4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 4:66–68

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ ہلاک کرو اپنی جان یا چھوڑ نکلو اپنے گھر تو ایسا نہ کرتے مگر تھوڑے ان میں سے اور اگر یہ لوگ کریں وہ جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو البتہ ان کے حق میں بہتر ہو اور زیادہ ثابت رکھنے والا ہو دین میں

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس وقت البتہ دیں ہم ان کو اپنے پاس سے بڑا ثواب

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور چلاویں ان کو سیدھی راہ1

1 یعنی سب کی جانوں کا مالک چونکہ خدا تعالیٰ ہے اس لئے اس کے حکم میں کسی کو جان سے بھی دریغ نہ کرنا چاہئے۔ سو اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو کہیں اپنی جانوں کے ہلاک کر ڈالنے اور جلا وطن ہوجانے کا حکم فرما دیتا جیسے کہ بنی اسرائیل پر حکم کردیا تھا تو بجانہ لاتے اس حکم کو مگر گنے چنے صرف سچے اور پکے ایمان والے۔ یہ منافق ایسے حکم پر کیسے عمل کرسکتے تھے۔ اب ان کو سمجھنا چاہیے کہ ان کو ہم نے جو حکم دے رکھے ہیں وہ محض ان کی نصیحت اور خیر خواہی کے ہیں نہ جان کی ہلاکت کا حکم دیا گیا نہ جلا وطن ہونے کا۔ اگر انہی آسان اور سہل حکموں پر چلیں تو نفاق بالکل جاتا رہے اور خالص مسلمان ہوجائیں مگر افسوس سمجھتے نہیں اور حالت موجودہ کو غنیمت نہیں سمجھتے کہ ذرا سی بات میں دین و دنیا دونوں درست ہوئے جاتے ہیں۔
Ayah 4:69

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا سو وہ ان کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا کہ وہ نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بخت ہیں اور اچھی ہے ان کی رفاقت2

2 نبی وہ ہیں جن پر اللہ کی طرف سے وحی آئے یعنی فرشتہ ظاہر میں آکر پیغام کہہ جائے اور صدیق وہ کہ جو پیغام اور احکام خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو آئے ان کا جی آپ ہی اس پر گواہی دے اور بلا دلیل اس کی تصدیق کرے اور شہید وہ کہ پیغمبروں کے حکم پر جان دینے کو حاضر ہیں اور صالح اور نیک بخت وہ کہ جن کی طبعیت نیکی ہی پر پیدا ہوئی ہے۔ اور بری باتوں سے اپنے نفس اور بدن کی اصلاح اور صفائی کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چار قسمیں مذکورہ جو امت کے باقی افراد سے افضل ہیں ان کے ما سواء جو مسلمان ہیں اور درجہ میں ان کے برابر نہیں لیکن اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں مشغول ہیں وہ لوگ بھی انہیں کی شمار اور ذیل میں لئے جائیں گے اور ان حضرات کی رفاقت بہت ہی خوبی اور فضیلت کی بات ہے۔ اس کو کوئی حقیر نہ سمجھے۔ فائدہ : اس آیت میں اشارہ ہوگیا کہ منافقین جن کا ذکر پہلے سے ہو رہا ہے وہ اس رفاقت اور معیت سے محروم ہیں۔
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے جاننے والاف 3

3 یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے حکم ماننے والوں کو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت میسر آنی اللہ کا بڑا انعام اور اس کا محض فضل ہے ان کی اطاعت کا معاوضہ نہیں جس سے منافقین بالکل محروم ہیں اور اللہ کافی ہے جاننے والا اور خبر رکھنے والا۔ وہ ہر ایک مخلص اور منافق اور ہر مطیع کی طاعت اور اس کے استحقاق اصلی اور مقدار فضل کو بالتفصیل جانتا ہے تو اب کسی کو ان امور کی تفاصیل کی وجہ سے وعدہ الٰہی کے پورا ہونے میں خلجان پیدا نہ ہو۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے ایمان والو ! لے لو اپنے ہتھیار پھر نکلو جدی جدی فوج ہو کر یا سب اکھٹے4

4 یہاں سے جہاد کا ذکر ہے اس سے پہلی آیت میں یہ ذکر تھا کہ جو اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اس کو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت انعام میں ملے گی اور احکام خداوندی میں حکم جہاد چونکہ شاق اور دشوار ہے خصوصاً منافقین پر جن کا ذکر اوپر سے آرہا ہے اس لئے جہاد کا حکم فرمایا کہ ہر کوئی حضرات انبیاء صدیقین وغیرہم کی رفاقت اور معیت کی امید نہ کرنے لگے۔ منقول ہے کہ شروع اسلام میں بہت سے ضعیف الاسلام بھی دعوت اسلامی کو قبول کرچکے تھے پھر جب جہاد فرض ہوگیا تو بعض متزلزل ہوگئے اور بعض کفار کے ہم زبان ہو کر آپ کی مخالفت کرنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! منافقوں کی کیفیت تو تم کو پہلے سے معلوم ہوچکی اب خیر اسی میں ہے کہ تم اپنا ہر طرح سے بچاؤ اور اپنی خبرداری اور احتیاط کرلو ہتھیاروں سے ہو یا تدبیر سے عقل سے ہو یا سامان سے اور دشمنوں کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے گھر سے باہر نکلو متفرق طور پر یا سب اکٹھے ہو کر جیسا موقع ہو۔
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور بیشک تم میں بعضا ایسا ہے کہ البتہ دیر لگاوے گا5 پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچے تو کہے اللہ نے مجھ پر فضل کیا کہ میں نہ ہوا ان کے ساتھ6

5 یعنی اے مسلمانو ! تمہاری جماعت میں بعضے ایسے بھی گھسے ہوئے ہیں کہ جہاد کو جانے میں دیر لگاتے ہیں اور رکتے ہیں اور حکم خداوندی کی تعمیل نہیں کرتے بلکہ نفع دنیاوی کو تکتے رہتے ہیں اور اس سے مراد منافق ہیں جیسے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی کہ یہ لوگ گو ظاہر میں اسلام قبول کرچکے تھے مگر ان کو سب باتوں سے مقصود صرف دنیا کا نفع تھا۔ حق تعالیٰ کی فرمانبرداری سے کوئی غرض ان کو نہ تھی۔ 6 پہلے گزر چکا کہ منافق لوگ نکلنے میں دیر لگاتے ہیں اور جہاد میں جانے والوں کی حالت کو تکتے رہتے ہیں کہ کیا گزری۔ اب فرماتے ہیں کہ جانے کے بعد اگر مسلمانوں کو جہاد میں کوئی صدمہ پہنچ گیا مثلاً مقتول ہوگئے یا شکست پیش آگئی تو منافق بہت خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کا بڑا فضل ہوا کہ ہم لڑائی میں ان کے ساتھ نہ تھے ورنہ ہماری بھی خیر نہ تھی الحمدللہ خوب بچے۔
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تم کو پہنچا فضل اللہ کی طرف سے تو اس طرح کہنے لگے کا کہ گویا نہ تھی تم میں اور اس میں کچھ دوستی اے کاش کہ میں ہوتا ان کے ساتھ تو پاتا بڑی مرادف 7

7 یعنی اور اگر مسلمانوں پر اللہ کا فضل ہوگیا مثلاً فتح ہوگئی یا مال غنیمت بہت سا ہاتھ آگیا تو منافق سخت پچھتاتے ہیں اور دشمنوں کی طرح غلبہء حسد سے کہتے ہیں ہائے افسوس میں جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تو مجھ کو بھی بڑی کامیابی نصیب ہوتی یعنی لوٹ کا مال ہاتھ آتا یعنی منافقوں کو فقط اپنی محرومی پر افسوس نہیں ہوتا بلکہ اپنی محرومی سے زیادہ مسلمانوں کی کامیابی پر حسد اور قلق ہوتا ہے۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

سو چاہیے لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو بیچتے ہیں دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے اور جو کوئی لڑے اللہ کی راہ میں پھر مارا جاوے یا غالب ہو وے تو ہم دیں گے اس کو بڑا ثواب1

1 یعنی اگر منافق لوگ جہاد سے رکیں تو رکیں اور اپنے نشیب و فراز دنیاوی کو تکتے رہیں تو تکتے رہیں مگر جو لوگ کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا پر لات مار چکے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ کی راہ میں بےتامل لڑیں اور دنیا کی زندگی اور اس کے مال و دولت پر نظر نہ رکھیں اور سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور حکم برداری میں ہر طرح نفع ہے غالب ہوں یا مغلوب مال ملے یا نہ ملے۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں اور ان کے واسطے جو مغلوب ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جو کہتے ہیں اے رب ہمارے نکال ہم کو اس بستی سے کہ ظالم ہیں یہاں کے لوگ اور کردے ہمارے واسطے اپنے پاس سے کوئی حمایتی اور کر دے ہمارے واسطے اپنے پاس سے مددگار2

2 یعنی دو وجہ سے تم کو کافروں سے لڑنا ضروری ہے، ایک تو اللہ کے دین کو بلند اور غالب کرنے کی غرض سے، دوسرے جو لوگ مظلوم مسلمان کافروں کے ہاتھ میں بےبس پڑے ہیں ان کو چھڑانے اور خلاصی دینے کی وجہ سے۔ مکہ میں بہت لوگ تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے اور ان کے اقرباء ان کو ستانے لگے کہ پھر کافر ہوجائیں، سو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ تم کو دو وجہ سے کافروں سے لڑنا ضرور ہے تاکہ اللہ کا دین بلند ہو اور مسلمان جو کہ مظلوم اور کمزور ہیں کفار مکہ کے ظلم سے نجات پائیں۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ ایمان والے ہیں سو لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں سو لڑتے ہیں شیطان کی راہ میں سو لڑو تم شیطان کے حمایتیوں سے بیشک فریب شیطان کا سست ہے3

3 یعنی جب یہ بات ظاہر ہے کہ مسلمان اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر لوگ شیطان کی راہ میں۔ سو پھر تو مسلمانوں کو شیطان کے دوستوں یعنی کافروں کے ساتھ لڑنا بلاتامل ضروری ہوا۔ اللہ تعالیٰ انکا مددگار ہے۔ کسی قسم کا تردد نہ چاہیے اور سمجھ لو کہ شیطان کا حیلہ اور فریب کمزور ہے مسلمانوں پر نہ چل سکے گا۔ اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ترغیب دلانا اور ہمت بندھانا ہے جس کا ذکر آیات آئندہ میں بالتصریح آتا ہے۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جن کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ہاتھ تھامے رکھو اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ4 پھر جب حکم ہوا ان پر لڑائی کا اسی وقت ان میں ایک جماعت ڈرنے لگی لوگوں سے جیسا ڈر ہو اللہ کا یا اس سے بھی زیادہ ڈر اور کہنے لگے اے رب ہمارے کیوں فرض کی ہم پر لڑائی کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک1 کہہ دے کہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے برابر2

4 مکہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کافر مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کرتے اور رخصت مانگتے کہ ہم کفار سے مقاتلہ کریں اور ان سے ظلم کا بدلہ لیں آپ مسلمانوں کو لڑائی سے روکتے کہ مجھ کو مقاتلہ کا حکم نہیں ہوا بلکہ صبر اور درگزر کرنے کا حکم ہے اور فرماتے کہ نماز اور زکوٰۃ کا جو حکم تم کو ہوچکا ہے اس کو برابر کئے جاؤ کیونکہ جب تک آدمی اطاعت خداوندی میں اپنے نفس پر جہاد کرنے کا اور تکالیف جسمانی کا خوگر نہ ہو اور اپنے مال خرچ کرنے کا عادی نہ ہو تو اس کو جہاد کرنا اور اپنی جان کا دینا بہت دشوار ہے اس بات کو مسلمانوں نے قبول کرلیا تھا۔ 1 یعنی ہجرت کرنے کے بعد جب مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کا حکم ہوا تو ان کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ ہماری درخواست قبول ہوئی اور مراد ملی مگر بعضے کچے مسلمان کافروں کے مقاتلہ سے ایسے ڈرنے لگے جیسا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ اور آرزو کرنے لگے کہ تھوڑی مدت اور بھی قتال کا حکم نہ آتا اور ہم زندہ رہتے تو خوب ہوتا۔ 2 یعنی چونکہ حیات اور منافع دنیاوی کی رغبت کے باعث ان لوگوں کو حکم جہاد بھاری معلوم ہوا تو اس لئے حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ دنیا کے تمام منافع حقیر اور سریع الزوال ہیں اور ثواب آخرت کا بہتر ہے ان کے لئے جو اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں سو تم کو چاہیے کہ منافع دنیا کا لحاظ نہ کرو اور حق تعالیٰ کی فرمانبرداری میں کوتاہی نہ کرو اور جہاد کرنے سے نہ ڈرو اور اطمینان رکھو کہ تمہاری محنت اور جانفشانی کا ثواب ادنیٰ سا بھی ضائع نہ ہوگا۔ سو تم کو ہمت اور شوق کے ساتھ جہاد میں مصروف ہونا چاہئے۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

جہاں کہیں تم ہو گے موت تم کو آپکڑے گی اگرچہ تم ہو مضبوط قلعوں میں3 اور اگر پہنچے لوگوں کو کچھ بھلائی تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو پہنچے کچھ برائی تو کہیں یہ تیری طرف سے ہے4 کہہ دے کہ سب اللہ کی طرف سے ہے سو کیا حال ہے ان لوگوں کا ہرگز نہیں لگتے کہ سمجھیں کوئی بات5

3 یعنی کیسے ہی مضبوط اور محفوظ و مامون مکان میں رہو مگر موت تم کو کسی طرح نہ چھوڑے گی کیونکہ موت ہر ایک کے واسطے مقدر اور مقرر ہوچکی ہے اپنے وقت پر ضرور آئے گی کہیں ہو۔ سو اگر جہاد میں نہ جاؤ گے تو بھی موت سے ہرگز نہیں بچ سکتے تو اب جہاد سے گھبرانا اور موت سے ڈرنا اور کافروں کے مقاتلہ سے خوف کرنا بالکل نادانی اور اسلام میں کچے ہونے کی بات ہے۔ 4 یعنی ان منافقین کا اور عجیب حال سنو اگر تدبیر لڑائی کی درست آئی اور فتح ہوئی اور غنیمت کا مال ہاتھ آگیا تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے یعنی اتفاقی بات ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے اور اگر تدبیر بگڑ جاتی اور ہزیمت و نقصان پیش آجاتا تو الزام رکھتے آپ کی تدبیر پر۔ 5 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ان کو جواب دے دو کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے ہے سب باتوں کا موجد اور خالق اللہ تعالیٰ ہے اس میں کسی دوسرے کو دخل نہیں اور پیغمبر ﷺ کی تدبیر بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اللہ ہی کا الہام ہے۔ تمہارا الزام رکھنا نبی ﷺ پر غلط اور سراسر کم فہمی ہے اور بگڑی کو بگڑا نہ سمجھو یہ اللہ کی حکمت ہے وہ تم کو سدھاتا ہے اور آزماتا ہے تمہارے قصوروں پر۔ یہ جواب اجمالی ہوا منافقین کے الزام کا، اگلی آیت میں اس کی تفصیل آتی ہے۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

جو پہنچے تجھ کو کوئی بھلائی سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے تجھ کو کوئی برائی سو تیرے نفس کی طرف سے ہے6 اور ہم نے تجھ کو بھیجا پیغام پہنچانے والا لوگوں کو اور اللہ کافی ہے سامنے دیکھنے والاف 7

6 یعنی اصل بات یہ ہے کہ جملہ بھلائی اور برائی کا موجد ہرچند اللہ ہے مگر بندہ کو چاہیے کہ نیکی اور بھلائی کو حق تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھے اور سختی اور برائی کو اپنے اعمال کی شامت جانے، اس کا الزام پیغمبر ﷺ پر نہ رکھے۔ پیغمبر ﷺ ان امور کے لئے نہ موجد ہے نہ سبب بلکہ موجد یعنی ان باتوں کا پیدا کرنے والا تو اللہ ہے اور سبب تمہارے عمل۔ 7 حق تعالیٰ رسول ﷺ سے منافقوں کے الزام کو دور فرما کر ارشاد کرتا ہے کہ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول کر کے بھیجا اور ہم کو سب کچھ معلوم ہے ہم سب کے اعمال کا بدلہ دے لیں گے۔ تم کسی کے بیہودہ انکار و الزام کی پرواہ نہ کرو اپنا کار رسالت کئے جاؤ۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے حکم مانا رسول ﷺ کا اس نے حکم مانا اللہ کا اور جو الٹا پھرا تو ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا ان پر نگہبان8

8 آپ کی رسالت کو محقق فرما کر اب خدا تعالیٰ آپ کے متعلق یہ حکم سناتا ہے کہ جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا وہ بیشک ہمارا تابعدار ہے اور جو اس سے روگردانی کرے گا تو ہم نے تجھ کو اے رسول ﷺ ان لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ ان کو گناہ نہ کرنے دے، ہم ان کو دیکھ لیں گے۔ تیرا کام صرف پیغام پہنچانا ہے آگے ثواب یا عقاب یہ ہمارا کام ہے۔
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ قبول ہے پھر جب باہر گئے تیرے پاس سے تو مشورہ کرتے ہیں بعضے بعضے ان میں سے رات کو اس کے خلاف جو تجھ سے کہہ چکے تھے اور اللہ لکھتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں سو تو تغافل کر ان سے اور بھروسہ کر اللہ پر اور اللہ کافی ہے کارساز9

9 ان منافقین کی اور مکاری سنو آپ ﷺ کے روبرو آکر تو کہہ جاتے ہیں ہم نے قبول کیا حکم تیرا اور باہر جا کر مشورہ کرتے ہیں اس کے خلاف یعنی تیری نافرمانی اور مخالفت کا مشورہ کرتے ہیں اور اللہ کے یہاں ان کے سب مشورے لکھے جاتے ہیں ان کو سزا دینے کے لئے۔ سوائے نبی ﷺ ان سے منہ پھیر لے اور کسی بات کی پروا مت کر اور اپنے سب کام اللہ کے حوالے کر دے وہ تیرے لئے کافی ہے۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر یہ ہوتا کسی اور کا سوا اللہ کے تو ضرور پاتے اس میں بہت تفاوت1

1 پہلی آیات سے حضرت محمد ﷺ کا رسول اللہ ہونا اور ان کی اطاعت بعینہ خدا کی اطاعت ہونی اور ان کے نافرمانوں پر حق تعالیٰ کا عذاب ہونا تو خوب ظاہر ہوگیا مگر منافق اور آپ کے مخالف یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی گواہی اور اس کے ارشادات کی تسلیم و تصدیق میں تو ہم کو تامل ہرگز نہیں مگر یہ کیونکر معلوم ہو کہ یہ خدا کا کلام ہے بشر کا بنایا ہوا نہیں تو حق تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے کہ یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے جس سے صاف معلوم ہوجائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ دیکھو اگر قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا جیسا کہ تم گمان کرتے ہو تو ضرور قرآن میں بہت سے مواقع میں طرح طرح کے اختلافات ملتے۔ دیکھو آدمی ہر حالت میں اسی حالت کے موافق کلام کرتا ہے جو حالت پیش ہوتی ہے دوسری حالت کا دھیان نہیں ہوتا غصہ میں مہربانی والوں کا دھیان نہیں رہتا اور مہربانی میں غصہ والوں کا، دنیا کے بیان میں آخرت کا لحاظ نہ رہے اور آخرت کے بیان میں دنیا کا۔ بےپروائی میں عنایت کا ذکر نہیں اور عنایت میں بےپروائی کا۔ بالجملہ ایک حال کا کلام دوسرے حال کے کلام سے مختلف نظر آئے گا لیکن قرآن شریف چونکہ خالق کا کلام ہے یہاں ہر چیز کے بیان میں دوسری جانب بھی نظر رہتی ہے غور و فہم سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہر مقام میں ایک انداز پر ہے دیکھئے یہاں منافقوں کا مذکور تھا جو سخت عتاب کے مستحق ہیں سو یہاں بھی ان کی باتوں پر اسی قدر الزام ہے جتنا چاہیے اور جو الزام ان کی ایک خاص جماعت پر تھا وہ خاص انہی پر لگایا گیا اور فرما دیا کہ بعضے ان میں سے ایسا کرتے ہیں یہ نہیں کہ غصہ وغیرہ کی حالت میں کلام اپنی حد سے نکل جائے اور دوسری حالت کے کلام سے مختلف نظر آئے اور نیز یہ مطلب بھی ہے کہ ہم برابر دیکھتے ہیں کہ جب آدمی کوئی کلام طویل کرتا ہے تو وہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ کوئی جملہ فصیح کوئی غیر فصیح، کوئی صحیح، کوئی غلط، کوئی سچا، کوئی کا ذب، کوئی موافق کوئی باہم متناقض ضرور معلوم ہوتا ہے اور قرآن اتنی بڑی کتاب ان جملہ اختلافات سے پاک ہے جو طاقت بشر سے باہر ہے۔ فائدہ : اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ جو تدبر اور فہم سے کام نہ لے وہ قرآن میں شبہات اور اختلافات کا وہم چلا سکتا ہے مگر فہیم ایسا نہیں کرسکتا دیکھو جو اسی مقام میں تدبر نہ کرے وہ کہہ سکتا ہے کہ اول تو فرما دیا (ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ) 4 ۔ النسآء :78) پھر فرما دیا (وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ) 4 ۔ النسآء :79) سو یہ تو تناقض اور اختلاف ہوگیا۔ واللہ اعلم
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں2 اور اگر اسکو پہنچا دیتے رسول ﷺ تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی3 اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہو لیتے شیطان کے مگر تھوڑے4

2 یعنی ان منافقوں اور کم سمجھ مسلمانوں کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب کوئی بات امن کی پیش آتی مثلاً رسول اللہ ﷺ کا کسی سے صلح کا قصد فرمانا یا لشکر اسلام کی فتح کی خبر سننا یا کوئی خبر خوفناک سن لیتے ہیں جیسے دشمنوں کا کہیں جمع ہونا یا مسلمانوں کی شکست کی خبر آنا تو ان کو بلا تحقیق کئے مشہور کرنے لگتے ہیں اور اس میں اکثر فساد و نقصان مسلمانوں کو پیش آجاتا ہے۔ منافق ضرر رسانی کی غرض سے اور کم سمجھ مسلمان کم فہمی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ 3 یعنی کہیں سے کچھ خبر آئے تو چاہیے کہ اول پہنچائیں سردار تک اور اسکے نائبوں تک جب وہ اس خبر کو تحقیق اور تسلیم کر لیویں تو ان کے کہنے کے موافق اس کو کہیں نقل کریں اور اس پر عمل کریں۔ فائدہ : حضرت محمد ﷺ نے ایک شخص کو ایک قوم کے یہاں زکوٰۃ لینے کو بھیجا وہ قوم اس کے استقبال کو باہر نکلی اس نے خیال کیا کہ میرے مارنے کو آئے ہیں لوٹ کر مدینہ میں آگیا اور مشہور کردیا کہ فلاں قوم مرتد ہوگئی تمام شہر میں شہرت ہوگئی آخر کو غلط نکلی۔ 4 یعنی اگر اللہ اپنے فضل سے تمہاری اصلاح اور تربیت کے لئے احکام نہ بھیجتا اور تم کو وقتاً فوقتاً حسب ضرورت ہدایت اور تنبیہ نہ فرماتا رہتا جیسا کہ اس موقع پر رسول ﷺ اور سرداروں کی طرف رجوع کرنے کو فرمایا تو تم گمراہ ہوجاتے مگر چند خواص جو کامل العقل اور کامل الایمان ہیں ان تنبیہات کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھو اور شکر کرو اور پوری تعمیل کرو۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

سو تو لڑ اللہ کی راہ میں تو ذمہ دار نہیں مگر اپنی جان کا اور تاکید کر مسلمانوں کو قریب ہے کہ اللہ بند کر دے لڑائی کافروں کی5 اور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا دینے میں6

5 یعنی اگر کافروں کی لڑائی سے یہ منافق اور کچے مسلمان جن کا ذکر اوپر گزرا ڈرتے ہیں تو اے رسول ﷺ تو تنہا اپنی ذات سے جہاد کرنے میں توقف مت کر اللہ تعالیٰ تیرا مددگار ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی تاکید کردے جو ساتھ نہ دے اس کی پروا مت کر۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی لڑائی کو روک دے گا۔ فائدہ : جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں ضرور جہاد کے لئے جاتا ہوں اگرچہ ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کل ستر ہمرائیوں کے ساتھ بدر صغریٰ کو بغرض جہاد تشریف لے گئے جس کا وعدہ ابو سفیان سے غزوہ احد کے بعد ہوا تھا جس کا ذکر پہلی سورت میں گزر چکا ہے حق تعالیٰ نے ابو سفیان اور کفار قریش کے دل میں رعب اور خوف ڈال دیا کوئی مقابلہ میں نہ آیا اور وعدے سے جھوٹے ہوئے اور حق سبحانہ، نے اپنے ارشاد کے موافق کافروں کی لڑائی کو بند کردیا اور آپ ہمراہیوں سمیت خیر اور سلامتی کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔ 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی لڑائی اور اس کا عذاب کافروں کے ساتھ لڑنے سے بہت سخت ہے سو جو لوگ کافروں کے ساتھ لڑنے اور ان کو مارنے اور ان کے ہاتھ سے مارے جانے سے ڈرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور اس کے عذاب کا کیونکر تحمل کرسکتے ہیں۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی سفارش کرے نیک بات میں اس کو بھی ملے گا اس میں سے ایک حصہ اور جو کوئی سفارش کرے بری بات میں اس پر بھی ہے ایک بوجھ اس میں سے7 اور اللہ ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والاف 8

7 یعنی اگر کوئی نیک کام میں سعی سفارش کرے جیسا نبی (علیہ السلام) کا مسلمانوں کو جہاد کی تاکید فرمانا یا کوئی بری بات میں ساعی ہو جیسا منافق اور سست مسلمانوں کا جہاد سے ڈر کر دوسروں کو بھی ڈرانا تو اول صورت میں ثواب کا اور دورسری صورت میں گناہ کا حصہ ملے گا ایسے ہی اگر کوئی محتاج کی سفارش کر کے دولت مند سے کچھ دلوادے تو یہ بھی خیرات کے ثواب میں شریک ہوگا اور جو کوئی کافر مفسد یا سارق کو سفارش کر کے چھڑادے پھر وہ فساد اور چوری کرے تو یہ بھی شریک ہوگا فساد اور چوری میں۔8 یعنی خدا تعالیٰ تمام چیزوں پر قادر اور ہر چیز کا حصہ بانٹنے والا ہے تو نیکی اور بدی کے حصہ دینے میں اس کو کوئی دشواری نہیں۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو دعا دیوے کوئی تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا وہی کہو الٹ کر بیشک اللہ ہے ہر چیز کا حساب کرنے والاف 9

9 یعنی کسی مسلمان کو سلام کرنا یا دعا دینا درحقیقت اللہ سے اس کی شفاعت کرنا ہے تو حق تعالیٰ شفاعت حسنہ کی ایک خاص صورت کو جو مسلمانوں میں شائع ذائع ہے صراحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ جب کوئی اے مسلمانو تم کو دعا دے یا سلام کرے تو تم کو بھی اس کا جواب ضرور دینا چاہیے یا تو وہی کلمہ تم بھی اس کو کہو یا اس سے بہتر مثلاً اگر کسی نے کہا السلام علیکم تو واجب ہے تم پر کہ اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہو اور زیادہ ثواب چاہو تو ورحمتہ اللہ بھی بڑھا دو اور اگر اس نے یہ لفظ بڑھایا ہو تو تم " وبرکاتہ " زیادہ کردو۔ اللہ کے یہاں ہر ہر چیز کا حساب ہوگا اور اس کی جزا ملے گی سلام اور اس کا جواب بھی اس میں آگیا۔ فائدہ : اس سے شفاعت حسنہ کی پوری ترغیب ہوگئی اور شفاعت سیہ کی خرابی اور مضرت معلوم ہوگئی کیونکہ جو شفاعت حسنہ کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ ثواب دے گا اور جس کی شفاعت کی ہے اس پر اس کے ساتھ حسن سلوک اور مکافات کا حکم فرما دیا بخلاف شفاعت سیئہ کے کہ بجز معصیت اور محرومی کے کچھ نہ ملے گا۔
Ayahs 4:87–88

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں بیشک تم کو جمع کریگا قیامت کے دن اس میں کچھ شبہ نہیں اور اللہ سے سچی کس کی بات1

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے معاملہ میں دو فریق ہو رہے ہو اور اللہ نے ان کو الٹ دیا بسبب ان کے اعمال کے کیا تم چاہتے ہو کہ راہ پر لاؤ جس کو گمراہ کیا اللہ نے اور جس کو گمراہ کرے اللہ ہرگز نہ پاویگا تو اس کے لئے کوئی راہ2

2 ان منافقوں میں وہ لوگ داخل ہیں جو ظاہر میں بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ ظاہر و باطن کفر پر قائم تھے لیکن حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ظاہری میل جول اور محبت کا معاملہ رکھتے تھے اور غرض ان کی یہ تھی کہ مسلمانوں کی فوج ہماری قوم پر چڑھائی کرے تو ہمارے جان و مال اس حیلہ سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کا آنا جانا اس غرض سے ہے دل کی محبت سے نہیں تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ ان شریروں سے ملنا ترک کردینا چاہیے تاکہ ہم سے جدا ہوجائیں اور بعضوں نے کہا ان سے ملے جائیے شاید ایمان لے آئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے قبضہ میں ہے تم اس کا ہرگز فکر مت کرو اور ان لوگوں سے بالاتفاق وہ معاملہ کرنا چاہیے جو آئندہ مذکور ہے دو فریق مت بنو۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو پھر تم سب برابر ہوجاؤ سو تم ان میں سے کسی کو دوست مت بناؤ یہاں تک کہ وطن چھوڑ آویں اللہ کی راہ میں پھر اگر اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور نہ بناؤ ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مددگار3

3 یعنی یہ منافق لوگ تو کفر پر ایسے جمے ہوئے ہیں کہ خود تو اسلام کیا قبول کریں گے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی مثل کافر ہو کر ان کے برابر ہوجاؤ۔ سو اب تم کو چاہیے کہ وہ جب تک ایمان قبول کر کے اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس نہ چلے آئیں اس وقت تک ان کو دوست نہ بناؤ نہ اپنے کسی کام میں ان کو دخل دو اور نہ ان کی حمایت اور اعانت کرو اور اگر وہ لوگ ایمان اور ہجرت کو قبول نہ کریں تو ان کو قید کرو اور قتل کرو جہاں قابو پاؤ اور اجتناب کلی رکھو اور ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ملاپ رکھتے ہیں ایک قوم سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے یا آئے ہیں تمہارے پاس کہ تنگ ہوگئے ہیں دل ان کے تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے بھی اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر زور دے دیتا تو ضرور لڑتے تم سے سو اگر یکسو رہیں وہ تم سے پھر تم سے نہ لڑیں اور پیش کریں تم پر صلح تو اللہ نے نہیں دی تم کو ان پر راہ1

1 یعنی اس ظاہری ملنے جلنے سے ان کو قید اور قتل سے مت بچاؤ مگر کل دو طرح سے۔ ایک تو یہ کہ جن لوگوں سے تمہاری صلح ہے ان سے ان کا بھی معاہدہ اور مصالحت ہو تو وہ بھی صلح میں داخل ہوگئے۔ دوسری طرح یہ کہ جو لوگ لڑائی سے عاجز ہو کر تم سے صلح کریں اور اس بات کا عہد کریں کہ نہ اپنی قوم کے طرفدار ہو کر تم سے لڑیں گے اور نہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں گے اور اس عہد پر قائم بھی رہیں تو ایسے لوگوں سے بھی مت لڑو اور ان کی مصالحت کو منظور کرلو اور اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھو کہ تمہاری لڑائی سے باز آئے۔ اللہ چاہتا تو ان کو تم پر جری اور غالب تر کردیتا۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

اب تم دیکھو گے ایک اور قوم کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور اپنی قوم سے بھی جب کبھی لوٹائے جاتے ہیں وہ فساد کی طرف تو اس کی طرف لوٹ جاتے ہیں پھر اگر وہ تم سے یکسو نہ رہیں اور نہ پیش کریں تم پر صلح اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور ان پر ہم نے تم کو دی ہے کھلی سند2

2 یعنی بعضے لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم سے عہد کر جاتے ہیں کہ نہ تم سے لڑیں گے نہ اپنی قوم سے تاکہ تم سے اور اپنی قوم دونوں سے امن میں رہیں لیکن اس عہد پر قائم نہیں رہتے بلکہ جب اپنی قوم کا غلبہ دیکھتے ہیں تو ان کے مددگار ہوجاتے ہیں تو ایسے لوگوں سے تم بھی درگزر مت کرو تمہارے ہاتھ تو صریح حجت آگئی کہ انہوں نے اپنا عہد خود توڑ ڈالا۔
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور مسلمان کا کام نہیں کہ قتل کرے مسلمان کو مگر غلطی سے3 اور جو قتل کرے مسلمان کو غلطی سے تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور خون بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر مقتول تھا ایسی قوم میں سے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور خود وہ مسلمان تھا تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور اگر وہ تھا ایسی قوم میں سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے تو خون بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی پھر جس کو میسر نہ ہو تو روزے رکھے دو مہینے کے برابر گناہ بخشوانے کو اللہ سے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے4

3 اس موقع پر قتل خطا کے احکام بیان فرمائے جاتے ہیں اور یہ کہ کلمہ اسلام کہنے والے کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اگر غلطی سے مارا گیا تو مجبوری کی بات ہے اور اس کے احکام یہ ہیں اور اسی کے ذیل میں مجاہدین کی فضیلت اور دارکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت بیان فرمائی جاتی ہے۔ فائدہ : قتل خطا یعنی مسلمان کو غلطی سے قتل کردینے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً غلطی سے مسلمان کو شکار سمجھ کر مار ڈالا یا تیر اور گولی شکار پر چلائی چوک کر کسی مسلمان کے جا لگی۔ ایک صورت قتل خطا کی یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کافروں میں ہو اور اس کو کوئی مسلمان کافر سمجھ کر بوجہ لا علمی قتل کر ڈالے اور یہاں اسی صورت کا بیان فرمانا مقصود ہے۔ مجاہدین کو یہ بات اکثر پیش آجاتی ہے اور آیات سابقہ کے یہی مناسب ہے، گو قتل خطا کی اور صورتوں کا بھی حکم یہی ہے وہ صورتیں بھی اس میں آگئیں۔ 4 اس آیت میں قتل خطا کے دو حکم بتلائے گئے ایک تو آزاد کرنا بردہ مسلمان کا اور اس کا مقدور نہ ہو تو دو مہینے متصل روزے رکھنا یہ کفارہ ہے خدا تعالیٰ کی جناب میں اپنی خطا کا۔ دوسرے اس مقتول کے وارثوں کو خون بہا دینا یہ ان کا حق ہے۔ ان کے معاف کرنے سے معاف بھی ہوسکتا ہے اور کفارہ کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوسکتا۔ اس کے متعلق تین صورتیں ہوسکتی ہیں کیونکہ جس مسلمان کو غلطی سے قتل کیا اس کے وارث مسلمان ہونگے یا کافر۔ اگر کافر ہیں تو ان سے مصالحت ہے یا دشمنی۔ اول دونوں صورتوں میں مقتول کے وارثوں کو خون بہا دینا پڑے گا۔ تیسری صورت میں خون بہا لازم نہ ہوگا اور کفارہ سب صورتوں میں ادا کرنا ہوگا۔ فائدہ : خون بہا مذہب حنفی میں تخمینا دو ہزار سات سو چالیس روپے ہوتے ہیں یہ روپیہ قاتل کی برادری کو تین برس میں متفرق طور پر دینا ہوگا مقتول کے وارثوں کو۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر تو اس کی سزا دوزخ ہے پڑا رہے گا اسی میں اور اللہ کا اس پر غضب ہوا اور اس کو لعنت کی اور اس کے واسطے تیار کیا بڑا عذاب1

1 یعنی اگر ایک مسلمان دوسرے کو غلطی سے نہیں بلکہ قصداً اور مسلمان معلوم کرنے کے بعد قتل کرے گا تو اس کے لئے آخرت میں جہنم اور لعنت اور عذاب عظیم ہے کفار سے اس کی رہائی نہیں ہوگی۔ باقی رہی دنیاوی سزا وہ سورة بقرہ میں گزر چکی۔ فائدہ : جمہور علماء کے نزدیک خلود اس کے لئے ہے جو مسلمان کے قتل کو حلال سمجھے کیونکہ اس کے کفر میں شک نہیں یا خلود سے مراد یہ ہے کہ مدت دراز تک جہنم میں رہے گا یا وہ شخص مستحق تو اسی سزا کا ہے آگے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے۔ واللہ اعلم
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب سفر کرو اللہ کی راہ میں تو تحقیق کرلیا کرو اور مت کہو اس شخص کو جو تم سے سلام علیک کرے کہ تو مسلمان نہیں تم چاہتے ہو اسباب دنیا کی زندگی کا سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں2 تم بھی تو ایسے ہی تھے اس سے پہلے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا سو اب تحقیق کرلو3 بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے4

2 حضرت محمد ﷺ نے ایک فوج کو ایک قوم پر جہاد کے لئے بھیجا اس قوم میں ایک شخص مسلمان تھا جو اپنا مال و اسباب اور مویشی ان میں سے نکال کر علیحدہ کھڑا ہوگیا تھا اس نے مسلمانوں کو دیکھ کر السلام علیکم کہا مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ یہ بھی کافر ہے اپنی جان اور مال بچانے کی غرض سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اس لئے اس کو مار ڈالا اور اس کے مویشی اور اسباب سب لے لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو تنبیہ اور تاکید فرمائی گئی کہ جب تم جہاد کے لئے سفر کرو تو تحقیق سے کام لو۔ بےسوچے سمجھے کام مت کرو جو تمہارے سامنے اسلام ظاہر کرے اس کے مسلمان ہونے کا ہرگز انکار مت کرو۔ اللہ کے پاس بہت کچھ غنیمتیں ہیں ایسے حقیر سامان پر نظر نہ کرنی چاہئے۔ 3 تم ایسے ہی تھے اس سے پہلے یعنی اسلام سے پہلے دنیا کی غرض سے ناحق خون کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان ہو کر ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے بلکہ جس پر مسلمان ہونے کا احتمال بھی ہو تو اس کے قتل سے بچو یا یہ مطلب ہے کہ اس سے پہلے شروع زمانہء اسلام میں تم بھی کافروں کے شہر میں رہتے تھے۔ تمہاری مستقل حکومت اور مستقل بودوباش نہ تھی تو جیسا اس حالت میں تمہارا اسلام معتبر سمجھا گیا اور تمہارے جان و مال کی حفاظت و رعایت کی گئی ایسا ہی اب تم کو بھی اس طرح کے مسلمانوں کی رعایت و حفاظت لازم ہے بلا تحقیق ان کو قتل مت کرو احتیاط اور غور سے کام کرنا چاہئے۔ 4 یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر اعمال اور دلی اغراض سب پر مطلع ہے تو اب جس کو قتل کرو محض اللہ کے حکم کے موافق قتل کرو۔ اپنی کسی غرض کا اصلا دخل نہ ہو اور یہ بھی مقصد ہے کہ اگر کوئی کافر فقط اپنے جان ومال کے خوف سے تمہارے روبرو اسلام ظاہر کرے اور دھوکا دے کر اپنی جان بچا لے تو اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتا مگر تم اس کو کچھ مت کہو۔ یہ تمہارے کرنے کی بات نہیں ہم دیکھ لیں گے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

برابر نہیں بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ مسلمان جو لڑنے والے ہیں اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے اللہ نے بڑھا دیا لڑنے والوں کا اپنے مال اور جان سے بیٹھ رہنے والوں پر درجہ اور ہر ایک سے وعدہ کیا اللہ نے بھلائی کا اور زیادہ کیا اللہ نے لڑنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں سے اجر عظیم میں

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

جو کہ درجے ہیں اللہ کی طرف سے اور بخشش ہے اور مہربانی ہے1 اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان2

1 اس سے پہلے مسلمان کو نادانستگی اور چوک سے قتل کردینے پر عتاب اور تنبیہ فرمائی تھی اس لئے یہ احتمال تھا کہ کوئی جہاد کرنے سے رک جائے کیونکہ مجاہدین کو ایسی صورت پیش آہی جاتی ہے۔ اس لئے مجاہدین کی فضیلت بیان فرما کر جہاد کی رغبت دلائی گئی خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ لنگڑے لنجے اندھے بیمار معذور لوگوں کو تو جہاد کرنے کا حکم نہیں باقی سب مسلمانوں میں جہاد کرنے والوں کے بڑے درجے ہیں جو جہاد نہ کرنے والوں کے نہیں اگرچہ جنتی وہ بھی ہیں جو جہاد نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ جہاد فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں یعنی اگر مسلمانوں کی کافی تعداد اور ضرورت کے موافق جماعت جہاد کرتی رہے تو جہاد نہ کرنے والوں پر پھر کوئی گناہ نہیں ورنہ سب گنہگار ہونگے۔ 2 یعنی حق تعالیٰ غفور و رحیم ہے جہاد کرنے والوں کے بارے میں اجرو مغفرت و رحمت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ضرور پورے فرمائے گا یا یہ کہ مجاہد کے ہاتھ سے نادانستگی میں اگر کوئی مسلمان قتل ہوگیا تو حق تعالیٰ معاف فرما دے گا اس اندیشہ سے جہاد سے مت رکو۔
Ayahs 4:97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اس حالت میں کہ وہ برا کر رہے ہیں اپنا کہتے ہیں ان سے فرشتے تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں ہم تھے بےبس اس ملک میں کہتے ہیں فرشتے کیا نہ تھی زمین اللہ کی کشادہ جو چلے جاتے وطن چھوڑ کر وہاں سو ایسوں کا ٹھکانا ہے دوزخ اور وہ بہت بری جگہ پہنچے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

مگر جو ہیں بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے جو نہیں کرسکتے کوئی تدبیر اور نہ جانتے ہیں کہیں کا راستہ

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

سو ایسوں کو امید ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والاف 3

3 بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کرسکتے نہ حکم جہاد کی تعمیل کرسکتے ہیں۔ سو ان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں۔ اس رکوع میں اسی کا ذکر ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی کافروں کے ساتھ مل رہے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے تو فرشتے ان سے مرنے کے وقت پوچھتے ہیں کہ تم کس دین پر تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان تھے مگر بوجہ ضعف و کمزوری کے دین کی باتیں نہ کرسکتے تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین تو بہت وسیع تھی تم یہ تو کرسکتے تھے کہ وہاں سے ہجرت کر جاتے۔ سو ایسوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ البتہ جو لوگ ضعیف ہیں اور عورتیں اور بچے کہ نہ وہ ہجرت کی تدبیر کرسکتے ہیں نہ ان کو کوئی ہجرت کا راستہ معلوم ہے وہ قابل معافی ہیں۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوگیا کہ مسلمان جس ملک میں کھلا نہ رہ سکے وہاں سے ہجرت فرض ہے اور سوائے ان لوگوں کے جو بالکل معذور اور بےبس ہوں اور کسی کو وہاں پڑے رہنے کی اجازت نہیں۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو کوئی وطن چھوڑے اللہ کی راہ میں پاوے گا اس کے مقابلہ میں جگہ بہت اور کشایش اور جو کوئی نکلے اپنے گھر سے ہجرت کر کے اللہ اور رسول کی طرف پھر آپکڑے اس کو موت تو مقرر ہوچکا اس کا ثواب اللہ کے ہاں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان4

4 اس آیت میں ہجرت کی ترغیب ہے اور مہاجرین کو تسلی دی جاتی ہے یعنی جو شخص اللہ کے واسطے ہجرت کرے گا اور اپنا وطن چھوڑے گا تو اس کو رہنے کے لئے بہت جگہ ملے گی اور اس کی روزی اور معیشت میں فراخی ہوگی تو ہجرت کرنے میں اس سے مت ڈرو کہ کہاں رہیں گے اور کیا کھائیں گے اور یہ بھی خطرہ نہ کرو کہ شاید راستہ میں موت آجائے تو ادھر کے ہوں نہ ادھر کے کیونکہ اس صورت میں بھی ہجرت کا پورا ثواب ملے گا اور موت تو اپنے وقت ہی پر آنی ہے وقت مقرر سے پہلے نہیں آسکتی۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کرو ملک میں تو تم پر گناہ نہیں کہ کچھ کم کرو نماز میں سے اگر تم کو ڈر ہو کہ ستاویں گے تم کو کافر البتہ کافر تمہارے صریح دشمن ہیں1

1 یعنی جب تم جہاد وغیرہ کے لئے سفر کرو اور کافروں سے جو کہ تمہارے صریح دشمن ہیں اس کا خوف ہو کہ وہ موقع پا کر ستائیں گے تو نماز کو مختصر رکھو یعنی جو نماز حضر میں چار رکعت کی ہو اس کی دو رکعت پڑھو۔ فائدہ : ہمارے یہاں سفر تین منزل کا ہونا ضروری ہے اس سے کم ہوگا تو قصر جائز نہ ہوگا اور کافروں کے ستانے کا ڈر اس وقت موجود تھا جب یہ حکم نازل ہوا۔ جب یہ ڈر جاتا رہا تو اس کے بعد بھی آپ سفر میں دو رکعت ہی پڑھتے رہے اور صحابہ کو بھی اسی کی تاکید فرمائی۔ اب ہمیشہ سفر میں قصر کرنے کا حکم ہے خوف مذکور ہو یا نہ ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے شکریہ کے ساتھ قبول کرنا لازم ہے جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب تو ان میں موجود ہو پھر نماز میں کھڑا کرے تو چاہیے ایک جماعت ان کی کھڑی ہو تیرے ساتھ اور ساتھ لے لیویں اپنے ہتھیار پھر جب یہ سجدہ کریں تو ہٹ جاویں تیرے پاس سے اور آوے دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ نماز پڑھیں تیرے ساتھ اور ساتھ لیویں اپنا بچاؤ اور ہتھیار کافر چاہتے ہیں کسی طرح تم بیخبر ہو اپنے ہتھیاروں سے اور اسباب سے تاکہ تم پر حملہ کریں یکبارگی2 اور تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم کو تکلیف ہو مینہ سے یا تم بیمار ہو کہ اتار رکھو اپنے ہتھیار اور ساتھ لے لو اپنا بچاؤ3 بیشک اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے عذاب ذلت کا4

2 پہلے نماز سفر کا بیان تھا یہ نماز خوف کا بیان ہے یعنی کافروں کی فوج مقابلہ میں ہو تو مسلمانوں کی فوج دو حصے ہوجائے، ایک حصہ امام کے ساتھ آدھی نماز پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کر کھڑا ہوجائے، دوسرا حصہ آکر امام کے ساتھ نصف باقی پڑھ لے۔ امام کے سلام کے بعد دونوں جماعتیں اپنی آدھی نماز رہی ہوئی جدا جدا پڑھ لیں۔ اگر مغرب کی نماز ہو تو اول جماعت دو رکعت اور دوسری جماعت ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھے اور اس حالت میں نماز کے اندر آمد و رفت معاف ہے اور تلوار زرہ سپر وغیرہ کے اپنے ساتھ رکھنے کا بھی ارشاد فرمایا تاکہ کفار موقع پا کر یکبارگی حملہ نہ کردیں۔ 3 یعنی اگر بارش یا بیماری اور ضعف کی وجہ سے ہتھیار کا اٹھانا مشکل ہو تو ایسی حالت میں ہتھیا اتار کر رکھ دینے کی اجازت ہے لیکن اپنا بچاؤ کرلینا چاہیے مثلاً زرہ سپر خود ساتھ لے لو۔ فائدہ : اگر دشمنوں کے خوف سے اتنی مہلت بھی نہ ملے کہ نماز خوف بصورت مذکورہ ادا کرسکیں تو جماعت موقوف کر کے تنہا تنہا نماز پڑھ لیں پیادہ ہو کر اور سواری سے اترنے کا بھی موقع نہ ملے تو سواری پر اشارہ سے نماز پڑھ لیں۔ اگر اس کی مہلت نہ ملے تو پھر نماز کو قضا کردیں۔ 4 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق تدبیر اور احتیاط اور اہتمام کے ساتھ کام کرو اور اللہ کے فضل سے امید رکھو وہ کافروں کو تمہارے ہاتھ سے ذلیل و خوار کرادے گا، کافروں سے خوف مت کرو۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو یاد کرو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے5 پھر جب خوف جاتا رہے تو درست کرو نماز کو بیشک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتوں میں1

5 یعنی خوف کے وقت بوجہ تنگی اور بےاطمینانی اگر نماز میں کسی طرح کی کوتاہی ہوگئی تو نماز خوف سے فراغت کے بعد ہر وقت اور ہر حالت میں کھڑے ہو یا بیٹھے یا لیٹے اللہ کو یاد کرو حتٰی کہ عین ہجوم اور مقاتلہ کے وقت بھی کیونکہ وقت کی تعیین اور دیگر قیود کی پابندی تو بحالت نماز تھی جن کی وجہ سے تنگی اور بےاطمینانی پیش آنے کا موقع ہے۔ اس کے سوا ہر حالت میں بلا دقّت اللہ کو یاد کرسکتے ہو کسی حالت میں اس کی یاد سے غافل نہ رہو۔ عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا کہ صرف وہ شخص کہ جس کے عقل و حواس کسی وجہ سے مغلوب ہوجائیں البتہ معذور ہے ورنہ کوئی شخص اللہ کی یاد نہ کرنے میں معذور نہیں۔ 1 یعنی جب خوف مذکور جاتا رہے اور خاطر جمع ہوجائے تو پھر جو نماز پڑھو اطمینان اور تعدیل ارکان اور رعایت شروط اور محافظت آداب کے ساتھ پڑھو جیسا کہ امن کی حالت میں پڑھنی چاہیے اور جن حرکات زائدہ کی اجازت دی گئی وہ حالت خوف کے ساتھ مخصوص ہیں بیشک نماز فرض ہے وقت معین میں، سفر، حضر، اطمینان، خوف ہر حالت میں اسی وقت میں ادا کرنا ضروری ہے یہ نہیں کہ جب چاہو پڑھ لو یا یہ مطلب ہے کہ نماز کے متعلق حق تعالیٰ نے پورا، ضبط اور تعین فرما دیا ہے کہ حضر میں کیا ہونا چاہیے اور سفر میں کیا، اطمینان میں کیا کرنا چاہیے اور خوف میں کیا۔ سو ہر حالت میں اس کی پابندی چاہئے۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور ہمت نہ ہارو ان کا پیچھا کرنے سے اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں جس طرح تم ہوتے ہو اور تم کو اللہ سے امید ہے جو ان کو نہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے2

2 یعنی کفار کی جستجو اور ان کے تعاقب میں ہمت سے کام لو اور کوتاہی نہ کرو۔ اگر تم کو ان کی لڑائی سے زخم اور درد پہنچا ہے تو اس تکلیف میں تو وہ بھی شریک ہیں اور آئندہ تم کو حق تعالیٰ سے وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں یعنی دنیا میں کفار پر غلبہ اور آخرت میں ثواب عظیم اور اللہ تعالیٰ تمہارے مصالح اور تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے اس کا جو حکم ہے اس میں تمہارے لئے بڑے منافع اور حکمتیں ہیں دین اور دنیا دونوں کے لئے۔ سو اس کے امتثال کو غنیمت اور بڑی نعمت سمجھو۔
Ayah 4:105

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

بیشک ہم نے اتاری تیری طرف کتاب سچی کہ تو انصاف کرے لوگوں میں جو کچھ سمجھاوے تجھ کو اللہ اور تو مت ہو دغابازوں کی طرف سے جھگڑنے والاف 3

3 منافق اور ضعیف الاسلام لوگوں میں جب کوئی کسی گناہ اور خرابی کا مرتکب ہوتا تو سزا اور بدنامی سے بچنے کے لئے حیلہ گھڑتے اور آپ کی خدمت میں ایسے انداز سے اس کا اظہار کرتے کہ آپ ان کو بری سمجھ جائیں بلکہ کسی بری الذمہ کے ذمہ تہمت لگا کر اس کے مجرم بنانے میں سعی کرتے اور رل مل کر باہم مشورہ کرتے۔ چناچہ ایک دفعہ یہ ہوا کہ ایک ایسے ہی مسلمان نے دوسرے مسلمان کے گھر میں نقب دیا ایک تھیلا آٹے کا اور اس کے ساتھ کچھ ہتھیار چرا کرلے گیا۔ اس تھیلے میں اتفاقاً سوراخ تھا چور کے گھر تک راستہ میں آٹا گرتا گیا۔ چور نے یہ تدبیر کی کہ مال اپنے گھر میں نہ رکھا بلکہ رات ہی میں وہ مال لے جا کر ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا جو اس کا واقف تھا۔ صبح کو مالک نے آٹے کے سراغ پر چور کو جا پکڑا مگر تلاشی پر اس کے گھر میں کچھ نہ نکلا۔ ادھر چور نے قسم کھالی کہ مجھ کو کچھ خبر نہیں آٹے کا سراغ آگے کو چلتا نظر آیا تو مالک نے اسی سراغ پر یہودی کو جا پکڑا، اس نے مال کا اقرار کرلیا کہ میرے گھر میں موجود ہے مگر میرے پاس تو رات فلاں شخص امانت رکھ گیا ہے میں چور نہیں ہوں۔ مالک نے یہ قضیہ حضرت فخر عالم محمد ﷺ کی خدمت میں پہنچایا۔ چور کی قوم اور اس کی جماعت نے اتفاق کیا کہ جس طرح ہو سکے اس پر چوری ثابت نہ ہونے دو یہودی کو چور بناؤ۔ چناچہ یہودی سے جھگڑے اور آپ کی خدمت میں چور کی برات پر قسمیں کھائیں گواہی دی۔ قریب تھا کہ یہودی چور سمجھا جائے اور مجرم قرار دیا جائے اس پر حق سبحانہ، نے متعدد آیتیں نازل فرمائیں اور حضرت محمد رسول مقبول ﷺ کو اور سب کو متنبہ فرما دیا کہ چور یہی مسلمان ہے۔ یہودی اس میں سچا اور بےقصور ہے اور ہمیشہ کے لئے ایسے لوگوں کی قلعی کھول کر سب کو متنبہ کردیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول ﷺ ہم نے اپنی سچی کتاب تجھ پر اس لئے اتاری کہ ہمارے سمجھانے اور بتلانے کے موافق تمام لوگوں میں نیک ہوں یا بد، مومن ہوں یا کافر حکم اور انصاف کیا جائے اور جو دغا باز ہیں ان کی بات کا اعتبار اور ان کی طرف داری ہرگز مت کرو اور ان کی قسم اور ان کی گواہی پر کسی بےقصور کو مجرم مت بناؤ یعنی ان دغا بازوں کی طرف ہو کر یہودی سے مت جھگڑو۔