیٹی کا حکم ہے اور اگر حقیقی نہ ہوں تو یہی حکم سوتیلوں کا ہے جو کہ باپ میں شریک ہوں ایک بہن ہو تو آدھا اور دو بہنیں ہوں تو دو تہائی اور اگر بھائی اور بہن دونوں ہیں تو مرد کو دوہرا حصہ اور عورت کو اکہرا ملے گا اور اگر فقط بھائی ہوں بہن کوئی نہ ہو تو وہ بہن کے مال کے وارث ہونگے یعنی ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیونکہ وہ عصبہ ہیں جیسا کہ آیت میں آگے یہ سب صورتیں مذکور ہیں۔ اب باقی رہ گئے وہ بھائی بہن جو صرف ماں میں شریک ہوں جن کو اخیافی کہتے ہیں سو ان کا حکم شروع سورت میں فرما دیا گیا ان کا حصہ معین ہے۔ 3 یعنی اگر کوئی مرد مرگیا اور اس نے ایک بہن چھوڑی نہ بیٹا چھوڑا نہ باپ تو اس کو میراث میں نصف مال ملے گا۔ 4 یعنی اور اگر اس کے برعکس ہو یعنی کوئی عورت لا ولد مرگئی اور اس نے بھائی اعیانی یا علاتی چھوڑا تو وہ بہن کے مال کا وارث ہوگا کیونکہ وہ عصبہ ہے اور اگر اس نے لڑکا چھوڑا تو بھائی کو کچھ نہ ملے گا اور لڑکی چھوڑی تو لڑکی سے جو بچے گا وہ اس بھائی کو ملے گا اور بھائی یا بہن اخیافی چھوڑے گی تو اس کے لئے چھٹا حصہ معین ہے جیسا کہ ابتداء سورت میں ارشاد ہوا۔ 5 اور اگر دو سے زیادہ بہنیں چھوڑے تو ان کو بھی دو تہائی دیا جائیگا۔ 6 کچھ مرد اور کچھ عورتیں یعنی کچھ بھائی اور کچھ بہنیں چھوڑیں تو بھائی کا دوہرا اور بہن کا اکہرا حصہ ہے جیسا کہ اولاد کا حکم ہے۔ 7 یعنی اللہ رحیم و کریم محض اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اور انکو گمراہی سے بچانے کی غرض سے اپنے احکام حقہ صادقہ بیان فرماتا ہے جیسے یہاں میراث کلالہ کو بیان فرما دیا۔ اس کی اس میں کوئی غرض نہیں وہ سب سے غنی اور بےنیاز ہے تو اب جو اس مہربانی کی قدر نہ کرے بلکہ اس کے حکم سے انحراف کرے اس کی شقاوت کا کیا ٹھکانہ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ بندہ کو جملہ احکام کی تابعداری لازم ہے۔ اگر ایک معمولی اور جزوی امر میں بھی خلاف کرے گا تو گمراہی ہے پھر جو لوگ اس کی ذات پاک اور اس کی صفات کمال میں اس کے حکم کا خلاف کرتے ہیں اور اپنی عقل اور اپنی خواہش کو اس کے مقابلہ میں اپنا مقتدا بناتے ہیں ان کی ضلالت اور خباثت کو اسی سے سمجھ لیجئے کہ کس درجہ کی ہوگی۔ 8 اس سے پہلے معلوم ہوا تھا کہ حق سبحانہ اپنے بندوں کی ہدایت کو پسند فرماتا ہے۔ اب فرمایا کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہیں تو مطلب یہ نکلا کہ مسائل دینیہ میں جو ضرورت پیش آئے اس کو پوچھ لو سو اس ارشاد میں صحابہ نے جو کلالہ کے مسئلہ میں استفسار فرمایا تھا اس کی تحسین کی طرف اور آئندہ کو ایسے سوالات کرنے کی ترغیب کی طرف اشارہ سمجھ میں آتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے یعنی تم نہیں جانتے۔ تم تو یہ بھی نہیں بتلا سکتے کہ کلالہ اور اس کے سوا دیگر صورتوں میں جو حصہ مقرر فرمایا گیا اس کی وجہ حقیقت میں کیا ہے۔ پھر آدمی کی عقل اس قابل کب ہوسکتی ہے کہ اس کے بھروسے حق سبحانہ و تعالیٰ کی ذات وصفات میں وحی کے خلاف پر جرأت کرے جو اپنے تعلقات اور اپنے اقارب کے فرق اور امتیاز سے عاجز ہو وہ ذات بےچون و بےچگوں اور اس کی صفات کو بدون اس کے بتلائے کیا سمجھ سکتا ہے۔ فائدہ : اس جگہ کلالہ کے حکم اور اس کے سبب نزول کو بیان فرمانے سے چند باتیں معلوم ہوئیں اوّل یہ کہ جیسے پہلے (وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ) 4 ۔ النساء :131) فرما کر اس کے بعد بطریق تمثیل اہل کتاب کا حال ذکر فرمایا تھا ایسے ہی ارشاد (فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَاعْتَصَمُوْا بِهٖ ) 4 ۔ النسآء :175) آخر الآیۃ کے بعد اصحاب رسول اللہ ﷺ اجمعین کو بطریق تمثیل ذکر فرمایا تاکہ وحی سے انحراف کرنے والوں کی گمراہی اور برائی اور وحی کا اتباع کرنے والوں کی حقانیت اور بھلائی خوب سمجھ میں آجائے۔ اسی کے ذیل میں دوسری بات یہ بھی ظاہر ہوگئی کہ اہل کتاب نے تو یہ غضب کیا کہ ذات اقدس سبحانہ و تعالیٰ کے لئے شریک اور اولاد جیسے شنیع امر کو اپنا ایمان بنا لیا اور وحی الہٰی کا خم ٹھونک کر خلاف کیا اور اصحاب رسول اللہ ﷺ کی یہ حالت ہے کہ اصول ایمان اور عبادات تو درکنار معاملات جزئیہ اور معمولی مسائل متعلقہ میراث نکاح وغیرہ میں بھی وحی کے متجسس اور منتظر رہتے ہیں اور ہر امر میں رسول علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے منہ کو تکتے ہیں اپنی عقل اور خواہش کو حاکم نہیں سمجھتے۔ اگر ایک دفعہ میں تشفی نہ ہوئی تو مکرر حاضر خدمت ہو کر دریافت کرتے ہیں۔ مصرعہ :۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت سید المرسلین بھی بلا حکم وحی اپنی طرف سے حکم نہ فرماتے تھے اگر کسی امر میں حکم وحی موجود نہ ہوتا تو حکم فرمانے میں نزول وحی کا انتظار فرماتے جب وحی آتی تب حکم فرماتے۔ اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ ذات پاک وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی حاکم نہیں۔ چناچہ آیات متعددہ میں ان الحکم الا للّٰہ وغیرہ صاف مذکور ہے باقی جو ہیں وہ سب واسطہ ہیں ان کے ذریعہ سے اوروں کو حکم الہٰی پہنچایا جاتا ہے البتہ اتنا فرق ہے کوئی واسطہ قریب ہے کوئی بعید جیسا حکم سلطانی پہنچانے کے لئے وزیراعظم اور دیگر مقربین شاہی اور حکام اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ بدرجہ سب واسطہ ہوتے ہیں پھر اس سے زیادہ گمراہی کیا ہوگی کہ کسی امر میں وحیء الہٰی کے مقابلہ میں کوئی گمراہ کسی کی بات سنے اور اس پر عمل کرے۔ آنانکہ بجز روئے تو جائے نگر انند کو تہ نظر انند چہ کو تہ نظر انند نیز اشارہ ہے اس طرف کہ ایک دفعہ تمام کتاب کے نازل ہونے میں جیسا کہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں وہ خوبی نہیں جو حسب حاجت اور حسب موقع متفرق نازل ہونے میں ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی ضرورت کے موافق اس صورت میں سوال کرسکتا ہے اور بذریعہ وحی متلو اس کو جواب مل سکتا ہے جیسا کہ اس موقع میں اور قرآن مجید کے بہت سے مواقع میں موجود ہے اور یہ صورت مفید تر ہونے کے علاوہ بوجہ شرافت ذکر خداوندی و عزت خطاب حق عزوجل ایسے فخر عظیم پر مشتمل ہے جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوا۔ واللّٰہ ذوالفضل العظیم جس صحابی کی بھلائی میں یا اس کے سوال کے جواب میں کوئی آیت نازل ہوئی وہ اس کے مناقب میں شمار ہوتی ہے اور اختلاف کے موقع میں جس کی رائے یا جس کے قول کے موافق وحی متلو اتری قیامت تک ان کی خوبی اور نام نیک باقی رہے گا سو کلالہ کے متعلق سوال و جواب کا ذکر فرما کر اس طرح کے بالعموم سوالات اور جوابات کی طرف اشارہ فرما دیا اور شاید اسی اشارہ کی غرض سے سوال کو مطلق رکھا مسؤل عنہ کو سوال کے ساتھ ذکر نہ فرمایا بلکہ جواب میں اس کی تصریح فرمائی جس کی دوسری نظیر قرآن شریف میں نہیں اور نیز جواب کو بالتصریح حق تعالیٰ کی طرف منسوب فرمایا واللہ اعلم واللہ الہادی۔ الحاصل جملہ احکام کے لئے وحی الہٰی منشا اور اصل ہے اور ہدایت اسی کی متابعت پر موقوف ہے اور کفر و ضلالت اسی کی مخالفت میں منحصر ہے اور چونکہ آپ کے زمانہ میں یہود و نصاریٰ اور جملہ مشرکین اور جملہ اہل ضلالت کی گمراہی کی جڑ یہی مخالفت تھی اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بہت جگہ وحی کی متابعت کی خوبی اور اس کی مخالفت کی خرابی پر متنبہ فرمایا بالخصوص اس موقع میں تو دو رکوع اس مہتم بالشان مضمون کے لئے نازل فرمائے اور تفصیل اور تمثیل کے ساتھ بیان فرمایا شاید اسی وجہ سے امام بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی کتاب میں باب " کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْی اِلٰی رَسُول اللّٰہِ صَلی اللّٰہ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ " منعقد فرما کر آیت ( اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ) 4 ۔ النسآء :163) کو ترجمۃ الباب میں داخل کیا اور ان دونوں رکوع کی طرف اشارہ کر گئے گویا مطلب یہ ہے وقولہ تعالیٰ انا او حینا الیک کما او حینا الٰی نوح والنبیین من بعدہ الٰی آخر مضمون الوحی واللہ اعلم۔