4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان بنا ہے کمزور4

4 یعنی انسان کو اللہ نے ضعیف بنایا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ یہ اپنی شہوات و مرغوبات سے کہاں تک صبر کرسکتا ہے تو اس لئے ہر حکم میں تخفیف کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے یہ نہیں ہوا کہ انسان کے حق میں جو مفید دیکھا وہ اس کے ذمہ لگا دیا سہل ہو یا دشوار مثلاً عورتوں اور شہوت سے صبر کرنا آدمی کو بہت دشوار تھا اس لئے اس کی خواہش پورا کرنے کے لئے طریقے جائز اللہ نے بتلا دیے کہ اس سے اپنا مطلب حاصل کرسکے یہ نہیں کہ قضائے شہوت سے بالکل روک دیا گیا ہو۔ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت سے شریعت میں تنگی نہیں فرمائی کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کی طرف دوڑے۔ خلاصہ ان آیتوں کا یہ نکلا کہ نفس کو شہوات سے بچانا اور ان تمام قیدوں کا پابند ہونا جو عورتوں کے بارے میں مذکور ہوئیں ہرگز دشوار امر نہیں اور ان کی پابندی نہایت ضروری اور سراسر مفید ہے۔
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کے آپس میں ناحق مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے5 اور نہ خون کرو آپس میں بیشک اللہ تم پر مہربان ہے6

5 مطلب یہ ہے کہ کسی کو کسی کا مال ناحق کھا لینا مثلاً جھوٹ بول کر یا دغابازی سے یا چوری سے ہرگز درست نہیں ہاں اگر سوداگری یعنی بیع و شراء کرو تم باہمی رضامندی سے تو اس میں کچھ حرج نہیں اس مال کو کھالو۔ جس کا خلاصہ یہی نکلا کہ جائز طریقہ سے لینے کی ممانعت نہیں جو مال کو ترک کرنا تم پر دشوار ہو۔ 6 یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے کہ بلاوجہ کسی کے مال یا جان میں تصرف کرنے کو منع فرما دیا اور تم پر ایسے احکام بھیجے جن میں سراسر تمہارے لئے بہبودی اور خیریت ہے۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی یہ کام کرے تعدی اور ظلم سے تو ہم اس کو ڈالیں گے آگ میں اور یہ اللہ پر آسان ہے7

7 یعنی اور جو کوئی ظلم اور زیادتی سے باز نہ آئے بلکہ ناحق اوروں کا مال کھائے یا ظلماً کسی کو قتل کر ڈالے تو اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کو آگ میں ڈال دینا خدا تعالیٰ کو دشوار نہیں بالکل سہل اور آسان ہے تو اب کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو مسلمان ہیں دوزخ میں کیسے جاسکتے ہیں اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے اس کو عدل و انصاف سے کونسی چیز روک سکتی ہے۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بچتے رہو گے ان چیزوں سے جو گناہوں میں بڑی ہیں تو ہم معاف کریں گے تم سے چھوٹے گناہ تمہارے اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام میں8

8 پہلی آیت میں مذکور تھا کہ جو کوئی ظلماً کسی کے مال یا جان کو نقصان پہنچائے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس سے معلوم ہوگیا تھا کہ حق تعالیٰ کی نافرمانی بندہ کے لئے موجب عذاب ہے۔ اب اس آیت میں گناہوں سے بچنے کی ترغیب اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر وعدہ مغفرت اور جنت کی توقع اور طمع دلائی جاتی ہے تاکہ اس کو معلوم کر کے ہر ایک آدمی گناہوں سے احتراز کرنے میں کوشش کرے اور معلوم ہوجائے کہ جو کبیرہ گناہ مثلاً کسی کا مال غصب یا سرقہ کرنے یا کسی کو ظلماً قتل کرنے سے بچ گیا جن کا ذکر ابھی گزرا تو اس کے وہ تمام صغیرہ گناہ بخشے جائیں گے جن کا مرتکب بغرض تحصیل و تکمیل سرقہ اور قتل ہوا تھا۔ اس آیت میں چند باتیں بحث طلب ہیں مگر اصل سب کی یہی ہے کہ آیت کا اصلی اور عمدہ مطلب معلوم ہوجائے جس سے تمام امور کا جان لینا سہل ہوجائے۔ سو معتزلہ اور ان کے موافقین نے سرسری طور پر اس آیت کا یہ مضمون سمجھ لیا کہ اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے یعنی کبیرہ گناہ ایک بھی نہ کرو گے تو پھر محض صغیرہ گو کتنے ہی ہوں ضرور معاف کردیے جائیں گے اور اگر صغائر کے ساتھ کبیرہ کیف ما اتفق ایک یا دو بھی شامل ہوگئے تو اب معافی ممکن نہیں بلکہ سب کی سزا ضروری ہوگئی اور اہل سنت فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کو معافی اور مواخذہ کا اختیار بدستور محقق ہے اول صورت میں معافی کا لازم ہونا اور دوسری صورت میں مواخذہ کو واجب سمجھنا معتزلہ کی بدفہمی اور کم فہمی ہے۔ اور اس آیت کے ظاہری الفاظ اور سرسری مضمون سے جو معتزلہ کا مذہب راجح نظر آتا ہے۔ اس کا جواب کسی نے تو یہ دیا کہ انتفاء شرط سے انتفاء مشروط کوئی ضروری امر ہرگز نہیں۔ کسی نے یہ کہا کہ لفظ کبائر سے جو آیت میں مذکور ہے اکبرالکبائر یعنی خاص شرک مراد لے لیا اور لفظ کبائر کی جمع لانے کی وجہ تعداد انواع شرک کو قرار دیا اور اسی کے ذیل میں چند اور باتیں بھی زیر بحث آگئیں مگر ہم ان سب امور کو نظر انداز کرکے صرف اس آیت کے محقق اور عمدہ معنی ایسے بیان کئے دیتے ہیں جو نصوص اور عقل کے مطابق اور قواعد اور ارشاد محققین کے موافق ہوں اور بشرط فہم و انصاف معنی مذکور کے بعد تمام ضمنی باتیں خود بخود حل ہوجائیں اور خلاف معتزلہ خود بخود مضمحل ہو کر معتزلہ کے عدم تدبر اور کم فہمی پر حجت قوی بن جائے اور اہل حق کو اس کے ابطال و تردید کی طرف توجہ فرمانے کی حاجت ہی نہ رہے۔ سو غور سے سنئیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ارشاد ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم جو کہ یہاں مذکور ہے اور ارشاد (اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ) 53 ۔ النجم :32) (میں موجود ہے ان ہر دو ارشاد کا مدعی ایک ہے صرف لفظوں میں تھوڑا سا فرق ہے تو اب جو مطلب ایک آیت کا ہوگا وہی دوسری آیت کا لیا جائے گا سو سورة نجم کی آیت کی نسبت حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ارشاد بخاری وغیرہ کتب حدیث میں صاف موجود ہے عن ابن عباس قال مارایت شیأ اشبہ باللمم مما قال ابوہریرہ عن النبی ﷺ ان اللّٰہ کتب علٰی ابن ادٰم حظہ من الزنٰی ادرک ذٰلک لا محالۃ فزنی العین النظر وزنی اللسان المنطق والنفس تمنی و تشتھی والفرج یصدق ذلک و یکذبہ انتہٰی۔ بشرط فہم اس حدیث سے ہر دو آیات سابقہ کے واقعی اور تحقیقی مطلب کا پورا سراغ لگ گیا اور حضرت ابن عباس حبرالامت اور لسان القرآن کے فرمانے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لمم اور علیٰ ہذا القیاس سیاٰت کے معنی اس سے بہتر نہیں ملے تو اب اس مطلب کے مقابلہ میں کوئی دوسری تقریر مضمون آیت کے متعلق کیونکر قابل ترجیح اور لائق پسند ہوسکتی ہے بالخصوص معتزلہ کی ہرزہ گوئی کیسے قابل التفات اور لائق جواب سمجھی جاسکتی ہے اور واقعی حدیث مذکور کا مطلب اور حضرت ابن عباس نے جو اس سے بات نکالی ایسی عجیب اور قابل قبول تحقیق ہے کہ جس سے مضمون ہر دو آیت خوب محقق ہوگیا اور معتزلہ کے خرافات کی گنجائش اور اہل حق کو اس کی تردید کی ضرورت بھی نہ رہی اور ذیلی اور ضمنی اقوال واختلافات بھی بہت خوبی سے طے ہوگئے چناچہ اہل فہم ادنیٰ تامل سے سمجھ سکتے ہیں بغرض توضیح ہم بھی حدیث مذکور کا خلاصہ عرض کئے دیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آیت سورة نجم میں جو لفظ لمم فرمایا گیا ہے جس کی کہ معافی کا وعدہ کیا ہے اس کی تعیین اور تحقیق کے متعلق حدیث ابوہریرہ سے بہتر ہم کو کوئی چیز معلوم نہیں ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا کہ اللہ نے ابن آدم کے ذمہ پر جو زنا کا حصہ مقرر فرما دیا ہے وہ ضرور اس کو مل کر رہے گا۔ سو فعل زنا میں آنکھ کا حصہ تو دیکھنا ہے اور زبان کا حصہ یہ ہے کہ اس سے وہ باتیں کی جائیں جو فعل زنا کے لئے مقدمات اور اسباب ہوں اور نفس کا حصہ یہ ہے کہ زنا کی تمنا اور اس کی خواہش کرے لیکن فعل زنا کا تحقق اور اس کا بطلان دراصل فرج یعنی شرمگاہ پر موقوف ہے یعنی اگر فرج سے زنا کا صدور ہوگیا تو آنکھ زبان دل سب کا زانی ہونا محقق ہوگیا اور اگر باوجود تحصیل جملہ اسباب و ذرائع صرف فعل فرج کا تحقق نہ ہوا بلکہ زنا سے توبہ اور اجتناب نصیب ہوگیا تو اب تمام وسائل زنا جو کہ فی نفسہ مباح تھے فقط زنا کی تبعیت کے باعث گناہ قرار دیے گئے تھے وہ سب کے سب لائق مغفرت ہوگئے یعنی ان کا زنا ہونا باطل ہوگیا اور گویا ان کا قلب ماہیت ہو کر بجائے زنا عبادت بن گئی کیونکہ فی نفسہ تو وہ افعال نہ معصیت تھے نہ عبادت بلکہ مباح تھے صرف اس وجہ سے کہ وہ زنا کے لئے وسیلہ بنتے تھے معصیت میں داخل ہوگئے تھے جب زنا کے لئے وسیلہ نہ رہے بلکہ زنا ہی بوجہ اجتناب معدوم ہوچکا تو اب ان وسائل کا زنا کے ذیل میں شمار ہونا اور ان کو معصیت قرار دینا انصاف کے صریح مخالف ہے مثلاً ایک شخص مسجد میں پہنچا چوری کے خیال سے مگر وہاں جا کر عین موقع پر تنبہ پیش آیا اور چوری سے توبہ کی اور رات بھر اللہ کے واسطے نماز پڑھتا رہا تو ظاہر ہے کہ جو رفتار سرقہ کا ذریعہ نظر آتا تھا وہ اب توبہ اور نماز کا ذریعہ ہوگیا تو اس حدیث ابوہریرہ کو سن کر عبد اللہ بن عباس ؓ سمجھ گئے کہ لمم وہ باتیں ہیں جو دراصل گناہ نہیں مگر گناہ کا سبب ہو کر گناہ بن جاتی ہیں۔ تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بڑے گناہ اور کھلے گناہ سے تو بچتے ہیں ہاں صدور لمم کی نوبت آجاتی ہے مگر بڑے اور اصلی گناہ کے صدور سے پہلے ہی وہ اپنے قصور سے تائب اور مجتنب ہوجاتے ہیں تو اب ابن عباس ؓ نے جیسے حدیث ابوہریرہ سے آیت سورة نجم کا مطلب سمجھ لیا ہم کو چاہیے کہ وہی معنی حسب ارشاد ابن عباس ؓ ہم آیت سورة نساء کے بےتکلف سمجھ لیں۔ جس کے بعد بحمد اللہ نہ ہم کو اس کی ضرورت ہوگی کہ اس آیت کی توضیح میں گناہ صغیرہ اور کبیرہ کی مختلف تفسیریں نقل کریں اور نہ معتزلہ کے استدلال کے جواب کا فکر ہوگا اور تکفیر سیآت کی وجہ اور دخول جنت کا سبب بھی بسہولت مطابق قواعد معلوم ہوجائے گا اور اجتناب کے معنی بھی ظاہر ہوجائیں گے اور چھوٹی چھوٹی باتیں انشاء اللہ بشرط تدبر طے ہوجائیں گی خلاصہ ہر دو آیت مذکور کا حسب ارشاد حدیث وبیان ابن عباس ؓ یہ ہوا کہ جو لوگ ان گناہوں سے رکیں گے اور ان کے ارتکاب سے اپنے نفس کو ہٹاتے رہیں گے جو گناہ کہ گناہوں کے سلسلہ میں مقصود اور بڑے سمجھے جاتے ہیں تو اس اجتناب اور رک جانے کی وجہ سے ان کے وہ برے کام جو انہوں نے کسی بڑے گناہ کے حصول کی طمع میں کئے ہیں معاف کردیے جائیں گے اور حسب ارشاد (وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى 40؀ۙ فَاِنَّ الْجَنَّةَ ھِيَ الْمَاْوٰى 41؀ۭ ) 79 ۔ النازعات :40) (وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ سلسلہ زنا کے صغائر کسی دوسرے سلسلہ کے بڑے گناہ مثلاً شراب خوری نہ کرنے سے فروگذاشت ہوجائیں گے یا شراب خواری کی وجہ سے ان کا مواخذہ لازم اور واجب ہوجائے گا۔ واللہ اعلم
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور ہوس مت کرو جس چیز میں بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر9 مردوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور عورتوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور مانگو اللہ سے اس کا فضل بیشک اللہ کو ہر چیز معلوم ہے1

9 یعنی حق تعالیٰ جو کسی کو کسی پر کسی امر میں شرافت و فضلیت اور اختصاص و امتیاز عنایت فرمائے تو تم اس کی ہوس اور حرص مت کرو کیونکہ یہ بھی گویا ایسا ہی ہے کہ کسی کے خاص مال اور جان میں بلاوجہ دست اندازی کی جائے جس کی حرمت ابھی گزر چکی اور نیز اس سے باہم تحاسد و تباغض پیدا ہوتا ہے اور حکمت الٰہی کی مخالفت بھی لازم آتی ہے بعض عورتوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا سبب ہے کہ ہر جگہ حق تعالیٰ مردوں کو خطاب فرماتا ہے اور ان کو حکم کرتا ہے عورتوں کا ذکر نہیں کیا جاتا اور میراث میں مرد کو دوہرا حصہ دیا جاتا ہے عورت سے۔ اس آیت میں ان سب کا جواب ہوگیا۔ 1 یعنی مردوں اور عورتوں کے لئے حصہ مقرر ہے جیسا کچھ وہ کام کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ پورا ملتا ہے اس میں ہرگز کمی نہیں کی جاتی جو کسی کو شکایت کا موقع ملے ہاں یہ بات دوسری ہے کہ وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق کسی کو خاص بڑائی اور فضیلت عنایت کرے اس کی حرص اور شکایت کرنی بیجا ہوس ہے۔ البتہ اپنے عمل کے معاوضہ سے اور زیادہ ثواب و انعام مانگو تو بہتر اور مناسب ہے اس میں کچھ خرابی نہیں تو اب جو فضل کا طالب ہو اس کو لازم ہے کہ عمل کے ذریعہ سے طلب کرے حسد اور تمنی سے فضل کا طالب نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو ہر ایک چیز کا پورا علم ہے، ہر ایک کے درجے اور اس کے استحقاق کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب شان اس سے معاملہ کرتا ہے تو اب جس کو فضیلت عطا کرتا ہے سراسر علم اور حکمت کے مطابق ہے۔ کوئی اپنی لاعلمی کی وجہ سے کیوں اس میں خلجان کرے۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہر کسی کے لئے ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وارث اس مال کے کہ چھوڑ مریں ماں باپ اور قرا بت والے اور جن سے معاہدہ ہوا تمہارا ان کو دے دو ان کا حصہ بیشک اللہ کے رو برو ہے ہر چیز2

2 یعنی مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے تم سے اے مسلمانو ! ہم نے وارث مقرر کردیے اس مال کے جس کو چھوڑ مریں والدین اور قرابت والے، کسی کو اس سے محروم نہیں رکھا اور جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ ہوا ہے ان کو ان کا حصہ ضرور پہنچا دو اللہ تعالیٰ کو تمام امور کا علم ہے کہ وارثوں کا کیا حصہ ہونا چاہیے اور جن سے معاہدہ ہوا ہے ان کو کیا ملنا چاہیے اور ہمارے ان احکام کو کون بجا لاتا ہے اور کون نافرمانی کرتا ہے۔ فائدہ : اکثر لوگ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ اکیلے اکیلے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کا سب کنبہ اور تمام اقربا کافر چلے آتے تھے تو اس وقت حضرت محمد ﷺ نے دو دو مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کردیا تھا وہی دونوں آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے جب ان کے اقربا بھی مسلمان ہوگئے تب یہ آیت اتری کے میراث تو اقربا اور رشتہ داروں ہی کا حق ہے اب رہ گئے وہ منہ بولے بھائی تو ان کے لئے میراث نہیں ہاں زندگی میں ان کے ساتھ سلوک ہے اور مرتے وقت کچھ وصیت کر دے تو مناسب ہے مگر میراث میں کوئی حصہ نہیں۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال3 پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے4 اور جن کی بدخوئی کا ڈر ہو تم کو تو ان کو سمجھاؤ اور جدا کرو سونے میں اور مارو5 پھر اگر کہا مانیں تمہارا تو مت تلاش کرو ان پر راہ الزام کی بیشک اللہ ہے سب سے اوپر بڑا6

3 پہلی آیتوں میں مذکور تھا کہ مرد اور عورتوں کے حقوق کی پوری رعایت فرمائی گئی اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ہوتا۔ اب اس آیت میں مرد اور عورت کے درجہ کو بتلاتے ہیں کہ مرد کا درجہ بڑھا ہوا ہے عورت کے درجہ سے۔ اس لئے فرق مدارج کے باعث جو احکام میں فرق ہوگا وہ سراسر حکمت اور قابل رعایت ہوگا اس میں عورت اور مرد باقاعدہ حکمت ہرگز برابر نہیں ہوسکتے عورتوں کو اس کی خواہش کرنی بالکل بیجا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مردوں کو عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے حاکم اور نگران حال بنایا دو وجہ سے اول بڑی اور وھبی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصل سے بعضوں کو بعضوں پر یعنی مردوں کو عورتوں پر علم و عمل میں کہ جن دونوں پر تمام کمالات کا مدار ہے فضیلت اور بڑائی عطا فرمائی جس کی تشریح احادیث میں موجود ہے۔ دوسری وجہ جو کسبی ہے یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور مہر اور خوراک اور پوشاک جملہ ضروریات کا تکفل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی حکم برداری چاہئے۔ فائدہ : ایک صحابیہ نے اپنے خاوند کی نافرمانی بہت کی۔ آخر کو مرد نے ایک طمانچہ مارا۔ عورت نے اپنے باپ سے فریاد کی۔ عورت کے باپ نے حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں آکر احوال ظاہر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ خاوند سے بدلہ لیوے۔ اتنے میں یہ آیت اتری اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے کچھ چاہا اور اللہ تعالیٰ نے کچھ اور چاہا اور جو کچھ اللہ نے چاہا وہی خیر ہے۔ 4 یعنی جو عورتیں نیک ہیں وہ مردوں کی تابعداری کرتی ہیں اور اللہ کے حکم کے موافق خاوند کے پیٹھ پیچھے اس کی رضا کے موافق اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔ اپنے نفس اور مال زوج میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتیں۔ 5 یعنی اگر کوئی عورت خاوند سے بدخوئی کرے تو پہلا درجہ تو یہ ہے کہ مرد اس کو زبانی فہمایش کرے اور سمجھاوے اگر نہ مانے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ جدا سووے لیکن اسی گھر میں۔ اس پر بھی نہ مانے تو آخری درجہ یہ ہے کہ اس کو مارے بھی، پر نہ ایسا کہ جس کا نشان باقی رہے یا ہڈی ٹوٹے ہر تقصیر کا ایک درجہ ہے۔ اسی کے موافق تادیب اور تنبیہ کی اجازت ہے۔ جس کے تین درجے ترتیب وار آیت میں مذکور ہیں اور مارنا پیٹنا آخر کا درجہ ہے۔ سرسری قصور پر نہ مارے ہاں قصور زیادہ ہو پھر مارنے میں حرج نہیں جس قدر مناسب ہو مارے پیٹے مگر اس کا لحاظ رہے کہ ہڈی نہ ٹوٹے اور نہ ایسا زخم پہنچائے کہ جس کا نشان باقی رہ جائے۔ 6 یعنی وہ عورتیں تمہاری نصیحت یا علیحدگی یا ضرب و تادیب کے بعد اگر بدخوئی اور نافرمانی سے باز آجائیں اور بظاہر مطیع ہوجائیں تو تم بھی بس کر جاؤ اور ان کے قصوروں کی کھود کرید مت کرو اور خواہ مخواہ ان کے ملزم بنانے میں خدا سے ڈرو۔ بیشک اللہ تم سب سے غالب اور سب پر حاکم ہے۔ نہ عورتوں کے معاملہ میں خواہ مخواہ کی بدگمانی سے کام لو اور نہ تھوڑے قصور پر اخیر کی سزا دینے لگو بلکہ ہر قصور کی ایک حد ہے اور مارنا اخیر کا درجہ ہے۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو کھڑا کرو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک منصف عورت والوں میں سے7 اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرادیں تو اللہ موافقت کردے گا ان دونوں میں بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے8

7 یعنی اے مسلمانو اگر تم کو اندیشہ ہو کہ خاوند اور عورت میں مخالفت اور ضد ہے وہ اپنے باہمی نزاع کو خود نہ سلجھا سکیں گے تو تم کو چاہیے کہ ایک منصف مرد کے اقارب میں سے اور ایک منصف عورت کے اقارب میں سے مقرر کر کے بغرض فیصلہ زوجین کے پاس بھیجو کیونکہ اقارب کو ان کے حالات بھی زیادہ معلوم ہونگے اور ان سے خیرخواہی کی بھی زیادہ امید ہے۔ یہ دونوں منصف احوال کی تحقیق کریں گے اور جس کا جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر باہم موافقت کرادیں گے۔ 8 یعنی اگر دونوں منصف اصلاح بین الزوجین کا قصد کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی حسن نیت اور حسن سعی سے زوجین میں موافقت کرادے گا بیشک اللہ تعالیٰ کو تمام چیزوں کا علم اور اطلاع ہے۔ رفع نزاع اور حصول اتفاق کے اسباب اور کیفیات اس کو خوب معلوم ہیں اس لئے نزاع زوجین کے رفع ہونے میں کوئی دشواری نہ ہوگی انشاء اللہ۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو1 اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والاف 2

1 یعنی عبادت اور نیک عمل خدا پر یقین کر کے اور ثواب آخرت کی توقع سے کرو فخر اور ریا سے مال دینا یہ بھی شرک ہے گو کم درجہ کا ہے۔ 2 یتامی اور نساء اور ورثاء اور زوجین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن معاملہ کو بیان فرما کر اب یہ ارشاد ہے کہ ہر ایک کا حق درجہ بدرجہ تعلق کے موافق اور حاجت مندی کے مناسب ادا کرو۔ سب سے مقدم اللہ تعالیٰ کا حق ہے، پھر ماں باپ کا۔ پھر درجہ بدرجہ سب واسطہ داروں اور حاجت مندوں کا اور ہمسایہ قریب اور غیر قریب سے مراد قرب و بعد نسبی ہے یا قرب و بعد مکانی۔ صورت اولیٰ میں یہ مطلب ہوگا کہ ہمسایہ قرابتی کا حق ہمسایہ اجنبی سے زیادہ ہوگا اور صورت ثانیہ کا مدعا یہ ہوگا کہ پاس کے ہمسایہ کا حق ہمسایہ بعید یعنی جو کہ فاصلہ سے رہتا ہے اس سے زیادہ ہے اور پاس بیٹھنے والے میں رفیق سفر اور پیشہ کے اور کام کے شریک اور ایک آقا کے دو نوکر اور ایک استاد کے دو شاگرد اور دوست اور شاگرد اور مرید وغیرہ سب داخل ہیں اور مسافر میں مہمان غیر مہمان دونوں آگئے اور مال مملوک غلام اور لونڈی کے علاوہ دیگر حیوانات کو بھی شامل ہے۔ آخر میں فرما دیا کہ جس کے مزاج میں تکبر اور خود پسندی ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھے، اپنے مال پر مغرور اور عیش میں مشغول ہو وہ ان حقوق کو ادا نہیں کرتا سو اس سے احتراز رکھو اور جدا رہو۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں لوگوں کو بخل اور چھپاتے ہیں جو ان کو دیا اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لئے عذاب ذلت کا3

3 یعنی اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا خود پسند اور تکبر کرنے والوں کو جو کہ بخل کرتے ہیں اور اپنے مال اور علم خدا داد کو لوگوں سے چھپاتے ہیں کسی کو نفع نہیں پہنچاتے اور قولاً اور عملاً دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دلاتے ہیں اور ان کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فائدہ : یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے میں خود بھی بخل کرتے تھے اور مسلمانوں کو بھی روکنا چاہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف جو تورات میں مذکور تھے اور حقانیت اسلام کی آیات جو موجود تھیں ان کو چھپاتے تھے۔ سو مسلمانوں کو اس سے احتراز لازم ہے۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ قیامت کے دن پر اور جس کا ساتھی ہوا شیطان تو وہ بہت برا ساتھی ہے4

4 اور خود پسند متکبر وہ لوگ ہیں کہ اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کے لئے خرچ کرنے میں تو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں لیکن لوگوں کے دکھانے کو اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں اور ان کو نہ اللہ پر ایمان ہے نہ قیامت کے دن پر کہ حصول رضائے حق تعالیٰ اور تحصیل ثواب اخروی ان کو مقصود ہو۔ اور اللہ کے یہاں مقبول اور پسندیدہ یہ ہے کہ ان حقداروں کو دیا جائے جن کا اول ذکر ہوچکا ہے اور دینے میں اللہ کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی توقع ہو۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں جیسا بخل کرنا برا ہے ویسا ہی لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرنا برا ہے اور ایسا کام وہی کرتے ہیں جن کا رفیق شیطان ہے جو ان کو ایسے کام پر آمادہ کرتا ہے۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور خرچ کرتے اللہ کے دئیے ہوئے میں سے اور اللہ کو ان کی خوب خبر ہے5

5 یعنی ان کافروں کا کچھ نقصان نہ تھا اگر وہ بجائے کفر اللہ اور دن قیامت پر ایمان لاتے اور بجائے بخل و ریا اللہ کی راہ میں مال کو خرچ کرتے بلکہ ان کا سراسر نفع تھا۔ ضرر تو اس میں ہے جس کو وہ اختیار کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا اور کس نیت سے کر رہے ہیں۔ اسی کا عوض ان کو ملے گا پہلی آیت میں یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فرمایا تھا۔ مال کو ان کی طرف منسوب کیا تھا۔ اب وانَفَقُوا مِمَّا رَزَقَھُم اللّٰہ فرمایا اس میں لطیف اشارہ ہے کہ وہ لوگ اپنا مال سمجھ کر جس طرح جی چاہتا ہے خرچ کرتے ہیں ان کو چاہیے تھا کہ اللہ کا مال سمجھ کر اس کے حکم کے موافق خرچ کرتے۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دونا کردیتا ہے اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب6

6 یعنی اللہ تعالیٰ کسی کا حق ایک ذرہ برابر بھی ضائع نہیں فرماتا سو ان کافروں پر جو عذاب ہوگا وہ عین انصاف اور ان کی بداعمالی کا بدلہ ہے۔ اور اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی تو اضعاف مضاعف اس کا اجر دے گا اور اپنی طرف سے ثواب عظیم بطور انعام اس کو عنایت کرے گا۔
Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر کیا حال ہوگا جب بلاویں گے ہم ہر امت میں سے احوال کہنے والا اور بلاویں گے تجھ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والاف 1

1 یعنی ان کافروں کا کیا براحال ہوگا جس وقت کہ بلائیں گے ہم ہر امت اور ہر قوم میں سے گواہ ان کے حالات بیان کرنے والا۔ اور ان کے واقعی معاملات ظاہر کرنے والا اس سے مراد ہر امت کا نبی اور ہر عہد کے صالح اور معتبر لوگ ہیں کہ وہ قیامت کو نافرمانوں کی نافرمانی اور فرمانبرداروں کی فرمانبرداری بیان کریں گے اور سب کے حالات کی گواہی دیں گے اور تم کو اے محمد ﷺ ! ان پر یعنی تمہاری امت پر مثل دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے احوال بتانے والا اور گواہ بنا کر لاویں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰـــؤلاء کا اشارہ انبیائے سابقین یا کفار مذکورہ بالا کی طرف ہو۔ اول صورت میں انبیاء مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ انبیائے سابقین کی صداقت پر گواہی دیں گے جب کہ ان کی امتیں ان کی تکذیب کریں گی اور دوسرے احتمال سے کفار مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ انبیائے سابقین جیسا اپنی اپنی امت کے کفار فساق کے کفر و فسق کی گواہی دیں گے تم بھی اے محمد ﷺ ان سب کی بداعمالی پر گواہ ہو گے جس سے ان کی خرابی اور برائی خوب محقق ہوگی۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن آرزو کرینگے وہ لوگ جو کافر ہوئے تھے اور رسول کی نافرمانی کی تھی کاش برابر کئے جاویں وہ زمین میں اور نہ چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات2

2 یعنی جس دن ہر امت میں سے ان کے حالات بیان کرنے والا بلایا جائے گا اس دن کافر اور نافرمان لوگ اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین میں ملا دیے جاتے اور مٹی میں مل کر نیست و نابود ہوجاتے، آج پیدا نہ ہوتے اور ہم سے حساب و کتاب نہ ہوتا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا اخفا نہ کرسکیں گے اور ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا۔ شروع سورت سے مسلمانوں کو اقارب اور زوجین وغیرہ کے ادائے حقوق کی تاکید اور کسی کی حق تلفی کرنے اور جانی و مالی نقصان پہنچانے کی ممانعت اور معاصی کی خرابی پر مطلع کر کے اس کے بعد (وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا) 4 ۔ النسآء :36) فرما کر اقارب اور یتامی اور مساکین اور ہمسایوں وغیرہ کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا ارشاد کر کے اسی کے ذیل میں تکبر اور خود پسندی اور بخل و ریا سے ڈرایا تھا جو ایسے عیب ہیں کہ دوسروں کے حق ادا کرنے اور کسی کے ساتھ سلوک کرنے سے روکتے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ دینے والوں اور لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے والوں کی طبعیت میں خواہ مخواہ آنے بھی لگتے ہیں۔ اب ان تمام حکموں کے آخر میں پھر مسلمانوں کو صریح خطاب فرما کر خاص نماز کی بابت جو سب عبادتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے اور شریعت میں جس قدر اسکا اہتمام کیا ہے اور اسکے ارکان و شرائط و آداب وغیرہ کو مفصل بتلایا ہے کسی عبادت کا اس قدر اہتمام نہیں کیا۔ دو باتوں کی تاکید فرمائی جو امور متعلقہ صلوٰۃ میں سب سے اہم اور نفس پر شاق ہیں اور ارکان صلوٰۃ کی صحت اور خوبی کے لئے جسم اور جان ہیں۔ اول یہ کہ نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ تاوقتیکہ جو منہ سے نکلے اس کو سمجھ بھی لو اور جنابت میں بھی نماز سے دور رہو یہاں تک کہ غسل کر کے تمام بدن کو خوب پاک کرلو کیونکہ نماز میں دو امر مہتم بالشان ہیں ایک حضور اور خشوع، دوسرے طہارت اور نظافت اور جملہ امور متعلقہ صلوٰۃ میں یہی دو امر نفس پر شاق بھی ہیں اور نشہ خشوع اور حضور کے مخالف ہے تو جنابت طہارت اور نظافت کے منافی ہے بلکہ نشہ چونکہ مثل نوم اور غشی ناقض وضو ہے تو اس لئے طہارت کے بھی مخالف ہے تو مطلب یہ ہوا کہ نماز کو پورے اہتمام سے پڑھو اور جملہ امور ظاہری اور باطنی کا لحاظ رکھو گو نفس پر شاق ہو۔ باقی اس خاص موقع پر اس تاکید اور تقیید کے ارشاد فرمانے سے دو نفعے معلوم ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ احکام کثیرہ مذکورہ بالا جن میں حقوق اور معاملات باہمی اور عبادات جانی و مالی کا ذکر تھا ان سب کو بجالانے کے ساتھ بخل اور ریا اور خودپسندی اور بڑائی سے بھی مجتنب رہنا چونکہ نفس پر شاق ہے اور سننے والوں کو خلجان کا موقع ہے تو اس دشواری اور خلجان کا علاج بتانا منظور ہے یعنی نماز کو اس کی شرائط و آداب ظاہری و باطنی کے ساتھ ادا کرو گے تو جملہ اوامر ونواہی مذکورہ بالا کی تعمیل تم پر سہل ہوجائے گی کیونکہ نماز کی وجہ سے جملہ اوامرو عبادات میں سہولت اور رغبت اور تمام منہیات اور معاصی سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ دیگر آیات و احادیث میں مذکور ہے اور علمائے محقیقن نے تصریح فرمائی ہے۔ دوسرے یہ کہ احکام کثیرہ سابقہ کو سن کر بعید نہیں جو کاہل کم ہمت اپنے آپ کو مجبور خیال کر کے ہمت ہار دیں اور اس کاہلی کا اثر نماز میں بھی ظاہر ہونے لگے جس کی شرائط و آداب بہت کچھ ہیں اور جو ہر وقت موجود ہے اس لئے نماز کا اہتمام مناسب ہوا۔ الحاصل جو کوئی اقامت صلوٰۃ کا اہتمام اور التزام رکھے گا اس کو دیگر احکام جانی و مالی میں بھی آسانی اور سہولت ہوگی اور جو کوئی دیگر احکام میں کاہلی اور بےپروائی کرتا ہے اس سے اقامت صلوٰۃ میں بھی کوتاہی کرنا بعید نہیں، واللہ اعلم
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے یہاں تک کہ غسل کرلو3 اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں یا آیا ہے کوئی شخص تم میں جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ ملا تم کو پانی تو ارادہ کرو زمین پاک کا پھر ملو اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو4 بیشک اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والاف 5

3 پہلی آیات میں مسلمانوں کو خطاب تھا واعبدوا اللّٰہ ولا تشرکوابہ شیأا الیٰ آخرہ الآیات اور اسی کے ذیل میں کفار کی مذمت بیان فرمائی تھی جو کہ امور مذکورہ سابقہ کی مخالفت کرتے تھے اب اس کے بعد پھر مسلمانوں کو دربارہ صلوٰۃ بعض خاص ہدایتیں کی جاتی ہیں اور ان ہدایات کو ماقبل کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ اس سے پہلے کفار اور اہل کتاب کی دو خرابیوں کا خاص طور پر ذکر تھا ایک اللہ پر ایمان نہ لانا دوسرے اپنا مال اللہ کے لئے خرچ نہ کرنا بلکہ لوگوں کے دکھانے کو اور اپنی عزت بڑھانے کو مال خرچ کرنا اور ظاہر ہے کہ پہلی خرابی کا منشاء تو علم کا نقصان اور جہل کا غلبہ ہے اور دوسری خرابی کی وجہ ہوائے نفس اور اپنی خواہش ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ گمراہی کے بڑے سبب دو ہیں، اول جہل جس میں حق و باطل کی تمیز ہی نہیں ہوتی، دوسرے خواہش و شہوت جس سے باوجود تمیزحق و باطل حق کے موافق عمل نہیں کرسکتا کیونکہ شہوات سے قوت ملکی ضعیف اور قوت بہیمیہ قوی ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ ملائکہ سے بعد اور شیاطین سے قرب ہے جو بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے تو اب اس مناسبت سے حق تعالیٰ شانہ، نے مسلمانوں کو نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے اول منع فرمایا کہ یہ جہل کی حالت ہے۔ اس کے بعد جنابت میں نماز پڑھنے سے روکا کہ یہ حالت ملائکہ سے بعد اور شیاطین سے قرب کی حالت ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ جہاں جنبی ہوتا ہے وہاں ملائکہ نہیں آتے۔ واللہ اعلم۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو جب تم کو کفر اور ریا کی خرابی معلوم ہوچکی اور ان کے اضداد کی خوبی واضح ہوچکی تو اس سے نشہ اور جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے کی خرابی کو بھی خوب سمجھ لو کہ ان کا منشا بھی وہی ہے جو کفر و ریا کا منشا تھا۔ اس لئے نشہ میں نماز کے نزدیک نہ جانا چاہیے تاوقتیکہ تم کو اس قدر ہوش نہ آجائے کہ جو منہ سے کہو اس کو سمجھ بھی سکو اور نہ حالت جنابت میں نماز کے نزدیک جانا چاہیے تاوقتیکہ غسل نہ کرلو مگر حالت سفر میں اس کا حکم آگے مذکور ہے۔ فائدہ : یہ حکم اس وقت تھا کہ نشہ اس وقت تک حرام نہ ہوا تھا لیکن نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کردی گئی تھی۔ روایات میں منقول ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی دعوت میں جمع تھی چونکہ شراب اس وقت تک حرام نہ ہوئی تھی اس لئے انہوں نے شراب پی تھی۔ مغرب کا وقت آگیا تو سب اسی حالت میں نماز کو کھڑے ہوگئے امام نے سورة قل یایھا الکفرون میں لا اعبد ما تعبدون کی جگہ اعبد ما تعبدون بیہوشی میں پڑھ دیا جس سے معنی بالکل خلاف اور غلط ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اب اگر نیند کے غلبہ یا بیماری کی وجہ سے کسی کا ایسا حال ہوجائے کہ اس کی خبر نہ رہے کہ میں نے کیا کہا تو ایسی حالت کی نماز بھی درست نہ ہوگی جب ہوش آئے تو اس کی قضا ضرور کرلے۔ 4 یعنی حالت جنابت میں نماز کا نہ پڑھنا تاوقتیکہ غسل نہ کرلے یہ حکم جب ہے کہ کوئی عذر نہ ہو اور اگر کوئی ایسا عذر پیش آئے کہ پانی کے استعمال سے معذوری ہو اور طہارت کا حاصل کرنا ضروری ہو تو ایسے وقت میں زمین سے تیمم کرلینا کافی ہے۔ اب پانی کے استعمال سے معذوری کی تین صورتیں بتلائیں ایک بیماری کہ اس میں پانی ضرر کرتا ہے دوسری یہ کہ سفر درپیش ہے اور پانی اتنا موجود ہے کہ وضو کرلے تو پیاس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے دور تک پانی نہ ملے گا۔ تیسری یہ کہ پانی بالکل موجود ہی نہیں اس پانی موجود نہ ہونے کی صورت کے ساتھ دو صورتیں طہارت کی ضروری ہونے کی بیان فرمائیں ایک یہ کہ کوئی جائے ضرور سے فارغ ہو کر آیا اس کو وضو کی حاجت ہے دوسری یہ کہ عورت سے صحبت کی ہو تو اس کو غسل کی ضرورت ہے۔ فائدہ : تیمم کی صورت یہ ہے کہ پاک زمین پر دونوں ہاتھ مارے پھر سارے منہ پر اچھی طرح مل لیوے پھر دونوں ہاتھ زمین پر مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک مل لے مٹی طاہر ہے اور بعض چیزوں کے لئے مثل پانی کے مطہر بھی ہے مثلاً خف، تلوار، آئینہ وغیرہ اور جو نجاست زمین پر گر کر خاک ہوجاتی ہے وہ بھی پاک ہوجاتی ہے اور نیز ہاتھ اور چہرہ پر مٹی ملنے میں تذلل اور عجز بھی پورا ہے جو گناہوں سے معافی مانگنے کی اعلیٰ صورت ہے۔ سو جب مٹی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی نجاست کو زائل کرتی ہے تو اس لئے بوقت معذوری پانی کی قائم مقام کی گئی۔ اسکے سوا مقتضائے آسانی و سہولت جس پر حکم تیمم مبنی ہے یہ ہے کہ پانی کی قائم مقام ایسی چیز کی جائے جو پانی سے زیادہ سہل الوصول ہو۔ سو زمین کا ایسا ہونا ظاہر ہے کیونکہ وہ سب جگہ موجود ہے۔ معہٰذا خاک انسان کی اصل ہے اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرنے میں گناہوں اور خرابیوں سے بچاؤ ہے۔ کافر بھی آرزو کریں گے کہ کسی طرح خاک میں مل جائیں جیسا پہلی آیت میں مذکور ہوا۔ 5 یعنی اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے وقت تیمم کی اجازت دے دی اور مٹی کو پانی کے قائم مقام کردیا اس لئے کہ وہ سہولت اور معافی دینے والا ہے اور بندوں کی خطائیں بخشنے والا ہے اپنے بندوں کے نفع اور آسائش کو پسند فرماتا ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نشہ کی حالت میں جو کچھ کا کچھ پڑھا گیا تھا وہ بھی معاف کردیا گیا جس سے یہ خلجان نہ رہا کہ آئندہ کو تو ایسی حالت میں نماز نہ پڑھیں گے مگر جو پہلے غلطی ہوگئی شاید اس کی نسبت مواخذہ ہو۔
Ayahs 4:44–45

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب سے خرید کرتے ہیں گمراہی اور چاہتے ہیں کہ تم بھی بہک جاؤ راہ سے

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے حمایتی اور اللہ کافی ہے مددگار6

6 ان آیات میں یہود کے بعض قبائح اور انکے مکروفریب کا بیان ہے اور ان کی ضلالت اور کفر پر خود ان کو اور نیز دوسروں کو مطلع کرنا ہے تاکہ ان سے علیحدہ رہیں چناچہ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا) 4 ۔ النسآء :36) سے لیکر ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰی) 4 ۔ النسآء :43) تک یہود کے قبائح مذکور ہوچکے ہیں۔ بیچ میں ایک خاص مناسبت سے نشہ اور جنابت میں نماز سے ممانعت فرما کر پھر یہود کے قبائح کا بیان ہے۔ یہود کو کتاب سے کچھ حصہ ملا یعنی لفظ پڑھنے کو ملے اور عمل کرنا جو اصل مقصود تھا نہیں ملا اور گمراہی خرید کرتے ہیں یعنی پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے حالات اور اوصاف کو دنیا کی عزت اور رشوت کے واسطے چھپاتے ہیں اور جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی دین سے پھر کر گمراہ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ اے مسلمانو تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ تم ایسا ہرگز نہیں جانتے سو اللہ کے فرمانے پر اطمینان کرو اور ان سے بچو اور اللہ تعالیٰ تم کو نفع پہنچانے اور نقصان سے بچانے کے لئے کافی ہے اس لئے دشمنوں سے اس قسم کا اندیشہ مت کرو اور دین پر قائم رہو۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

بعضے لوگ یہودی پھیرتے ہیں بات کو اس کے ٹھکانے سے7 اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا8 اور کہتے ہیں کہ سن نہ سنایا جائیوف 9 اور کہتے ہیں راعنا1 موڑ کر اپنی زبان کو اور عیب لگانے کو دین میں2 اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانا اور سن اور ہم پر نظر کر تو بہتر ہوتا ان کے حق میں اور درست لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم3

7 یعنی یہود میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو تورات میں نازل فرمایا اس کو اپنے ٹھکانے سے پھیرتے اور بدلتے ہیں یعنی تحریف لفظی اور معنوی کرتے ہیں۔ 8 یعنی جب رسول اللہ ﷺ ان کو کوئی حکم سناتے تو یہود جواب میں کہتے ہم نے سن لیا مطلب یہ ہوا کہ قبول کرلیا لیکن آہستہ سے کہتے تھے کہ نہ مانا یعنی ہم نے فقط کان سے سنا دل سے نہیں مانا۔ 9 یعنی اور جب یہود حضرت ﷺ سے خطاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں سن نہ سنایا جائیو تو یعنی ایسے کلام بولتے جس کے دو معنے ہوں ایک معنی کے اعتبار سے دعاء یا تعظیم ہو تو دوسرے معنی کی رو سے بد دعاء اور تحقیر ہو سکے۔ چناچہ یہ کلام بظاہر دعائے خیر ہے۔ مطلب یہ کہ تو ہمیشہ غالب اور معزز رہے کوئی تجھ کو بری اور خلاف بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت یہ رکھے کہ تو بہرا ہو جائیو۔ 1 یعنی حضرت کی خدمت میں آتے تو یہود راعِنَا کہتے اس کے بھی دو معنے ہیں ایک اچھے ایک برے جن کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا۔ اچھے معنی تو یہ کہ ہماری رعایت کرو اور شفقت کی نظر کرو کہ تمہارا مطلب سمجھ لیں اور جو پوچھنا ہو پوچھ سکیں اور برے معنی یہ کہ یہود کی زبان میں یہ کلمہء تحقیر کا ہے یا زبان کو دبا کر راعِیْنَا کہتے یعنی تو ہمارا چرواہا ہے اور یہ ان کی محض شرارت تھی کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر پیغمبروں نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔2 یعنی یہود ان کلمات کو اپنے کلام میں رلا ملا کر ایسے انداز سے کہتے کہ سننے والے اچھے ہی معنوں پر حمل کرتے اور برے معنوں کی طرف دھیان بھی نہ جاتا اور دل میں برے معنی مراد لیتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمار فریب ضرور معلوم کرلیتا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب کو خوب کھول دیا۔ 3 حق تعالیٰ یہود کے تین قول مذموم بیان فرما کر اب بطور ملامت و ہدایت ارشاد کرتے ہیں کہ اگر یہود عَصَیْنَا کی جگہ اَطَعْنَا کہتے اور بجائے اِسْمَع غَیْرَ مُسْمَعٍ کے صرف اِسْمَعْ کہتے اور راعِنَا کے عوض اُنْظُرْنَا کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور یہ بات درست اور سیدھی ہوتی اور اس بیہودگی اور شرارت کی گنجائش نہ ہوتی جو کلمات سابقہ سے یہود برے معنی اپنے دل میں مراد لیا کرتے تھے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کفر کے باعث اپنی رحمت اور ہدایت سے دور کردیا اس لئے وہ مفید اور سیدھی باتوں کو نہیں سمجھتے اور ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے سے آدمی کہ وہ ان خباثتوں اور شرارتوں سے مجتنب رہے اور اس وجہ سے اللہ کی لعنت سے محفوظ رہے جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے پہلے اس سے کہ ہم مٹا ڈالیں بہت سے چہروں کو پھر الٹ دیں انکو پیٹھ کی طرف یا لعنت کریں ان پر جیسے ہم نے لعنت کی ہفتہ کے دن والوں پر اور اللہ کا حکم تو ہو کر ہی رہتا ہے4

4 آیات سابقہ میں یہود کی ضلالت اور مختلف قبائح کا ذکر فرما کر اب ان کو بطور خطاب ایمان اور تصدیق قرآن کا حکم کیا جاتا ہے اور اسکی مخالفت سے ڈرایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب ایمان لاؤ قرآن پر جس کے احکام مصدق اور موافق ہیں تورات کے ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ مٹا ڈالیں ہم تمہارے چہروں کے نشانات یعنی آنکھ ناک وغیرہ مطلب یہ کہ تمہاری صورتیں بدل دی جائیں پھر الٹ دیں تمہارے چہروں کو پیٹھ کی طرف یعنی چہرہ کو مطموس اور ہموار کر کے پیچھے کی طرف اور گدی کو آگے کی طرف کردیں یا ہفتہ کے دن والوں کی طرح تم کو مسخ کر کے جانور بنادیں۔ اصحاب سبت کا قصہ سورة اعراف میں مذکور ہے۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا اس نے بڑا طوفان باندھا5

5 یعنی مشرک کبھی نہیں بخشا جاتا بلکہ اس کی سزا دائمی ہے البتہ شرک سے نیچے جو گناہ ہیں صغیرہ ہوں یا کبیرہ وہ سب قابل مغفرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کی مغفرت چاہے اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ بخش دیتا ہے کچھ عذاب دیکر یا بلا عذاب دیے۔ اشارہ اسکی طرف ہے کہ یہود چونکہ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں وہ مغفرت کی توقع نہ رکھیں۔
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں بلکہ اللہ ہی پاکیزہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا تاگے برابر6

6 یعنی یہود باوجود اس قدر خرابیوں کے پھر بھی اپنے آپ کو پاک صاف اور مقدس کہتے ہیں حتی کہ اپنے آپ کو ابناء اللہ اور احباء اللہ بتلاتے ہیں جو بالکل لغو بات ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کو پاکیزہ اور مقدس کرتا ہے۔ یہود کے کہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا اور ان جھوٹی شیخی کرنے والوں پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہ ہوگا۔ یعنی یہ لوگ اپنے عذاب بےنہایت میں گرفتار ہونگے ان پر ناحق عذاب ہرگز نہ ہوگا۔ فائدہ : یہودی جو گوسالہ کو پوجتے تھے اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے جب آیت سابقہ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ ) 4 ۔ النسآء :48) کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ ہم تو خاص بندے اور پیغمبر زادے ہیں اور پیغمبری ہماری میراث ہے خدا تعالیٰ کو ان کی یہ شیخی پسند نہ آئی اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 4:50

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھ کیسا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور کافی ہے یہی گناہ صریح7

7 یعنی کیسی تعجب کی بات ہے کہ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور باوجود ارتکاب کفر اور شرک کے اپنے آپ کو اللہ کا دوست کہتے ہیں اور اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کے مدعی ہیں اور ایسی سخت تہمت صریح گنہگار ہونے کے لئے بالکل کافی ہے۔
Ayah 4:51

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا جو مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو اور کہتے ہیں کافروں کو کہ یہ لوگ زیادہ راہ راست پر ہیں مسلمانوں سے1

1 اس آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا اظہار ہے۔ قصہ یہ ہے کہ یہودیوں کو حضرت محمد ﷺ سے عداوت بڑھی تو مشرکین مکہ سے ملے اور ان سے متفق ہوئے اور ان کی خاطر داری کی ضرورت سے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے اور اس کی وجہ صرف حسد تھا اس پر کہ نبوت اور دین کی ریاست ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو الزام دیتا ہے۔ ان آیات میں اسی کا مذکور ہے۔
Ayah 4:52

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ نے اور جس پر لعنت کرے اللہ نہ پاویگا تو اس کا کوئی مددگار2

2 یعنی یہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب ہو کر اغراض نفسانی کی وجہ سے بتوں کی تعظیم کی اور طریقہء کفر کو طریقہء اسلام سے افضل بتلایا ان پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر لعنت کرے اللہ اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ سو اب انہوں نے اپنی اعانت کی طمع میں جو مشرکین مکہ سے موافقت کی بالکل لغو ہے۔ چناچہ دنیا میں یہود نے از حد ذلتیں اٹھائیں اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہونگے۔
Ayah 4:53

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابر3

3 یہود اپنے خیال میں جانتے تھے کہ پیغمبری اور دین کی سرداری ہماری میراث ہے اور ہمیں کو لائق ہے۔ اس لئے عرب کے پیغمبر کی متابعت سے عار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آخر کو حکومت اور بادشاہت ہمیں کو پہنچ رہے گی برائے چندے اوروں کو بھی مل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کیا یہود کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں یعنی ہرگز نہیں۔ اگر یہ حاکم ہوجائیں تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں۔ یعنی ایسے بخیل ہیں کہ بادشاہت میں فقیر کو تل برابر بھی نہ دیں۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا حسد کرتے ہیں لوگوں کا اس پر جو دیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے سو ہم نے تو دی ہے ابراہیم کے خاندان میں کتاب اور علم اور ان کو دی ہے ہم نے بڑی سلطنت4

4 یعنی کیا یہود حضرت محمد ﷺ اور ان کے اصحاب پر اللہ کے فضل و انعام کو دیکھ کر حسد میں مرے جاتے ہیں۔ سو یہ تو بالکل ان کی بیہودگی ہے کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم کے گھرانے میں کتاب اور علم اور سلطنت عظیم عنایت کی ہے۔ پھر یہود آپ کی نبوت اور عزت پر کیسے حسد اور انکار کرتے ہیں اب بھی تو ابراہیم ہی کے گھر میں ہے۔
Ayah 4:55

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے ہٹا رہا اور کافی ہے دوزخ کی بھڑکتی آگ5

5 یعنی حضرت ابراہیم کے گھرانے میں خدائے تعالیٰ نے ہمیشہ سے بزرگی دی ہے اور اب بھی اسی کے گھرانے میں ہے۔ سو جو کوئی بلاوجہ محض حسد سے اس کو نہ مانے اس کے جلانے کے لئے دوزخ کی بھڑکتی آگ کافی ہے۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بیشک جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے ان کو ہم ڈالیں گے آگ میں6 جس وقت جل جائے گی کھال ان کی تو ہم بدل دیویں گے ان کو اور کھال تاکہ چکھتے رہیں عذاب7 بیشک اللہ ہے زبردست حکمت والاف 8

6 پہلی آیت میں مومن و کافر کا ذکر تھا اب مطلق مومن اور کافر کی جزاو سزا بطور قاعدہ کلیہ کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ ایمان کی طرف پوری ترغیب اور کفر سے پوری ترہیب ہوجائے۔ 7 یعنی کافروں کے عذاب میں نقصان اور کمی نہ آنے کی غرض سے ان کی کھال کے جل جانے کے وقت دوسری کھال بدل دی جائے گی مطلب یہ ہوا کہ کافر ہمیشہ عذاب میں یکساں مبتلا رہیں گے۔ 8 یعنی اللہ تعالیٰ بیشک زبردست اور غالب ہے کافروں کو ایسی سزا دینے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں اور حکمت والا ہے کافروں کو یہ سزا دینی عین حکمت کے موافق ہے۔
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے نیک البتہ ان کو ہم داخل کرینگے باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں ان میں ہمیشہ ان کیلئے وہاں عورتیں ہیں ستھری اور ان کو ہم داخل کرینگے گھنی چھاؤں میں1

1 یعنی مومن ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ان کو عورتیں ایسی ملیں گی جو حیض اور دیگر آلائشوں سے پاک ہونگی اور ان کو گہری اور گنجان چھاؤں میں داخل کریں گے جو آفتاب کی دھوپ سے بالکل محفوظ ہوگی۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے2 بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو بیشک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والاف 3

2 یہود میں عادت تھی کہ امانت میں خیانت کرتے اور فصل خصومات میں رشوت وغیرہ کی وجہ سے کسی کی خاطر اور رعایت کر کے خلاف حق حکم دیتے اس لئے مسلمانوں کو ان دونوں باتوں سے اس آیت میں روکا گیا۔ منقول ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا چاہا تو عثمان بن طلحہ کلید بردار خانہ کعبہ نے کنجی دینے سے انکار کیا تو حضرت علی نے اس سے چھین کر دروازہ کھول دیا۔ آپ فارغ ہو کر جب باہر تشریف لائے تو حضرت عباس نے آپ سے درخواست کی کہ یہ کنجی مجھ کو مل جائے اس پر آیت نازل ہوئی اور کنجی عثمان بن طلحہ ہی کے حوالہ کی گئی۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ جو تم کو ادائے امانت اور عدل کے موافق حکم دینے کا حکم فرماتا ہے تمہارے لئے سراسر مفید ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری کھلی اور چھپی اور موجودہ اور آئندہ باتوں کو خوب جانتا ہے تو اب اگر تم کو کہیں ادائے امانت یا عدل مفید معلوم نہ ہو تو حکم الٰہی کے مقابلہ میں اس کا اعتبار نہ ہوگا۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول ﷺ کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں4 پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول ﷺ کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر5 یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام6

4 پہلی آیت میں حکام کو عدل کا حکم فرما کر اب اوروں کو حکام کی متابعت کا حکم دیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی اطاعت جب ہی واجب ہوگی جب وہ حق کی اطاعت کریں گے۔ فائدہ : حاکم اسلام بادشاہ یا اس کا صوبہ دار یا قاضی یا سردار لشکر اور جو کوئی کسی کام پر مقرر ہو ان کے حکم کا ماننا ضروری ہے جب تک کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کے خلاف حکم نہ دیں اگر خدا اور رسول ﷺ کے حکم کے صریح خلاف کرے تو اس حکم کو ہرگز نہ مانے۔ 5 یعنی اور اگر تم میں اور اولوالامر میں باہم اختلاف ہوجائے کہ حاکم کا یہ حکم اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے موافق ہے یا مخالف تو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کر کے طے کرلیا کرو کہ وہ حکم فی الحقیقت اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے موافق ہے یا مخالف اور جو بات محقق ہوجائے اسی کو بالاتفاق مسلم اور معمول بہ سمجھنا چاہیے اور اختلاف کو دور کردینا چاہیے اگر تم کو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے کیونکہ جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہوگا وہ ضرور اختلاف کی صورت میں اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی طرف رجوع کرے گا اور ان کے حکم کی مخالفت سے بیحد ڈرے گا۔ جس سے معلوم ہوگیا کہ جو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم سے بھاگے گا وہ مسلمان نہیں اس لئے اگر دو مسلمان آپس میں جھگڑیں ایک نے کہا چلو شرع کی طرف رجوع کریں دوسرے نے کہا میں شرع کو نہیں سمجھتا یا مجھ کو شرع سے کام نہیں تو اس کو بیشک کافر کہیں گے۔ 6 یعنی اپنے متنازعات اور اختلافات کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا اور اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرنی مفید ہے آپس میں جھگڑنے یا اپنی رائے کے موافق فیصلہ کرنے سے اس رجوع کا انجام بہتر ہے۔
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اترا تیری طرف اور جو اترا تجھ سے پہلے چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف اور حکم ہوچکا ہے ان کو کہ اس کو نہ مانیں اور چاہتا ہے شیطان کہ ان کو بہکا کر دور جا ڈالے7

7 یہود فصل خصومات میں رعایت و رشوت کے عادی تھے اس لئے جو لوگ جھوٹے اور منافق اور خائن ہوتے وہ اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ خاطر کریں گے اور آپ کے پاس ایسے لوگ اپنا معاملہ لانا پسند نہ کرتے کہ آپ حق کی رعایت کریں گے اور کسی کی اصلاً رعایت نہ کریں گے۔ سو مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا کسی امر میں دونوں جھگڑ پڑے۔ یہودی جو سچا تھا اس نے کہا کہ چل محمد ﷺ کے پاس اور منافق جو جھوٹا تھا اس نے کہا کہ چل کعب بن اشرف، کے پاس جو یہودیوں میں عالم اور سردار تھا۔ آخر وہ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں جھگڑا لیکر آئے تو آپ ﷺ نے یہودی کا حق ثابت فرمایا۔ منافق جو باہر نکلا تو کہنے لگا کہ اچھا حضرت عمر ؓ کے پاس چلو جو وہ فیصلہ کردیں وہی منظور اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا۔ غالباً یہ سمجھا ہوگا کہ میں مدعی اسلام ہوں اس لئے یہودی کے مقابلہ میں میری رعایت کریں گے اور حضرت عمر ؓ آپ کے حکم سے مدینہ میں جھگڑے فیصل کیا کرتے تھے چناچہ وہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے جب حضرت عمر ؓ نے یہ جھگڑا سنا اور یہودی کے بیان سے ان کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ قضیہ آپ کی خدمت میں جا چکا ہے اور آپ اس معاملہ میں یہودی کو سچا اور غالب کرچکے ہیں تو حضرت عمر ؓ نے اس منافق کو قتل کردیا اور فرمایا کہ جو کوئی ایسے قاضی کے فیصلہ کو نہ مانے اسکا فیصلہ یہی ہے۔ اس کے وارث حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں آئے اور حضرت عمر ؓ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمر ؓ کے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شایدوہ اس معاملہ میں باہم صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمد ﷺ کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی اور حضرت عمر ؓ کا لقب فاروق فرمایا۔
Ayah 4:61

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان کو کہے کہ آؤ اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے اتارا اور رسول ﷺ کی طرف تو دیکھے تو منافقوں کو کہ ہٹتے ہیں تجھ سے رک کر1

1 یعنی جب کسی جھگڑے میں منافقوں سے کہا جائے کہ اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے اس کی طرف آؤ اور اس کے رسول ﷺ کے روبرو اپنے جھگڑے کو لاؤ تو ظاہر میں چونکہ مدعی اسلام ہیں اس لئے صاف طور پر تو انکار نہیں کرسکتے مگر آپ کے پاس آنے سے اور حکم الٰہی پر چلنے سے بچتے ہیں اور رکتے ہیں کہ کسی ترکیب سے جان بچ جائے اور رسول ﷺ کو چھوڑ کر جہاں ہمارا جی چاہے اپنا جھگڑا لے جائیں۔
Ayah 4:62

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر کیا ہو کہ جب ان کو پہنچے مصیبت اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے سے پھر آویں تیرے پاس قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی ہم کو غرض نہ تھی مگر بھلائی اور ملاپ2

3 یعنی یہ تو سب کچھ ہوا مگر یہ منافق لوگ اس وقت کیا کریں گے جس وقت پہنچنے لگے ان کو عذاب ان کے کرتوت کا یعنی فصل خصومات میں آپ کے پاس آنے سے جو رکتے اور بچتے ہیں جب اس کا عذاب ان پر آنے لگے تو پھر یہ منافق اس وقت کیا کرسکتے ہیں اس کے سواء کہ آئیں رسول ﷺ کی خدمت میں قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہم تو حضرت عمر ؓ کی خدمت میں صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شاید وہ باہم صلح اور ملاپ کرادیں۔ رسول ﷺ کے ارشاد سے اعراض کرنا اور جان بچانا ہرگز ہم کو منظور نہ تھا۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو ان کے دل میں ہے سو تو ان سے تغافل کر اور ان کو نصیحت کر اور ان سے کہہ ان کے حق میں بات کام کی3

3 اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان کی قسم اور ان کی معذرت سابقہ کی تکذیب فرمائی کہ منافقین جو کچھ زبانی باتیں بنائیں بنانے دو اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کی باتیں خوب معلوم ہیں یعنی انکے نفاق اور ان کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے۔ سو آپ بھی علم خداوندی پر بس کر کے منافقوں کی بات سے تغافل کیجئے اور ان کی بات کی پروا نہ کیجئے مگر ان کو نصیحت کرنے اور کام کی باتیں بتانے میں ہرگز کوتاہی نہ فرمائیں اور ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوجیے۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی رسول ﷺ نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے اور اگر وہ لوگ جس وقت انہوں نے اپنا برا کیا تھا آتے تیرے پاس پھر اللہ سے معافی چاہتے اور رسول ﷺ بھی ان کو بخشواتا تو البتہ اللہ کو پاتے معاف کرنے والا مہربان4

4 یعنی اللہ تعالیٰ جس رسول ﷺ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجتا ہے سو اسی غرض کیلئے بھیجتا ہے کہ اللہ کے حکم کے موافق بندے ان کے کہنے کو مانیں تو اب ضرور تھا کہ یہ لوگ رسول ﷺ کے ارشاد کو بلاتامل پہلے ہی سے دل و جان سے تسلیم کرتے اور اگر گناہ اور برا کرنے کے بعد بھی متنبہ ہوجاتے اور اللہ سے معافی چاہتے اور رسول ﷺ بھی ان کی معافی کی دعا کرتا تو پھر بھی حق تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ اول تو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے جو بعینہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا ہٹے اور بچے۔ پھر جب اس کا وبال ان پر پڑا تو اب بھی متنبہ اور تائب نہ ہوئے بلکہ لگے جھوٹی قسمیں کھانے اور تاویلیں گھڑنے پھر ایسوں کی مغفرت ہو تو کیونکر ہو۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہو نگے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے5

5 یعنی منافق لوگ کس بیہودہ خیال میں ہیں اور کیسے بیہودہ حیلوں سے کام نکالنا چاہتے ہیں ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے۔ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ تم کو اے رسول اپنے تمام چھوٹے بڑے مالی جانی نزاعات میں منصف اور حاکم نہ جان لیں گے کہ تمہارے فیصلہ اور حکم سے ان کے جی میں کچھ تنگی اور ناخوشی نہ آنے پائے اور تمہارے ہر ایک حکم کو خوشی کے ساتھ دل سے قبول نہ کرلیں گے اس وقت تک ہرگز ان کو ایمان نصیب نہیں ہوسکتا اب جو کرنا ہو سوچ سمجھ کر کریں۔