Ayah 4:284 یعنی انسان کو اللہ نے ضعیف بنایا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ یہ اپنی شہوات و مرغوبات سے کہاں تک صبر کرسکتا ہے تو اس لئے ہر حکم میں تخفیف کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے یہ نہیں ہوا کہ انسان کے حق میں جو مفید دیکھا وہ اس کے ذمہ لگا دیا سہل ہو یا دشوار مثلاً عورتوں اور شہوت سے صبر کرنا آدمی کو بہت دشوار تھا اس لئے اس کی خواہش پورا کرنے کے لئے طریقے جائز اللہ نے بتلا دیے کہ اس سے اپنا مطلب حاصل کرسکے یہ نہیں کہ قضائے شہوت سے بالکل روک دیا گیا ہو۔ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت سے شریعت میں تنگی نہیں فرمائی کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کی طرف دوڑے۔ خلاصہ ان آیتوں کا یہ نکلا کہ نفس کو شہوات سے بچانا اور ان تمام قیدوں کا پابند ہونا جو عورتوں کے بارے میں مذکور ہوئیں ہرگز دشوار امر نہیں اور ان کی پابندی نہایت ضروری اور سراسر مفید ہے۔
Ayah 4:295 مطلب یہ ہے کہ کسی کو کسی کا مال ناحق کھا لینا مثلاً جھوٹ بول کر یا دغابازی سے یا چوری سے ہرگز درست نہیں ہاں اگر سوداگری یعنی بیع و شراء کرو تم باہمی رضامندی سے تو اس میں کچھ حرج نہیں اس مال کو کھالو۔ جس کا خلاصہ یہی نکلا کہ جائز طریقہ سے لینے کی ممانعت نہیں جو مال کو ترک کرنا تم پر دشوار ہو۔
6 یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے کہ بلاوجہ کسی کے مال یا جان میں تصرف کرنے کو منع فرما دیا اور تم پر ایسے احکام بھیجے جن میں سراسر تمہارے لئے بہبودی اور خیریت ہے۔
Ayah 4:307 یعنی اور جو کوئی ظلم اور زیادتی سے باز نہ آئے بلکہ ناحق اوروں کا مال کھائے یا ظلماً کسی کو قتل کر ڈالے تو اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کو آگ میں ڈال دینا خدا تعالیٰ کو دشوار نہیں بالکل سہل اور آسان ہے تو اب کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو مسلمان ہیں دوزخ میں کیسے جاسکتے ہیں اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے اس کو عدل و انصاف سے کونسی چیز روک سکتی ہے۔
Ayah 4:318 پہلی آیت میں مذکور تھا کہ جو کوئی ظلماً کسی کے مال یا جان کو نقصان پہنچائے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس سے معلوم ہوگیا تھا کہ حق تعالیٰ کی نافرمانی بندہ کے لئے موجب عذاب ہے۔ اب اس آیت میں گناہوں سے بچنے کی ترغیب اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر وعدہ مغفرت اور جنت کی توقع اور طمع دلائی جاتی ہے تاکہ اس کو معلوم کر کے ہر ایک آدمی گناہوں سے احتراز کرنے میں کوشش کرے اور معلوم ہوجائے کہ جو کبیرہ گناہ مثلاً کسی کا مال غصب یا سرقہ کرنے یا کسی کو ظلماً قتل کرنے سے بچ گیا جن کا ذکر ابھی گزرا تو اس کے وہ تمام صغیرہ گناہ بخشے جائیں گے جن کا مرتکب بغرض تحصیل و تکمیل سرقہ اور قتل ہوا تھا۔ اس آیت میں چند باتیں بحث طلب ہیں مگر اصل سب کی یہی ہے کہ آیت کا اصلی اور عمدہ مطلب معلوم ہوجائے جس سے تمام امور کا جان لینا سہل ہوجائے۔ سو معتزلہ اور ان کے موافقین نے سرسری طور پر اس آیت کا یہ مضمون سمجھ لیا کہ اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے یعنی کبیرہ گناہ ایک بھی نہ کرو گے تو پھر محض صغیرہ گو کتنے ہی ہوں ضرور معاف کردیے جائیں گے اور اگر صغائر کے ساتھ کبیرہ کیف ما اتفق ایک یا دو بھی شامل ہوگئے تو اب معافی ممکن نہیں بلکہ سب کی سزا ضروری ہوگئی اور اہل سنت فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کو معافی اور مواخذہ کا اختیار بدستور محقق ہے اول صورت میں معافی کا لازم ہونا اور دوسری صورت میں مواخذہ کو واجب سمجھنا معتزلہ کی بدفہمی اور کم فہمی ہے۔ اور اس آیت کے ظاہری الفاظ اور سرسری مضمون سے جو معتزلہ کا مذہب راجح نظر آتا ہے۔ اس کا جواب کسی نے تو یہ دیا کہ انتفاء شرط سے انتفاء مشروط کوئی ضروری امر ہرگز نہیں۔ کسی نے یہ کہا کہ لفظ کبائر سے جو آیت میں مذکور ہے اکبرالکبائر یعنی خاص شرک مراد لے لیا اور لفظ کبائر کی جمع لانے کی وجہ تعداد انواع شرک کو قرار دیا اور اسی کے ذیل میں چند اور باتیں بھی زیر بحث آگئیں مگر ہم ان سب امور کو نظر انداز کرکے صرف اس آیت کے محقق اور عمدہ معنی ایسے بیان کئے دیتے ہیں جو نصوص اور عقل کے مطابق اور قواعد اور ارشاد محققین کے موافق ہوں اور بشرط فہم و انصاف معنی مذکور کے بعد تمام ضمنی باتیں خود بخود حل ہوجائیں اور خلاف معتزلہ خود بخود مضمحل ہو کر معتزلہ کے عدم تدبر اور کم فہمی پر حجت قوی بن جائے اور اہل حق کو اس کے ابطال و تردید کی طرف توجہ فرمانے کی حاجت ہی نہ رہے۔ سو غور سے سنئیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ارشاد ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم جو کہ یہاں مذکور ہے اور ارشاد (اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ) 53 ۔ النجم :32) (میں موجود ہے ان ہر دو ارشاد کا مدعی ایک ہے صرف لفظوں میں تھوڑا سا فرق ہے تو اب جو مطلب ایک آیت کا ہوگا وہی دوسری آیت کا لیا جائے گا سو سورة نجم کی آیت کی نسبت حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ارشاد بخاری وغیرہ کتب حدیث میں صاف موجود ہے عن ابن عباس قال مارایت شیأ اشبہ باللمم مما قال ابوہریرہ عن النبی ﷺ ان اللّٰہ کتب علٰی ابن ادٰم حظہ من الزنٰی ادرک ذٰلک لا محالۃ فزنی العین النظر وزنی اللسان المنطق والنفس تمنی و تشتھی والفرج یصدق ذلک و یکذبہ انتہٰی۔ بشرط فہم اس حدیث سے ہر دو آیات سابقہ کے واقعی اور تحقیقی مطلب کا پورا سراغ لگ گیا اور حضرت ابن عباس حبرالامت اور لسان القرآن کے فرمانے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لمم اور علیٰ ہذا القیاس سیاٰت کے معنی اس سے بہتر نہیں ملے تو اب اس مطلب کے مقابلہ میں کوئی دوسری تقریر مضمون آیت کے متعلق کیونکر قابل ترجیح اور لائق پسند ہوسکتی ہے بالخصوص معتزلہ کی ہرزہ گوئی کیسے قابل التفات اور لائق جواب سمجھی جاسکتی ہے اور واقعی حدیث مذکور کا مطلب اور حضرت ابن عباس نے جو اس سے بات نکالی ایسی عجیب اور قابل قبول تحقیق ہے کہ جس سے مضمون ہر دو آیت خوب محقق ہوگیا اور معتزلہ کے خرافات کی گنجائش اور اہل حق کو اس کی تردید کی ضرورت بھی نہ رہی اور ذیلی اور ضمنی اقوال واختلافات بھی بہت خوبی سے طے ہوگئے چناچہ اہل فہم ادنیٰ تامل سے سمجھ سکتے ہیں بغرض توضیح ہم بھی حدیث مذکور کا خلاصہ عرض کئے دیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آیت سورة نجم میں جو لفظ لمم فرمایا گیا ہے جس کی کہ معافی کا وعدہ کیا ہے اس کی تعیین اور تحقیق کے متعلق حدیث ابوہریرہ سے بہتر ہم کو کوئی چیز معلوم نہیں ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا کہ اللہ نے ابن آدم کے ذمہ پر جو زنا کا حصہ مقرر فرما دیا ہے وہ ضرور اس کو مل کر رہے گا۔ سو فعل زنا میں آنکھ کا حصہ تو دیکھنا ہے اور زبان کا حصہ یہ ہے کہ اس سے وہ باتیں کی جائیں جو فعل زنا کے لئے مقدمات اور اسباب ہوں اور نفس کا حصہ یہ ہے کہ زنا کی تمنا اور اس کی خواہش کرے لیکن فعل زنا کا تحقق اور اس کا بطلان دراصل فرج یعنی شرمگاہ پر موقوف ہے یعنی اگر فرج سے زنا کا صدور ہوگیا تو آنکھ زبان دل سب کا زانی ہونا محقق ہوگیا اور اگر باوجود تحصیل جملہ اسباب و ذرائع صرف فعل فرج کا تحقق نہ ہوا بلکہ زنا سے توبہ اور اجتناب نصیب ہوگیا تو اب تمام وسائل زنا جو کہ فی نفسہ مباح تھے فقط زنا کی تبعیت کے باعث گناہ قرار دیے گئے تھے وہ سب کے سب لائق مغفرت ہوگئے یعنی ان کا زنا ہونا باطل ہوگیا اور گویا ان کا قلب ماہیت ہو کر بجائے زنا عبادت بن گئی کیونکہ فی نفسہ تو وہ افعال نہ معصیت تھے نہ عبادت بلکہ مباح تھے صرف اس وجہ سے کہ وہ زنا کے لئے وسیلہ بنتے تھے معصیت میں داخل ہوگئے تھے جب زنا کے لئے وسیلہ نہ رہے بلکہ زنا ہی بوجہ اجتناب معدوم ہوچکا تو اب ان وسائل کا زنا کے ذیل میں شمار ہونا اور ان کو معصیت قرار دینا انصاف کے صریح مخالف ہے مثلاً ایک شخص مسجد میں پہنچا چوری کے خیال سے مگر وہاں جا کر عین موقع پر تنبہ پیش آیا اور چوری سے توبہ کی اور رات بھر اللہ کے واسطے نماز پڑھتا رہا تو ظاہر ہے کہ جو رفتار سرقہ کا ذریعہ نظر آتا تھا وہ اب توبہ اور نماز کا ذریعہ ہوگیا تو اس حدیث ابوہریرہ کو سن کر عبد اللہ بن عباس ؓ سمجھ گئے کہ لمم وہ باتیں ہیں جو دراصل گناہ نہیں مگر گناہ کا سبب ہو کر گناہ بن جاتی ہیں۔ تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بڑے گناہ اور کھلے گناہ سے تو بچتے ہیں ہاں صدور لمم کی نوبت آجاتی ہے مگر بڑے اور اصلی گناہ کے صدور سے پہلے ہی وہ اپنے قصور سے تائب اور مجتنب ہوجاتے ہیں تو اب ابن عباس ؓ نے جیسے حدیث ابوہریرہ سے آیت سورة نجم کا مطلب سمجھ لیا ہم کو چاہیے کہ وہی معنی حسب ارشاد ابن عباس ؓ ہم آیت سورة نساء کے بےتکلف سمجھ لیں۔ جس کے بعد بحمد اللہ نہ ہم کو اس کی ضرورت ہوگی کہ اس آیت کی توضیح میں گناہ صغیرہ اور کبیرہ کی مختلف تفسیریں نقل کریں اور نہ معتزلہ کے استدلال کے جواب کا فکر ہوگا اور تکفیر سیآت کی وجہ اور دخول جنت کا سبب بھی بسہولت مطابق قواعد معلوم ہوجائے گا اور اجتناب کے معنی بھی ظاہر ہوجائیں گے اور چھوٹی چھوٹی باتیں انشاء اللہ بشرط تدبر طے ہوجائیں گی خلاصہ ہر دو آیت مذکور کا حسب ارشاد حدیث وبیان ابن عباس ؓ یہ ہوا کہ جو لوگ ان گناہوں سے رکیں گے اور ان کے ارتکاب سے اپنے نفس کو ہٹاتے رہیں گے جو گناہ کہ گناہوں کے سلسلہ میں مقصود اور بڑے سمجھے جاتے ہیں تو اس اجتناب اور رک جانے کی وجہ سے ان کے وہ برے کام جو انہوں نے کسی بڑے گناہ کے حصول کی طمع میں کئے ہیں معاف کردیے جائیں گے اور حسب ارشاد (وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى 40ۙ فَاِنَّ الْجَنَّةَ ھِيَ الْمَاْوٰى 41ۭ ) 79 ۔ النازعات :40) (وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ سلسلہ زنا کے صغائر کسی دوسرے سلسلہ کے بڑے گناہ مثلاً شراب خوری نہ کرنے سے فروگذاشت ہوجائیں گے یا شراب خواری کی وجہ سے ان کا مواخذہ لازم اور واجب ہوجائے گا۔ واللہ اعلم
Ayah 4:329 یعنی حق تعالیٰ جو کسی کو کسی پر کسی امر میں شرافت و فضلیت اور اختصاص و امتیاز عنایت فرمائے تو تم اس کی ہوس اور حرص مت کرو کیونکہ یہ بھی گویا ایسا ہی ہے کہ کسی کے خاص مال اور جان میں بلاوجہ دست اندازی کی جائے جس کی حرمت ابھی گزر چکی اور نیز اس سے باہم تحاسد و تباغض پیدا ہوتا ہے اور حکمت الٰہی کی مخالفت بھی لازم آتی ہے بعض عورتوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا سبب ہے کہ ہر جگہ حق تعالیٰ مردوں کو خطاب فرماتا ہے اور ان کو حکم کرتا ہے عورتوں کا ذکر نہیں کیا جاتا اور میراث میں مرد کو دوہرا حصہ دیا جاتا ہے عورت سے۔ اس آیت میں ان سب کا جواب ہوگیا۔
1 یعنی مردوں اور عورتوں کے لئے حصہ مقرر ہے جیسا کچھ وہ کام کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ پورا ملتا ہے اس میں ہرگز کمی نہیں کی جاتی جو کسی کو شکایت کا موقع ملے ہاں یہ بات دوسری ہے کہ وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق کسی کو خاص بڑائی اور فضیلت عنایت کرے اس کی حرص اور شکایت کرنی بیجا ہوس ہے۔ البتہ اپنے عمل کے معاوضہ سے اور زیادہ ثواب و انعام مانگو تو بہتر اور مناسب ہے اس میں کچھ خرابی نہیں تو اب جو فضل کا طالب ہو اس کو لازم ہے کہ عمل کے ذریعہ سے طلب کرے حسد اور تمنی سے فضل کا طالب نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو ہر ایک چیز کا پورا علم ہے، ہر ایک کے درجے اور اس کے استحقاق کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب شان اس سے معاملہ کرتا ہے تو اب جس کو فضیلت عطا کرتا ہے سراسر علم اور حکمت کے مطابق ہے۔ کوئی اپنی لاعلمی کی وجہ سے کیوں اس میں خلجان کرے۔
Ayah 4:332 یعنی مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے تم سے اے مسلمانو ! ہم نے وارث مقرر کردیے اس مال کے جس کو چھوڑ مریں والدین اور قرابت والے، کسی کو اس سے محروم نہیں رکھا اور جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ ہوا ہے ان کو ان کا حصہ ضرور پہنچا دو اللہ تعالیٰ کو تمام امور کا علم ہے کہ وارثوں کا کیا حصہ ہونا چاہیے اور جن سے معاہدہ ہوا ہے ان کو کیا ملنا چاہیے اور ہمارے ان احکام کو کون بجا لاتا ہے اور کون نافرمانی کرتا ہے۔ فائدہ : اکثر لوگ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ اکیلے اکیلے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کا سب کنبہ اور تمام اقربا کافر چلے آتے تھے تو اس وقت حضرت محمد ﷺ نے دو دو مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کردیا تھا وہی دونوں آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے جب ان کے اقربا بھی مسلمان ہوگئے تب یہ آیت اتری کے میراث تو اقربا اور رشتہ داروں ہی کا حق ہے اب رہ گئے وہ منہ بولے بھائی تو ان کے لئے میراث نہیں ہاں زندگی میں ان کے ساتھ سلوک ہے اور مرتے وقت کچھ وصیت کر دے تو مناسب ہے مگر میراث میں کوئی حصہ نہیں۔
Ayah 4:343 پہلی آیتوں میں مذکور تھا کہ مرد اور عورتوں کے حقوق کی پوری رعایت فرمائی گئی اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ہوتا۔ اب اس آیت میں مرد اور عورت کے درجہ کو بتلاتے ہیں کہ مرد کا درجہ بڑھا ہوا ہے عورت کے درجہ سے۔ اس لئے فرق مدارج کے باعث جو احکام میں فرق ہوگا وہ سراسر حکمت اور قابل رعایت ہوگا اس میں عورت اور مرد باقاعدہ حکمت ہرگز برابر نہیں ہوسکتے عورتوں کو اس کی خواہش کرنی بالکل بیجا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مردوں کو عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے حاکم اور نگران حال بنایا دو وجہ سے اول بڑی اور وھبی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصل سے بعضوں کو بعضوں پر یعنی مردوں کو عورتوں پر علم و عمل میں کہ جن دونوں پر تمام کمالات کا مدار ہے فضیلت اور بڑائی عطا فرمائی جس کی تشریح احادیث میں موجود ہے۔ دوسری وجہ جو کسبی ہے یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور مہر اور خوراک اور پوشاک جملہ ضروریات کا تکفل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی حکم برداری چاہئے۔
فائدہ : ایک صحابیہ نے اپنے خاوند کی نافرمانی بہت کی۔ آخر کو مرد نے ایک طمانچہ مارا۔ عورت نے اپنے باپ سے فریاد کی۔ عورت کے باپ نے حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں آکر احوال ظاہر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ خاوند سے بدلہ لیوے۔ اتنے میں یہ آیت اتری اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے کچھ چاہا اور اللہ تعالیٰ نے کچھ اور چاہا اور جو کچھ اللہ نے چاہا وہی خیر ہے۔
4 یعنی جو عورتیں نیک ہیں وہ مردوں کی تابعداری کرتی ہیں اور اللہ کے حکم کے موافق خاوند کے پیٹھ پیچھے اس کی رضا کے موافق اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔ اپنے نفس اور مال زوج میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتیں۔
5 یعنی اگر کوئی عورت خاوند سے بدخوئی کرے تو پہلا درجہ تو یہ ہے کہ مرد اس کو زبانی فہمایش کرے اور سمجھاوے اگر نہ مانے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ جدا سووے لیکن اسی گھر میں۔ اس پر بھی نہ مانے تو آخری درجہ یہ ہے کہ اس کو مارے بھی، پر نہ ایسا کہ جس کا نشان باقی رہے یا ہڈی ٹوٹے ہر تقصیر کا ایک درجہ ہے۔ اسی کے موافق تادیب اور تنبیہ کی اجازت ہے۔ جس کے تین درجے ترتیب وار آیت میں مذکور ہیں اور مارنا پیٹنا آخر کا درجہ ہے۔ سرسری قصور پر نہ مارے ہاں قصور زیادہ ہو پھر مارنے میں حرج نہیں جس قدر مناسب ہو مارے پیٹے مگر اس کا لحاظ رہے کہ ہڈی نہ ٹوٹے اور نہ ایسا زخم پہنچائے کہ جس کا نشان باقی رہ جائے۔
6 یعنی وہ عورتیں تمہاری نصیحت یا علیحدگی یا ضرب و تادیب کے بعد اگر بدخوئی اور نافرمانی سے باز آجائیں اور بظاہر مطیع ہوجائیں تو تم بھی بس کر جاؤ اور ان کے قصوروں کی کھود کرید مت کرو اور خواہ مخواہ ان کے ملزم بنانے میں خدا سے ڈرو۔ بیشک اللہ تم سب سے غالب اور سب پر حاکم ہے۔ نہ عورتوں کے معاملہ میں خواہ مخواہ کی بدگمانی سے کام لو اور نہ تھوڑے قصور پر اخیر کی سزا دینے لگو بلکہ ہر قصور کی ایک حد ہے اور مارنا اخیر کا درجہ ہے۔
Ayah 4:357 یعنی اے مسلمانو اگر تم کو اندیشہ ہو کہ خاوند اور عورت میں مخالفت اور ضد ہے وہ اپنے باہمی نزاع کو خود نہ سلجھا سکیں گے تو تم کو چاہیے کہ ایک منصف مرد کے اقارب میں سے اور ایک منصف عورت کے اقارب میں سے مقرر کر کے بغرض فیصلہ زوجین کے پاس بھیجو کیونکہ اقارب کو ان کے حالات بھی زیادہ معلوم ہونگے اور ان سے خیرخواہی کی بھی زیادہ امید ہے۔ یہ دونوں منصف احوال کی تحقیق کریں گے اور جس کا جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر باہم موافقت کرادیں گے۔
8 یعنی اگر دونوں منصف اصلاح بین الزوجین کا قصد کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی حسن نیت اور حسن سعی سے زوجین میں موافقت کرادے گا بیشک اللہ تعالیٰ کو تمام چیزوں کا علم اور اطلاع ہے۔ رفع نزاع اور حصول اتفاق کے اسباب اور کیفیات اس کو خوب معلوم ہیں اس لئے نزاع زوجین کے رفع ہونے میں کوئی دشواری نہ ہوگی انشاء اللہ۔
Ayah 4:361 یعنی عبادت اور نیک عمل خدا پر یقین کر کے اور ثواب آخرت کی توقع سے کرو فخر اور ریا سے مال دینا یہ بھی شرک ہے گو کم درجہ کا ہے۔
2 یتامی اور نساء اور ورثاء اور زوجین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن معاملہ کو بیان فرما کر اب یہ ارشاد ہے کہ ہر ایک کا حق درجہ بدرجہ تعلق کے موافق اور حاجت مندی کے مناسب ادا کرو۔ سب سے مقدم اللہ تعالیٰ کا حق ہے، پھر ماں باپ کا۔ پھر درجہ بدرجہ سب واسطہ داروں اور حاجت مندوں کا اور ہمسایہ قریب اور غیر قریب سے مراد قرب و بعد نسبی ہے یا قرب و بعد مکانی۔ صورت اولیٰ میں یہ مطلب ہوگا کہ ہمسایہ قرابتی کا حق ہمسایہ اجنبی سے زیادہ ہوگا اور صورت ثانیہ کا مدعا یہ ہوگا کہ پاس کے ہمسایہ کا حق ہمسایہ بعید یعنی جو کہ فاصلہ سے رہتا ہے اس سے زیادہ ہے اور پاس بیٹھنے والے میں رفیق سفر اور پیشہ کے اور کام کے شریک اور ایک آقا کے دو نوکر اور ایک استاد کے دو شاگرد اور دوست اور شاگرد اور مرید وغیرہ سب داخل ہیں اور مسافر میں مہمان غیر مہمان دونوں آگئے اور مال مملوک غلام اور لونڈی کے علاوہ دیگر حیوانات کو بھی شامل ہے۔ آخر میں فرما دیا کہ جس کے مزاج میں تکبر اور خود پسندی ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھے، اپنے مال پر مغرور اور عیش میں مشغول ہو وہ ان حقوق کو ادا نہیں کرتا سو اس سے احتراز رکھو اور جدا رہو۔
Ayah 4:373 یعنی اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا خود پسند اور تکبر کرنے والوں کو جو کہ بخل کرتے ہیں اور اپنے مال اور علم خدا داد کو لوگوں سے چھپاتے ہیں کسی کو نفع نہیں پہنچاتے اور قولاً اور عملاً دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دلاتے ہیں اور ان کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
فائدہ : یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے میں خود بھی بخل کرتے تھے اور مسلمانوں کو بھی روکنا چاہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف جو تورات میں مذکور تھے اور حقانیت اسلام کی آیات جو موجود تھیں ان کو چھپاتے تھے۔ سو مسلمانوں کو اس سے احتراز لازم ہے۔
Ayah 4:384 اور خود پسند متکبر وہ لوگ ہیں کہ اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کے لئے خرچ کرنے میں تو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں لیکن لوگوں کے دکھانے کو اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں اور ان کو نہ اللہ پر ایمان ہے نہ قیامت کے دن پر کہ حصول رضائے حق تعالیٰ اور تحصیل ثواب اخروی ان کو مقصود ہو۔ اور اللہ کے یہاں مقبول اور پسندیدہ یہ ہے کہ ان حقداروں کو دیا جائے جن کا اول ذکر ہوچکا ہے اور دینے میں اللہ کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی توقع ہو۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں جیسا بخل کرنا برا ہے ویسا ہی لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرنا برا ہے اور ایسا کام وہی کرتے ہیں جن کا رفیق شیطان ہے جو ان کو ایسے کام پر آمادہ کرتا ہے۔
Ayah 4:395 یعنی ان کافروں کا کچھ نقصان نہ تھا اگر وہ بجائے کفر اللہ اور دن قیامت پر ایمان لاتے اور بجائے بخل و ریا اللہ کی راہ میں مال کو خرچ کرتے بلکہ ان کا سراسر نفع تھا۔ ضرر تو اس میں ہے جس کو وہ اختیار کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا اور کس نیت سے کر رہے ہیں۔ اسی کا عوض ان کو ملے گا پہلی آیت میں یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فرمایا تھا۔ مال کو ان کی طرف منسوب کیا تھا۔ اب وانَفَقُوا مِمَّا رَزَقَھُم اللّٰہ فرمایا اس میں لطیف اشارہ ہے کہ وہ لوگ اپنا مال سمجھ کر جس طرح جی چاہتا ہے خرچ کرتے ہیں ان کو چاہیے تھا کہ اللہ کا مال سمجھ کر اس کے حکم کے موافق خرچ کرتے۔
Ayah 4:406 یعنی اللہ تعالیٰ کسی کا حق ایک ذرہ برابر بھی ضائع نہیں فرماتا سو ان کافروں پر جو عذاب ہوگا وہ عین انصاف اور ان کی بداعمالی کا بدلہ ہے۔ اور اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی تو اضعاف مضاعف اس کا اجر دے گا اور اپنی طرف سے ثواب عظیم بطور انعام اس کو عنایت کرے گا۔
Ayah 4:411 یعنی ان کافروں کا کیا براحال ہوگا جس وقت کہ بلائیں گے ہم ہر امت اور ہر قوم میں سے گواہ ان کے حالات بیان کرنے والا۔ اور ان کے واقعی معاملات ظاہر کرنے والا اس سے مراد ہر امت کا نبی اور ہر عہد کے صالح اور معتبر لوگ ہیں کہ وہ قیامت کو نافرمانوں کی نافرمانی اور فرمانبرداروں کی فرمانبرداری بیان کریں گے اور سب کے حالات کی گواہی دیں گے اور تم کو اے محمد ﷺ ! ان پر یعنی تمہاری امت پر مثل دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے احوال بتانے والا اور گواہ بنا کر لاویں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰـــؤلاء کا اشارہ انبیائے سابقین یا کفار مذکورہ بالا کی طرف ہو۔ اول صورت میں انبیاء مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ انبیائے سابقین کی صداقت پر گواہی دیں گے جب کہ ان کی امتیں ان کی تکذیب کریں گی اور دوسرے احتمال سے کفار مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ انبیائے سابقین جیسا اپنی اپنی امت کے کفار فساق کے کفر و فسق کی گواہی دیں گے تم بھی اے محمد ﷺ ان سب کی بداعمالی پر گواہ ہو گے جس سے ان کی خرابی اور برائی خوب محقق ہوگی۔
Ayah 4:422 یعنی جس دن ہر امت میں سے ان کے حالات بیان کرنے والا بلایا جائے گا اس دن کافر اور نافرمان لوگ اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین میں ملا دیے جاتے اور مٹی میں مل کر نیست و نابود ہوجاتے، آج پیدا نہ ہوتے اور ہم سے حساب و کتاب نہ ہوتا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا اخفا نہ کرسکیں گے اور ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا۔ شروع سورت سے مسلمانوں کو اقارب اور زوجین وغیرہ کے ادائے حقوق کی تاکید اور کسی کی حق تلفی کرنے اور جانی و مالی نقصان پہنچانے کی ممانعت اور معاصی کی خرابی پر مطلع کر کے اس کے بعد (وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا) 4 ۔ النسآء :36) فرما کر اقارب اور یتامی اور مساکین اور ہمسایوں وغیرہ کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا ارشاد کر کے اسی کے ذیل میں تکبر اور خود پسندی اور بخل و ریا سے ڈرایا تھا جو ایسے عیب ہیں کہ دوسروں کے حق ادا کرنے اور کسی کے ساتھ سلوک کرنے سے روکتے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ دینے والوں اور لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے والوں کی طبعیت میں خواہ مخواہ آنے بھی لگتے ہیں۔ اب ان تمام حکموں کے آخر میں پھر مسلمانوں کو صریح خطاب فرما کر خاص نماز کی بابت جو سب عبادتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے اور شریعت میں جس قدر اسکا اہتمام کیا ہے اور اسکے ارکان و شرائط و آداب وغیرہ کو مفصل بتلایا ہے کسی عبادت کا اس قدر اہتمام نہیں کیا۔ دو باتوں کی تاکید فرمائی جو امور متعلقہ صلوٰۃ میں سب سے اہم اور نفس پر شاق ہیں اور ارکان صلوٰۃ کی صحت اور خوبی کے لئے جسم اور جان ہیں۔ اول یہ کہ نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ تاوقتیکہ جو منہ سے نکلے اس کو سمجھ بھی لو اور جنابت میں بھی نماز سے دور رہو یہاں تک کہ غسل کر کے تمام بدن کو خوب پاک کرلو کیونکہ نماز میں دو امر مہتم بالشان ہیں ایک حضور اور خشوع، دوسرے طہارت اور نظافت اور جملہ امور متعلقہ صلوٰۃ میں یہی دو امر نفس پر شاق بھی ہیں اور نشہ خشوع اور حضور کے مخالف ہے تو جنابت طہارت اور نظافت کے منافی ہے بلکہ نشہ چونکہ مثل نوم اور غشی ناقض وضو ہے تو اس لئے طہارت کے بھی مخالف ہے تو مطلب یہ ہوا کہ نماز کو پورے اہتمام سے پڑھو اور جملہ امور ظاہری اور باطنی کا لحاظ رکھو گو نفس پر شاق ہو۔ باقی اس خاص موقع پر اس تاکید اور تقیید کے ارشاد فرمانے سے دو نفعے معلوم ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ احکام کثیرہ مذکورہ بالا جن میں حقوق اور معاملات باہمی اور عبادات جانی و مالی کا ذکر تھا ان سب کو بجالانے کے ساتھ بخل اور ریا اور خودپسندی اور بڑائی سے بھی مجتنب رہنا چونکہ نفس پر شاق ہے اور سننے والوں کو خلجان کا موقع ہے تو اس دشواری اور خلجان کا علاج بتانا منظور ہے یعنی نماز کو اس کی شرائط و آداب ظاہری و باطنی کے ساتھ ادا کرو گے تو جملہ اوامر ونواہی مذکورہ بالا کی تعمیل تم پر سہل ہوجائے گی کیونکہ نماز کی وجہ سے جملہ اوامرو عبادات میں سہولت اور رغبت اور تمام منہیات اور معاصی سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ دیگر آیات و احادیث میں مذکور ہے اور علمائے محقیقن نے تصریح فرمائی ہے۔ دوسرے یہ کہ احکام کثیرہ سابقہ کو سن کر بعید نہیں جو کاہل کم ہمت اپنے آپ کو مجبور خیال کر کے ہمت ہار دیں اور اس کاہلی کا اثر نماز میں بھی ظاہر ہونے لگے جس کی شرائط و آداب بہت کچھ ہیں اور جو ہر وقت موجود ہے اس لئے نماز کا اہتمام مناسب ہوا۔ الحاصل جو کوئی اقامت صلوٰۃ کا اہتمام اور التزام رکھے گا اس کو دیگر احکام جانی و مالی میں بھی آسانی اور سہولت ہوگی اور جو کوئی دیگر احکام میں کاہلی اور بےپروائی کرتا ہے اس سے اقامت صلوٰۃ میں بھی کوتاہی کرنا بعید نہیں، واللہ اعلم
Ayah 4:433 پہلی آیات میں مسلمانوں کو خطاب تھا واعبدوا اللّٰہ ولا تشرکوابہ شیأا الیٰ آخرہ الآیات اور اسی کے ذیل میں کفار کی مذمت بیان فرمائی تھی جو کہ امور مذکورہ سابقہ کی مخالفت کرتے تھے اب اس کے بعد پھر مسلمانوں کو دربارہ صلوٰۃ بعض خاص ہدایتیں کی جاتی ہیں اور ان ہدایات کو ماقبل کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ اس سے پہلے کفار اور اہل کتاب کی دو خرابیوں کا خاص طور پر ذکر تھا ایک اللہ پر ایمان نہ لانا دوسرے اپنا مال اللہ کے لئے خرچ نہ کرنا بلکہ لوگوں کے دکھانے کو اور اپنی عزت بڑھانے کو مال خرچ کرنا اور ظاہر ہے کہ پہلی خرابی کا منشاء تو علم کا نقصان اور جہل کا غلبہ ہے اور دوسری خرابی کی وجہ ہوائے نفس اور اپنی خواہش ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ گمراہی کے بڑے سبب دو ہیں، اول جہل جس میں حق و باطل کی تمیز ہی نہیں ہوتی، دوسرے خواہش و شہوت جس سے باوجود تمیزحق و باطل حق کے موافق عمل نہیں کرسکتا کیونکہ شہوات سے قوت ملکی ضعیف اور قوت بہیمیہ قوی ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ ملائکہ سے بعد اور شیاطین سے قرب ہے جو بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے تو اب اس مناسبت سے حق تعالیٰ شانہ، نے مسلمانوں کو نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے اول منع فرمایا کہ یہ جہل کی حالت ہے۔ اس کے بعد جنابت میں نماز پڑھنے سے روکا کہ یہ حالت ملائکہ سے بعد اور شیاطین سے قرب کی حالت ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ جہاں جنبی ہوتا ہے وہاں ملائکہ نہیں آتے۔ واللہ اعلم۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو جب تم کو کفر اور ریا کی خرابی معلوم ہوچکی اور ان کے اضداد کی خوبی واضح ہوچکی تو اس سے نشہ اور جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے کی خرابی کو بھی خوب سمجھ لو کہ ان کا منشا بھی وہی ہے جو کفر و ریا کا منشا تھا۔ اس لئے نشہ میں نماز کے نزدیک نہ جانا چاہیے تاوقتیکہ تم کو اس قدر ہوش نہ آجائے کہ جو منہ سے کہو اس کو سمجھ بھی سکو اور نہ حالت جنابت میں نماز کے نزدیک جانا چاہیے تاوقتیکہ غسل نہ کرلو مگر حالت سفر میں اس کا حکم آگے مذکور ہے۔ فائدہ : یہ حکم اس وقت تھا کہ نشہ اس وقت تک حرام نہ ہوا تھا لیکن نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کردی گئی تھی۔ روایات میں منقول ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی دعوت میں جمع تھی چونکہ شراب اس وقت تک حرام نہ ہوئی تھی اس لئے انہوں نے شراب پی تھی۔ مغرب کا وقت آگیا تو سب اسی حالت میں نماز کو کھڑے ہوگئے امام نے سورة قل یایھا الکفرون میں لا اعبد ما تعبدون کی جگہ اعبد ما تعبدون بیہوشی میں پڑھ دیا جس سے معنی بالکل خلاف اور غلط ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اب اگر نیند کے غلبہ یا بیماری کی وجہ سے کسی کا ایسا حال ہوجائے کہ اس کی خبر نہ رہے کہ میں نے کیا کہا تو ایسی حالت کی نماز بھی درست نہ ہوگی جب ہوش آئے تو اس کی قضا ضرور کرلے۔
4 یعنی حالت جنابت میں نماز کا نہ پڑھنا تاوقتیکہ غسل نہ کرلے یہ حکم جب ہے کہ کوئی عذر نہ ہو اور اگر کوئی ایسا عذر پیش آئے کہ پانی کے استعمال سے معذوری ہو اور طہارت کا حاصل کرنا ضروری ہو تو ایسے وقت میں زمین سے تیمم کرلینا کافی ہے۔ اب پانی کے استعمال سے معذوری کی تین صورتیں بتلائیں ایک بیماری کہ اس میں پانی ضرر کرتا ہے دوسری یہ کہ سفر درپیش ہے اور پانی اتنا موجود ہے کہ وضو کرلے تو پیاس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے دور تک پانی نہ ملے گا۔ تیسری یہ کہ پانی بالکل موجود ہی نہیں اس پانی موجود نہ ہونے کی صورت کے ساتھ دو صورتیں طہارت کی ضروری ہونے کی بیان فرمائیں ایک یہ کہ کوئی جائے ضرور سے فارغ ہو کر آیا اس کو وضو کی حاجت ہے دوسری یہ کہ عورت سے صحبت کی ہو تو اس کو غسل کی ضرورت ہے۔ فائدہ : تیمم کی صورت یہ ہے کہ پاک زمین پر دونوں ہاتھ مارے پھر سارے منہ پر اچھی طرح مل لیوے پھر دونوں ہاتھ زمین پر مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک مل لے مٹی طاہر ہے اور بعض چیزوں کے لئے مثل پانی کے مطہر بھی ہے مثلاً خف، تلوار، آئینہ وغیرہ اور جو نجاست زمین پر گر کر خاک ہوجاتی ہے وہ بھی پاک ہوجاتی ہے اور نیز ہاتھ اور چہرہ پر مٹی ملنے میں تذلل اور عجز بھی پورا ہے جو گناہوں سے معافی مانگنے کی اعلیٰ صورت ہے۔ سو جب مٹی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی نجاست کو زائل کرتی ہے تو اس لئے بوقت معذوری پانی کی قائم مقام کی گئی۔ اسکے سوا مقتضائے آسانی و سہولت جس پر حکم تیمم مبنی ہے یہ ہے کہ پانی کی قائم مقام ایسی چیز کی جائے جو پانی سے زیادہ سہل الوصول ہو۔ سو زمین کا ایسا ہونا ظاہر ہے کیونکہ وہ سب جگہ موجود ہے۔ معہٰذا خاک انسان کی اصل ہے اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرنے میں گناہوں اور خرابیوں سے بچاؤ ہے۔ کافر بھی آرزو کریں گے کہ کسی طرح خاک میں مل جائیں جیسا پہلی آیت میں مذکور ہوا۔
5 یعنی اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے وقت تیمم کی اجازت دے دی اور مٹی کو پانی کے قائم مقام کردیا اس لئے کہ وہ سہولت اور معافی دینے والا ہے اور بندوں کی خطائیں بخشنے والا ہے اپنے بندوں کے نفع اور آسائش کو پسند فرماتا ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نشہ کی حالت میں جو کچھ کا کچھ پڑھا گیا تھا وہ بھی معاف کردیا گیا جس سے یہ خلجان نہ رہا کہ آئندہ کو تو ایسی حالت میں نماز نہ پڑھیں گے مگر جو پہلے غلطی ہوگئی شاید اس کی نسبت مواخذہ ہو۔
Ayahs 4:44–456 ان آیات میں یہود کے بعض قبائح اور انکے مکروفریب کا بیان ہے اور ان کی ضلالت اور کفر پر خود ان کو اور نیز دوسروں کو مطلع کرنا ہے تاکہ ان سے علیحدہ رہیں چناچہ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا) 4 ۔ النسآء :36) سے لیکر ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰی) 4 ۔ النسآء :43) تک یہود کے قبائح مذکور ہوچکے ہیں۔ بیچ میں ایک خاص مناسبت سے نشہ اور جنابت میں نماز سے ممانعت فرما کر پھر یہود کے قبائح کا بیان ہے۔ یہود کو کتاب سے کچھ حصہ ملا یعنی لفظ پڑھنے کو ملے اور عمل کرنا جو اصل مقصود تھا نہیں ملا اور گمراہی خرید کرتے ہیں یعنی پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے حالات اور اوصاف کو دنیا کی عزت اور رشوت کے واسطے چھپاتے ہیں اور جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی دین سے پھر کر گمراہ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ اے مسلمانو تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ تم ایسا ہرگز نہیں جانتے سو اللہ کے فرمانے پر اطمینان کرو اور ان سے بچو اور اللہ تعالیٰ تم کو نفع پہنچانے اور نقصان سے بچانے کے لئے کافی ہے اس لئے دشمنوں سے اس قسم کا اندیشہ مت کرو اور دین پر قائم رہو۔
Ayah 4:467 یعنی یہود میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو تورات میں نازل فرمایا اس کو اپنے ٹھکانے سے پھیرتے اور بدلتے ہیں یعنی تحریف لفظی اور معنوی کرتے ہیں۔
8 یعنی جب رسول اللہ ﷺ ان کو کوئی حکم سناتے تو یہود جواب میں کہتے ہم نے سن لیا مطلب یہ ہوا کہ قبول کرلیا لیکن آہستہ سے کہتے تھے کہ نہ مانا یعنی ہم نے فقط کان سے سنا دل سے نہیں مانا۔
9 یعنی اور جب یہود حضرت ﷺ سے خطاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں سن نہ سنایا جائیو تو یعنی ایسے کلام بولتے جس کے دو معنے ہوں ایک معنی کے اعتبار سے دعاء یا تعظیم ہو تو دوسرے معنی کی رو سے بد دعاء اور تحقیر ہو سکے۔ چناچہ یہ کلام بظاہر دعائے خیر ہے۔ مطلب یہ کہ تو ہمیشہ غالب اور معزز رہے کوئی تجھ کو بری اور خلاف بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت یہ رکھے کہ تو بہرا ہو جائیو۔
1 یعنی حضرت کی خدمت میں آتے تو یہود راعِنَا کہتے اس کے بھی دو معنے ہیں ایک اچھے ایک برے جن کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا۔ اچھے معنی تو یہ کہ ہماری رعایت کرو اور شفقت کی نظر کرو کہ تمہارا مطلب سمجھ لیں اور جو پوچھنا ہو پوچھ سکیں اور برے معنی یہ کہ یہود کی زبان میں یہ کلمہء تحقیر کا ہے یا زبان کو دبا کر راعِیْنَا کہتے یعنی تو ہمارا چرواہا ہے اور یہ ان کی محض شرارت تھی کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر پیغمبروں نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔2 یعنی یہود ان کلمات کو اپنے کلام میں رلا ملا کر ایسے انداز سے کہتے کہ سننے والے اچھے ہی معنوں پر حمل کرتے اور برے معنوں کی طرف دھیان بھی نہ جاتا اور دل میں برے معنی مراد لیتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمار فریب ضرور معلوم کرلیتا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب کو خوب کھول دیا۔
3 حق تعالیٰ یہود کے تین قول مذموم بیان فرما کر اب بطور ملامت و ہدایت ارشاد کرتے ہیں کہ اگر یہود عَصَیْنَا کی جگہ اَطَعْنَا کہتے اور بجائے اِسْمَع غَیْرَ مُسْمَعٍ کے صرف اِسْمَعْ کہتے اور راعِنَا کے عوض اُنْظُرْنَا کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور یہ بات درست اور سیدھی ہوتی اور اس بیہودگی اور شرارت کی گنجائش نہ ہوتی جو کلمات سابقہ سے یہود برے معنی اپنے دل میں مراد لیا کرتے تھے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کفر کے باعث اپنی رحمت اور ہدایت سے دور کردیا اس لئے وہ مفید اور سیدھی باتوں کو نہیں سمجھتے اور ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے سے آدمی کہ وہ ان خباثتوں اور شرارتوں سے مجتنب رہے اور اس وجہ سے اللہ کی لعنت سے محفوظ رہے جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
Ayah 4:474 آیات سابقہ میں یہود کی ضلالت اور مختلف قبائح کا ذکر فرما کر اب ان کو بطور خطاب ایمان اور تصدیق قرآن کا حکم کیا جاتا ہے اور اسکی مخالفت سے ڈرایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب ایمان لاؤ قرآن پر جس کے احکام مصدق اور موافق ہیں تورات کے ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ مٹا ڈالیں ہم تمہارے چہروں کے نشانات یعنی آنکھ ناک وغیرہ مطلب یہ کہ تمہاری صورتیں بدل دی جائیں پھر الٹ دیں تمہارے چہروں کو پیٹھ کی طرف یعنی چہرہ کو مطموس اور ہموار کر کے پیچھے کی طرف اور گدی کو آگے کی طرف کردیں یا ہفتہ کے دن والوں کی طرح تم کو مسخ کر کے جانور بنادیں۔ اصحاب سبت کا قصہ سورة اعراف میں مذکور ہے۔
Ayah 4:485 یعنی مشرک کبھی نہیں بخشا جاتا بلکہ اس کی سزا دائمی ہے البتہ شرک سے نیچے جو گناہ ہیں صغیرہ ہوں یا کبیرہ وہ سب قابل مغفرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کی مغفرت چاہے اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ بخش دیتا ہے کچھ عذاب دیکر یا بلا عذاب دیے۔ اشارہ اسکی طرف ہے کہ یہود چونکہ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں وہ مغفرت کی توقع نہ رکھیں۔
Ayah 4:496 یعنی یہود باوجود اس قدر خرابیوں کے پھر بھی اپنے آپ کو پاک صاف اور مقدس کہتے ہیں حتی کہ اپنے آپ کو ابناء اللہ اور احباء اللہ بتلاتے ہیں جو بالکل لغو بات ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کو پاکیزہ اور مقدس کرتا ہے۔ یہود کے کہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا اور ان جھوٹی شیخی کرنے والوں پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہ ہوگا۔ یعنی یہ لوگ اپنے عذاب بےنہایت میں گرفتار ہونگے ان پر ناحق عذاب ہرگز نہ ہوگا۔ فائدہ : یہودی جو گوسالہ کو پوجتے تھے اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے جب آیت سابقہ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ ) 4 ۔ النسآء :48) کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ ہم تو خاص بندے اور پیغمبر زادے ہیں اور پیغمبری ہماری میراث ہے خدا تعالیٰ کو ان کی یہ شیخی پسند نہ آئی اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 4:507 یعنی کیسی تعجب کی بات ہے کہ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور باوجود ارتکاب کفر اور شرک کے اپنے آپ کو اللہ کا دوست کہتے ہیں اور اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کے مدعی ہیں اور ایسی سخت تہمت صریح گنہگار ہونے کے لئے بالکل کافی ہے۔
Ayah 4:511 اس آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا اظہار ہے۔ قصہ یہ ہے کہ یہودیوں کو حضرت محمد ﷺ سے عداوت بڑھی تو مشرکین مکہ سے ملے اور ان سے متفق ہوئے اور ان کی خاطر داری کی ضرورت سے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے اور اس کی وجہ صرف حسد تھا اس پر کہ نبوت اور دین کی ریاست ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو الزام دیتا ہے۔ ان آیات میں اسی کا مذکور ہے۔
Ayah 4:522 یعنی یہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب ہو کر اغراض نفسانی کی وجہ سے بتوں کی تعظیم کی اور طریقہء کفر کو طریقہء اسلام سے افضل بتلایا ان پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر لعنت کرے اللہ اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ سو اب انہوں نے اپنی اعانت کی طمع میں جو مشرکین مکہ سے موافقت کی بالکل لغو ہے۔ چناچہ دنیا میں یہود نے از حد ذلتیں اٹھائیں اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہونگے۔
Ayah 4:533 یہود اپنے خیال میں جانتے تھے کہ پیغمبری اور دین کی سرداری ہماری میراث ہے اور ہمیں کو لائق ہے۔ اس لئے عرب کے پیغمبر کی متابعت سے عار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آخر کو حکومت اور بادشاہت ہمیں کو پہنچ رہے گی برائے چندے اوروں کو بھی مل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کیا یہود کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں یعنی ہرگز نہیں۔ اگر یہ حاکم ہوجائیں تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں۔ یعنی ایسے بخیل ہیں کہ بادشاہت میں فقیر کو تل برابر بھی نہ دیں۔
Ayah 4:544 یعنی کیا یہود حضرت محمد ﷺ اور ان کے اصحاب پر اللہ کے فضل و انعام کو دیکھ کر حسد میں مرے جاتے ہیں۔ سو یہ تو بالکل ان کی بیہودگی ہے کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم کے گھرانے میں کتاب اور علم اور سلطنت عظیم عنایت کی ہے۔ پھر یہود آپ کی نبوت اور عزت پر کیسے حسد اور انکار کرتے ہیں اب بھی تو ابراہیم ہی کے گھر میں ہے۔
Ayah 4:555 یعنی حضرت ابراہیم کے گھرانے میں خدائے تعالیٰ نے ہمیشہ سے بزرگی دی ہے اور اب بھی اسی کے گھرانے میں ہے۔ سو جو کوئی بلاوجہ محض حسد سے اس کو نہ مانے اس کے جلانے کے لئے دوزخ کی بھڑکتی آگ کافی ہے۔
Ayah 4:566 پہلی آیت میں مومن و کافر کا ذکر تھا اب مطلق مومن اور کافر کی جزاو سزا بطور قاعدہ کلیہ کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ ایمان کی طرف پوری ترغیب اور کفر سے پوری ترہیب ہوجائے۔
7 یعنی کافروں کے عذاب میں نقصان اور کمی نہ آنے کی غرض سے ان کی کھال کے جل جانے کے وقت دوسری کھال بدل دی جائے گی مطلب یہ ہوا کہ کافر ہمیشہ عذاب میں یکساں مبتلا رہیں گے۔
8 یعنی اللہ تعالیٰ بیشک زبردست اور غالب ہے کافروں کو ایسی سزا دینے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں اور حکمت والا ہے کافروں کو یہ سزا دینی عین حکمت کے موافق ہے۔
Ayah 4:571 یعنی مومن ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ان کو عورتیں ایسی ملیں گی جو حیض اور دیگر آلائشوں سے پاک ہونگی اور ان کو گہری اور گنجان چھاؤں میں داخل کریں گے جو آفتاب کی دھوپ سے بالکل محفوظ ہوگی۔
Ayah 4:582 یہود میں عادت تھی کہ امانت میں خیانت کرتے اور فصل خصومات میں رشوت وغیرہ کی وجہ سے کسی کی خاطر اور رعایت کر کے خلاف حق حکم دیتے اس لئے مسلمانوں کو ان دونوں باتوں سے اس آیت میں روکا گیا۔ منقول ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا چاہا تو عثمان بن طلحہ کلید بردار خانہ کعبہ نے کنجی دینے سے انکار کیا تو حضرت علی نے اس سے چھین کر دروازہ کھول دیا۔ آپ فارغ ہو کر جب باہر تشریف لائے تو حضرت عباس نے آپ سے درخواست کی کہ یہ کنجی مجھ کو مل جائے اس پر آیت نازل ہوئی اور کنجی عثمان بن طلحہ ہی کے حوالہ کی گئی۔
3 یعنی اللہ تعالیٰ جو تم کو ادائے امانت اور عدل کے موافق حکم دینے کا حکم فرماتا ہے تمہارے لئے سراسر مفید ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری کھلی اور چھپی اور موجودہ اور آئندہ باتوں کو خوب جانتا ہے تو اب اگر تم کو کہیں ادائے امانت یا عدل مفید معلوم نہ ہو تو حکم الٰہی کے مقابلہ میں اس کا اعتبار نہ ہوگا۔
Ayah 4:594 پہلی آیت میں حکام کو عدل کا حکم فرما کر اب اوروں کو حکام کی متابعت کا حکم دیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی اطاعت جب ہی واجب ہوگی جب وہ حق کی اطاعت کریں گے۔ فائدہ : حاکم اسلام بادشاہ یا اس کا صوبہ دار یا قاضی یا سردار لشکر اور جو کوئی کسی کام پر مقرر ہو ان کے حکم کا ماننا ضروری ہے جب تک کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کے خلاف حکم نہ دیں اگر خدا اور رسول ﷺ کے حکم کے صریح خلاف کرے تو اس حکم کو ہرگز نہ مانے۔
5 یعنی اور اگر تم میں اور اولوالامر میں باہم اختلاف ہوجائے کہ حاکم کا یہ حکم اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے موافق ہے یا مخالف تو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کر کے طے کرلیا کرو کہ وہ حکم فی الحقیقت اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے موافق ہے یا مخالف اور جو بات محقق ہوجائے اسی کو بالاتفاق مسلم اور معمول بہ سمجھنا چاہیے اور اختلاف کو دور کردینا چاہیے اگر تم کو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے کیونکہ جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہوگا وہ ضرور اختلاف کی صورت میں اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی طرف رجوع کرے گا اور ان کے حکم کی مخالفت سے بیحد ڈرے گا۔ جس سے معلوم ہوگیا کہ جو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم سے بھاگے گا وہ مسلمان نہیں اس لئے اگر دو مسلمان آپس میں جھگڑیں ایک نے کہا چلو شرع کی طرف رجوع کریں دوسرے نے کہا میں شرع کو نہیں سمجھتا یا مجھ کو شرع سے کام نہیں تو اس کو بیشک کافر کہیں گے۔
6 یعنی اپنے متنازعات اور اختلافات کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا اور اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرنی مفید ہے آپس میں جھگڑنے یا اپنی رائے کے موافق فیصلہ کرنے سے اس رجوع کا انجام بہتر ہے۔
Ayah 4:607 یہود فصل خصومات میں رعایت و رشوت کے عادی تھے اس لئے جو لوگ جھوٹے اور منافق اور خائن ہوتے وہ اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ خاطر کریں گے اور آپ کے پاس ایسے لوگ اپنا معاملہ لانا پسند نہ کرتے کہ آپ حق کی رعایت کریں گے اور کسی کی اصلاً رعایت نہ کریں گے۔ سو مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا کسی امر میں دونوں جھگڑ پڑے۔ یہودی جو سچا تھا اس نے کہا کہ چل محمد ﷺ کے پاس اور منافق جو جھوٹا تھا اس نے کہا کہ چل کعب بن اشرف، کے پاس جو یہودیوں میں عالم اور سردار تھا۔ آخر وہ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں جھگڑا لیکر آئے تو آپ ﷺ نے یہودی کا حق ثابت فرمایا۔ منافق جو باہر نکلا تو کہنے لگا کہ اچھا حضرت عمر ؓ کے پاس چلو جو وہ فیصلہ کردیں وہی منظور اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا۔ غالباً یہ سمجھا ہوگا کہ میں مدعی اسلام ہوں اس لئے یہودی کے مقابلہ میں میری رعایت کریں گے اور حضرت عمر ؓ آپ کے حکم سے مدینہ میں جھگڑے فیصل کیا کرتے تھے چناچہ وہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے جب حضرت عمر ؓ نے یہ جھگڑا سنا اور یہودی کے بیان سے ان کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ قضیہ آپ کی خدمت میں جا چکا ہے اور آپ اس معاملہ میں یہودی کو سچا اور غالب کرچکے ہیں تو حضرت عمر ؓ نے اس منافق کو قتل کردیا اور فرمایا کہ جو کوئی ایسے قاضی کے فیصلہ کو نہ مانے اسکا فیصلہ یہی ہے۔ اس کے وارث حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں آئے اور حضرت عمر ؓ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمر ؓ کے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شایدوہ اس معاملہ میں باہم صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمد ﷺ کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی اور حضرت عمر ؓ کا لقب فاروق فرمایا۔
Ayah 4:611 یعنی جب کسی جھگڑے میں منافقوں سے کہا جائے کہ اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے اس کی طرف آؤ اور اس کے رسول ﷺ کے روبرو اپنے جھگڑے کو لاؤ تو ظاہر میں چونکہ مدعی اسلام ہیں اس لئے صاف طور پر تو انکار نہیں کرسکتے مگر آپ کے پاس آنے سے اور حکم الٰہی پر چلنے سے بچتے ہیں اور رکتے ہیں کہ کسی ترکیب سے جان بچ جائے اور رسول ﷺ کو چھوڑ کر جہاں ہمارا جی چاہے اپنا جھگڑا لے جائیں۔
Ayah 4:623 یعنی یہ تو سب کچھ ہوا مگر یہ منافق لوگ اس وقت کیا کریں گے جس وقت پہنچنے لگے ان کو عذاب ان کے کرتوت کا یعنی فصل خصومات میں آپ کے پاس آنے سے جو رکتے اور بچتے ہیں جب اس کا عذاب ان پر آنے لگے تو پھر یہ منافق اس وقت کیا کرسکتے ہیں اس کے سواء کہ آئیں رسول ﷺ کی خدمت میں قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہم تو حضرت عمر ؓ کی خدمت میں صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شاید وہ باہم صلح اور ملاپ کرادیں۔ رسول ﷺ کے ارشاد سے اعراض کرنا اور جان بچانا ہرگز ہم کو منظور نہ تھا۔
Ayah 4:633 اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان کی قسم اور ان کی معذرت سابقہ کی تکذیب فرمائی کہ منافقین جو کچھ زبانی باتیں بنائیں بنانے دو اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کی باتیں خوب معلوم ہیں یعنی انکے نفاق اور ان کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے۔ سو آپ بھی علم خداوندی پر بس کر کے منافقوں کی بات سے تغافل کیجئے اور ان کی بات کی پروا نہ کیجئے مگر ان کو نصیحت کرنے اور کام کی باتیں بتانے میں ہرگز کوتاہی نہ فرمائیں اور ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوجیے۔
Ayah 4:644 یعنی اللہ تعالیٰ جس رسول ﷺ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجتا ہے سو اسی غرض کیلئے بھیجتا ہے کہ اللہ کے حکم کے موافق بندے ان کے کہنے کو مانیں تو اب ضرور تھا کہ یہ لوگ رسول ﷺ کے ارشاد کو بلاتامل پہلے ہی سے دل و جان سے تسلیم کرتے اور اگر گناہ اور برا کرنے کے بعد بھی متنبہ ہوجاتے اور اللہ سے معافی چاہتے اور رسول ﷺ بھی ان کی معافی کی دعا کرتا تو پھر بھی حق تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ اول تو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے جو بعینہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا ہٹے اور بچے۔ پھر جب اس کا وبال ان پر پڑا تو اب بھی متنبہ اور تائب نہ ہوئے بلکہ لگے جھوٹی قسمیں کھانے اور تاویلیں گھڑنے پھر ایسوں کی مغفرت ہو تو کیونکر ہو۔
Ayah 4:655 یعنی منافق لوگ کس بیہودہ خیال میں ہیں اور کیسے بیہودہ حیلوں سے کام نکالنا چاہتے ہیں ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے۔ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ تم کو اے رسول اپنے تمام چھوٹے بڑے مالی جانی نزاعات میں منصف اور حاکم نہ جان لیں گے کہ تمہارے فیصلہ اور حکم سے ان کے جی میں کچھ تنگی اور ناخوشی نہ آنے پائے اور تمہارے ہر ایک حکم کو خوشی کے ساتھ دل سے قبول نہ کرلیں گے اس وقت تک ہرگز ان کو ایمان نصیب نہیں ہوسکتا اب جو کرنا ہو سوچ سمجھ کر کریں۔